غالب اکیڈ می کے 52ویں یوم تاسیس اور غالب کے152 ویں یوم وفات کے موقع پر طرحی مشاعرے کا انعقاد

غالب اکیڈمی ہرسال سہ روزہ پروگرام کا انعقاد کرتی ہے جس میں ایک پروگرام طرحی مشاعرہ کا ہوتا ہے۔اس بارطرحی مشاعرے کے تین مصرعوں 1۔کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا۔2۔چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمایش ہے۔3۔دہر جز جلوہئ یکتائی معشوق نہیں پرمعروف شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شہپر رسول نے مشاعرے کی صدارت کی۔انھوں نے کہا کہ اساتذہ کی زمینوں میں شعر کہنے کی پرانی روایت رہی ہے طرحی مشاعروں میں ا یک ہی زمین میں شعر کہنے سے تکرار کی گنجائش رہتی ہے لیکن آج کے مشاعرے میں کھلا کی ردیف پر زیادہ شعرا نے عمدہ اشعار پیش کیے۔تینوں زمینوں میں اچھے شعر سننے کو ملے۔، نظامت کے فرائض معین شاداب نے ادا کئے، منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
آخر شب وہ پری پیکر کھلا
خواب کی تعبیر سے بہتر کھلا
جی آر کنول
کچھ نہیں ہے بند مجھ پر جز مرے
دیکھتا ہوں دور تک منظر کھلا
شہپر رسول
اس کی اک چپ جانے کیا کیا کہہ گئی
یہ لفافہ بند ہونے پر کھلا
وقار مانوی
گزاریں زندگی کس طرح اپنی لاک ڈاؤن میں
ہر اک پیروجواں اور مردوزن کی آزمائش ہے
احمد علی برقی اعظمی
عاصیوں پر رحمتوں کا در کھلا
ان کا دامن جب سر محشر کھلا
نسیم عباسی
جب کبھی اشعار کا دفتر کھلا
زخم دل کا تب نیا منظر کھلا
عفت زریں
رو بہ رو میں دم میں پیکر کھلا
آئینے پر حیرتوں کا در کھلا
علینا عترت
کیا اترتا ہے فلک سے یہ شفق رنگ عذاب
کہ سر شام بہت کانپنے لگتی ہے زمیں
احمد محفوظ
اے خدائے وقت اب اڑنے بھی دے
کب تلک بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
فاروق ارگلی
جہاں دبدبہ قائم رہے روشن نگاہی کا
نہ ہو تیرہ شبی حاوی،کرن کی آزمائش ہے
شفا کجگاؤنوی
کھیل زخموں کا ہوا اس بار بھی
اب کے لیکن سر نہیں پتھر کھلا
معین شاداب
تو رگ جاں سے بھی تھا نزدیک تر
راز یہ ہم پر تجھے کھو کر کھلا
ایم آر قاسمی
روایت کے نگینوں سے سجا رکھا ہے اس فن کو
ترے عرض ہنر میں ہی سخن کی آزمائش ہے
شاہد انور
عاشقی میں جب وہ بازیگر کھلا
زندگی کا راز تب مجھ پر کھلا
نسیم بیگم نسیم
خواب کے پاؤں بڑھے آتے ہیں میری جانب
نیند کتراکے گذر جائے نہ آنکھوں سے کہیں
ارشد ندیم
محبت میں سیاست کا چلن تو عام ہے لیکن
سیاست میں محبت کے چلن کی آزمائش ہے
کیلاش سمیر
سروں کی، زندگی کی،جان و تن کی آزمائش ہے
وطن میں ان دنوں اہل وطن کی آزمائش ہے
عامر سلیم خاں
ہماری بے زبانی کا کبھی چرچا نہیں ہوتا
تو اس شہرِ خموشاں میں سخن کی آزمائش ہے
جاوید مشیری
رکھ دیا ساقی نے یوں ساغر کھلا
زاہدوں کا راز رندوں پر کھلا
سرفرازفراز دہلوی
مشاعرے میں متین امروہوی،انا دہلوی،راجیو کامل،انیمیش شرما نے بھی اشعار پیش کئے۔ آخر میں سکریٹری کے شکریہ کے ساتھ مشاعرہ ختم ہوا۔