غلطی ہاے مضامین مت پوچھ!

عبیدانورشاہ
رعایت اللہ فاروقی صاحب کی تحریریں اکثر پڑھنے میں آتی رہتی ہیں، انہیں قلم پر اچھی قدرت حاصل ہے؛لیکن اکثر اعتدال کا دامن ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہےاور اپنا مدعا ثابت کرنے کے لیے وہ بہت سی ضروری باتوں کو بھی گول کر جاتے ہیں، اپنے ایک تازہ ترین مضمون بعنوان "تخلیقی بچے اور دینی مدارس” میں (جو کہ آج کل سوشل میڈیا پر گردش میں ہے) انہوں نے اپنی عام عادت کے مطابق کئی حقائق کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے یک رخا مضمون اس طرح لکھا ہے کہ اسے پڑھ کر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ مدارس میں جو کچھ پڑھائی لکھائی ہوتی ہے،وہ تو کسی کام کی ہے نہیں؛ بلکہ طلبہ کی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہی مدرسوں کا نصب العین بن چکا ہےـ
رعایت اللہ صاحب نے طلبہ کی تین کیٹیگریاں بیان کی ہیں،انہی کے لفظوں میں ” مدارس میں پڑھنے والے طلبا کی بھی تین کٹیگریاں ہوتی ہیں: ایک وہ،جو ہمیشہ اے (ممتاز) گریڈ لیتے ہیں اور دوسرے وہ،جو سی (مقبول) گریڈ لیتے ہیں،جبکہ تیسرے وہ، جو ان دونوں کے بیچ میں پائے جاتے ہیں اور تعداد میں غالب اکثریت ہوتے ہیں”ـ طلبہ کی جو تین کیٹیگریاں انہوں نے بیان کی ہیں، وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ یہ قسمیں سب تعلیم گاہوں میں پائی جاتی ہیں، اس میں مدرسوں کی کوئی تخصیص نہیں، یہ بات بالکل درست ہے؛ لیکن اس کے بعد انہوں نے بڑا زور دے کر لکھا ہے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے کتابی طلبہ کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اور تیسری کیٹگری کے کتابوں سے غافل طلبہ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اگر کچھ دیر کے لیے اس بات کو صد فیصد درست مان لیا جائے،تو بھی اس میں کوئی اشکال کی بات نظر نہیں آتی ـ ہر تعلیم گاہ میں تعلیم کو ہی اولیت حاصل ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر طلبہ کو برتا جاتا ہے، یہ کہنا کہ مدارس میں غیر نصابی سرگرمیاں رکھنے والے طلبہ کو کرمنلز سمجھا جاتا ہے، محض لفظوں کی چالاکی ہے، کیا اسکول وغیرہ کے وہ طلبہ،جو پڑھنے والے اور کتابوں میں اعلیٰ نمبرات لانے والے ہوتے ہیں، اساتذہ (والدین اور معاشرے) کی نظر میں مقبول نہیں ہوتے اور کھیل کود میں مبتلا، آوارہ گردی کرنے والے ناپسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے؟ اب اسے کوئی کرمنلز کی تعبير پہنا دے، تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے،زیادہ سختی اور مار پٹائی کی تو خود اہل مدرسہ مذمت کرتے ہیں؛لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی ساری سختی محض شفقت کی بنا پر ہوتی ہے، جس طرح شفیق باپ بھی کبھی اپنی اولاد کو بغرض تربیت ڈانٹتا ہے، کبھی مارتا ہے، کبھی ناراض ہو کر جیب خرچ روک لیتا ہے، اسی طرح مدرسین بھی سختی کرتے ہیں، ان کا حال اسکول کے ماسٹروں جیسا نہیں، جن کے لئے تعلیم محض کاروبار بن چکی ہے،طالب علم پڑھے یا نہ پڑھے،انہیں اپنی تنخواہ کی فکر رہتی ہے،کبھی طالب علم کی تعلیم کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی کرتے ہیں، تو اس کا سبب اپنے ادارے کی بدنامی کا خوف ہوتا ہے، نہ کہ طالب علم کی خیر خواہی ـ
رعایت اللہ صاحب نے یہ بات بڑی عجیب لکھی ہے کہ کتابی طلبہ فراغت کے بعد گمنام ہو جاتے ہیں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ملوث طلبہ بہت جلد شہرت حاصل کر لیتے اور چمکنے لگتے ہیں، خدا تعالیٰ ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیتے ہیں،جن میں کتابی صلاحیت نہیں،وہ کتاب کیا پڑھائیں گے؟ اور جنہیں درس و تدریس کا ملکہ حاصل ہے، وہ اگر نہ پڑھائیں، تو نظامِ تعلیم کیسے چلے گا؟قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ علوم شرعیہ کی اصل خدمت ایسے "کتابی کیڑے” ہی انجام دیتے ہیں، انہی کو علم کی پختگی اور نظر کی گہرائی حاصل ہوتی ہے، غیر نصابی سرگرمیوں میں لگے ہوئے طلبہ بھی اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بھی خدمت کے مختلف مواقع فراہم کرتا ہے؛ لیکن ان کا دائرۂ کار الگ ہوتا ہے اور علوم شرعیہ میں ان کی وہ استعداد نہیں ہوتی،جو پہلی کیٹیگری کے طلبہ کی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے اکثر اس تیسری کیٹیگری والے طلبہ کو فراغت کے بعد نام نہاد تنظیمیں کھولتے اور کرایے کے کمروں میں "جامعات” قائم کرتے دیکھا ہے، رہا شہرت اور نام چمکنا، تو اگر یہی کامیابی کا پیمانہ ہے،تو ایسا سمجھنے والے کو اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے،شہرت و مقبولیت کے مختلف اسباب ہیں، وہ جسے حاصل ہوتے ہیں،وہ مشہور ہو جاتا ہے،اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ غیر مشہور آدمی ناکارہ یا ناکام ہے،اس پیمانے پر جانچیں گے، تو آپ کو عمران پرتاپ گڑھی افتخار عارف سے زیادہ قد آور نظر آئے گا، کوتاہ نظری کی اس سے زیادہ واضح مثال بھی کوئی ہو سکتی ہے؟!
یہ کہنا کہ کتابی طلبہ،جو آگے چل کر عام مدرس ہی بن کر رہ جاتے ہیں، ان کی تقریر فضائل سے شروع ہو کر فضائل پر ختم ہو جاتی ہے، جھوٹ کے سوا کچھ نہیں. ہم نے "کتابی علما” کے بیانات سنے ہیں اور خدا گواہ ہے کہ ان کے یہاں علم و حکمت، دانائی، معلومات کی جو فراوانی ہوتی ہے،وہ کہیں اور نظر نہیں آتی،انسانی نفسیات اور معاشرے کی صورت حال پر ان کی ایسی گہری نظر ہوتی ہے کہ شاید و باید کسی کو حاصل ہوـ
رعایت اللہ فاروقی صاحب کی انشاکی کرامت دیکھیے کہ لفظوں کے الٹ پھیر میں طلبہ کو مٹر گشتی، کرکٹ نوازی، فلم بینی، آوارہ گردی، درسگاہوں سے غیر حاضری اور اس کے ضمن میں اساتذہ، والدین کو دھوکا دینے، جھوٹ بولنے، چوری کرنے وغیرہ کی خوب فضیلت گنوائی ہے اور مستقبل کے "مثبت نتائج” کے اعتبار سے کہنا چاہیے کہ اس کی کھلی ترغیب دی ہے،رعایت اللہ صاحب کی پیدائش بہت بعد میں ہوئی، ورنہ بہت ممکن تھا کہ اصحابِ صفہ کی بھی اصلاح کر دیتے کہ کیا پورا پورا دن ایک جگہ پڑے پڑے قرآن و حدیث رٹتے رہتے ہو، باہر نکل کر دنیا کی خبر لو!!
رعایت اللہ فاروقی صاحب کو مدارس سے یہ بھی شکوہ ہے کہ ان کے یہاں تخلیقی ذہن والے طلبہ کے لیے کوئی مستقل سرگرمی نہیں،جیسا کہ اسکولوں میں ہے،مثلاً مصوری، گائکی، اسپورٹس وغیرہ ـ اب جب تک اہل مدرسہ اپنے یہاں گانے کی مشق اور ڈانس کی کلاسز شروع نہیں کریں گے، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑتی رہیں گی؛اس لئے کہ تخلیق کے معنی ہی ناچ گانا ہو کر رہ گیا ہےـ مضمون نگاری، تقریر و خطابت، کمپیوٹر ڈیزائننگ (جو الحمد للہ کئی مدرسوں میں سکھائی جاتی ہے) یہ سب ناچ گانے، کھیل کود کے بغیر بے معنی ہیں،پھر یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر تعلیمی ادارے کا ایک بنیادی کام ہوتا ہے،جیسے لا کالج قانون پڑھنے کے لیے ہے، انجینئرنگ کالج انجینئرنگ کی تعلیم کے لیےـ ان اداروں کے بارے میں کوئی یہ کہے کہ یہاں ڈانس کیوں نہیں سکھایا جاتا، گانے کی مشق کیوں نہیں کرائی جاتی، تو ایسے شخص کو دماغی علاج کرانے کا مشورہ دیا جائے گاـ جسے یہ چیزیں سیکھنی ہیں، اسے یہ کہا جائے گا کہ تم غلط جگہ آ گئے ہو، تمہیں تو کسی ڈانس انسٹیٹیوٹ یا تھیٹر کمپنی میں چلے جانا چاہیے،ہم جانتے ہیں کہ کچھ چیزوں کا مدرسوں میں اضافہ ہونا چاہیے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدرسے اپنی اصل شناخت گم کر دیں، مدرسوں کے قیام کا اولین مقصد علومِ شرعیہ کی خدمت ہے اور اس گئے گزرے زمانے میں بھی وہ یہ خدمت بخوبی انجام دے رہے ہیں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*