گاندھی کے دیس میں گوڈسے کی جے؟-حسام صدیقی

بھارت میں نریندر مودی سرکار اور اسے کنٹرول کرنے والے آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے کا نتیجہ ہے کہ اس بار گاندھی جینتی کے موقع پر دو اکتوبر کو سوشل میڈیا پر گاندھی کے قاتل اور ملک کے پہلے دہشت گرد ناتھو رام گوڈسے کو بھی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بڑے پیمانے پر ٹرینڈ کرایا گیا اور مودی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ آج ملک کے حالات یہ ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی یا اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کسی بھی بی جے پی لیڈر کے خلاف کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ ڈال دے یا کچھ لکھ دے تو فوراً اس کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر درج کرلی جاتی ہے بلکہ گرفتاری بھی ہوجاتی ہےلیکن ’گوڈسے زندہ باد‘ ٹرینڈ کرنے اور پورے ملک میں گوڈسے کا مندر بنانے کا اعلان کرکے زبردستی سماج میں کشیدگی پیدا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی، آخر کار سرکار ملک اور دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟
’گوڈسے زندہ باد‘ ٹرینڈ کرانے، پورے ملک میں گوڈسے کا مندر بنانے اور ہندو مہاسبھا کے  ذریعہ یہ اعلان کئے جانے کہ اسکول کی کتابوں میں گوڈسے کو بھی پڑھایا جائے گا سے پوری دنیا میں بھارت کی تھو تھو ہوئی ہے۔ آج ایڈوانس میڈیا کا زمانہ ہے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کوئی بھی بات لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ دنیا کے لوگوں نے ’گوڈسے زندہ باد‘ ٹرینڈ ہوتے دیکھا تو انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ کسی بھی ملک میں گاندھی جیسے لیڈر کی طرح کے لیڈران کے خلاف اس قسم کی حرکتیں کوئی نہیں کرسکتا۔ بھارت میں سرکار کی پشت پناہی میں یہ شرمناک حرکت ہوئی ہے اس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہئے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے ان کے خلاف سخت کاروائی بھی کی جانی چاہئے۔ لیکن پھر آخر وہی سوال کہ کاروائی آخر کرے گا کون؟ کیونکہ سرکار تو پردہ کے پیچھے سے ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔
ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ سرکار گوڈسے حامیوں کے ساتھ ہے کیونکہ گوڈسے کو عظیم شخص بتانے والی نام نہاد سادھوی اور بم دھماکوں کی ملزمہ پرگیا سنگھ ٹھاکر کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے ۲۰۱۹ میں بھوپال سے جتوا کر لوک سبھا پہونچادیا۔ پرگیا سنگھ ٹھاکر نے الیکشن سے کافی پہلے کہا تھا کہ ناتھو رام گوڈسے کو وہ عظیم شخص مانتی ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی نے انہیں ٹکٹ دیا اور لوک سبھا پہونچایا۔ پورا ملک جانتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مرضی کے بغیر پرگیا سنگھ ٹھاکر کو بی جے پی کا ٹکٹ نہیں مل سکتا تھا۔ ٹکٹ دینے سے پہلے خود نریندر مودی نے گوڈسے پر بیان کی وجہ سے کہا تھا کہ وہ ایسا بیان دینے والوں کو دل سے کبھی معاف نہیں کرسکتے۔اب مودی کو جواب دینا چاہیے کہ اگر انہوں نے پرگیا سنگھ ٹھاکر کو دل سے معاف نہیں کیا تو انہیں پارٹی کا ٹکٹ کیسے مل گیا؟
اس سال دو اکتوبر کو سوشل میڈیا پر گاندھی کے حق میں دو لاکھ دس ہزار تو گوڈسے کے حق میں ایک لاکھ ترپن ہزار ٹوئیٹ ٹرینڈ کرائے گئے۔ اس طرح فرقہ پرستوں نے اہنسا کے پجاری کا قد کم کرنے اور ان کے قاتل کو ہیرو بنانے کی شرمناک حرکت کی ہے۔ آر ایس ایس کنبہ چاہتا ہے کہ پہلے گاندھی کو قتل کیا گیا اور اب ان کے نظریات کو بھی قتل کردیا جائے۔ ہندو مہا سبھا کھلے عام اعلان کررہی ہے کہ ملک کے تمام شہروں میں گوڈسے کی مورتیاں لگائی جائیں گی اور اسکول کی کتابوں میں گوڈسے کو پڑھایا جائے۔ اس کے باوجود سرکار کی جانب سے ان بیانات کی نہ تو تردید کی گئی نہ مذمت۔ اگر ایک بیان ہی آجاتا تو بھی یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ سرکار میں بیٹھے لوگ گاندھی کا احترام کرتے ہیں۔
آر ایس ایس کنبہ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ کچھ بھی کرلیں بھارت کی دنیا میں شناخت آج بھی گاندھی سے ہوتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی پچیس ستمبر کو امریکہ گئے تھے۔ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تو جو بائیڈن نے ان سے بات چیت کرتے ہوئے گاندھی کا ہی ذکر کیا اور کہا کہ گاندھی کے نظریات ہی بھارت کو عظیم بناتے ہیں۔بائیڈن نے آر ایس ایس کے کسی لیڈر کا نام تک نہیں لیا۔ ملک میں ایک اکیلے ورون گاندھی بی جے پی کے ایسے ممبر پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے گاندھی جینتی کے موقع پر ناتھو رام گوڈسے کو ٹرینڈ کرانے والوں کی سختی کے سا تھ مذمت کی لیکن ورون گاندھی اور ان کی والدہ مینکا گاندھی بھلے ہی لوک سبھا میں ہیں مودی سرکار میں ان لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں مل رہی ہے۔ بہرحال گاندھی جینتی کے موقع پر ناتھو رام گوڈسے کو ٹرینڈ کرانا ایک ایسا شرمناک واقعہ ہے جس نے پوری دنیا میں بھارت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’گاندھی ہم شرمندہ ہیں…۔‘

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)