غامدی صاحب اپنی منطق کی روشنی میں ـ مولانا محمود احمد خاں دریابادی

منطق مدارس اسلامیہ میں صدیوں سے پڑھائی جاتی رہی ہے، اب کہا جاتا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اس لئے پڑھانا بند کردیا جائے، چنانچہ اکثر مدرسوں نے پڑھانا بند نہیں کیا تو بہت کم ضرور کردیا ہے، منطق پڑھانا ضروری ہے یا نہیں اس پر گفتگو آج نہیں، پھر کبھی! آج کی صحبت میں ہم منطق کے ایک مشہور مسئلے سے بات شروع کرتے ہوئے غامدی صاحب کے بتائے ہوئے ایک مسئلے پر ختم کریں گے ـ

منطق میں پڑھایا جاتا ہے کہ دو متفقہ معاملوں کو جوڑ کر ( جن میں ایک کو صغریٰ اور دوسرے کو کبریٰ کہتے ہیں) تیسرے متفقہ مسئلے کو سمجھا جاسکتا ہے جس کو نتیجہ کہیں گے ـ

مثلا اگر ہم اس بات کو سمجھانا چاہیں کہ دنیا ناپائیدار اور فنا ہونے والی ہے تو اس کو منطق کی زبان میں اس طرح سمجھائیں گے:
صغری : دنیا میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ـ ( یہ بات مسلّم ہے، کوئی انکار نہیں کرسکتا )
کبریٰ : جس چیز میں تغیر اور تبدیلی ہوتی رہے وہ پائیدار نہیں ہوسکتی، فانی ہوتی ہے ـ ( یہ بھی بات بھی مسلّم ہے)
نتیجہ: چنانچہ یہ دنیا بھی ناپائیدار اور فانی ہے ـ

لیکن یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے صغری اور کبری کا صحیح ہونا بھی از حد ضروری ہے، اگر دونوں یا کوئی ایک بھی غلط ہوا تو نتجہ بھی غلط برآمد ہوگا، مثلا:
صغریٰ : ہرانسان مرغی کھاتا ہے
کبریٰ : ہر مرغی پاخانہ کھاتی ہے
نتیجہ : لہٰذا ہر انسان پاخانہ کھاتا ہے

اس میں نہ صغری صحیح ہے نہ کبری،ہر مرغی پاخانہ بھی نہیں کھاتی اور نہ ہی ہرانسان کے لئے مرغی کھانا ضروری ہے، جو کھاتا ہے وہ بھی کچا نہیں چباتا ـ اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح غلط صغری کبری ملا کر غلط نتیجہ برآمد کرلیا گیا ـ

اس مختصر تمہید کے بعد اب غامدی صاحب پر آتے ہیں ـ غامدی صاحب کہتے ہیں آج کل شرعی جہاد نہیں ہوسکتا،کیوں؟ ذرا سمجھئے!
صغریٰ: جہاد کے لئے شرعی ریاست کا ہونا ضروری ہے ـ
کبری : چونکہ اس وقت دنیا میں کوئی شرعی حکومت نہیں ہے ـ
نتیجہ : اس لئے اس زمانے میں شرعی جہاد بھی ممکن نہیں ہے ـ
اب ذرا غامدی صاحب فرمائیں کہ کس حدیث میں کس آیت میں لکھا ہے کہ شرعی جہاد کے لئے اسلامی ریاست کا ہونا شرط ہے، ایسے موقع پر غامدی صاحب کے ماننے والے کہتے ہیں کہ حضور نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے بعد ہی جہاد شروع کیا ہے مکہ میں اسلامی حکومت نہیں تھی اس لئے جہاد بھی نہیں ہوا ـ ارے جناب مکہ میں تو روزے، زکوٰۃ اور حج بھی فرض نہیں تھے تو کیا جب تک آپ کی نام نہاد اسلامی ریاست نہ قائم ہوجائے تب تک روزے، زکوۃ اور حج وغیرہ کی فرضیت بھی ساقط رہے گی ؟

ظاہر ہے اسلامی احکام تقریبا تیئیس سال تک تدریجا نازل ہوتے رہے اور الیوم اکملت لکم کے ذریعے دین کی تکمیل کے بعد اب ہم دین کے حصے بخرے نہیں کرسکتے بلکہ مکمل دین پر عمل کرنے کے مکلف ہیں ـ

غامدی صاحب اور دوسرے غلط کار افراد اسی طرح غلط صغری کبری ملاکر لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ـ ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ اوپر ہم نے صرف سمجھانے کےلئےایک لائین کا صغری اور ایک ہی سطر کا کبری بیان کیا ہے، حالانکہ یہ لوگ بعض اوقات مکمل تمہید کے ساتھ کئی صفحات کا صغریٰ اور کئی صفحات کا کبری بیان کرکے پہلے لوگوں کے ذہن کو منتشر کرتے ہیں اور پھر من چاہے نتیجے تک پہنچاتے ہیں، صغری کبری کی طوالت کی وجہ سے لوگ اس کی غلطی پر غور نہیں کرپاتے اور غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں ـ ایسے گمراہوں کی غلط کاری کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے ان کے کئی صفحات پر مشتمل صغری سے فضولیات اور لفاظی کو الگ کرکے اس کا ایک سطر میں خلاصہ تیار کیجئے پھر یہی حشر کبری کا بھی کردیجئے، اس کے بعد غور کریں کہ یہ صغری کبری شریعت کے مزاج کے مطابق ہے یا نہیں، آپ کو خود سمجھ میں آجائے گا کہ لفاظی کا سہارا لے کر کس طرح لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کی جارہی ہے ـ

غامدیت زدہ افراد سے مزید عرض ہے کہ شریعت نے مجبوری اور معذوری کے مسائل الگ سے بتائے ہیں، جہاں جیسی معذوری ہو اس کے مطابق شریعت میں مسئلہ موجود ہے، ایک جگہ کی معذوری کی بنیاد پر ساری دنیا سے کسی اسلامی عمل کو ساقط نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ سننے میں آتا ہے کہ چین کی ظالم حکومت نے بعض علاقوں میں مسلمانوں کے روزے پر پابندی لگادی ہے، سوئت روس کے زمانے میں وہاں نمازوں پر پابندی تھی تو کیا ساری دنیا کے مسلمانوں سے نماز اور روزے کی فرضیت ساقط کردینی چاہیے ـ اسی پس منظر کے تحت جہاد سمیت تمام ضروریات دین کو سمجھنے کی ضرورت ہے ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*