غلطی کا اعادہ ـ عبداللہ ممتاز

 

ملک آزادی سے قریب تھا، ہندوستان کی تمام اقوام نے آزادی کے بعد کا نقشہ بنانا شروع کردیا، ہمارے ملک کی آئین میں ہمارے کیا حقوق ہوں گے، سیاست میں ہماری کتنی شراکت داری ہوگی اور ہماری قوم آزاد ہندوستان میں کیسے باعزت طور پر رہ سکے گی اور ترقیات حاصل کرسکے گی۔

مسلمانوں نے بھی اس طرف توجہ دی اور سوچنا شروع کیا؛ چناں چہ دو نظریات سامنے آئے ۔ ایک طبقہ نے تقسیم وطن کرکے علیحدگی کی زندگی گزارنے میں عافیت سمجھی اور دوسری طرف دوسرے طبقے نے کانگریسیوں اور ملک کے ہندؤں پر اندھا دھند اعتماد کیا۔ چناں چہ بجائے اس کے کہ رہنمایان قوم آزاد ہندوستان میں قوم کی تعمیر وترقی کی فکریں کرتےآپس میں ہی دست وگریباں ر ہے۔ مسلم لیگ کے حلقہ میں "کانگریسی” ایک بدترین گالی تھی، کسی بڑے سے بڑے عالم کے غیر معتبر ہونے کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ کانگریس کا ممبر یا سپورٹر ہے، کانگریسی ہونا ” ہندؤں کے ایجنٹ” اور” ملت فروش” کا مترادف تھا اور اِدھر والوں کی نظر میں مسلم لیگ والے دیش کے سب سے بڑے غدار تھے؛ بل کہ وہ مسلمان تک نہ تھے، جو تقسیم کی بات کرتا تھا وہ دنیا کا بزدل ترین انسان تھا، اپنی چھوٹی سی حکومت کا بھوکا تھا ، چھوٹی سی مملکت قائم کرکے تمام مسلمانوں کو مروا دینا چاہتے تھےاور خود ایک پرتعیش زندگی کا خواب دیکھ رہے تھے۔

دونوں طبقے نے اپنے متشدد نظریات (extreme ideology) کی وجہ سے قوم کا بہت بڑا نقصان کیا، ایک نے کانگریسیوں پر ایمان لایا اور سیاست میں شراکت کے بجائے غیر مشروط حمایت کی جب کہ دوسرے نے ملت کے مفاد کو تقسیم وطن سے وابستہ سمجھا ؛ لیکن تقسیم کے نقصانات سے یکسر آنکھیں موند لیں۔

آج سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں کہ ستر سالوں بعد تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ مسلم جوان دو دھڑے میں بٹ چکے ہیں، ایک مسلم لیگ والے نظریات کوپوری شدت کے ساتھ فروغ دے رہے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ پورے ہندوستان میں جہاں جہاں چند سیٹوں پر مسلم ووٹ اکثریت میں ہے یا فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں وہ یکمشت اپنا ووٹ مجلس اتحاد المسلمین کو دے کر "مسلمانوں کا اتحاد” پیش کریں، جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ جمن میاں ہیں، انھیں ستر سالوں بعد بھی اس کا شعور نہیں ہوا کہ "ہندؤں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے” وہیں دوسرا دھڑا وہ ہے جو آج بھی کسی نام نہاد سیکولر پارٹی کی غیر مشروط حمایت ؛ بلکہ اس کی غلامی کو ہی سیکولرزم کا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں کسی مسلم پارٹی کو ووٹ دینا سیکولرزم کو اپنے ہاتھوں خون کرنے کے برابر ہے۔ انھیں اپنے نفع ونقصان سے کوئی مطلب نہیں ہے ، ہر شخص جو بی جے پی کی مخالفت کرتا نظر آئے وہ اس کا مسیحا بن جاتا ہے۔ وہی اس کا حقیقی لیڈر اور مسلمانوں کی ڈوبتی نیا کا کھیونہار ہوتا ہے۔ ان کی نظر میں مجلس اتحاد المسلین اور اس طرح کی جو مسلم قیادت والی پارٹیاں ہیں وہ سب بی جے پی کی معاون پارٹیاں ہیں، ہندوستان میں اس قسم کی پارٹیوں کا وجود ہی غلط ہے ۔

یقینا دونوں قوم کے حوالہ سے مخلص ہوں گے ؛ لیکن ان دونوں طبقات نے جو روش اختیار کی ہے یہ قوم کی حالت اس سے کہیں زیادہ بدتر کرے گی جو تقسیم وطن کے بعد ہوا۔ یہ فکر صرف اور صرف ملت کا بیڑ ا غرق کرے گی ۔ ہاں اس دونوں فکر میں امت کا تو بہت بڑا نقصان ہے ؛ لیکن پارٹی سے وابستہ لوگوں کا خوب فائدہ ہے؛ چوں کہ ان دونوں کے سامنے پارٹی کی طرف سے چارہ ڈالا جاتا رہے گا۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ واقعتا قوم کا مفاد چاہتے ہیں تو اپنے نظریات سے تشدد کو کم کیجیے، نہ تو ہندو مسلم کی جنگ لڑیے اور نہ ہی سیکولرزم کے چکر میں اپنے ایمان وایقان تک کا سودا کرلیجیے۔ ہندوستان کے آئین میں ہمارے وجود اور رسوم کی حد تک مذہبی آزادی حاصل ہے، اس لیے اس کاتحفظ ہم کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے؛ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اندھا دھند ہندوستان کی تمام شقوں کو گلے سے لگا کر بیٹھ جائیں اور اسے قرآن کا درجہ دینے لگے۔ آئین ہمیں اس لیے عزیز ہے کہ آئین ہمیں اپنے مذہبی احکام پر چلنے میں نہ صرف روکتا نہیں؛ بلکہ معاونت کرتا ہے؛ لیکن جہاں جب یہ کسی حکم شرعی کے خلاف ہو تو یقینا ا س کی ویلیو ہماری نظر میں کوڑے کاغذ سے زیادہ نہیں ہے۔

بہار کی سیاست میں ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں نے یکمشت ووٹ تیجسوی یادو والی قیادت کو ڈال دی، انھیں اپنے نفع ونقصان سےکوئی مطلب نہ تھا، انھوں نے تیجسوی والی قیادت کو ووٹ صرف اس لیے دیا کہ بظاہر وہ بی جے پی کا بڑا حریف تھا، نتیش کمار کا گوکہ بی جے پی سے اتحاد رہا ہے ؛ لیکن بہرحال مسلم رہنمایان کے اثر ورسوخ کی وجہ سے مسلمانوں کےلیے بہت کم مضر ثابت ہوا؛ بلکہ بہت سارے مواقع پر اس نے مسلمانوں کے حق میں کام بھی کیا۔ نتیش کمار جو حکومت بنایا کرتا تھا وہ اپنے بوتے پر بناتا تھا، بی جے پی بس معاون ہوا کرتی تھی اس لیے نتیش کے فیصلوں میں رخنہ ڈالے کی کوشش کم کرتی تھی اور جہاں رخنہ ڈالنےکی کوشش کی وہاں دونوں الگ ہوگئے جس میں بی جے پی کا خسارہ تھا۔ بہار کے آخری الیکشن میں مسلمانوں نے نتیش کی بھرپور مخالفت کی اور آخر کار اب وہ بی جے پی کے رحم وکرم پر ہیں۔

دہلی الیکشن میں دیکھا، مسلمانوں نے اروند کیجریوال کو اپنا مسیحا سمجھ لیا اور یکمشت ووٹ کیجریوال کے حوالے کردیا ؛ چوں کہ بی جے پی کا بڑا حریف وہی تھا۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں پر تو گھانس تک ڈالنا گوارا نہیں کیا۔ آج کیجریوال اپنی گندمی چڈی کے ساتھ باہر آچکا ہے۔

بنگال الیکشن میں بھی ہم نے یہی دیکھا کہ ممتا بنرجی سے کسی نے کوئی کام نہیں پوچھا، مسلمانوں نے کوئی وعدہ اور حلف دلانےکی کوشش نہیں کہ وہ جیتنےکے بعد مستقبل میں مسلمانوں کے لیے کیا کرنے والی ہے، بس وہ بی جے پی کی بڑی حریف تھی اس لیے بی جے پی کو شکست دلانے کے لیے ممتا کو ووٹ دیا گیا۔

اب یوپی کی باری ہے، یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کا سخت ناپسندیدہ چہرہ ہے، اس کے مقابل جو بھی بظاہر مضبوط نظر آئے گا انھیں ووٹ دے کر یوگی کو شکست دلانے کی کوشش کی جائے گی۔ وہیں ایک طبقہ وہ ہوگا جو اتحاد المسلمین کی دعوت دینے میدان میں اترے گا، انھیں کسی کی جیت ہار سے کوئی مطلب نہیں ہوگا، کس کی حکومت بنے اور گرے ،اس سے مسلمانوں کا مستقبل کتنا متاثر ہوگا اس سےکوئی مطلب نہیں ہوگا، انھیں بس وہ چند سیٹیں چاہیے ہوں گی جہاں سے وہ الیکشن لڑ رہے ہوں گے۔ اعظم گڑھ ٹائپ علاقے کے لوگ تو اپنی مسلمانی اور سیکولریت کا امتحان دیتے دیتے عاجز آچکے ہیں۔ ایک طرف راشٹریہ علماء کونسل دوسری طرف اتحاد المسلمین اور تیسری طرف پیس پارٹی ان کے اسلام کو آزما رہے ہوں گے اور ہر کوئی متحد ہوکر ان کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کر رہے ہوں گے اور اتحاد کے ثمرات وبرکات اور غیر متحد ہونے کی نحوست اور بربادی پر تقریریں کر رہے ہوں گے، یہ الگ بات ہے کہ وہ خود آپس میں اتحاد نہیں کرسکتے۔ ادھر سماجوادی اور بہوجن سماج انھیں بی جے پی کا خوف اور سیکولرزم کا واسطہ دے کر الگ ووٹ کا مطالبہ کر رہے ہوں گے ۔ ایسے میں بیچارے مسلمان کیا کریں ؟

مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ پکے کانگریسی اور سیاست کے بڑے کھلاڑی تھے، ان کےمداحوں اور ناقدین کی بڑی تعداد ہے؛ لیکن سیاسی طور پر ان کی ہوش مندی کے سب قائل ہیں، سیاسی داؤ پیچ سے گہری واقفیت رکھنے کی وجہ سے انھوں نے مسلمانوں کے لیے بڑا کام کیا ۔یوں تو وہ ہندوستان بھر میں کانگریس کی غیر مشروط حمایت کیا ہی کرتے تھے ؛ لیکن انھوں نے 2005ء میں آسام الیکشن کے موقع پر اس وقت کے وزیر اعلی ترون گگوئی سے ملاقات کرکے چند وعدوں کے بدلے غیر مشروط حمایت سے منع کردیا اور اصرار کیا کہ تحریری طورپر آپ ہم سے معاہدہ کریں کہ جیتنے کے بعد مسلمانوں کے فلاں فلاں مسائل آپ حل کریں گے تبھی ہم آپ کی حمایت کریں گے۔ گگوئی نے تحریری معاہدہ سے انکار کیا اور مولانا مدنی پکے کانگریسی ہونے کے باوجود کانگریس کے خلاف ایک نئی پارٹی "یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ "کی داغ بیل ڈالی اور اس کی قیادت مولانا بدرالدین اجمل کو سونپ دی۔ مولانا نے اپنی بلند شعوری اور سیاسی گلیاروں سے واقفیت کی وجہ سے پارٹی کو عروج بخشا، انھوں نے ہندو مسلم کارڈ نہیں کھیلا؛ بلکہ حقوق کی جنگ لڑی، انصاف کی بات کی۔ اب وہ آسام کی بڑی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔

جہاں کہیں الیکشن ہو خود کو سیکولر اور بی جے پی کا حریف بتانے والی پارٹی کی غیر مشروط حمایت کے بجائے ان سے تحریری طور پر معاہدہ کرنا چاہیے کہ ہمارے ووٹوں کی صرف یہ قیمت بالکل نہیں ہے کہ بی جے پی حکومت نہیں بناسکے گی۔ بی جے پی سو بار حکومت بنائے ،ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر تم حکومت بناتے ہو تو اس میں ہمارا یہ حصہ ہوگا اور ہمارے لیے فلاں فلاں کام کرنا ہوگا ورنہ پھر جو کوئی پارٹی بھی ہماری شرطوں کےساتھ ہم سے معاہدہ کرے ہم ان کی کھل کر حمایت کریں گے۔ یہ کہنے سے بالکل کام نہیں چلے گا کہ "ہم غیر سیاسی جماعت ہیں”۔ اگر اب تک تھے تو اب سیاسی بن جائیے۔ عملا سیاست میں گو شریک نہ ہوں؛ لیکن سیاسی افراد کو محض جھوٹے وعدوں اور تسلیوں کی بنیاد پر ووٹ قطعا نہ دیں۔