گھروں سے کوئی نکلتا کیسے تڑی ہوئی تھی ـ دلاور علی آزر

گھروں سے کوئی نکلتا کیسے تڑی ہوئی تھی
اجل ہر اک آدمی کی رہ میں کھڑی ہوئی تھی

پھر ایک دن آسماں نے اس کو گلے لگایا
زمیں زمانوں سے اپنی ضد پر اٙڑی ہوئی تھی

اُسے ہٹانے میں بیت جانی تھی عمر ساری
ہمارے خوابوں پہ اِتنی مٹی پڑی ہوئی تھی

بُلا رہا تھا ہمیں وہ پانی تہوں میں اپنی
اُتر رہے تھے ہم اور ندّی چڑھی ہوئی تھی

یہ سانحہ ہے ہٙوا کے آنے سے پیشتر کا
چراغ اوندھے پڑے تھے کچھ گڑبڑی ہوئی تھی

اسی کی جھلمل میں کاٹنا تھی حیات ہم کو
ہمیں میّسر جو لٙو گھڑی دو گھڑی ہوئی تھی

ہمیں ہی آنکھیں دِکھا رہی تھی وہ ہجر کی شب
ہمارے آنگن میں جو اداسی بڑی ہوئی تھی

نکل رہا تھا جدائی کا چاند بادلوں سے
فلک کے سینے میں جیسے برچھی گڑی ہوئی تھی

مہیب شب کا ظہور تھا طاقچے میں آزر
ہوا کو اپنی دیے کو اپنی پڑی ہوئی تھی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*