غالب انسٹی ٹیوٹ میں ’داستان:فن و روایت‘ کے موضوع پر پروفیسر ابن کنول کا آن لائن لکچر 

 

نئی دہلی(پریس ریلیز):قصہ انسانی زندگی سے جڑی ہوئی چیز ہے۔قصہ گوئی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانوں کی تاریخ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ داستان بنتی کیسے ہے؟ ایک شخص کوئی واقعہ دیکھتا ہے اور وہ واقعہ ختم ہوجاتا ہے،لیکن دوسروں تک واقعہ پہنچانے کے لئے وہ شخص اس واقعے کو دہراتا ہے۔ اور یہیں سے قصہ گوئی شروع ہوجاتی ہے۔عالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقد آن لائن اردو،فارسی اور موسیقی کلاسز کے مشترکہ اجلاس میں ’داستان:فن اور روایت‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر ابن کنول نے ان خیالات کااظہار کیا۔ پروفیسر ابن کنول نے مزید کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقد آن لائن اردو،فارسی اور موسیقی کلاسز کامیاب ہورہی ہیں۔ کووِڈ کے زمانے میں جب لوگ اپنے اپنے گھروسے کم نکل رہے ہیں تو برقی وسیلہ ہی اساتذہ اور ادیبوں کو سرگرم رکھنے کاایک طریقہ ہوسکتا ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمدنے کہاکہ ہمیں خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے آن لائن اردو،فارسی اور موسیقی کلاسز کی ابتداکی تھی وہ نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ ہم ہر ماہ تینوں کلاسز کاایک مشترکہ اجلاس منعقد کرتے ہیں اور کسی اہم موضوع پر لکچر یاثقافتی پروگرام منعقد کرتے ہیں تاکہ طلبا زبان کے ساتھ ساتھ کلچرکوبھی سمجھ سکیں۔ آج کے لکچرکے لیے ہم نے فن داستان کو منتخب کیاہے اور اس موضوع پر پروفیسر ابن کنول کی گفتگو سندکادرجہ رکھتی ہے۔ میں ان تمام حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آن لائن اس لکچر میں شرکت کی۔