غیرت-امِ ہشام

جب اس نے نئے اسکول میں جانا شروع کیا تو تقریبا ہر روز ہمیں ایک سی بات سننے کو ملتی۔ امی! ٹیچر بہت سارا میک اپ لگاکر آتی ہی ـ امی!!!! ٹیچر دوپٹہ نہیں لیتیں
امی!!!! ٹیچر ساڑی کیوں پہنتی ہیں؟
ہم اس کی بات سنتے اور اسے اپنے طریقے سے مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگتے۔
پھر رفتہ رفتہ اس کی شکایتیں دم توڑنے لگیں کیونکہ اس کے ننھے لیکن ناقابل شکست ذہن کو ہم نے یہ تسیلم کرنے پر مجبور کردیا تھا کہ زندگی کے معاملات میں اپنی غیرت سے سمجھوتہ کرو اور آگے بڑھو۔
ہم ایک معیاری اسکول اور اس کی معیاری تعلیم کے لیے اپنے بچے کی فطری غیرت کا خون ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اب وہ ہم سے کبھی کسی قسم کی شکایت نہ کرتا۔ اسے اسکول، ٹیچرز ،میوزک کلاس، فیسٹیول سیلیبریشنز پر کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔ وہ یہ تمام چیزیں انجوائے تو نہیں کرتا پھر بھی وہ ہمیں بتانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ہم اسے سمجھا چکے تھے کہ ہمیں اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اپنے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کرتے ہوئے پراگندہ ماحول سے بچ کر اپنے کردار کو بچانا ہوگا۔
اللہ جانتا ہے ہم اس حال سے مطمئن نہ تھے۔ ہر وقت ایک جلن ایک کڑھن اور بے چینی سی تھی جو ضمیر کو کچوکے لگارہی تھی کہ ذرا سے دنیاوی فائدے کے لیے صاف شفاف ہیرا صفت بچے کو قابل اعتراض باتوں پر سمجھوتہ کرنا مت سکھاؤ۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سچویشن سے کیسے نپٹا جائے۔
اس وقت دعاؤں نے شدت اختیار کرلی کہ اللہ میرے بچوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر۔ انھیں دین ودنیا کی تمام خیر عطا فرما۔ میری دعا کا ایک بڑا حصہ اس پر مشتمل رہا ہے کہ اللہ میری اولاد کو الحاد سے بچا۔ دیر سے ہی سہی لیکن اللہ نے ہماری دعا قبول فرمائی اور پھر بہت سے معاملات ہمارے لیے آسان ترین ہوتے چلے گئے۔
سب سے پہلے تو ہم نے اس اسکول سے نکال لیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے بچے کی فطرت ماحول اور معاشرے کے ہاتھوں مزید مسخ ہو۔
اسے پڑھنے کا شوق تھا۔ اکثر معاملات میں وہ ایسی باتیں کرتا کہ لگتا اپنی عمر سے آگے کی سوچ رکھتا ہے۔ وہ اس بات کا اہل ہوچکا تھا کہ اب اس کی دوستی کاغذ قلم سے کروادی جائے۔ ساتھ ہی اسے زندگی کو ڈیل کرنے کے سچے اصول بحیثیت والدین ورثے میں دیے جائیں اس کے دل وجاں میں پیوست کردیے جائیں۔
میرا بیٹا ہشام،اس کی غیرت کے سامنے شفٹنگ کا مسئلہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ نئے اسکول میں داخلے کا مرحلہ طے ہوجانے والا ہے۔ بچے کی معصومیت، اس‌ کی غیرت اللہ کی طرف سے ملی ہوئی فطری دولت ہے، ایک بار ہاتھ سے چلی جاتی ہے تو پھر زندگی میں سمجھوتوں کے سلسلے نہیں رکتےاور یہ وہ ڈگر ہے جس کا ہر قدم تباہی کی طرف جاتا ہے۔ ہمیں یہ سودا منظور نہیں تھا۔ اسکول ہی بدل لیا اور آگے بڑھ گئے۔
اکثر ہم بڑے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کی غیرت، فطرت، دینی حمیت ان کی شرم وحیا کو ختم کردیتے ہیں۔ پھر واویلا کرتے ہیں ٹی وی، میڈیا اور ماحول نے یہ افراتفری مچائی ہے۔ وقت رہتے اگر ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ لیں تو شاید وقت پر ہم اپنا بہت کچھ بکھرنے سے بچالیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*