گھر گھر مسجد،گھر گھر عید گاہ-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی اجتماعی شیرہ بندی منتشر ہوئی اور حکومتی سطح پر ان کی عبادات پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :
وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ‌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ (یونس:87)
” اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دوـ ”
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنی اسرائیل کا ہر گھر مسجد بن گیا ، ان کی عبادت گزاری بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے تعلّق میں اضافہ ہواـ
لاک ڈاؤن میں مساجد میں پنج وقتہ اور جمعہ کی نمازوں اور عید گاہوں میں عید کی نماز پر پابندی کے جو بھی نقصانات ہوئے ہوں ، لیکن اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ظاہر ہوا ہے کہ مسلم عوام ، عصری تعلیم یافتہ لوگوں ، مردوں ، عورتوں ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے دینی شعور میں بہت اضافہ ہوا ہے _ یہ ‘خیر کثیر’ ہے ، جو اس شر سے برآمد ہوا ہے _ مسجدوں میں نماز پڑھنا محدود اور موقوف ہوا تو ہر گھر میں مسجد بن گئی اور باجماعت نماز پڑھی جانے لگی ، رمضان میں ہر گھر میں تراویح پڑھی گئی ، عید کے دن ہر گھر میں عید کی نماز ادا کی گئی _ بہت سے دینی مسائل ، جن کی لوگوں کو پہلے خبر نہیں رہتی تھی اور نہ وہ ان کے بارے میں کچھ جاننے کی ضرورت محسوس کرتے تھے ، ان کے بارے میں انھوں نے جاننے کی کوشش کی اور جو کچھ معلوم ہوا اس پر انھوں نے خوش دلی سے عمل کیاـ
دینی مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کی خواہش کا اندازہ درج ذیل چند سوالات سے کیا جاسکتا ہے ، جو اس عرصے میں مجھ سے کیے گئےـ
بہت سے لوگوں نے دریافت کیا کہ گھر میں نماز باجماعت کے وقت صفوں کی ترتیب کیا ہو؟ میں نے بتایا : اگر گھر میں صرف دو آدمی ہوں تو مقتدی دائیں طرف کھڑا ہو ، صرف بیوی ہو تو وہ پیچھے کھڑی ہوسکتی ہے اور دائیں طرف تھوڑا پیچھے ہٹ کر بھی _ کئی مرد ، عورتیں ، لڑکے اور لڑکیاں ہوں تو پہلی صف میں مرد اور لڑکے کھڑے ہوں ، دوسری صف میں عورتیں اور لڑکیاں ـ
بعض لوگوں نے سوال کیا : کیا گھر میں موجود نامحرم عورتیں اور لڑکیاں جماعت میں شامل ہوسکتی ہیں؟ میں نے جواب دیا : مقتدیوں میں صرف نامحرم خواتین ہوں ، یہ مناسب نہیں ، لیکن محرم خواتین کے ساتھ نامحرم خواتین شامل ہوسکتی ہیں ـ
بہت سے لوگوں نے سوال کیا : نابالغ لڑکا حافظِ قرآن ہے ، کیا وہ تراویح پڑھا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا : بعض فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے ، لاک ڈاؤن میں اس اجازت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہےـ
بہت سے لوگوں نے سوال کیا : قرآن یاد نہیں ، پھر گھر میں تراویح کیسے پڑھی جائے ؟ انہیں بتایا گیا : جتنا قرآن یاد ہو اتنا پڑھ لیا جائے ، یا پارۂ عم کی آخری دس سورتیں ، جو بیش تر لوگوں کو یاد ہوتی ہیں ، انہیں دو بار پڑھ لیا جائے ، یا بعض فقہاء نے مصحف دیکھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے ، اس اجازت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہےـ
بعض خواتین نے دریافت کیا : کیا کوئی عورت حافظۂ قرآن ہو ، وہ عورتوں کی جماعت میں تراویح پڑھا سکتی ہے؟ جواب دیا گیا : بعض فقہاء اس کے جواز کے قائل ہیں ، صرف عورتوں کی جماعت ہوسکتی ہے ، جس میں کوئی عورت قرآن سنائےـ
بہت سے لوگوں نے سوال کیا : کیا گھر میں اعتکاف ہوسکتا ہے؟ میں نے بتایا : رمضان کے آخری عشرہ میں مسنون اعتکاف کے لیے مسجد شرط ہے ، لیکن نفلی اعتکاف کہیں بھی اور کتنے بھی وقت کے لیے ہوسکتا ہےـ البتہ احناف نے خواتین کو گھر میں مسنون اعتکاف کی اجازت دی ہےـ
عید کی نماز کے لیے اعلان کیا گیا تھا کہ اس کی جماعت کے لیے 4 افراد کا ہونا شرط ہےـ اس پر بہت سے لوگوں نے ، جن میں خواتین بھی تھیں ، سوال کیا کہ کیا 4 افراد کا مرد ہونا ضروری ہے؟ انہیں جواب دیا کہ نہیں ، ان میں خواتین بھی شامل ہیں ـ
بہت سی خواتین نے سوال کیا : کیا گھروں میں عید کی نمازِ باجماعت میں خواتین شامل ہوسکتی ہیں؟ جواب دیا : ہاں ، کیوں نہیں ، خواتین کو شامل ہی ہونا چاہیےـ
اعلان کیا گیا تھا کہ عید کی نماز باجماعت کافی ہے ، اگر کوئی خطبہ دینے والا نہ ہو تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے _ پھر بھی بہت سے لوگوں نے مختصر خطبۂ عید منگوایا ، بعض لوگوں نے اسے ہندی اسکرپٹ میں لکھ کر خطبہ دینے کی تیاری کی ـ
بعض لوگوں نے دریافت کیا : کیا ایک شخص عید کی نماز دو جگہ پڑھا سکتا ہے؟ کیا ایک شخص نے عید کی نماز ایک جگہ پڑھ لی ہو ، وہ دوسری جگہ امامت کرسکتا ہے؟ جواب دیا گیا : اس کی ضرورت نہیں ، دوسری جگہ جتنے لوگ ہوں ان میں سے کوئی امامت کرےـ
بعض لوگوں نے سوال کیا : کیا ایک مسجد میں عید کی نماز تھوڑے تھوڑے وقفے سے کئی مرتبہ ہوسکتی ہے؟ میں نے جواب دیا : وقتِ ضرورت پڑھی جاسکتی ہے ، لیکن کورونا کی خطرناکی اور حکومتی پابندی کو دیکھتے ہوئے اس سے بچنا چاہیےـ
رمضان میں بہت سے لوگوں نے نماز اور روزہ کے مسائل دریافت کیے ، کاروباری یا ملازمت پیشہ افراد نے جاننا چاہا کہ وہ زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ بہت سی خواتین نے زیورات پر زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا : انہیں جواب دیا گیا کہ ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک استعمالی زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے ، لیکن امام ابو حنیفہ کی رائے زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے کہ تمام زیورات پر زکوٰۃ ادا کرنی چاہیےـ
اس طرح کے بے شمار سوالات بہت سی خواتین و حضرات کی طرف سے کیے گئے ، جن کے جوابات دینے کی میں نے حتی المقدور کوشش کی _ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اگرچہ مسلمان بہت تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہوئے ، انہیں مسجدوں میں عبادت کا موقع نہیں ملا ، پورا رمضان انہوں نے گھروں میں گزارا ، لیکن اس میں بھی خیر کا پہلو ظاہر ہوا کہ دین سے ان کا تعلّق مضبوط ہوا اور انھوں نے اللہ کا تقرّب حاصل کرنے کی مختلف تدابیر اختیار کیں _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
فَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـئًـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا (النساء :19)
” ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو ، مگر اللہ نے اُس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو _”

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*