غالب کی شعریات:تحقیق،تنقید،دریافتِ نو اور گوپی چند نارنگ-عتیق اللہ

(دوسری قسط)
غالب کا نام آتے ہی، ایک ایسے شاعر کا تصور ابھرتا ہے جو ہم سب سے بے نیاز، ہم سب سے بے پرواہ، اپنی دھن میں مست الست، رہنے والا شخص ہے جب کہ ایسا نہیں ہے وہ اپنے مخصوص و منتخب سماجی رابطوں کو تازہ دم بھی رکھتا ہے۔ جو قواعد شکن اور ایک نئے قواعد شعری کا بنیاد گر بھی ہے۔ اسے یہ پرواہ ہی نہیں ہے کہ کسی نے اس پر ’گوشِ شنوا‘ دھرے کے نہیں۔ غالب کی شاعری کیا ہے۔ روایتی کارگہوں کے درمیان ایک نئے سانچے ڈھالنے والی کارگہہ شعری زبان کے سانچے،معنی و فکر کے سانچے، محسوسات کے سانچے ڈھالنے والی کارگاہ جس کے وسیلوں سے وہ جتنا قائم کرتا ہے اس سے زیادہ رد کرتا ہے۔ یہ ہیگل کا نفی کا نفی قانون The law of negation of negationنہیں ہے جس کے تحت ایک شئے کی دوسرے میں تقلیب ہوجاتی ہے اور اسی کے متوازی سابقہ کا اخراج، لیکن اخراج ہی میں ایک اثباتی امکان بھی مضمر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک ایسا غیرمختتم سلسلہ ہے جو تضادات کے باہمی تصادم اور بعدازاں ایک وحدت کی تشکیل کا مظہر ہوتا ہے۔ مارکس نے جدلیات کے اس عمل کو ٹھوس بنیاد فراہم کی تھی۔ دونوں نے اپنے اپنے طور پر جدلیت کو تصورِ ارتقا سے وابستہ کیا ہے۔نارنگ نے بھی ہیگل اور مارکس کے تصورِ جدلیات نفی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
”مارکس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ہیگل کی جدلیات کوجو سر کے بل کھڑی تھی پیروں پر کھڑا کرکے اس کی کایا پلٹ کردی، اسی طرح بودھی فکر بالخصوص ناگارجن نے اپنشدوں کی ماورائی جدلیات کو مایااور آتما پرماتما کے چکر سے نکال کر غیرماورائی ارضیت اساس ’شونیتا‘ میں بدل دیا،جو انسانی آگہی و دانش کا نقطہئ انتہا ہے اور جس کی رو سے کسی بھی شئے کا وجود بالذات طور پر ثابت نہیں، ہر ہر شئے چونکہ قائم بالغیر ہے، اس لیے ’شونیہ‘ یعنی محتاجِ اصل ہے۔ نفی در نفی کا یہ فلسفہ اس حد تک بے لوث، منزہ اور انکاری ہے کہ اس میں کسی نوع کے جوہر یا ذاتِ مطلق کی گنجائش نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے باب چہارم)۔ دوسرے لفظوں میں جہاں ہیگل کی جدلیات ذہنی تفوق پر استوار ہے یا مارکس کی جدلیات مادیت اساس ہے، یا اپنشدوں کی جدلیات ماورائیت اساس ہے اور یہی کیفیت متصوفانہ جدلیاتی رویوں کی ہے جو سب کے سب ماورائیت اساس ہیں، ان سب کے مقابلے میں بودھی شونیتا نہ ماورائیت اساس ہے نہ مادیت اساس۔ یہ اس حد تک منزہ اور ریڈیکل ہے کہ اپنی جدلیاتی سوچ کی تیز دھار سے ہر تعین کوکاٹ دیتی ہے، کسی قضیہ کو بند نہیں کرتی اور طرفوں کو کھلا رکھتی ہے۔“ (ص 474-75)
جب معنی کا قائم ہونا ہی محض ایک التباس ہے اور معنی ہمیشہ روبہ افزائش ہوتے ہیں۔ معنی کے اندر سے معنی کی نمو ہونے اور پھر anti-thesis کے طور پر اس کے رد ہونے کے معنی، معنی کے نئے انکشاف کے ہیں۔ انکشاف کے ہیں مگر ترکیب اور کسی منطقی دلیل پر استوار نتیجے کے نہیں ہیں۔ نارنگ نے بودھی فکر سے شونیتا کے جس تصور کا شعرِ غالب پر اطلاق کیا ہے اس کا نچوڑ انھیں کے لفظوں میں یہ ہے: شونیتاسے مراد کسی نوع کا دھیان گیان یا سلوک و عرفان نہیں ہے، بلکہ فقط وہ نفی اساس جدلیاتی طریقہئ کار جو حقیقت متناقضہ کی طرفوں کو کھول دے“
٭٭٭
شونیتا کا مادّہ شونیہ یعنی صفر یا Zeroہے۔ جو ایک عددی علامت ہے۔ شونیہ کے ایک معنی تو یہی ہے ”ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے“، ”ہر چند کہیں کہ ہے نہیں، ہے“ ہے۔ حیات و کائنات، علم و عمل، ذات و صفات، وجود و موجود، انا و انائے دیگر سب معدوم ہیں۔ سب پر ناموجودگی و غیاب کا پردہ پڑا ہے۔ حقیقت کی اصل محض واہمہ ہے۔ اثبات کچھ نہیں اور اثبات مطلق شونیہ کے مصفّا تصور کو آلودہ اور محدود کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ یہ سوال صدیوں سے مسلسل اور مستقلاً کیا جاتا رہا ہے کہ حیات و کائنات کے وجود کی اصل کیا ہے اس کے معرضِ ظہور میں آنے کے پیچھے کیا کوئی مابعدالطبیعیاتی منطق کارفرما ہے اور یہ اگر اپنا ایک وسیع تر مظہر رکھتی ہے تو یہ رونما کیسے ہوگیا؟ ایک ریاضیاتی نظام سے ارض و سما مربوط نظر آتے ہیں اور ساتھ ہی blindly نشو و نمو کا تاثر بھی فراہم کرتے ہیں۔ گویا اسباب و علل کی جستجو انسانی منطق کا قدیم ترین وظیفہ ہے اور کسی بھی حقیقت یا حواسی حقیقت کے ادراک کے معنی اس سیاہی، darkness کا ادراک ہوجانا ہے جو ایک پریشان کن سوالِ لاجواب ہے اور حیرتوں کا سرچشمہ بھی۔ نارنگ نے بودھی فلسفہ کی رو سے شونیتا کو منتہائے دانش سے موسوم کیا ہے کہ:
”اس کے بغیر نہ تو حقیقت کا علم ممکن ہے نہ اس علم کی ترسیل، اور نہ ہی دنیا کی سچائی کو اس کے بغیر جانا جاسکتا ہے۔ اپنی مطلق حیثیت سے شونیتا انسانی وجود میں (جو عارضی وجود ہے) عدم وجودیت یا آزادی مطلق کاا حساس ہے۔ یہ نفی محض نہیں بلکہ وجود یا وجود کے احساس سے ورا جو وجود کا احساس ہے، اس کی نفی ہے۔ شونیتا کے تصور کو منفی طورپر ہی سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ تمام مثبت پیرائے نہ فقط شونیتا کو محدود کردیتے ہیں بلکہ اس کی مطلقیت کو خالص نہیں رہنے دیتے۔“ (ص 87)
ہمیں یوں سمجھنا چاہیے کہ حقیقت یا وجود اپنی جگہ ہے لیکن شونیتا کی فہم کے بغیر نہ تو اس کا علم ممکن ہے نہ اس کی سچائی سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں حالانکہ سچائی بھی ایک اضافی قدر ہے۔ لیکن سچائی کی اضافیت کے احساس کے معنی ہی یہ ہیں کہ مطلق کچھ نہیں ہے۔ نارنگ کا کہنا ہے کہ شونیتا انسانی وجود میں (جو عارضی وجود ہے) عدم وجودیت یا آزادیِ مطلق کاا حساس ہے۔ اس کے بعد وہ اس مغالطے کو رفع کرتے ہیں کہ شونیتا نفیِ محض نہیں بلکہ وجود یا وجود کے احساس سے ورا جو وجود کا احساس ہے، اس کی نفی ہے، یہاں پہنچ کر ہم اس تصور کو ماورائیت یا مابعدالطبیعیات سے منسلک کرسکتے ہیں۔ یا اس کے سرے عینیت میں تلاش کیے جاسکتے ہیں یا صوفیانہ تجربے سے بھی اسے وابستہ کرکے دیکھا جاسکتا ہے لیکن جہاں وجود اور احساسِ وجود کا صیغہ استعمال کیا گیا ہو اس کے معنی ہی احساسِ حقیقت کے ہیں اور حقیقت کبھی حقیقتِ محض نہیں ہوتی وہ ایک مظہر ہوتی ہے، حواسی تجربہ ہوتی ہے باوجود اس کے ہر حقیقت کا ایک غیاب بھی ہوتا ہے جو ہماری نظر یا بصارت کی محدود صلاحیت اور ذہن و فہم کی محدود صلاحیت کی گرفت سے ہمیشہ پرے ہوتا ہے یہی ”احساس سے ورا وجود کا احساس“ ہے۔ شونیتا کی آگہی کے معنی اندر از وجود اور ورائے وجود کی آگہی کے ہیں۔ چونکہ یہ ایک بے حد پیچیدہ منطق ہے اس لیے نارنگ نے ایک مثال دے کر اس گتھی کو یوں سلجھانے کی کوشش کی ہے:
”فرض کیجیے ایک شخص نے چوری کی ہے۔ ایک دوسرا شخص جس نے چور کو چوری کرتے نہیں دیکھا، وہاں سے گزرتا ہے اور کہتا ہے کہ ”چور یہی شخص ہے“ اس لیے کہ وہ اس شخص کو ناپسند کرتا ہے۔ پھر ایک اور شخص آتا ہے جس نے واقعتاً پہلے شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتا ہے کہ ”چور یہی شخص ہے“ دیکھا جائے تو پہلے اور دوسرے نے چوری کی واردات کے بارے میں ایک ہی بات کہی ہے کہ ”چور یہی شخص ہے“ لیکن دونوں کی سچائی میں جو فرق ہے، وہ بنیادی نوعیت کا ہے یعنی اک شخص جھوٹ بول رہا ہے اور ظاہر کررہا ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے، اور دوسرا شخص سچ بول رہا ہے کیونکہ اس نے چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کسی سچ کو قائم کرنے میں یہی فرق سب سے بنیادی فرق ہے۔ اگر ہم اس فرق کو نگاہ میں رکھیں جو پہلے اور دوسرے شخص میں ہے تو ہم شونیتا (آگہی) اور اودیا (عدم آگہی) میں گرفتار عام آ دمی کے فرق کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ بودھی مفکر چندرکیرتی کی اس حکایت کو بمل متی لال نے نقل کیا ہے۔ جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اودیا میں گرفتار عام آدمی اس شخص کی مثال ہے جس نے سچائی کو نہیں دیکھا مگر سچائی کو جاننے کا مدعی ہے جبکہ شونیتا کی آگہی رکھنے والا شخص اس شخص کی مثال ہے جس نے حقیقت کو دیکھا ہے، اس سے گزرا ہے اور اپنے تجربہ کی بنا پر جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔“ (ص 87-88)
گویا شونیتا کا سروکار محض نفیِ محض سے نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ راست یا ناراست اثبات سے ہے۔ اثبات ختمہ بھی ہے اور جو کچھ ہے وہ سلسلہئ رواں ہے اور بصارت کی حدمیں اسی طرح محض جھلکیاں ہیں جس طرح لفظ کے اندر معنی کی پوری سمائی ممکن نہیں ہم معنی کی جھلک دیکھتے ہیں، معنی کے واہمے یا معنی کے قیاس پر مبنی معنی سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے جس طرح دنیا مسلسل ہونے becoming کی حالت میں ہے۔ اسی طرح معنی بھی محض ’ہونے‘ کی حالت میں ہوتا ہے۔ نارنگ نے معنی کے اس ’ہونے‘ کی حالت کو ایک مسلسل جدلیاتی تفاعل کے تجربے کے ساتھ مشروط کرکے دیکھا ہے۔
٭٭٭
غالب کی شاعری میں زندگی اور دنیا کے بارے میں وہ تصور کم ہی ملتا ہے جو فہم عامّہ سے مطابقت رکھتا ہے یاجسے بار بار دہرایا گیا ہے اور جس نے شاعری میں ایک مستقل مضمون کی صورت اختیار کرلی ہے۔ بعض تصورات آفاقی صداقتوں سے موسوم کردیے جاتے ہیں کیونکہ ان کی حیثیت عقائد و رسوم کی ہوجاتی ہے ورنہ آفاقی صداقت خود ایک بھرم ہے۔ ہم آنکھیں بند کرکے ان صداقتوں کو قبول کرلیتے ہیں کہ فہم عامہ سے بھی ان کی توثیق ہوتی ہے۔ غالب کی فکر میں جس عدم یقین سے ہمیں بار بار سابقہ پڑتا ہے وہ محض تضادات و تناقضاتِ عالم اور اشیائے مدرکہ کی فریب دہی اور عدم استقلالی، ایک وسیع تر خالی پن اور اس کے احساس پر منتج ہے جسے ہمارے نقادوں نے ہر دور میں مختلف نام دیے ہیں۔ تنقید بھی ایک لحاظ سے فنِ تسمیہ یانام زدگی کا فن ہے۔ غالب کے اس مخصوص ذہنی شعار کو جو اپنی بیش تر صورتوں میں ’انکار‘کی طرف مائل رہتا ہے اور جو اپنے قاری کے سامنے سوالات کا دفتر کھول کر اسے الجھائے رکھنے اور بار بار قرأتوں کے آدھے ادھورے تجربے کو رد کرنے اور ہمیشہ قرأت کے عمل میں کچھ نہ کچھ چھوٹ جانے پر اپنی ترجیحات کی بنیاد رکھتا ہے۔ نارنگ نے اسے شونیتا سے تعبیر کیا ہے جس کی بنائے فکر عدم یقین پر استوار ہے اور جس سے ایک راہ حقائق کے اندر حقائق کے جہانانِ دیگر کے عرفان کی طرف بھی جاتی ہے جسے نارنگ نے منتہائے دانش سے تعبیر کیا ہے۔ گفتگو کے اس مرحلے پر مجھے کولمبس سے متعلق ایک واقعہ یاد آگیا: کولمبس (1446-1506) اسپین کا باشندہ تھا، بحری سیاحت کے شوقِ فراواں اور طبیعت کی جولانی اور بلا خوفی نے اسے کئی ایشیائی ممالک کے سواحل تک پہنچایا، وہیں اس کا سب سے بڑا کارنامہ جنوبی امریکہ کی دریافت بھی تھا۔ جب وہ ایک فاتح کی حیثیت سے واپس اپنے وطن لوٹا تو اس کی وسیع پیمانے پر پذیرائی ہوئی، اتنے اہم اور بڑے کارنامے کی سرانجامی پر اسے انعامات سے نوازا گیا۔ اسی سلسلے میں ایک تقریب کے موقع جب وہ اپنے چند احباب کے ساتھ محو گفتگو تھا ایک شخص کولمبس سے مخاطب ہوااور کہنے لگا۔ ’یہ تو کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ کوئی بھی بحری سفر کرکے وہاں جاسکتا ہے۔ کولمبس زیرِ لب مسکرایا اور ایک انڈاہاتھ میں لے کر اس سے کہا جناب من کیا آپ اس انڈے کو سیدھا ہتھیلی پر کھڑا کرسکتے ہیں۔‘ ہاں کیوں نہیں لائیے ابھی کردیتے ہیں۔ ان حضرت نے جواب دیا اور انڈا اپنی ہتھیلی پر دائیں بائیں گھماتے ہوئے سانس روک روک کر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے رہے بالآخر انھوں نے یہ کہہ کر کولمبس کو انڈا واپس کردیا کہ ’نہیں یہ ممکن نہیں ہے‘ کولمبس نے انڈا لیا پاس کی میز سے ذرا سا ٹخ کرکے پھوڑا اس میں سے ذرا سی سفیدی نکلی، کولمبس نے اسے ہتھیلی پر رکھا اور انڈا سیدھے کھڑا ہوگیا۔ وہ حضرت بولے ”ارے یہ تو میں بھی کرسکتا تھا۔“ کولمبس نے کہا محترم! آپ اور مجھ میں بس یہی فرق ہے کہ میں نے اپنی سوجھ بوجھ سے اسے ہتھیلی پر چپکانے کی راہ ڈھونڈ لی اور آپ یہ نہیں کرسکے۔ اب جب کہ میں نے یہ کردکھایا تو آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں دراصل کہنے اور کرنے میں یہی فرق ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)