غمِ دوراں سے گر ملے فُرصت!- رخشندہ بتول

 

"آج آنے میں اتنی دیر کردی جانم؟ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔”
"کب سے؟”
وہ اپنا پرس اس کی گود میں پھینک کر اس کے ساتھ ہی صوفے پر ٹِکتے ہوئے شرارت سے بولی۔
"صدیوں سے”وہ بھی اسی کی طرح شرارتاً مسکرایا ۔ وہ اپنی ڈائری اور قلم میز پر پھینک کر اٹھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کے سامنے کرتے ہوئے بولا ” آنکھوں کے رستے دل میں اتر جاؤ”ـ
"آج موڈ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ لگتا ہے جناب کے دماغ میں کوئی نئی کہانی جنم لےچکی ہے”ـ
وہ بدستور مسکراتے ہوئے بولا ؛ "آج دل چاہ رہا ہے تم پر نظم لکھوں۔جانتی ہو؟ تم سراپا نظم ہو سرتاپا شاعری ہو ۔تمہارے ایک ایک انگ پہ میرے سارے لفظ قربان”ـ
وہ اپنا کُشن اٹھا کے اس کی طرف اچھالتے ہوئے بولی؛”اچھا اب زیادہ شوخ ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں چائے بنانے جا رہی ہوں پیوگے؟”
"زیادہ نہیں۔بس ہمیشہ کی طرح تمہارے بچے ہوئے دو گھونٹ پی لوں گا۔” وہ بھی اس کے پیچھے کچن میں آتے ہوئے بولا۔
"اچھا اب کام کی بات کرو بار بار کال کر رہے تھے خیریت تھی؟ کوئی ضروری کام تھا جو اتنی ایمرجنسی میں بلایا؟”ـ
"ہاں۔۔۔کام ہی سمجھو "وہ جھجھکتے ہوئے بولا ۔
"اصل میں امّاں کی دوا ختم ہوگئی اور مالک مکان کواِس ماہ کرایہ بھی نہیں دے پایا۔ڈرامے کی آخری دو اقساط لکھنا باقی ہیں۔میں پچھلی تین راتوں سے صحیح طرح سو نہیں پایا، دماغ بالکل ماؤف ہے۔ ذہن میں کچھ آ ہی نہیں رہا۔ڈرامہ فائنل کرونگا تو پیسے ملیں گے ۔معاف کرنا میں کچھ زیادہ ہی مطلبی ہو گیا ہوں ۔سوچا محترمہ کی بچی ہوئی چائے پیوں گا،حسین ادائیں دیکھوں گا تو شاید دل کے ساتھ دماغ بھی کام کرنا شروع ہوجائے۔شاید آپ کی بدولت مابدولت کے قلم میں بھی روانی آجائے۔”وہ مسکرایا۔
وہ سنجیدگی سے بولی؛ "کب تک چار پیسوں کے لئے چکنی چپڑی باتیں لکھتے رہو گے؟”ـ
"پتا نہیں ” وہ بولا۔
"تم ایک ذہین اور حساس انسان ہوں ۔میں اتنے سالوں سے تمہیں جانتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے جو تم لکھ رہے ہو وہ تمہارے اندر نہیں ہے۔یہ حسن کو سراہنے کا بازاری انداز اور گلی محلے والا عشق کب تک لکھو گے ؟کیوں خود کو ضائع کر رہے ہو ؟تم اِس سب سے کہیں اچھا لکھ سکتے ہو ۔اب میرے جیسی ایک عام سی لڑکی تمہیں سمجھائے گی کہ ہیرے اور کوئلے میں کیا فرق ہے ؟
میں جانتی ہوں تم اچھی طرح سمجھ رہے ہو میں کیا کہنا چاہ رہی ہو ں۔”
"اچھا یعنی تم چاہتی ہو کہ میں اتنی گندی باتیں لکھوں کہ ہر ایک سے گالیاں سنتا پھروں۔” اس نے اس کی ساری سنجیدہ گفتگو کو مذاق میں اڑانا چاہا لیکن وہ اُسی سنجیدگی سے بولی:
” ٹالو مت !
تم وہ ساری باتیں لکھو جو اگلی قسط کے پیسوں کی ادائیگی کی فکر نہ ہو تو تم سوچتے ہو ۔وہ ساری باتیں جو تم یونیورسٹی کے دنوں میں کیا کرتے تھے ۔وہ باتیں جن کی وجہ سے میں تمہاری طرف کھنچی چلی آئی تھی ۔ساری دنیا سے الگ باتیں تھیں تمہاری ۔کتنا مختلف انداز تھا تمہارا دنیا کو دیکھنے کا۔”وہ دوبارہ چائے کی طرف متوجہ ہوئی اور شیلف کے ساتھ ٹیک لگاکے چائے پینے لگی۔وہ اسی شیلف پہ بیٹھ گیا اور بولا ؛”وہ خواب جیسے دن تھے ۔اب تو مجھےوہ دن مکمل یاد بھی نہیں ۔شاید اس عمر میں مجھ جیسے بہت سے نوجوان خود کو سقراط تو کبھی افلاطون سمجھتے ہوں گے ۔کیونکہ اس وقت ابا زندہ تھے اور مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم نہیں تھا "اس کا لہجہ تھوڑا تلخ ہوا۔
"ہمارے ہاں 80فیصد فنکار میری ہی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئےزندگی کے کینوس پہ جو حصہ ہم نے سفید پینٹ کیا ہوتا ہے وہ وقت کے ساتھ سرمئی مائل ہونے لگتا ہے ۔ہم گھبرا جاتے ہیں۔ سر میں عجیب طرح کی خارش ہونے لگتی ہے ۔ہم کبھی کھجلی کرنے لگتے ہیں تو کبھی اپنے آپ کو ہوش میں لانے کے لیے اپنا ہی سر پِیٹ لیتے ہیں ۔
کبھی اپنی حیرت سے پھٹی آنکھوں کو زور زور سے ملتے ہیں کہ کاش یہ سرمئی رنگ نظر کا دھوکا ہو ۔اور پھر آہستہ آہستہ وہ سرمئی رنگ سیاہ ہونے لگتا ہے۔۔بہت گہرا ۔۔کالا سیاہ ۔ اس سفید سے سیاہ تک کے سفر میں اندر کی بغاوت جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے” اس کے لہجے میں تھکن اتر آئی۔
وہ مایوسی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر بولا ؛”جس زمانے کی تم بات کرتی ہو تب تک ابا کا قتل نہیں ہوا تھا ۔میں گھر کی ساری جمع پونجی اس کیس میں نہیں ہارا تھا ۔بیوہ ماں اور جوان بہن کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔اسی لئے خود کو کبھی ‘مارکس’ تو کبھی ‘لینن’ تصّور کرتا۔یوں لگتا تھا جیسے میری سوچیں انقلاب لے آئیں گی ۔ہاہا ۔۔تم سمجھتی ہو میں اب سٹھیا گیا ہوں۔ حالانکہ پاگل تو میں اس وقت تھا۔
جانتی ہو ابا کے قتل کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ کچھ ہٹ کے لکھنے کے لیے۔risk لینے کے لیے بھی آپ کے پیچھے مضبوط ہاتھوں کا ہونا ضروری ہے ۔ورنہ تمھارے اس ملک میں اپنی مرضی سے لکھنا اتنا آسان نہیں ۔ ”
پھر ماحول کی تلخی کو تھوڑا کم کرنے کے لیے مسکرایا اور بولا ؛”اب تمہارا دوست اتنا متنازع لکھاری تو ہے نہیں کہ اس کے تحفظ کے لیے غیر ملکی تنظیمیں دوڑی چلی آئیں گی اور اسے کسی ترقی یافتہ ملک کی شہریت دے دی جائے گی کہ بھیا لکھتے جاؤ جو من میں آئے۔”
اس کے خاموش ہونے پر وہ بچی ہوئی چائے کا کپ اسے تھماتے ہوئے بولی ؛”افف! کتنے جواز ہیں تمہارے پاس اپنی تھرڈ کلاس کہانیوں کے حق میں ۔مجھے تم سے اس مایوسی کی توقع نہیں تھی ۔”
وہ بولا؛”میں دیہاڑی دار لکھاری ہوں مادام!
آپ کی زلفوں پر؛ آپ کی آنکھوں پر؛ آپ کی باتوں پر لکھتا رہوں گا تو گھر کا چولہا جلتا رہے گا ۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ میرے مالک مکان کی گالیوں کو یا میری ماں کی بیماری کی کہانی کو لوگ کتنے دن دیکھیں گے؟کیا ریٹنگ ہوگی اس ڈرامے کی؟ جس میں ایک ایسا لکھاری دکھایا جائے جس کی آنکھیں تین دن نہ سو سکنے کی وجہ سے سُوجی ہوئی ہوں،سر بھاری ہو رہا ہومگر وہ سو نہ سکتا ہو کہ اسے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بقول تمہارے "چکنی چپڑی” قسط مکمل کرنی ہے۔
کوئی نہیں دیکھتا بی
اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔وہ اس کی خاموشی سے اکتا کر اپنا پرس اٹھا کے بولی
"اپنا خیال رکھنا ” اور باہر جانے لگی۔
وہ گھبرا کے اس کی جانب لپکا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا؛”بس آدھا گھنٹہ اور ۔۔۔
صرف آدھا گھنٹہ۔۔
پھر چلی جانا ۔
بس مجھے آج کے قسط مکمل کرلینے دو پھر چلی جانا۔
چلی جانا تم بھی”
چائے کے وہ دو گھونٹ آج کپ میں بچے ہی رہ گئے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*