غم جگر سوز، جگر ساز بھی ہو سکتا ہے ـ نمرہ شکیل

غم جگر سوز، جگر ساز بھی ہو سکتا ہے
یہ مرا نقطۂ آغاز بھی ہو سکتا ہے
یوں تو صحرا میں بہار آ نہیں سکتی لیکن
آپ چاہیں تو یہ اعجاز بھی ہو سکتا ہے
گاہے گاہے کا تبسم یہ سخن کے ہمراہ
ہاں کسی بات کا آغاز بھی ہو سکتا ہے
یوں سمٹنے میں بھلا اس کے اشارا کیسا
پھول ہے پھول کا انداز بھی ہو سکتا ہے
گنگناتی ہے خموشی جو ہمارے مابین
اس کے پردے میں کوئی ساز بھی ہو سکتا ہے
یہ بلندی کا سلیقہ جو ملا ہے مجھ کو
یہ فقط حاصل پرواز بھی ہو سکتا ہے
اس قدر شور شرابا ہے جہاں میں اس میں
من کا نغمہ نظر انداز بھی ہو سکتا ہے
یہ تو دنیا کے بتانے سے کھلا ہے ہم پر
ہم سخن خیر سے ہم راز بھی ہو سکتا ہے
شدت غم میں کہاں اشک ہوں اے جان جگر
خواب کا نوحہ بن آواز بھی ہو سکتا ہے
آکے دھیمے سے پڑھے اسم اجازت کوئی
دل کا دروازہ کہیں باز بھی ہو سکتا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*