غیر سنجیدہ حکمرانوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائے ہندستان-صفدرامام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
ابھی تین مہینے نہیں گُزرے ،ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت نے اپنا دامن جھاڑ لیا کہ کورونا وبا سے صوبائی حکومتیں یا عوام اپنے طَور پر لڑیں اور ہاریں یاجیتیں۔ مرکز کی تقلید میں کم وبیش صوبائی حکومتیں بھی اسی انداز میں سرگرمِ عمل ہیں۔ کبھی لاک ڈائون ہٹا دیا جاتا ہے اور کبھی کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔ جن صوبوں کے حالات زیادہ مشکلوں میں اُلجھے ہوئے ہیں، وہ بھی روٹین کے انداز میں اپنی کارکردگی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ملک و قوم کاکسی بڑی مشکل سے مقابلہ نہیں ہے بلکہ آئے دن کے مسائل کی طرح یہ وبا بھی ایک مسئلہ ہے اور اس سے ہمیں ایک دن فراغت مل ہی جائے گی۔
پورے ملک میں کورونا سے متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایک سو پینتیس (۱۳۵)کروڑ آبادی کے پیشِ نظر یہ تعداد خوف ناک نہیں کہی جا سکتی۔ سولہ ہزار کے قریب موتیں بھی لوگوں کو پریشانی میں اس لیے نہیں ڈال رہی ہیں کہ یوروپ اور امریکہ کے کئی ممالک میں اس سے زیادہ اموات سامنے آئی ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے بارے میں ایسے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہاں متاثّرین اور مہلوکین کی تعداد کے اعداد و شمارکو پوشیدہ رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے اور ہر حکومت محدود تعداد میں ہی اعداد و شمار جاری کر رہی ہے۔ چین اور ایران کے بارے میں امریکہ کئی بار اِن شبہات کا اظہار کر چکا ہے۔ ہندستان کی مرکزی حکومت نے وبائی قانون بنا کر سارے اختیارات کچھ اس طرح سے اپنے ہاتھ میںلے لیے ہیں جس سے صرف اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پورے ملک کے اعداد و شمار پیش کرے۔ جس حکومت کو ای۔ وی ۔ایم میں ہیرا پھیری کرکے اقتدار تک پہنچنے کا مزہ مل چکا ہو، اسے بھلا شرحِ اموات اور وبا سے متاثّرین کی تعداد میں چھیڑ چھاڑ کرنے سے کون روک سکتا ہے؟
ممبئی، دلّی، تمل ناڈوٗسے لے کر چھوٹے چھوٹے شہروں تک سے یہ صبر آزما اطّلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ وہاں شمشان گھاٹ میں قطاریں لگ رہی ہیں۔ ممبئی میں چار چار اور پانچ پانچ دن کے بعد میّت کو جلانے کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ مختلف شہروں کے قبرستانوں سے یہ اطّلاع آ رہی ہے کہ گورکنوں نے اضافی مزدوروں کو کام میں لگایا۔ بہت ساری جگہوں پر ایڈوانس قبر کھودنے کی تصویریں نشر ہو رہی ہیں مگر حکومت کی طرف سے موت کی گنی چُنی تعداد ہی بیان کی جا رہی ہے۔ لازم ہے کہ موت کی حقیقی تعداد کئی ہزار اور ہوگی جسے حکومت نے چھپا پانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ افراد جن کی موت کورونا سے ہوئی مگر انھیں کسی جانچ سے نہیں گُزارا گیا، ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے اور پورے ملک میں ہزاروں ایسی اموات ہوئی ہیں مگر وہ کورونا متاثّرین کے دائرے میں تکنیکی طَور پر شامل نہیں کیے گئے۔
ہندستانی حکومت کا ابتدائی دور سے ہی اس بات پر خاص دھیان رہا کہ کم سے کم جانچ کی جائے جب کہ یوروپ اور امریکہ میں زیادہ سے زیادہ جانچ کرکے حقیقی کورونا متاثرین کی پہچان کرکے انھیں سماج سے الگ کر دینے کا منصوبہ بنایا گیاتاکہ یہ مَرَض نہیں پھیلے۔ مگر ہندستان جیسے بڑی آبادی کے ملک میں پہلے دن سے ہی کم سے کم جانچ کرنے کی تکنیک اپنائی گئی تھی۔ یہ حقیقت میں شُترمرغ کا انداز ہے جو طوٗفان آنے سے پہلے اپنے سر کو ریت میں گاڑ کر یہ سمجھتا ہے کہ طوٗفان آنے سے وہ محفوظ ہے۔ تمل ناڈوٗ، کیرل، دلّی اور ممبئی میں جانچ کی مہم چلی۔ نتیجے کے طور پر بڑی تعداد میں متاثّرین سامنے آئے ۔ اندازہ یہ ہے کہ ہر صوبے میں کورونا متاثّرین لاکھوں کی تعداد میں چھپے ہوئے ہیں اور اپنی قوّتِ مدافعت سے یا تو محفوظ ہیں یا پھر معاشرے میں وباے عام کے پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تکنیکی طور پر جسے سماجی پھیلاو یا کمیونٹی اسپریڈ کہتے ہیں، بھلے حکومتِ ہند نہیں مانے مگر ملک کے ایک بڑے حصّے کے حالات اسی طرف بڑھ رہے ہیں۔مہاجر مزدوروں کے آنے جانے سے بھی بڑے پیمانے پر یہ مرض دوٗر -دراز کے علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ موجودہ حکومت تو فرقہ وارانہ فسادات کراکے متاثّرین پر ہی مقدّمات کرکے انھیں جیل میں ڈال دیتی ہے، ایسی حکومت بھلا اس بات کا کیوں کر اقرار کرے گی کہ مختلف صوبوں اور مخصوص علاقوں میں کورونا کی وبا سماجی سطح پر پھیل رہی ہے اور نتیجے کے طور پر لاکھوں کی تعداد میں متاثّرین سامنے آ رہے ہیں۔ دلّی میں ذرا جانچ کیا بڑھی، روزانہ تین سے چار ہزار متاثرین کی تعداد سامنے آ نے لگی۔ جس صوبے میں جانچ کا عمل تیز ہوگا، متاثرین کی تعداد میں لازمی طور پر اضافہ ہوگا۔
مرکزی حکومت کے محکمۂ صحت کے حلقے سے اس بات کی اطّلاع چھَن کر غیر مصدّقہ طور پر آئی ہے کہ آنے والے تین مہینوں میں متاثّرین کی تعداد میں ناقابلِ بیان اضافہ ہوگا اور ڈھائی کروڑ افراد اِس وبا کی چپیٹ میں آئیں گے۔ ابھی سے حکومت کا ایک غیر حسا س رویّہ اس لیے بھی سوچ سمجھ کر اختیار کیا گیا ہے کہ جب یہ تعداد بہت بڑھ جائے گی ، اس وقت اور بھی کچھ کر پانے کی حالت نہیں ہوگی۔ وزیرِ اعظم نے اپنی جس تقریر میں اُتّر پردیش کے وزیرِ اعلا کی تعریف کی، اس میں یہ بات بھی کہی کہ مجھے نہیں معلوم کہ کورونا سے کب نجات حاصل ہوگی۔ یہ سچ ہے کہ دنیا کے کسی بھی سمجھ دار آدمی کی یہی بولی ہونی چاہیے مگر وزیرِ اعظم پہلے لاک ڈائون کی اپنی تقریر بھوٗل گئے جب مہابھارت کے اٹھارہ دنوں کو یاد کرتے ہوئے بڑے جوشیلے انداز میں اس بات کا انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ۲۱؍ دنوں میں ہم یہ لڑائی جیت جائیں گے۔ وبا کے آغازمیں حکومتِ ہند نے کارکردگی کی سطح پر جو سُستی دکھائی تھی، مارچ کے تیسرے ہفتے سے جوشِ بیان سے اس کا تدارک پیش کیا گیا۔ مختلف انداز کے کھیل تماشے، مَن کی بات اور عوام کے نام خطابات کے بعد اب بہ قولِ شاعر : ’مَرَض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘۔ اب ایک اُکتائے ہوئے نوکر شاہ کی طرح وزیرِ اعظم اور دوسرے وزراے اعلا کا برتاو نظر آتا ہے۔
جوٗن کے پہلے ہفتے میں ہی امِت شاہ نے بہار کے اسمبلی انتخابات کے لیے ورچوئل ریلی کی تھی ۔ بتاتے ہیں کہ ۷۶ ہزار ایل ۔ای۔ڈی کے بڑے اسکرین بھارتیہ جنتا پارٹی نے خریدے۔ اخبارات میں یہ بات آئی تھی کہ اُس ریلی پر ڈیڑھ سو کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ چین میں بہار ریجی منٹ کے بیس جوانوں کی شہادت کو بھی وزیرِ اعظم نے موقعے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور بہار کی ایک افتتاحی تقریب میں اس کے سیاسی استحصال کی کوشش کی۔حالاں کہ یہ عجیب بات سامنے آئی کہ وزیرِ اعظم شاید اس بات کو نہیں جان رہے تھے کہ بہار ریجی منٹ میں صرف بہار کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ ہندستان کے مختلف صوبوں کے افراد شامل ہوتے ہیں مگر انھیں یوں بھی حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی زیادہ عادت بھی نہیں۔
بہار کے وزیرِ اعلا نتیش کمارپر حزبِ اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو یہ الزام عائد کرتے رہے کہ وہ اَسّی دنوں تک اپنی رہایش میں قید رہے ۔ اس دوران بہار کے لوگ ہندستان کے سارے بڑے شہروں میں بھوک سے روتے بلکتے رہے۔ دودو ہزار کیلومیٹر دوٗر سے پیدل سڑک پر چلتے ہوئے بھوکے پیاسے مرتے کھپتے کسی طرح اپنے گھروں تک پہنچ سکے۔ ہندستان کے ہر صوبے کے وزیرِ اعلا عوام کے لیے دوڑتے بھاگتے نظر آئے ۔ خاص طور سے اسپتال اور آئیسو لیشن سنٹر کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے ذاتی دلچسپی کی ضرورت تھی مگر بہار کے وزیرِ اعلا نتیش کمار نے واقعتا یہ کما ل کر دیا کہ اپنے گھر میں خود کو قید کرکے وائرس سے اپنے آپ کو بچانے کی مہم میں مبتلا رہے۔ مگر اب اچانک الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے وہ بھی میدان میں اُتر آئے ہیں اور کچھ افتتاح اور کچھ سیاسی میٹنگیں کرنے کے لیے دوڑنے بھاگنے لگے ہیں۔ اَسّی دن کی قید و بند اور پھر اس سے ووٹ مانگنے کے لیے اچانک میدان میں اُترجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سیاست دان اپنی کُرسی کے علاوہ اور کسی کام میں سنجیدہ نہیں۔
سیاست دانوں کے وبا سے متعلق اعلانات کم ہو رہے ہیں۔ سرکاری کارندے تو ایک روٗٹین کام کے طَور پر ہر کام کو کرنے کے عادی ہیں۔ لاک ڈائون ختم کرنے میں جگہ جگہ جس انداز کی عجلت دکھائی گئی ہے، اس سے خطرات بڑھے ہیں۔ حکومت کے کارندے کبھی کبھی یہ کہتے سُنے جاتے ہیں کہ لوگوں کو کورونا کے ساتھ جینے کی عادت ڈال لینی چاہیے۔ جہالت اور غربت سے نڈھال ہندستانی قوم کو مرکز اور صوبائی حکومتوں نے کورونا کے ساتھ جینے کے لیے ہی نہیں ، مرنے کے لیے بھی چھوڑ دیا ہے۔ ایسی غیر حسّاس اور غیر سنجیدہ حکومت یا نوکرشاہی اس ملک میں کبھی دیکھی نہ گئی۔ اب عوام کو خود سے محتاط فاصلے کی زندگی اختیار کرکے اپنی جان بچانی چاہیے۔ ورنہ حکومتِ وقت نے ہمیں کورونا کی وبا میں مَر مِٹ جانے کے لیے سرِ راہ چھوڑ دیا ہے۔ سرمایہ کارانہ ماہرینِ معاشیات کا ایک سفّاک اصول یہ بھی ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کے ختم ہوئے بغیر بہت سارے مسائل سے نجات حاصل نہیں کی جا سکتی۔ آر۔ایس۔ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اسی معیشت کے ہم خیال ہیں۔ اس لیے جنھیں اس مشکل دور میں بھی جینے کی خواہش ہے، انھیں خود سے محتاط زندگی گزارنے کا سلیقہ اپنا لینا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*