غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضا حیدر کا انتقال ،اردو دنیا سوگوار

نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر اور اردو دنیا کی ہر دل عزیز شخصیت ڈاکٹر سید رضا حیدر کے انتقال پر پوری اردو دنیا سوگوار ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین جسٹس بدر در ریز احمد نے نہایت گلو گیر آواز میں کہا کہ رضا حیدر میرے چھوٹے بھائی کی طرح تھے وہ انسٹی ٹیوٹ کی ترقی کے لیے جس خلوص سے کام کرتے تھے وہ ایک یادگار واقعہ ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ ایک عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے لیکن موجودہ عہد میں اس کی شناخت کو مستحکم کرنے کا کارنامہ رضا حیدر نے انجام دیا۔ وہ انسٹی ٹیوٹ کی ترقی کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ ایسے دردمند انسان کا رخصت ہوجانا ادارے کے ساتھ ہمارا ذاتی نقصان بھی ہے۔ خدا مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ دکھ کی اس مشکل گھڑی میں اس ادارے کا ہر ایک فرد ان کے پسماندگان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قداوائی نے کہا کہ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مجھے رضا حیدر کی تعزیت پیش کرنا پڑے گی ۔ میرا ان سے خاصہ طویل رشتہ رہا۔ ایک ڈائرکٹر اور ایک انسان کی حیثیت سے میں ان کا بڑ ا قدرداں تھا۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے بارے میں کیا کہوں ، خیالات منتشر ہیں اور لفظ ساتھ نہیں دیتے۔ وہ تعمیری فکر رکھنے والے انسان تھے اسی وجہ سے انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کو اس بلندی تک پہنچا دیا تھاجہاں سے لوگ اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خدا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر عطا کرے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی نے میرا داہنہ ہاتھ قطع کر دیا ہو۔ ہمارے مراسم غالب انسٹی ٹیوٹ آنے سے پہلے سے تھے اور وہ میرے ہر دکھ درد کے شریک تھے۔ میں نے انسٹی ٹیوٹ کی ترقی کے سلسلے میں ایسا فکرمند انسان نہیں دیکھا۔ انسٹی ٹیوٹ کی ترقی کے لیے ان کے ذہن میں بہت سارے منصوبے تھے۔ ہمارا سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں۔ میں اپنی جانب سے اور انسٹی ٹیوٹ کے تمام افراد کی جانب سے ان کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ متین امروہوی، اے رحمٰن، عقیل احمد، ظفر مرادآبادی، ابن کنول، سرورالہدیٰ، اشفاق عارفی، شمیم طارق، شاذیہ عمیر، نور فاطمہ، جاوید میاں، مظہر احمد، ساجد گاندھی، ثاقب صدیقی، ضیاء الرحمٰن صدیقی، مصطفیٰ احمد، اقبال مسعود فاروقی، خورشید عالم، معین شاداب، شعیب احمد فاروقی، ممتاز عالم رضوی، سلیم امروہوی، نعیم حیدر، ناشر نقوی، عبدالحنان، سہیل انور، معید الرحمٰن، عمیر منظر، عبد التوفیق،یاسمین فاطمہ، پرویز احمد، مشتاق احمد، ریاض احمد، عمر کیرانوی، سراج احمد، مسیح الدین، افرز، اشونی، منوج کمار، وغیرہ نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔