گھروں کا ماحول دینی کیسے بنائیں؟- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جماعت اسلامی ہند ، شاہین باغ کی جانب سے شاہین مسجد (جامعہ نگر ، نئی دہلی) میں ہر ہفتہ اتوار کو بعد نماز مغرب کسی دینی موضوع پر خطابِ عام کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ عزیزی ابو الاعلی سبحانی نے خواہش کی کہ اس بار میں وہاں ‘ گھروں کا ماحول دینی کیسے بنائیں ؟’ کے عنوان پر تقریر کردوں ۔ میں نے اس پروگرام میں شرکت کی ۔ میری گفتگو کے نکات درج ذیل تھے :

(1) سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ہمیں اپنے گھر کا ماحول دینی بنانے کی فکر ہونی چاہیے _ اگر فکر ہوگی تو اس کی کوشش کی جائے گی اور اس کے لیے تدبیریں اختیار کی جائیں گی _ اگر فکر ہی نہیں ہوگی تو گھر کا ماحول چاہے جیسا رہے ، ہمیں کوئی پروا نہ ہوگی ۔

(2) ہمیں برابر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمارے اہلِ خانہ کے اندر تقویٰ اور صالحیت پیدا فرمائے اور انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ۔ اہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی ہے :
رَبَّنَا هَبۡ لَـنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ( الفرقان : 74)
” اے ہمارے ربّ ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا ۔“
‘ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا’ یہ دعا اپنے لیے نہیں ، بلکہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہماری طرح متّقی و پرہیز گار بنا دے۔

(3) ہمارا گھرانہ دین دار ہو ، اس کے لیے ہمیں نکاح سے قبل ہی منصوبہ بندی کرنی چاہیے _ چنانچہ رشتہ طے کرتے وقت ہی دین داری کو ترجیح دینی چاہیے _ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے :
” عورت سے نکاح کرتے وقت اس کا مال ، اس کا حسب و نسب ، اس کی خوب صورتی اور اس کی دین داری دیکھی جاتی ہے _ تم دین داری کو ترجیح دو ، اللہ تمہارا بھلا کرے _” ( بخاری : 5090)

(4) زوجین کو ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ معاشرت کا معاملہ کرنا چاہیے _ خاص طور سے شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے _ قرآن میں حکم دیا گیا ہے :
وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌(بخاری :19)
” ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔”
اللہ کے رسول ﷺ نے بھی تاکید فرمائی ہے :
” میں تمھیں عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہوں _” ( بخاری :3331)
بیوی پر رعب جمانے ، ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور حکم چلانے سے ماحول خوش گوار نہیں رہ سکتا اور اس پر جبر کرکے گھر کا ماحول دینی نہیں بنایا جاسکتا _

(5) زوجین کو چاہیے کہ وہ دین پر چلنے کے معاملے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں _ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :
” اللہ اس مرد پر رحم کرے جو رات میں بیدار ہو ، نماز پڑھے ، اپنی بیوی کو جگائے ، اگر وہ اٹھنے میں آناکانی کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے دے ، وہ اٹھ جائے تو دونوں مل کر نماز پڑھیں _ اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں بیدار ہو ، نماز پڑھے ، اپنے شوہر کو جگائے ، اگر وہ اٹھنے میں آناکانی کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے دے ، وہ اٹھ جائے تو دونوں مل کر نماز پڑھیں _ (ابوداؤد : 308 ، نسائی : 1610)

(6) مرد کو خاندان کا ‘قوّام’ بنایا گیا ہے ۔ قوّام کا مطلب ہے نگرانی کرنے والا ، حفاظت کرنے والا ، ضروریاتِ زندگی پوری کرنے والا ۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے اہلِ خانہ کی دینی اعتبار سے بھی نگرانی کرے _ وہ انہیں دین پر چلانے کی کوشش کرے ، بے دینی سے ان کی حفاظت کرے _ دیکھے کہ ان میں دین کے معاملے میں کوئی کوتاہی تو نہیں پائی جا رہی ہے ، اگر ہو تو ان کی اصلاح کی کوشش کرے ۔

(7) اگر کوئی شخص اپنے اہلِ خانہ میں دین کے معاملے میں کچھ کوتاہی یا انحراف یا لاپروائی دیکھے تو وقتاً فوقتاً تذکیر و تنبیہ سے کام لے _ اللہ کے رسول ﷺ اپنی ازواج اور گھر کے بچوں سے بہت محبت کرتے تھے ، لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ انہیں نصیحتیں کرتے رہتے تھے اور کبھی سخت الفاظ میں تنبیہ بھی فرمایا کرتے تھے ۔

(8) گھر میں نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ آدمی کو نماز پڑھتا دیکھ کر گھر کے دیگر افراد ، خاص طور پر بچے متوجہ ہوں گے اور ان میں بھی نماز کا اشتیاق پیدا ہوگا _ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے :
"گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۔ ”
(ابوداؤد :2042)
اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جس طرح قبرستان میں نہ نماز پڑھنی درست ہے نہ قرآن پڑھنا ، اسی طرح کا معاملہ گھر کے ساتھ نہ کرو ۔

(9) گھروں میں قرآن مجید کی تلاوت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے _ اللہ تعالیٰ نے امہات المؤمنین کو مخاطب کرکے فرمایا تھا :
وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِؕ (الأحزاب :34)
” یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں ۔”
قرآن کی تلاوت خود کی جائے اور دوسرے سے بھی سنا جائے _ بچوں سے کہا جائے کہ انہیں جو قرآن یاد ہے اسے سنائیں _ اس طرح گھر میں قرآن سننے اور سنانے کا ماحول بنے گا اور اگر بچوں سے یاد کرنے یا پڑھنے میں کچھ غلطی ہوئی ہو تو اس کی بھی اصلاح ہوجائے گی ۔

(10) بچوں کی دنیاوی اور عصری تعلیم کی جتنی فکر کی جاتی ہے اتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ ہی ان کی دینی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کی فکر کرنی چاہیے _ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَداً مِن نَحْلٍ اَفْضَلَ مِن اَدَبٍ حَسَنٍ (ترمذی : 1952)
” والدین نے اپنے بچے کو اچھے ادب و اخلاق سے بہتر اور کسی چیز کا تحفہ نہیں دیا۔”
بچوں کو وقتاً فوقتاً نصیحت کرتے رہنا چاہیے _ سورۂ لقمان میں بہت تفصیل سے ان نصیحتوں کو نقل کیا گیا ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں _ اگر بچوں کی طرف سے کبھی دینی معاملات میں عدمِ دل چسپی اور لاپروائی کا مظاہرہ ہو تو بہ قدر کفایت ان کی تنبیہ اور ان پر سختی بھی کی جاسکتی ہے _ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے :
"بچے سات برس کے ہوجائیں تو انہیں نماز کے لیے کہو اور اگر دس برس کے ہوجانے کے باوجود نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو ۔” (ابوداؤد : 495)

(11) اہل خانہ کی دینی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے سامنے اچھا نمونہ پیش کریں۔ ہم جیسا انہیں بنانا چاہتے ہیں ویسا ان کے سامنے خود بن کر دکھائیں۔ اگر ہم اپنے گھر والوں کو نماز کا پابند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود اس کا پابند بننا ہوگا _ کوئی ہم سے ملنے آیا ہے۔ اگر ہم نے بچے سے کہہ دیا :” جاؤ ، کہہ دو ، ابّا گھر پر نہیں ہیں۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ کردی کہ وقتِ ضرورت جھوٹ بولا جاسکتا ہے ۔

(12) گھر والوں اور خاص طور پر بچوں کو قابلِ لحاظ وقت دینا چاہیے _ ہم دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے خود کو وقف کردیں اور ہمارے زیادہ تر اوقات گھر سے باہر گزریں تو چاہے پوری دنیا کو ہماری ذات سے فائدہ پہنچ جائے ، لیکن ہمارے اہلِ خانہ محروم رہیں گے اور ‘چراغ تلے اندھیرا’ والی مثل صادق آئے گی _ قرآن میں حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام کے بارے میں ہے :
فَلَمّا بَلَغَ مَعَہٗ السَّعْیَ ( الصافات : 102)
"جب اسماعیل ابراہیم کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچ گیا۔”

(13) گھروں میں ‘فیملی اجتماع ‘ کو رواج دینے کی کوشش کرنی چاہیے _ ہفتہ میں دو دن یا کم از کم ایک دن وقت متعیّن کرکے گھر کے تمام افراد اکٹّھا ہوں۔ کسی بچے سے کہا جائے کہ وہ قرآن سنائے ، کسی سے حدیث سنی جائے ، کوئی دعا سنائے ، کوئی کسی کتاب کی خواندگی کرے۔ کوئی کسی تفسیر کی مدد سے یا زبانی چند آیات کی تشریح کرے _ بچوں کو انعامات دیے جائیں تو ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ مثلاً جو بچہ فلاں سورۃ کو یاد کرلے گا اسے یہ انعام دیا جائے گا _ اس طرح بچوں کے درمیان منافست کا جذبہ پیدا ہوگا۔

ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا گھرانہ دینی بنے ، لیکن ہم اس کے لیے کوشش نہیں کرتے اور تدابیر نہیں اختیار کرتے ، چنانچہ ہماری خواہش دل ہی میں دبی رہ جاتی ہے اور اس کی تکمیل نہیں ہوپاتی۔ اگر ہم اس کے لیے تدابیر اختیار کریں تو ان شاء اللہ ضرور ہمیں کام یابی ملے گی _ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے، آمین۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*