گھٹی گھٹی سی خموشی، دبی دبی آواز ـ احمد جاوید 

 

سنے گی خاکِ سیہ کب ہری بھری آواز

خزاں کے دل میں اترتی بہار کی آواز

 

یہی ملا ہے وراثت میں بے نواؤں کو

گھٹی گھٹی سی خموشی دبی دبی آواز

 

کوئی عوام سے پوچھے تو کیسے اترے گی

دھواں دھواں سی سماعت میں جنتی آواز

 

یہ چند لوگ جو اب تک ہیں آشتی خواہاں

انھیں بھی کھینچ نہ لے جائے آگ کی آواز

 

ہمارے پاس اب اس کے سوا رہا کیا ہے

گھناؤنی سی خموشی، ڈراؤنی آواز

 

نکل کے حلقۂ رنداں سے پھر کہیں نہ ملی

وہ اک سبو سی خموشی، شراب سی آواز

 

گئی تھی رات کہیں خامشی کے حجرے میں

وہ آگ تھی کہ وہیں راکھ ہو گئی آواز

 

سنو سنو کہ یونہی ناشنیدہ ڈھہ نہ پڑے

یہ حسن و خیر و ولا سے لدی پھندی آواز

 

تو بات یہ ہے میاں، تشنگی کے کانوں میں

ازل سے گونج رہی ہے سراب کی آواز

 

سنائی دیتی ہے اکثر خرابۂ دل میں

بجھی بجھی سی وہ تنہا چراغ کی آواز

 

ہمارا ترکہ ہے بیٹا سنبھال کر رکھنا

یہ ٹوٹی پھوٹی خموشی، بچی کھچی آواز

 

کل اک خطیبِ مسیحا کلام کا فرزند

تھڑے پہ بیچ رہا تھا مری ہوئی آواز

 

فغاں کہ منبر و ماتم کے شور میں ہوئی گم

ابوالحسن کی خموشی، حسین کی آواز

 

کھلے پروں سے فضا کو طلائی کرتے ہوئے

نکالتے ہیں پرندے سفید سی آواز

 

کسی زمانے میں افلاک تھے سمیع و مجیب

کسی زمانے میں ہوتا تھا آدمی آواز

 

جو ناشنیدہ بھی محوِ سماع رکھتی ہے

سکوتِ دل کو ہے ازبر وہ سرمدی آواز

 

کہاں کا حافظِ قرآں جو سن نہیں سکتا

وہ حرف حرف میں مدغم پیمبری آواز

 

کسے سناؤں کہ آسیبی کانوں میں پڑ کر

اجاڑ ہو گئی کیسی بھری پری آواز

 

زبان سوکھ گئی، دل میں قحط سالی ہے

نہ خامشی تر و شاداب ہے نہ ہی آواز

 

یہ ایک بوند کہ ہے چشم و دل کی کل پونجی

اسے سنبھال رکھو، ہے یہ آخری آواز

 

بلاتی ہے مجھے رہ رہ کے آپ سے باہر

مرے ہی سینے سے آتی اک اجنبی آواز

 

ہمارے بچے نگل جائے گی خدا نہ کرے

یہ دلدل ایسی خموشی، یہ اژدری آواز

 

ہوس نہیں ہمیں آوازیں جمع کرنے کی

حضور آپ جو سنتے ہیں بس وہی آواز

 

کسی زمانے میں سورج زبان رکھتا تھا

کسی زمانے میں ہوتی تھی روشنی آواز

 

کبھی سنو تو سہی کان دھر کے بیدردو

یہ زخم دل کی، یہ آنسو ہے آنکھ کی آواز

 

اسی طرح خس و خاشاک بن کے سنتے رہو

خطیبِ شعلہ بیاں کی جہنمی آواز

 

اسے رجز میں کھپائیں کہ نوحہ خوانی میں

یہ باقی ماندہ سخن، یہ رہی سہی آواز

 

ہمیں مرقع ہستی سے دو ورق ہی ملے

کٹی پھٹی سی خموشی، مڑی تڑی آواز

 

یہ خالی ہاتھ خموشی کفیل ہے میری

مرا اثاثہ ہے کشکول میں پڑی آواز

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*