Home نقدوتبصرہ غیر مسلم قلم کاروں کا تخلیقی نگار خانہ-حقانی القاسمی

غیر مسلم قلم کاروں کا تخلیقی نگار خانہ-حقانی القاسمی

by قندیل

 

زبان وسیلہ اظہار ہوتی ہے۔ ملک اور ماحول کے اعتبار سے اپنی شکل و صورت بدلتی رہتی ہے۔کسی مذہب، ملک سے انسلاک اس کے بنیادی تشخص کا مظہر نہیں ہوتا۔ زبانیں اجتماعیت کا استعارہ ہوتی ہیں اور ایک ہی زبان بولنے والوں کے مذاہب الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ زبانیں مذہبی حدبندیوں سے ماورا ہوتی ہیں۔ اردو بھی ایک ایسی زبان ہے جس کا عنصری جوہر نامذہبیت یا سیکولرزم ہے۔ اپنی آفرینش سے آج تک اس زبان نے امتزاجیت کی روش کو برقرار رکھا ہے۔ اس زبان کی تشکیل و تجمیل میں ہر طبقہ کا کرداراہم رہا ہے۔ اس کی جنم بھومی ہندوستان ہے جو اپنے کثیرلسانی و ثقافتی مزاج کی وجہ سے ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اردو بھی اس تکثیری مزاج کی حامل زبان ہے۔ مسلمان، غیرمسلم، سکھ، عیسائی سبھی نے اردو کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور اس زبان سے اپنی محبت کا ثبوت دیا۔ مذہب بھی محبت کے اس رشتے کو کمزور نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب سیکولر زبانوں کا ذکر ہوتا ہے تو اردو سرفہرست ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس کے خمیر میں سیکولر روح شامل ہے۔ چندربھان برہمن سے گوپی چند نارنگ تک سیکڑوں غیرمسلم فنکار اس زبان کے شیدا و شیفتہ رہے ہیں۔
اس مضمون میں کچھ غیرمسلم تخلیق کاروں کے حوالے سے گفتگو کا مقصد بھی یہی ظاہر کرنا ہے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، زبانیں مذہب سے ماورا ہوتی ہیں۔ اس پر مذہبی تشخص کا لیبل لگانابالکل غلط ہے۔

پروین کماراشک کی شاعری
یہ دورmechanised birthکاہے۔ Frozen Eggیا In Vitro Fertilization (IVF)سے تولیدی عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نوع کے میکانکی تولیدی عمل سے اخلاقیات اور اقداری نظام کے ساتھ انسان کی شناخت بھی مجروح ہورہی ہے۔ اس کی وجہ سے نسل انسانی کا منظرنامہ ہی نہیں بلکہ شجرہ نسب تبدیل ہوتا جارہاہے۔تولیدی عمل کی طرح تخلیقی عمل کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی واردات گزر رہی ہے۔ شاعری کی ساخت اورسلاست بھی غیرفطری عناصر کے تداخل کی وجہ سے شکستہ، سقیم بلکہ عقیم ہوگئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس دور میں بھی کچھ ایسے تخلیق کار ضرور ہیں جن کے یہاں ’فطری تخلیقیت‘ کا عنصر نمایاں ہے اوران کا تخلیقی عمل غیرفطری عناصر سے مجروح یا متاثر نہیں ہے۔
پروین کماراشک بھی انھیں شاعروں میں ہیں، جن کے اظہار و احساس کے مابین ایک مادرانہ رشتہ (Maternal Bond)ہے، وہ بھی اسی طرح کے تخلیقی کرب سے گزرتے ہیں، جس طرح ایک ماں دردِزہ سے گزرتی ہے۔ اسی درد نے انھیں وہ داخلی اور ماورائے ذہن شعور عطا کیا ہے، جس نے خارجی دنیا سے ان کا رشتہ ختم کرکے باطنی دنیا سے تعلق قائم کردیاہے اور یہی Detachmentان کی تخلیق کا رمز ہے۔ ان کی شاعری کا محور سکوت ذہن(Silence of Mind)اور صدائے دل(Sound of Heart)ہے۔ پروین کمار کی شاعری کا افق اور الٰہ سے رابطہ ہے۔ ان کے ہاں ایک معصومانہ تحیر ہے اور ہر چیز کو ’دیدہ حیران‘ سے دیکھنے کی خواہش اور ایک نئے انداز سے اظہار میں ڈھالنے کا جذبہ بھی ہے۔ ان کا داخلی ذہن، انسان کے متعین کردہ خطوط وحدود میں محصورنہیں ہے۔ ان کی آنکھیں ہمہ گیر اورجہاں بیں ہیں۔جو مصنوعی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کی شاعری میں ایک Bird Eyeیاخلاباز کی آنکھیں نظر آتی ہیں اور ایسی ہی شاعری دنیا کو ایک نیافینومیناعطاکرتی ہے یا تخیلی کائنات کی تشکیل توکرتی ہے۔
ان کی شاعری میں عشق کی ارتعاشی لہریں ہیں اوروہ موج بھی جو ذات اور روح کے مابین نقطہ عطف ہے۔اس میں انسانی شعور، احساس و ادراک کے وہ تمام مدارج ومنازل ہیں جن سے فردبشر کے شب وروز گزرتے ہیں۔ان کی شاعری میں نئے موسموں کی بشارت بھی ہے اور احساس و اظہار کی تازگی بھی۔ایسی شاعری محنت و ریاضت کی مرہون منت نہیں،بلکہ کسی کاوردان ہی ہوسکتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پروین کمار اشک کی شاعری کسی مخصوص تخلیقی لہر کا فیض ہو یا ایک ایسی ساعت کا جس میں انسانی ذہن کا براہِ راست آسمان سے رشتہ ہوتاہے۔ ان کی شاعری ’پدمنی پہر‘ کی ہے اس لیے اس میں روح اورضمیر کو تابناک وتوانا کرنے والے عناصر کا وفور ہے۔
پروین کماراشک کی شاعری میں جو موج یم عشق اورصوفیانہ دیوانگی (Sufi Madness)ہے اس کو سمجھنے کے لیے ذہن کی نہیں، دل کی ضرورت ہے اور دل بھی ایسا جو گداز ہو۔ گداختگیِ دل کے بغیر نہ پروین کمار اشک کو سمجھنا آسان ہوگا اور نہ ہی ان کے پورے تخلیقی عمل کو۔ اس تخلیق کے اندر جو جادوئی کردارہے اس میں بہت کچھ دخل روحانیت کا ہے، جو پروین کمار اشک کی تخلیق کا لاینفک حصہ ہے۔
پروین کماراشک نے اپنی تخلیق کو اسی روحانی نقطے سے اجالا ہے۔ ان کی تخلیقی فکر میں رود روحانیت ہے اور سپت رشمی کرنیں بھی۔ یہی Radiant Energyان کی شاعری کا رنگ و روپ، انداز اور اسلوب بدلتی ہے۔ ڈیوائن انرجی کے بغیر ایسی شاعری ممکن ہی نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے طبعی وجود کو مابعدالطبیعاتی جہتوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی رمزیت اورسریت ہے۔ یہ مکمل طور پر Enlightenment کی شاعری ہے۔ ایک دوامی شعور کی،حلقہ دام خیال سے باہر کی شاعری اس میںWave of Thoughts (خیالات کی لہر) نہیںبلکہ جذبات و احساسات کا مدوجزر ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج اور ردِعمل بھی ہے۔ اس میں جس عشق یا Sufi alchemyکا بیان ہے وہ ازلی اور دائمی محبت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان اور Godlinessکے درمیان محبت کی اساس پرمبنی شاعری ہے۔ اس شاعری میں مصنوعی،غیر فطری یا مشروط محبت کا تصور نہیں ملتا۔ بلکہ جو بھی محبت ہے اس کا زمین و آسمان سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ یہ مکمل طور پر الوہی رابطے و رشتے کی شاعری ہے۔ یہ شاعری اثبات کی متحرک قوتوں کا اشاریہ اور منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج بھی ہے:
نہ تیغ پھینکنا گھبرا کے ظلمت شب سے
زمین حق پہ لہو کا نشان روشن ہے
پروین کماراشک کے یہاں روحانی محبتوں کی نئی منزلوں کی جستجو اور تخیلات کے نئے مدارج کی دریافت کا عمل روشن ہے، نئے استعارات اور تراکیب کی جستجو کے عمل نے بھی ان کی شاعری کو جدت، لطافت اور نزاکت سے ہم کنار کیاہے۔ مروجہ معمولے سے انحراف نے بھی پروین کمار اشک کی شاعری کو نقطہ امتیاز اور انفراد عطا کیا ہے۔
ایک مخصوص پیٹرن کے ذہنی نظام کے تخلیقی عمل سے کسی جدت یا ندرت کی توقع نہیں کی جاسکتی، مگر پروین کماراشک نے اپنی اختراعی فکر سے شاعری کی لطافت ومعنویت میں اضافہ کیاہے۔ تخلیق کو احساس اوراظہار کے جوابعاد انھوں نے عطا کیے ہیں، اس ’ابعادیت‘ سے ان کی شاعری میں وہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے، جو عہدماضی میں میرؔ سے مخصوص تھی اور روحانی احساس کے اعتبار سے بھی میرا، کبیر، لل وید سے انھوں نے اپنارشتہ جوڑلیا ہے، جس سے ان کا مقام ہم عصرشعرا سے مختلف ہوگیا ہے۔ اختراعی فکر کے ساتھ ساتھ اظہاری قوت (experessional cogency)بھی ان کی شاعری کو انفرادیت عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ شاعری نہیں،روح سے رابطہ ،مکالمہ یا داخلی خود کلامی ہے۔ یہ طبعی وجود کی تعبیرات اور تشریحات سے بالکل مختلف نوعیت کی روحانی تعبیر و تفہیم ہے۔ باطنی وجود کی تفہیم صوفیانہ وجدان و ادراک کے غماز ان اشعار سے ہی ممکن ہے۔یہ اشعار ان کی فکری نبوغت اور لسانی لطافت کے گواہ ہیں:
تم نے کیوں بارود بچھا دی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسانے والا تھا
خبر کہاں تھی میری روح ایک مسجد ہے
شب وجود میں ماہِ اذان بھی ہوگا
خدا کی طرح چمکتا ہے دل کے شیشے میں
دعا کا آنسو کہاں آنکھ سے نکلتا ہے

 

دعا کا آنسو، دعاکاشہر، شب وجود اور ماہِ اذان جیسی تراکیب میں جدت و ندرت ہی نہیں بلکہ معنوی لطافت ونزاکت بھی ہے۔ یہ کثیرالمعانی تراکیب ہیں جو اپنے ظاہری مطلب کے علاوہ باطنی مفاہیم کے بھی حامل ہیں، ان تراکیب سے ہی اندازہ ہوتاہے کہ پروین کماراشک کاتخلیقی آسمان کتنے اور کیسے کیسے شبد ستاروں سے روشن ہے:
یہ میری روح میں کیسی اذان روشن ہے
زمیں چمکتی ہے، کل آسمان روشن ہے
میں روز فون پہ اس کو صدائیں دیتا ہوں
خدا کے ساتھ میرا رابطہ نہیں ہوتا
مسجد دل میں تنہا بیٹھے روتے ہیں
ہمیں نماز پڑھانے والا کوئی نہیں
بزرگوں کو خدا یا بھیج فوراً
دعا کا خون زمیں نے کر دیا ہے
سمندر کو دکھا کر آگ اب کیوں
دعا کی بارشوں کو رو رہی ہے
نہ مسجدوں کی طرف ہیں نہ مندوں کی طرف
میری دعائیں ہیں جلتے ہوئے گھروں کی طرف
جہاں پرکھوں کے سجدے کے نشاں ہیں
وہ گلیاں خون سے کیوں دھو رہے ہو؟
خدا کی بے رخی پر رو ہی ہے
دعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہے
پروین کماراشک کی شاعری میں نے ایک بچے کی آنکھ سے پڑھی کہ اس تخلیق کے تحیر اور جمال سے محظوظ ہوسکوں۔بچوں کی آنکھ سے فطرت اورکائنات کے تحیرات وتموجات کا مطالعہ زیادہ مفید ہوتا ہے کہ بچوں کی آنکھیں تحفظات وتعصبات سے پاک ہوتی ہیں اور اس منفیت سے بھی جو آج کل عصری تنقیدی ڈسکورس سے مخصوص ہے۔

ترسیل،تعبیر اور تلک راج پارس
تخلیقیت ایک پر اسرار قوت ہے۔یہ ایک cognitive processاور اذراکی عمل ہے جو مثبت ذہنی تحرک اور تفاعل سے وجود میں آتی ہے۔یہی قوت آہنگ اور نغمگی میں ڈھل کر شاعری بن جاتی ہے۔یہ تخیل اور جذبے کی وہ زبان ہے جو انسانی جذبات و کیفیات کی ترسیل کرتی ہے۔موضوع اور ہیئت کے اعتبار سے شاعری احساس کی نیچرل امیجری ہے۔ہر اچھی شاعری اپنے نشانیاتی نظام سے پہچانی جاتی ہے اور اپنی کیفیت و ماہیت سے اپنی شناخت کروالیتی ہے ۔تلک راج پارس کی شاعری کا بھی اپنا الگ نشانیاتی نظام ہے۔وہ جس تہذیبی نظام کے زائیدہ ہیں وہ اپنے اندر وسیع ترین تہذیبی روایت اور روحانی ماورائیت چھپائے ہوئے ہے۔
تلک راج پارس کی شاعری میں ان کے داخلی ذہن کے امیجز کی اظہاری شکلیں ہیں،ان کی تخلیق باطن کی بازگشت ہے اور اس داخلی ربط کی تلاش سے عبارت ہے جو کائنات سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ان کے امتزاجیت پسندذہن نے تخلیقیت کی نئی لہروں کی جستجو کی ہے اور وہ عناصر تلاش کر لیے ہیں جن میں کائنات کے متصادم اشیاء کو مربوط کرنے کی قوت ہے۔
پارس کی تخلیقی لہروں میں وحدت بھی ہے،وسعت اور توانائی کی وہ روایت بھی فروزاں ہے جس سے ان کے تخلیقی تسلسل میں تابانی پیدا ہو گئی ہے۔ان کی تخلیق میں آہنگ اور نغمگی کے ساتھ تخیلات کی وہ موج رواں ہے جو مختلف تہذیبی دریائوں سے وصال آشنا بھی کرتی ہے اور نقطۂ امتزاج سے روشناس بھی۔ پارس کی شاعری میں وہ لہو اور آگ بھی ہے جو آواز میں تبدیل ہو کر ہمارے ذہن ،ذات اور ضمیر کو مرتعش کر دیتی ہے۔ اس آگ سے ان کی پوری تخلیق کی تجسیم کی جا سکتی ہے:
ہم ایسے آتشیں لہجے میں شعر کہتے ہیں
خموشیاں بھی پگھل جائیں جن کی حدت سے
ہمارے خون کی ہر بوند سے اک شعر بنتا ہے
غزل میں گرم لہجے کی دہائی ہم سمجھتے ہیں
شب سیاہ بھی روشن اسی سے ہوتی ہے
جو شعر کہتے ہوئے ہم لہو جلاتے ہیں
یہ اشعار انسان کے باطن میں Explosiveقوت کی موجودگی کا اشاریہ ہیں۔باطن کی ایسی حدت و شدت سے تلک راج پارس کی تخلیقی کائنات میں ایک نئی قوت پیدا ہوگئی ہے۔
پارس، پرتبھا اور شکتی سے اس قدر معمور ہیں کہ جمالیاتی تشکیل کی راہ میں انہیں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔جذبے اور تخیل کی دونوں جمالیاتی کیفیتیں ان کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔احساس و اظہار کو تازہ رکھنے کے لیے جس تخلیقی قوت کی ضرورت پڑتی ہے، وہ ان کی تخلیق سے عیاں ہے۔اسی لیے پارس کی شاعری بے کیف،ویران،سنسان نہیں ہے بلکہ ذہن میں آباد اور شاداب رہنے والی ہے۔یہ شاعری جہاں حقیقی دنیا کے مظاہر،مسائل اور متعلقات سے مکالمہ کرتی ہے وہیں امکانی دنیا کے اشارات سے آگاہ بھی۔تلک راج پارس کے ہاں دو متوازی دنیائیں ہیں۔ان کی شاعری جہاں زندگی کی سنگلاخ حقیقتوں کو بیان کرتی ہے وہیں آنکھوں کو مستقبل کے کچھ خواب بھی دے جاتی ہے۔
آج کی تخلیقی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے جہاں سانس لینا دشوار ہے وہیں تلک راج پارس کی شاعری ہماری سانسوں کو سرگم اور ساز عطا کرتی ہے اور تزکیہ و تطہیر کے اس عمل سے گزارتی ہے جو تخلیق کا حقیقی منصب ہے کہ تخلیق بنیادی طور پر catharticہوتی ہے۔اس میں مکمل تقلیبی قوت ہوتی ہے۔شاعری ایک تھریپیائی تجربہ (Therapeutic exprience) بھی ہے۔نفسی اعصابی اہتزار کے ذریعے خون کے دوران نظام کو فعال رکھتی ہے۔ یہ انسانی حواس کی تسکین کے ساتھ ایک ایسی کیفیت سے ہمکنار کرتی ہے جس میں اضطراب بھی ہے اور ذہن و ضمیر کی تابانی کا سامان بھی:
سانس لیتے ہی دھواں دل میں اتر جاتا ہے
آگ سی شئے یہاں کچھ بوئی ہوئی لگتی ہے
تلک راج پارس کی شاعری میں زمین و آسمان کے مسائل بھی ہیں اور دونوں کے حوالے سے انسانی وجود کی تفہیم کا نقطہ بھی روشن ہے۔’ارضی حسیت ‘ان کی شاعری میں کلیت کے ساتھ موجود ہے۔
مقدر کی عبارت طے شدہ ہے
مگر آکاش پر سب کی نظر ہے
مال و زر کے لیے تبدیل نہ ہو جائے کہیں
جو مرا بھائی ہے قابیل نہ ہو جائے کہیں
سب کچھ تھا بے ثبات ہمارے حصار میں
اک عمر کا طلسم کھلا ہے مزار میں
پارس کو انسانی سطح پر جذبے کے زوال،صارفیت کے تسلط کا احساس بھی ہے اور اس میں پنہاں زوال کی علامتوں کا ادراک بھی ہے:
خط لکھنے کا وقت نہیں مل پاتا ہے
کاروباری جذبے کھائے جاتے ہیں
ہمارے شہر کے لوگوں میں یقین نہیں
ہمارے شہر میں رہتے ہیںسب گمان کے ساتھ
رابطے کے فون نمبر اور پتے محفوظ رکھیے
پھر نئے رشتے بنانے میں صدی کٹ جائے گی

 

پارس کلاسیکی اشارت سے انحراف اور قدیم تہذیبی روایت سے کنارہ کشی کو مثبت قدر میں شمار نہیں کرتے ،وہ کلاسیکیت کو نہ سرطان سمجھتے ہیں نہ جدیدیت کو عفریت، ان کے لیے اس کلچر اور اخلاقی حسیت کی اہمیت زیادہ ہے جو انسان کو وحدت کی لڑی میں پروئے رکھتی ہے۔وہ خود بھی امتزاجی ذہن کے حامل ہیں اور اس انسانی اکائی پر ان کا ایقان ہے جس کی شکست سے پورا انسانی معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور موضوعی و معروضی دنیا کے درمیان ربط کی تلاش ہی ان کی تخلیق کا نہایت مثبت اور توانا عنصر ہے جس کی وجہ سے ان کی تخلیق میں ایسے اشعار روشن ہیں جوسرور کائنات کی عقیدت سے سرشار ہیں:
انہیں حرفوں سے کچھ لکھوں تو وقعت کچھ نہیں ہوتی
محمد لکھ رہاہوں تو عبارت ناز کرتی ہے
آپ کا در جس نے دیکھا اس نے دیکھی کائنات
رب نے بھی تو کن کہا ہے مجتبیٰ کے نام پر
آپ کے اوصاف مومن کی طرح لکھتا ہوں میں
یعنی میری شاعری میں عنصر حسان ہے
جو بو مری کو میسر ہوئی ہے سپنے میں
حضورہم کو کبھی ویسی ہی نشانی دیں
زمیں کیا ہے افق کیا ہے آسماں چمکے
نشان پائے محمد سے دو جہاں چمکے
ان اشعار میں دماغ سے زیادہ دل کی وہ روشنی ہے جو انسانی احساس کو مربوط رکھتی ہے،منقسم نہیں ہونے دیتی،ہیئت وحدانی سے جوڑے رکھتی ہے۔روشن تہذیبی استعاروں سے ربط نے پارس کے اشعار میں تقدیسی کیفیت کے ساتھ تاثیری قوت بھی پیدا کردی ہے۔ان کے روشن ذہنی وجود سے جڑے ہوئے یہ وہ استعارے ہیں جو ان کی ذات اور ضمیر کا حصہ بن چکے ہیں۔ان کے ہاں مذہبی تلمیحات اور استعارات بھی ہیں جو پارس کی پاکیزگی نظر،وسعت ذہن کی علامت بن کر قاری کے لوح ذہن پر شب تاریک میں روشن ستاروں کی شکل میں جھلملاتے رہتے ہیں:
راہ حق میں کربلا کی طرز پر جو سر گرا
وہ ہمیشہ روشنیوں کے مصلّے پر گرا
عرش اعظم پہ مرے ہر خواب کی تکمیل ہو
خود میں یوں روشن شب عاشور کرنی ہے مجھے
تلک راج پارس کے نشانات اور علامات کے معنیاتی نظام اور ان کی حسیت کی میکانزم کو سمجھنا زیادہ دشوار نہیں ہے کہ وہ حرف سادہ سے ساحری کر جاتے ہیں:
غنیمت ہے طلسماتی زمیں میں
ہمارا حرف سادہ بولتا ہے
حرف سادہ میں بھی معانی کی کائنات آباد ہوتی ہے۔تلک راج پارس نے بھی لفظوں کے مروجہ معانی کو نئے مفاہیم میں استعمال کر کے لفظوں کو تحرک سے آشنا کیا ہے اور نئی معنویت عطا کی ہے ورنہ لفظ، معنی کی ایک ہی سمت میں سفر کرتے کرتے جمال کھو بیٹھتے ہیں اوراسے اپنے وجود سے ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔پارس نے لفظ کو نئے مفہوم میں ڈھال کراس کی قوت و حرارت میں اضافہ کیا ہے،ہجر اور وصل جیسے الفاظ کو بھی ایک نئی معنیاتی کیفیت میں دیکھا ہے اور دو متضاد مفہوم کے حامل لفظوں کے معنیاتی ربط سے احساس کی کائنات کے ایک نئے در کو کھولا ہے۔
تلک راج پارس احساس و اظہار کی سطح پر اپنے خواب و خیال کی ترسیل میں کامیاب ہیں اوراس انسانی جذبے کی بیداری میں بھی جو اگر منجمد ہو جائے تو انسانی کائنات کا سفر لمحہ صفر میں ٹھہر جائے۔
پارس کی شاعری میں ہمارے عہد کا انعکاس بھی ہے اور آنے والے عہد کا عکس بھی کہ ایک تخلیق کار ایک ہی لمحہ میں دو زمانوں ،دو دنیائوں کا سفر کرتا ہے۔ایک جسے ہم حال کہتے ہیں اور دوسرا جسے دنیا مستقبل سمجھتی ہے۔پارس حال کے آئینے میں مستقبل کا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔انہیں شاید ادراک ہے کہ یہ کائنات ایک تسلسل میں ہے اور ایک ہی لمحہ کے ارد گرد طواف کر رہی ہے،وہی لمحہ جو ماضی بھی ہے،حال بھی اور اس میں پنہاں مستقبل بھی—اس لمحے کی جستجو انسانی ذہن کے لیے ضروری ہے کہ وہ لمحہ کھو جائے تو کائنات معدوم ہو جائے گی۔ وہ ایک لمحہ کائنات ہے اور یہی کائنات کے تسلسل کی علامت ہے۔
تلک راج پارس کی شاعری اس’ لمحہ ‘ کی تعبیر و تفہیم سے عبارت ہے۔اس لمحہ کے ’ خواب و عذاب ‘ سے ان کی شاعری مکالمہ کرتی ہے۔وہ اپنی شاعری کے ذریعے خوابوں کی ترسیل بھی کرتے ہیں اور عہد حاضر کے کے عذابوں سے آشنا بھی،شاعری میں خواب کا منظر نامہ بھی ہے اور شکستگی خواب کا منظر بھی:
نیند آتی نہیں پھر مجھ کو کئی راتوں سے
پھر مرے خواب کی ترسیل نہ ہو جائے کہیں
اتنے ٹوٹے ہوئے سپنے ہیں مرے بستر پر
کرچیاں چنتے ہوئے رات گزر جائے گی
پارس کی شاعری کی داخلی ساخت سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ کہ پارس ایک مربوط تجربے کے شاعر ہیں اور انسانی وحدت و کلیت کے دائرے سے باہر نہیں ہیں۔وہ احساس کے اظہار میں کسی خوف و خطر کو راہ نہیں دیتے۔انہیں اپنے تخلیقی وجود پر پورا ایقان ہے اور اپنی شناخت پر بھی:
مجھے نابود کرنے کا ارادہ چھوڑ دے پارس
مری پہچان کے لاکھوں حوالے جاگ سکتے ہیں
ہمارے عہد کی پہچان ہم سے ہوتی ہے
ہم آفتاب کے آگے دئیے جلاتے ہیں

تخلیقی محراب پر مضطر کی روشن عبارتیں
جدیدتر حسیت کی روشنی میں کلاسیکی شعری جمالیات کی مسافت طے کرنے والے رام اوتار گپتا مضطرؔ کے یہاں آج کے عہد کی منتشر عبارتیں بھی ہیں اور مربوط تجربے بھی۔ ان کی شاعری اپنی ذات کے تلاطم اور کائنات کے تموج کی تفہیم سے عبارت ہے۔ یہ شاعری آج کے عہد کے اظہار کا رشتہ ماضی کے احساس سے جوڑتی ہے۔ کلاسیکی فکر و فرہنگ سے آگہی اور عصری حسیت کے عرفان نے مضطرؔ کی شاعری کو ایک الگ لمسیاتی اور حسیاتی کیفیت اور ذائقے سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کی شاعری ایک سمت کی شاعری نہیں ہے بلکہ ان کے سفر شاعری کا رخ بدلتا بھی رہتا ہے اور تجربات و مشاہدات کی زنبیل بھرتی رہتی ہے۔ مختلف سمتوں کے سفر نے ان کی سوچ کو منجمد نہیں ہونے دیا بلکہ متحرک اور مضطرب رکھا ہے۔ ان کے یہاں کائنات کے مختلف آہنگ کی جستجو ملتی ہے۔ فکریاتی اور لفظیاتی سطح پر جمود اور زوال کی وہ صورت نہیں ہے، جو آج کے بہت سے شاعروں کے یہاں وافر مقدار میں ملتی ہے۔ مضطرؔ کے شعر ان کے ذہنی اضطراب اور تحرک کی گواہی دینے کے لیے کافی ہیں…
شام اودھ نے زلف میں گوندھے نہیں ہیں پھول
تیرے بغیر صبحِ بنارس اداس ہے
ارمانِ وصلِ یار کی شدت نہ پوچھئے
قطرہ یہ چاہتا ہے سمندر سمیٹ لے
کسی کے گھر کا چاند ڈوبا مفلسی کے غار میں
اس کو کیا سورج اُگے جس کے طلوع جام سے
ترے پہلو میں گزرتیں کبھی راتیں میری
مری بانہوں میں کبھی تیرا سویرا ہوتا
بھیک درشن کی ملے شاید کف گلفام سے
در پہ آکر بیٹھ جاتی ہیں نگاہیں شام سے
کھلتا ہے یوں نگاہ پہ وہ حسنِ پردہ دار
گویا کتاں لباس شب ماہتاب میں

 

مضطرؔ نے تخلیقی محراب پر جو نئی عبارتیں لکھی ہیں وہ روشن رہیں گی کہ ان عبارتوں میں تحرک اور تابناکی کی پوری قوت ہے۔ ہندی، فارسی، عربی لفظیات اور مختلف مذہبی، تہذیبی علائم و تلمیحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضطرؔ کے احساس و اظہار کی کائنات محدود نہیں ہے۔ ان کی شاعری میں کئی تہذیبی لہروں کا امتزاج ہے۔ بقول معین شاداب : ’ہندی رسم الخط میں اردو شعر و ادب کا مطالعہ کرنے والے مضطرؔ کے شعری قاموس میں آج عربی، فارسی، اردو، ہندی الفاظ کا ذخیرہ موجودہے، ’مضطرؔ کی شاعری لسانی و فکری امتزاجیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ دیو مالائی تلمیحات اور تہذیبی استعارات کے تخلیقی استعمال اور عصری تناظر میں اس کی معنویت کے ادراک نے ان کی تخلیق کو ایک اور جہت عطا کر دی ہے۔ یہ ان کے تصور وقت کا اظہاریہ بھی ہے اور اس بات کا احساس بھی کہ تہذیب اور تاریخ کا تسلسل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ماضی ایک قندیل کی طرح حال کو راستہ دکھاتا رہتا ہے۔
درپد کی ستا پھرتی ہے کھولے ہوئے زلفیں
لیکن کوئی بھی آج دوشاسن نہیں بنتا
پھر آج مصیبت میں ہے کانہا ترا ارجن
رکشک مرا کیوں ترا سدرشن نہیں بنتا
پیاسی دھرتی ہانپ رہی ہے
کوئی بھگیرتھ گنگا لائے
میں بنا جاتا ہوں وشوامتر اب
آپ میری مینکا بن جائیے
درپد، کانہا، ارجن، سدرشن، بھگیرتھ، وشوامتر اور مینکا دیومالائی تلمیحات ہیں اور ان سے جڑی ہوئی بہت سی اساطیر ہیں۔ مضطرؔ نے اپنے اشعار میں ان اساطیر کی معنویت کو اس طرح روشن کر دیا ہے کہ یہ سارے کردار آج بھی جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔ مضطرؔ کی شاعری پڑھنے سے احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ہندو اساطیر کا استعمال نہیں کیا ہے بلکہ اسلامی تہذیب و تاریخ پر بھی ان کی نگاہ ہے اور وہ ان داستانوں سے بھی آگاہ ہیں جو اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں…
گرا نہ ہاتھ سے پرچم مگر امانت کا
سنان شمر پہ شہدا کے سر بدلتے رہے
’’سفیرِ آخرِ شب‘‘ رام اوتار گپتا مضطرؔ کا نیا مجموعہ ہے۔ اس سے ان کی شاعرانہ قد و قامت کا اندازہ ہوتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ انہیں ان کے تخلیقی احساس و اظہار کی رفعت و بلندی کے تناظر میں بلند قامت شاعر کہوں مگر خود ان ہی کا شعر آڑے آ جاتا ہے۔
بونے ہو جائیں گے اہلِ علم اپنے شہر میں
دَور نو میں جاہلوں کا قد بڑا ہو جائے گا
رام اوتار مضطرؔ کا زمانی تعلق دور نو سے ضرور ہے، مگر فکری رشتہ اس عہد سے ہے جب شعر و سخن کا ایک معیار تھا اور تعین قدر کا ایک مستحکم پیمانہ۔

شیو بہادر دلبر کا شعری سفر
شاعری تو وہ بھی ہوتی ہے جس میں ’’موزونیت‘‘ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا! یہ شاعری اس سے ذراالگ ہے کہ اس میں ’موزونی طبع‘ کااظہار نہیں ہے۔ بلکہ دروں کومرتعش کرنے والا جذبہ و احساس بھی ہے۔
دلبر اپنے تخلیقی اظہار میں احساس کی اس آنکھ کو ضرور شامل رکھتے ہیں جو حقیقتوں کے ماورا بھی دیکھ سکتی ہے، اسی لیے ان کے احساس کی کائنات محدود نہیں ہے کہ شاعری کا سلسلہ ان ساعتوں سے ہے جن کا زندگی سے گہرا ربط ہے اور جو حیات و کائنات کی رمزیت کااستعارہ ہیں۔ انسانی مزاج کی تشکیل اور ذہنی نظام کے نمو میں ان ساعتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ دلبر کے ہر خیال میں ان ساعتوں کے عکس نمایاں ہیں۔ شام اپنی رومانی طلسماتی کیفیت کے ساتھ زندہ ہے ، تو صبح اپنی جاں فزائی قوتوں کے ساتھ تابندہ ہے۔ دلبر کی شاعری میں ان ساعتوں کے منظر روشن ہیں کہ یہ منظر کھل جائیں تو شاعری گم ہوجاتی ہے:
آنکھیں جو تک رہی ہیں ہر اک شام راہ کو
اک عمر سے کسی کا انہیں انتظار ہے
زندگی کے شام و سحر کی یہ وہ تجرباتی داستان ہے جس میں المیہ بھی ہے اور طربیہ احساس بھی۔ المیہ ذات، ضمیر ذہن کا ہو یا معاشرہ کا،ایک فنکار کاذہن المیہ کے تمام پہلوؤں کو محسوس کرتا ہے اور اس المیہ احساس کو انسانی ذہن میں اجاگر کرتا ہے۔ دلبر کے شعروں میںالمیہ کا احساس مختلف صورتوں میں نمایاں ہوا ہے۔
جس باغ کو سینچا ہے سدا میں نے لہو سے
اس باغ پہ اب کیا مرا ادھیکار نہیں ہے
اجالوں نے دیے دھند لکے کچھ اتنے
رہا شکوہ نہ دلبر تیرگی سے
اسی المیہ سے جڑا ہوا طربقیہ بھی ہے کہ انسان کے نصیب میں صرف دکھ یا درد نہیں ہے بلکہ مسرتیں بھی ہیں کہ ذہن ایک ہی کیفیت میں منجمد نہیں رہتا، ذہن اک اکائی یاجزو نہیں بلکہ کئی اجزاء کامجموعہ ہے۔ ایک ہی لمحہ میں ذہن دکھ اور سکھ دونوں کیفیتوں سے گزر سکتا ہے۔ ذہن کے اسی مختلف النوع تفاعلی نظام اور تحرک کا اشارہ ہے یہ شعر:
خوشیاں سبھی کو بانٹ رہا ہے وہ آدمی
دامن غموں سے جس کا بہت تار تار ہے
دلبر کے یہاں جذبات و احساسات کے متنوع رنگ ہیں تو اس لیے کہ صرف ان کے ذہن میں نہیں بلکہ زندگی میں بھی ’تغزل‘ ہے۔ شاعر کا پورا وجود غزل کی تہذیب میں رچا بسا ہے۔ اردو غزل کے تہذیبی نظام سے ان کے ذہن کا بہت مضبوط رشتہ ہے۔ شاعر اور اردو تہذیب کے درمیان کسی قسم کی اجنبیت یا ثنویت کا احساس ہی نہیں ہوتا، دلبر کے ضمیر میں غزل کی تہذیب شامل ہے۔ دلبر کو جذبے کی اخلاقیات کا بھی عرفان ہے اور اظہار کی جمالیات کا شعور بھی ہے:
دلبر یہ ماں کی دعائوں کا اثر ہے
جو بھی بلا آتی ہے گزر جاتی ہے سر سے
سمجھتے کیا ہو تم ماں کی دعا کو
بڑی اس سے دعا کوئی نہیں ہے
اب بھی ہیں یاد گائوں کے شام و سحر مجھے
بھولے نہیں بنے ہوئے مٹی کے گھر مجھے
یہ اشعار، دلبر کے ذہن کے موسموں کا بھی پتہ دیتے ہیں۔ وہ تخلیقی ذہن جو آلودگی، آلائش اور کثافت سے پاک ہے، جو پوری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے۔ جمہوری طرز احساس اور طرز فکر رکھنے والا ذہن جس سے اس نوع کے اشعار وجود میں آتے ہیں:
بشر کا خون سستا ہورہا ہے
مگر پانی تو مہنگا ہورہا ہے
دلبر ہمارے دیش میں کب آئے گا وہ دن
مجرم جو اصل میں ہو اسی کو سزا ملے

 

یہ ایسی شاعری ہے جس میں ذہن اور ضمیر کی روشنی ہے کہ ذہن کی تاریکی میں تہذیبیں اور قدریں سبھی کچھ کھو جاتی ہیں۔ دلبر کی شاعری روشنی سے وصال کی شاعری ہے۔ تاریک عہد میںیہی اشعار روشنی کا استعارہ بن جاتے ہیں اوریہی روشنی ان کے لفظیاتی نظام میں بھی ہے کہ قاری کے ذہن میں ترسیل کے سارے سلسلے روشن ہوجاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ دلبر کے کچھ شعر ضرور زندہ رہیںگے جب کہ انٹرنیٹ ایج اور کمپیوٹر کلچر کے اس عہد میں ذہن و دل سے بیشتر شاعری کو Deleteہوتے دیر نہیں لگتی۔ عجب المیہ ہے کہ شاعری ذہن میں Saveہی نہیں ہوپاتی۔ خدا کاشکر ہے کہ دلبر کے دل سے نکلی ہوئی کچھ آوازوں میں اتنی قوت ہے کہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی Spaceضرور پیدا کرلیںگی۔آج جب کہ خیال و احساس کی زمین بھی تنگ ہوتی جارہی ہے اور اظہار کا افق بھی۔تو ایسے میں تھوڑا سا Space بھی بہت ہوتا ہے۔

ٹی این راز کے تخلیقی تیرونشتر
تخیل اور تحیر —طنزو مزاح کے دو مرکزی نقطے ہیں اور یہی دونوں اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ تخیل کی قوت پر طنزو مزاح کا سارا انحصار ہے اور یہ قوت آزاد فضا میں پروان چڑھتی ہے کہ بقول ممتاز شیریں ’تخیل قید میں بارآور نہیں ہوسکتا۔ ذہنی آزادی فنا ہوجائے تو ادب مرجاتا ہے۔‘یہ قوت جتنی شدید ہوگی، طنزو مزاح اتنا ہی گہرا ہوگا اور تحیر جتنا زیادہ ہوگا طنزو مزاح کی کیفیت اور اس کے طلسماتی اثر میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ تخیل کے نئے جزیرے کی جستجو کے بغیر طنز نگار کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ غیر محسوس منقطے تک رسائی صرف اور صرف طنز و مزاح نگار کی ہوتی ہے۔ ایک عبقری اور جینئس ہی سچا طنز نگار ہوسکتا ہے کہ طنز و مزاح قوت ادراک کی آزمائش کا نام ہے۔ اس کا سارا تعلق ذہنی نظام اور اس کی ڈائنامکس سے ہے۔
ہرعہد میں طنز ومزاح کے موضوعاتی مرکز و محور بھی الگ رہے ہیں۔زمانہ بدلاتوموضوعات بدلے، ترجیحات تبدیل ہوئیں، طرز فکر و احساس میں تغیر رونما ہوا۔ لسانی تکثیریت کے تجربے بھی ہوئے اور قدیم شاعر وں کے مضامین کو نئی شکلیں بھی دی گئیں۔ قدیم زمانے میں طنزو مزاح کے موضوعات بہت محدود تھے۔ شیخ اور واعظ ہی ان کے طنز کا محورتھے، مگر نئے زمانے میں موضوعات کی کثرت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے زمانے میں ہر سطح پر ناہمواریاں زیادہ ہیں۔
ٹی این رازطنزومزاح کے معتبر شاعر ہیں جنہیں اقدار کا گہرا شعور ہے۔ ان کا مشاہدہ وسیع ہے اور تجربہ میں تنوع ہے۔بدلتی ہوئی نفسیات، تبدیل ہوتی سائیکی خاص طورپر سماج اور سیاست کی سائیکی پر ان کی گہری نظر ہے۔ معاشرتی تضادات، کشمکش، تناؤ، استحصال، ظلم، مفاد پرستی، روز مرہ کے مسائل، سماج کی شعبدہ بازیاں، منافقت، رشوت، رجعت، دقیانوسیت یہ ان کے موضوعات ہیں۔ ان کے موضوع افراد اوراشخاص نہیں بلکہ سماج اور سیاست کے احوال اور مسائل ہیں۔
راز نے اظہار اور ابلاغ کی سطح پر دوسروں سے الگ تجربے کیے ہیں۔ اور یہ تجربے معمولی نہیں ہیں۔ ان تجربوں کے لیے ذہن کو بہت سی ریاضتوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سوزش ذہن کی بہت سی منزلیں سر کرنی پڑتی ہیں۔ ایک خیال یا احساس کو معرض اظہار میں لانے کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ خیال کی وسیع کائنات میں نئے خیالات کی جستجو کوئی آسان عمل نہیں ہے۔ ٹی این راز نے خیالات کی متصادم کائنات میں ذہنی اذیتیں برداشت کی ہیں تب کہیں جاکر ایک نقطہ خیال ان کی گرفت میں آیا ہے کہ خیال کو اظہار اور شعور کا حصہ بنانے کے لیے تگ وتاز کرنی پڑتی ہے۔راز نے صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے عمومی خیال میں بھی صرف اس لہر اور اس رو کو ہی دریافت کیا جو عمومیت سے ممتاز اور مختلف بنادیتی ہے۔ راز نے اس کے لیے ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا۔ لفظی، معنوی تضادات اور تصرفات کی تکنیک- ٹی این راز کے ذہن کی زرخیزی اور حقائق کی تہہ تک بہ کیفیت تحیر پہنچنے کی قوت کا اندازہ ان کے اشعار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تخلیق کار کی جستجو کی منزل اور اس کی سطح کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے۔ اشعار سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ذہن رسا کی رسائی کہاں تک ہے۔ٹی این راز کی شاعری میں ادراک کی اعلیٰ سطح ملتی ہے اور ان کے اشعار سے ان کے ادراک اور مشاہدے کی قوت وسعت اور شدت کو ماپا جاسکتا ہے۔ لفظوں کے سہارے خیال سے کھیلنے کے ہنر میں مشاق ٹی این راز کے اندر کسی بھی شے کی حقیقت، ماہیئت اور تضادات کی شناخت کرنے کی قوت موجود ہے۔ انہوںنے مختلف سماجی موضوعات میں مضحک پہلو تلاش کیے ہیں۔ وہ سارے معاشرتی کردار جو اپنے اعمال وحرکات کے سبب مضحکہ خیز بن جاتے ہیں یا سماجی اور سیاسی عدم موزونیت کی علامت بن جاتے ہیں، ٹی این راز کی شاعری میں موجود ہیں۔راز کی شاعری میں سرپرائزنگ شفٹ کی شکلیں بھی نمایاں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تخیل میں تحیر کا عنصر اور ’جوہر اندیشہ‘ کی گرمی کس حد تک ہے۔
آہِ عاشق سے نہ گرجائے کہیں دیوارِ چین
کیا پتہ مل جائے کب ٹھیکہ مجھے تعمیر کا
بیوی نے منہ کو پیٹ دیا میرے جاگ کر
اک بوسہ اس کا میں نے لیا تھا جو خواب میں
جھیل سی آنکھوں میں مَیں تو ڈوبنے والا ہی تھا
چنری میرے دل ربا کی بادباں سی ہوگئی
بس اس لیے کہ ذائقہ میں ایک تڑپ رہے
اِک زندہ مچھلی ہم نے ملادی کباب میں
ٹھنڈک سے اپنے ہونٹ ہیں سکڑے ہوئے جناب
اب سینک کر ہی ہوگی کوئی بات جاڑے میں

 

معاشرتی اور عائلی مسائل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ بیوی سالی، ساس اور سسر جیسے کرداروں کے ذریعہ بھی انہوںنے مزاح کی خوبصورت کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے رشتوں کی نزاکت اور نفسیات پر مزاح کا تڑکا لگایاہے۔یہ محض مزاح کے اشعار نہیں ہیں ،ان میں رشتوں کے خوبصورت سلسلوں کا بیانیہ بھی ہے اور رشتوں کا پیمانہ بھی ہے۔ یہ وہ معاشرتی پیچیدگیاں ہیں جو ہرگھر کا حصہ بن چکی ہیں۔ ٹی این راز نے ان پیچیدگیوں کو مزاح کے رنگ میں کچھ یوں پیش کیا ہے اور دل کے نشاط آہنگ کا سامان کیا ہے۔ قاری ان ا شعار سے بقدر لب و دنداں محظوظ ہوسکتا ہے:
بے کسیِٔ عشق کا اس طرح عنواں ہوگئیں
پہلے محبوبہ تھیں اب بچوں کی امّاں ہوگئیں
رشتہ اپنی بیوی سے اک عجب پہیلی ہے
کہنے کو سہاگن ہے ویسے وہ اکیلی ہے
بیوی جاتی ہے جب بھی مائیکے کو
کوئی بھی سالی گھر نہیں آتی
ٹی این راز نے کرپشن، بدعنوانی، رشوت خوری اور دیگر سماجی امراض پر نشتر زنی کی ہے۔ اس طرح سماج کے ناسوروں سے ان ذہنوں کو روشناس کرایا ہے جو اس طرح کی بیماریوں کو سماج کی صحت کے لیے مہلک سمجھتے ہیں۔
رشوتوں کا ختم ہوپائے نہ کوئی سلسلہ
سی بی آئی ڈھونڈتی ہو پر نشاں کوئی نہ ہو
چپو ہو رشوتوں کا جب نیتا کے دست ناز میں
کشتی ہماری قوم کی پھر سے نہ ڈگمگائے کیوں
فائلیں چلتی ہیں کچھوا چال سے
نوٹ برسیں تو روانی اور ہے
لفظی تصرف، معنیاتی تحریف سے بھی انہوںنے خیال کے نئے گل بوٹے کھلائے ہیں اور اظہار وابلاغ کی نئی شاخوں سے آشنا کیا ہے۔ ٹی این راز نے اپنے ذہن کو مدام متحرک رکھا اور اسی تحرک کا ثمرہ ہے کہ انہوںنے مضامین نو کے انبار لگادیے۔ راز نے لسانی سطح پر بھی جو تجربے کئے وہ قابل قدر ہیں۔ لسانی تکثیریت کا تجربہ گوکہ پہلے بھی بہت سے مزاح نگاروں نے کیا ہے مگر ٹی این راز نے ان لفظوں کو جس طرح برتا ہے، اس سے ان کے لسانی درک کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مہنگائی سے شہر میں یارو جب سے دونا رینٹ ہوا
ان کا دل ہی اپنی خاطر بنگلہ جھگی ٹینٹ ہوا
خوش قسمت ہیں وہ سب جوڑے اس دنیا میں دنیا والو
جن کی شادی ہو نہیں پائی لیکن سیٹل مینٹ ہوا
ایک مزاح اور طنز نگار معاشرہ کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے جس میں آفاقیت ہوتی ہے۔ ٹی این راز کی بینائی میں نگاہِ شوق بھی شامل ہے اور انہیں شوخیِ نظارہ بھی نصیب ہے۔ اس لیے ان کے آئینۂ ادراک میں مسائل کے تمام عکس اور زاویے روشن ہوجاتے ہیں اور ان زاویوں میں طنز کے عناصر کی شمولیت کی وجہ سے اشعار کی معنویت اور بڑھ گئی ہے۔
ٹاڈا میں بند ہوگئے ہم دیکھئے حضور
بچوں کی گھر میں رکھی تھی پسٹل حفاظتاً
ہے یہی جی میں کہ ہم سب خانہ جنگی میں مریں
ملک پہ مٹنے کی خاطر خانداں کوئی نہ ہو
راز کے ترکش میںایسے بہت سے تیر ہیں جن سے سماج اور سیاست کا جگر چھلنی ہوسکتا ہے۔ راز نے غالب کی زمینوں میں غزلیں ؍ہزلیں کہی ہیں اور غالب کے تخلیقی تجربوں کو اپنے تخلیقی شعور کا حصہ بنایا ہے۔راز کے تخلیقی شعور میں جو برق تجلی ہے، وہ غالب ہی کا فیض ہے۔ غالب کے باطنی وجود کے ساتھ انہوںنے بھی مستانہ رہ وادی خیال طے کیا ہے۔ ان کے Existenceاور Experieneمیں غالب شامل ہیں۔ ان کے شعور اور حسیت میں فکر غالب کا حاوی حصہ ہے۔
’غالب اور درگت‘ میں انہوں نے غالب سے ہم رشتگی کا ثبوت دیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ غالب کی تخلیقی حسیت ہر رنگ میں بہار کا اثبات کرتی رہتی ہے۔ ’غالب اور درگت‘ میں بیشتر مزاحیہ غزلیں غالب کی سنجیدگی کو مزاح کے پیرائے میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش ہے مگر ٹی این راز نے غالب کے علاوہ ذوق، فانی، جگر اور دوسرے شعرا کی زمینوں میں بھی شعر کہے ہیں اور فکری سنجیدگی کو مزاحیہ پیکر میں ڈھالا ہے۔ راز نے تقابلی ذہن یا تضاد کی تکنیک کا بہت ہی خوبصورت استعمال کیا ہے۔
ان کے یہاں خیال کی شادابی نظر آتی ہے۔ دراصل انہوںنے اپنی شاعری میں جہاں معاشرہ کو طنز کا نشانہ بنایا ہے، وہیں اپنی ذات کو بھی تمسخر کا نشانہ بنانے سے گریز نہیںکیا اور یہی ایک طنز ومزاح نگار کا کمال ہوتا ہے کہ وہ خود کو معاشرہ کا ایک کردار سمجھتے ہوئے اپنا مذاق آپ اڑاتا ہے۔ راز نے اپنے شعروں میں اپنا جو طنزیہ سیلف پورٹریٹ پیش کیا ہے، اس میں سماج کا ہر وہ فرد شامل ہے جس کی حرکتیں تمسخر کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
تعریف اتنی کرتے ہو کیوں راز کی جناب
کیا جانتا نہیں ہوں بھلا اس لچر کو میں
جوتیاں کیوں کر نہ پڑتیں منچ پر مردود کو
لفظ ہر بیہودہ تھا کل راز کی تقریر کا
کاجو چراکر دوست کی شادی سے آج ہی
لائے جنابِ راز یہ سوغات جاڑے میں

خوش رنگ خیال کی خوشبو نلنی وبھا نازلی
زندگی سے موسیقیت غائب ہوجائے توذہنوں پر خواب کے بجائے عذاب اترنے لگتے ہیں!
مادیت اورصارفیت نے انسانوں سے سارے حسین خواب چھین لیے ہیں اور وہ زندگی جو کبھی ایک خوبصورت میلوڈی ہواکرتی تھی، وہ ایک اجاڑ اور ویرانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ شاعری ہمیشہ اسی میلوڈی کی تلاش اوروجود کے آہنگ کی جستجو کرتی رہی ہے مگر آج انسانی وجود سے آہنگ بھی گم ہوتا جارہاہے۔
ڈاکٹرنلنی وبھانازلی کی شاعری اسی میلوڈی اور آہنگ سے عبارت ہے اور اس موسیقیت کی تلاش میں ہے جو اپنے اندرتھریپیائی اثررکھتی ہے۔ نازلی کی شاعری کی خاص بات یہی ہے کہ احساس کی موسیقیت ہمہ دم ان کے ساتھ رہتی ہے۔وہ کسی بھی خیال یاجذبہ کے اظہار میں عدم توازن کی شکارنہیں ہوتیں۔ ان کے خیالات میں ایک ربط تسلسل اور آہنگ ہے۔
نازلی کی شاعری میں آواز اور خموشی کابہترین امتزاج ہے۔ جہاں ان کی شاعری آواز کے وسیلے سے بہت سے احساسات کااظہار کرتی ہے وہیں ان کی خاموشی عرفان وآگہی کا ایک نیا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ ان کی خاموشی میں جوقوت، جوتاثیر، جو تسخیر ہے وہ ہر قاری محسوس نہیں کرسکتا۔ خاموشی کوسمجھنے کے لیے بھی ذہن رساچاہیے۔ وہی ذہن جوکائنات کی خاموشیوں کو ایک نئے مفہوم اور معانی عطا کرسکتاہے۔
نازلی کے اشعار میں خاموشی کی وہ کیفیت محسوس کی جاسکتی ہے اور یہی خاموشی کبھی کبھی بلند آہنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ذرایہ اشعار دیکھئے:
جانے رکھ دی خوشی کہاں ہم نے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے صدی گزری
یاد کرکے نشاط ماضی کو
روز آنکھوں سے اک ندی گزری
کھو گئی پھر کہیں اندھیروں میں
اک ذرا چھو کے روشنی گزری
رونقیں اجلے دنوں کی گم ہوئیں
ڈس رہی پل پل ہے تنہائی مجھے
نازلی کی شاعری میں نسائی احساس کی کوملتا ہے اور اظہار کی دوشیزگی۔ ان کی شاعری داخلی واردات کا اظہاریہ بھی ہے اور خارجی وقوعات کا منظریہ بھی۔ داخل و خارج کے امتزاج سے وہ کائنات کی بہت سی حقیقتوں کا انکشاف کرتی ہیں۔ خاص طور پر ان کی شاعری میں آج کی زندگی کا منظرنامہ روشن ہے۔ وہی وحشتیں، وہی الجھنیں، وہی شکست خواب، وہی بے اعتباری، وہی بے یقینی اور روح کی وہی ویرانگی،انسانی وجود کا سناٹا اور کائنات سے گم ہوتا ہوا آہنگ۔ نازلی کے یہ وہ شعری موضوعات ہیں جن کی وجہ سے ان کی شاعری میں آج کے عصر کی روح بھی ہے اور آج کے زمانے کا احساس بھی۔یہ چنداشعار ان ہی موضوعات کے اردگرد طواف کرتے ہیں:
بے غرض کون یہاں چارہ غم کرتاہے
ہر کسی کو غم حالات بتایا نہ کرو
میٹھی باتوں میں بھی ہوتے ہیں دغا کے پھندے
ایسی باتوں میں کبھی لوگوں کے آیا نہ کرو
بستی میں زر پرستوں کی کیا ڈھونڈ رہے ہو
نادان ہو پتھروں میں وفا ڈھونڈ رہے ہو
عیاشیوں کو شیوہ یہ اپنا بنا چکے
کیوں ان میں غیرت اور اناڈھونڈ رہے ہو
صدق کی رشتوں میں اب خوشبو کہاں ہے؟
دوستوں میں اب وفا کی خوکہاں ہے؟
اب کہاں رشتوں میں ہے وہ پاسداری
اے وفا! آواز دے اب تو کہاں ہے؟

 

نازلی کی شاعری میں کائناتی شعور بھی ہے اور ماحولیات کا عرفان بھی۔ انھوں نے فطرت سے بیگانگی اوربیزاری کے مضراثرات کومحسوس کیا ہے اور فطرت سے اپنی وابستگی کااظہار بھی کیا ہے۔ یہ شاعری اس بات کا ثبوت ہے کہ تخلیق کاراپنے گردوپیش کے حالات یا ماحول سے بے خبر نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے احساس کاحصہ بناکر اظہار کے قالب میں ڈھالتا ہے۔ آج کی ماحولیاتی کثافت اور آلودگی کے حوالے سے یہ اشعار کس قدر معنی خیز ہیں اس کا اندازہ کوئی بھی لگاسکتا ہے:
آگ میں جلتے ہیں جنگلات، کوئی روکے تو
کتنے بدتر ہوئے حالات، کوئی روکے تو
کچے آنگن کی مہک اب کہاں سے پاؤگے؟
کھو چلے شہروں میں دیہات، کوئی روکے تو
آرے کلہاڑیاں ہاتھوں میں ہیں بن مافیا کے
کر رہے ہیں یہ خرافات، کوئی روکے تو
جھیل دلدل بنی بنجر بنی سرسبز زمیں
اٹھ کھڑے کتنے سوالات، کوئی روکے تو
اب نہ شاداب زمیں ہوگی نہ خوشبو ہوگی
ہیں سمگلر بڑے بد ذات، کوئی روکے تو
عیش کے واسطے دھن چاہیے، جنگل کاٹے
اور چلے سوئے خرابات، کوئی روکے تو
دیکھی آلودہ فضائیں تو میری آنکھوں سے
اشک بن کربہے جذبات، کوئی روکے تو
نازلیؔ گھلنے لگا زہر ہوا پانی میں
موت کی یہ ہیں علامات، کوئی روکے تو
ڈاکٹرنلنی وبھانازلی کوتخلیق کی ابدیت پریقین ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے سارے احساسات وجذبات کوتخلیق کی صورت میں ڈھال کر دنیا کے حوالے کردیاہے کہ کم ازکم ان کے احساس اور اظہار کی موسیقیت تو دنیا کی سماعتوں میں گونجتی رہے گی۔ اپنے اس احساس کو انھوں نے اس شعر کے حوالے سے بھی پیش کیاہے:
ہاتھ جل جائیں گے پھر بھی دستخط رہ جائیں گے
اہل فن کے جو ہیں فن پارے نہ وہ مٹ پائیں گے
میرا فن، اشعار میرے اور میری نغمگی
قدر دانوں کے دلوں کو نازلیؔ مہکائیں گے
نازلی کا شعری مجموعہ ’دستخط رہ جائیں گے‘ اسی احساس کا ایک ثبوت ہے۔ اس سے پہلے بھی ان کے مجموعے ’ریزہ ریزہ آئینہ‘ اور ’حرف حرف آئینہ‘ شائع ہوچکے ہیں۔ اردو اور دیوناگری دونوں میں شاعری کرتی ہیں۔ان کا تعلق شاعری کے سرچشمہ موسیقی سے ہے۔اس تعلق سے انھوں نے ایک نظم میں بھی موسیقی کی معنویت اور آفاقیت کے حوالے سے یوں اظہار خیال کیا ہے:
سکون دل مرا غزلیں ارمان موسیقی
مرے جی جان ہیں سرتال اور ایمان موسیقی
جو ہے آواز باطن کی تھرکتی ہے وہ تانوں میں
کہ ہے جذبات کے اظہار کا سامان موسیقی
حقیقت ہے کہ بن اس کے مرا دشوار ہے جینا
بھلانا رنج و کلفت کرتی ہے آسان موسیقی
فقط انسان کیا پنچھی بھی اس پر جان دیتے ہیں
کہ جھوم اٹھتا ہے سن کے سانپ سا حیوان موسیقی
بڑھائے رونق محفل، عبادت میں اثر لائے
کرے جب خالق کونین کا گن گان موسیقی
اسی نے شاعری سے نازلیؔ رشتہ مرا جوڑا
مرا مذہب مرا مسلک مرا ایمان موسیقی
اس لیے ان کی شاعری میں موسیقیت بھی ہے، نغمگی بھی اور وہ میلوڈی بھی جو انسانی احساس کو تبدیل کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ ان کے تعلق سے ڈاکٹرشباب للت نے جس خیال کا اظہار کیا ہے اس سے آگے کچھ لکھنا ممکن نہیں۔ ’نازلی کی فکری تخلیق کے اندر دھنشی رنگ قاری کے شعور کو رومانی اور روحانی کیف واسرار کی جمالیاتی وادیوں کی سیاحت کراتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں جہاں روایتی کلاسیکیت کی دل نواز رنگ پاشیاں دلوں کو گدگداتی ہیں اورباہم چاہنے والے دلوں کی جواں دھڑکنیں، رازونیاز،شرنگار رس کے رومانی افقوں تک کی پرواز میں قاری کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ وہاں ان میں شاعرہ کے دل کی گہرائی سے نکلے ہوئے اشعار اپنے خالق سے عقیدت،وابستگی، سپردگی، عبادت وخشوع کے پاکیزہ جذبے کوبھی مہمیز کرتے ہیں۔‘

برہم دیواورسات شہر
برہم دیو مدھر کے تخلیقی مزاج کی تشکیل میں ہندی شعریات کا عمل دخل زیادہ ہے مگر اردو کی تہذیبی روایت اور بوطیقا سے والہانہ شیفتگی نے ان کے تخلیقی ذہن کو نیا تحرک بخشا اور ان کے تخلیقی نظام کو تازگی، رعنائی، نزاکت اور نفاست عطا کی ہے۔ اردو غزلیہ شاعری کی ایمائیت، رمزیت اور تہ داری نے ان کے تخلیقی باطن کو مہمیز کیا ہے۔
’اور بھی غم ہیں ‘مدھر جی کا خوبصورت شعری مجموعہ ہے۔ اشعار کی قراْت کے طریق کار اور تفہیمی تناظر کو ذرا بدل کر دیکھیں اور ایک نئے نہج سے نظر ڈالیں تو اس شعری مجموعہ میں بہت سی معنوی خوبیاں نظر آئیں گی۔ اردو ہندی کا تہذیبی، لسانی وصال خوش جمال آنکھوں کو بھائے گا اور شاعری کے باطن میں جو زیریں لہریں ہیں وہ ذہنی وجود کو تابندگی بخشیں گی۔
برہم دیو مدھر کے تخلیقی باطن میں گنگا، جمنا، سرسوتی، گداوری، نرمدا، سندھو، اور کاویری جیسی مقدس ندیاں بہتی نظر آتی ہیں اور ان دریاؤں کی لہروں کا ملن بھی۔ اسی نقطہ وصال سے ان کے تخلیقی جمال کا چشمہ پھوٹتا ہے۔ ان سات دریاؤں کے ساتھ ان کی تخلیقی کائنات میں ایودھیا، متھرا، ہری دوار، کاشی، کانچی، اونتیکا (اجین )دوارکا جیسے شہر اپنے تہذیبی استعاروں اور امیجز کے ساتھ آباد نظر آتے ہیں۔ انسان کے باطن میں یہی سات مقامات بستے ہیں اور انہی مقامات سے انسانی جذبات، احساسات، تخیلات و تحیرات کا انسلاک ہے۔ سات کے طلسمی حصار ہی میں سارے جذبے، احساس اور اظہار قید ہیں۔
ہری دوار جو تلاش ذات کا نقطہ آغاز ہے، وہ شہر اپنے اسطوری تخیل اور تہذیبی تفاعل کے ساتھ اس شعر میں ہے :
تری تلاش میں نکلا تو کھو گیا ہوں میں
عجیب بات ہے اب خود کو ڈھونڈتا ہوں میں
متھرا اپنے تقدیسی صفات کے ساتھ کرشن کے لئے گوپیکاؤں کی محبت اور کنس کے لیے نفرت اور خوف کے جذبات سمیت ان کی شاعری میں یوں منور نظر آتا ہے :
بچوں کو ماں کی کوکھ ہی میں چن دیا گیا
چارہ گروں کو قاتلوں کا گن دیا گیا
آئے مدھر کو یاد نہ کیوں اپنی رادھکا
بنسی میں کوئی درد جو ٹیرے کبھی کبھی
ایودھیا امن، عدل، فراق و وصال، رام کے ایثار اور کیکئی کی سازش کی علامتوں کے ساتھ ان کے بہت سے شعروں میں نمایاں ہے :
ملن بھی اک اوستھا ہے ورہ بھی اک اوستھا ہے
پھر اس کے بعد دل سنتا ہے انہد ناد جیون
ذہن بن باسی بنا ہے سارے رشتے توڑ کر
میرے سائے کے نکٹ پھر جنگلوں میں کون تھا
کاشی اپنے دھیان، گیان اور روحانی ریاضت کے ساتھ مدھر جی کے ان شعروں میں نظر آتا ہے :
جانے کتنے جنم کے ہیں بھٹکے ہوئے
ہم نے بدلے تیرے واسطے تن کئی
باہر ندی کی پھیلی ہوئی ریت کال ہے
پانی بھی مچھلیوں کے لئے ایک جال ہے
اسے اچھی طرح معلوم ہے آنند پیڑا کا
دیکھا ہے پیار میں جس نے ورہ کا سواد آجیون
کانچی نشاط زیست کے تصور اور کام دیوی کامکشی کے ساتھ ان اشعار میں مصور ہے :
خواہشوں کے سانپ مجھ سے لپٹے رہتے ہیں مدھر
آپ نے ناحق بنایا نیم سے صندل مجھے
وصل کے لمحات میری سوچ میں آتے ہیں جب
ایسا لگتا ہے کھجراہو کے بت خانے میں ہوں
کالی داس اور وکرمادتیہ کی سرزمین اجین اپنے ارفع تخیل، تہذیب، ثقافت اور آرٹ کے امیج کے ساتھ مدھر جی کے ان ان شعروں میں روشن ہے :
کبھی تو آئے گی تیرے بدن کو چھوکے ادھر
کھلا کواڑ میں رکھتا ہوں اس پون کے لئے
جو خود ہے آگ اس کو جلائے گی آگ کیا
مجھ کو ڈر ہے کہ وہ کہیں پانی سے جل نہ جائے
دوارکا جو آزادی اور نجات کا نقطہ اختتام ہے۔ جہاں کرشن جی نے اپنا جسم تیاگ دیا تھا۔ ان شعروں میں کتنی خوبصورتی کے ساتھ visualiseہوا ہے :
زندگی گر نہ ہوتی شو سادھنا
ہم کو مرگھٹ کے سائے نگلتے نہیں
موت جب آئی نظر مجھ کو دکھی
میں نے اپنی زندگانی سونپ دی
آتما سے ملی آتما اس طرح
خود ہی درشن ہوا خود نین ہو گیا
یہ ساتوں شہر اپنے تمدنی تلمیحات، تہذیبی اشارات کے ساتھ مدھر جی کے شعروں میں نظر آتے ہیں۔ بس تلاش و جستجو شرط ہے۔ یہ شاعری ان کے شخصی اکتشاف کی اوڈیسی ہے۔ انہوں نے کچھ نئی تلمیحات، علامتیں اور تراکیب بھی استعمال کی ہیں اور اظہار و احساس کے نئے در وا کئے ہیں :
میٹنی شو دیکھ کر آئی ہوا
گاؤں میں کرتی ہے ڈسکو رات بھر
جگنوؤں نے لے لیا بن باس اب
ٹیوب لائٹ کے لگے جب سے شجر
ان کی غزلوں میں ہندی تلمیحات اور استعارات کا حسن بھی ہے اور لفظیات کا جمال بھی :
بھسم جیون کا ہر آورن ہو گیا
آگ من میں لگی تن ہون ہو گیا
دیکھا ہے اپنے آپ کو درپن میں نروسن
ٹوٹے ہیں جب بھی عکس کے گھیرے کبھی کبھی
عصری صورت حال، مذہبی جنون و تشدد، منافقت مکاری، عیاری، آتنک واد کے تعلق سے بھی بہت سے اشعار ان کے یہاں ملتے ہیں جن سے ان کے انقلابی تیور کا پتہ چلتا ہے اور ان کی آتما کی خوبصورتی کا بھی :
ہر سمت ایک غول ہے آتنک واد کا
مجھ کو کہیں بھی پیار کا سنسد نہیں ملا
اس شعری مجموعہ میں برہم دیو مدھر جی کی پوئٹک جینئس کے ڈائمنشن منور ہیں۔ ان کی شعری قوت اور تخیل کی بلندی سے انکار کسی طور پر ممکن نہیں۔ مدھر کی شاعری کومل، نرمل، شفاف اور سوکچھ ہے۔ اس شعری تخلیق کے باطن کی سیر کریں تو اس میں تلسی داس، رادھا، رے داس، رحیم، رس کھان، رمن، سدامہ، شبری، میرا اور کبیر کی آنکھیں نظر آئیں گی۔ اور یہ آنکھیں بہت ہی پاک و صاف، پر سوز اور درد مند ہیں اور یہی شفافیت اور درد مندی مدھر جی کی تخلیق کے آئینہ خانہ میں تمام تر جمالیاتی زاویوں کے ساتھ روشن ہیں۔

 

غم کی جمالیاتی ترفیع’نصرت غم‘ [سنگیتا پی مینن ملہن کے حوالے سے]
سنگیتاکی ’نصرت غم‘ سے پہلے شاعر مشرق علامہ اقبال کا ’فلسفہ غم‘:
غم جوانی کو جگادیتا ہے لطف خواب سے
ساز یہ بیدا ر ہوتاہے اسی مضراب سے
طائر دل کے لیے غم شہپر پرواز ہے
راز ہے انساں کا دل غم انکشاف راز ہے
غم نہیں غم روح کا ایک نغمۂ خاموش ہے
جو سرود بربط ہستی سے ہم آغوش ہے
ان اشعار کی راہ سے ہی اس منزل تک رسائی ہوسکتی ہے جو سنگیتاپی مینن ملہن کا فکری پڑاؤ ہے۔ سنگیتا کے یہاں غم ایک قوت محرکہ،ایک مہیج (stimulus)کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ غم کی بنیادی قدر (Intrinsic Value)سے واقف ہیں۔ان کے لیے غم ایک طرز احساس بھی ہے۔ دراصل سنگیتا مینن غم کی مابعدالطبیعاتی اساس سے آگاہ ہیں اور ان کی فکر میں اونامونو کا وہ تصور تخلیقی رنگ وروپ لیے ہوئے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’غم زندگی کی حقیقت جاننے کا ذریعہ ہے۔‘ سنگیتا نے غم کے ذریعہ حیات وکائنات کا عرفان حاصل کیا اور ادراک کی اس منزل تک پہنچیں جو بدھ ازم کی اصطلاح میں نروان کہلاتی ہے اور یہ نروان کرب اور اذیت کی آگ کے دریا سے گزر کر ہی حاصل ہوتاہے۔ سنگیتا کے یہاں غم ایک توانائی بخش عنصر کے طور پرسامنے آتا ہے۔ وہ غم جس کے بارے میں فانی بدایونی نے کہاتھا کہ ’غم‘ وہ راحت ہے جسے قسمت کے دھنی پاتے ہیں۔‘
سنگیتاپی مینن نے اسی غم کے فلسفے سے اپنی حیات و کائنات کے زاویے روشن کیے ہیں اور یہی غم ان کے لیے ایک متاع بے بہاہے۔ انھوںنے غم کی طاقت کو محسوس کیا اور اسے نشاط حیات کا وسیلہ بنایا۔دیکھاجائے تو اٹھارہویں صدی کے غالب کا جو ’نشاط الم‘ ہے وہی اکیسویں صدی کی سنگیتا کا ’نصرت غم‘ ہے۔
غالب نے کہاتھا:
جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
میںیہ سمجھوں گا کہ دو شمعیں فروزاں ہوگئیں
سنگیتا کے شعری مجموعہ کا سرنامہ ’نصرت غم‘ ایک استعبادی طرزفکر اور اسلوب اظہار کا عکاس ہے۔ اس مجموعہ میںنظمیہ صورت میں سنگیتا کے فلسفیانہ ڈسکورس، باطنی ارتعاشات اور داخلی تموجات ہیں۔ ایسی نظمیں سوچ سمندر میں غوطہ زن ہوکر ہی لکھی جاسکتی ہیں۔ ان نظموں میں وجودی تجربوں کا اظہار ہے اور وجودیاتی تشویش (Existential Anxiety)کی صورتیں بھی نمایاں ہیں۔ کہیں کہیں ان کا ایکسپریشن بالکل مسٹیکل ہوجاتاہے۔ جہاں وہ فنا اور موت کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ فنا اور زندگی کے تعلق سے ان کی نظمیں پڑھتے ہوئے فانی بدایونی کی یاد آتی ہے۔ جنھوں نے موت اور زندگی کے مابین رشتوں کی ایک نئی جہت تلاش کی ہے اور Paradoxicalانداز اختیار کرتے ہوئے کہا:
اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے
تو اعتبار ہستی بے اعتبار ہے
ہر لمحہ حیات ہے بے گانہ حیات
فانی حیات سے ہی عبارت عدم نہ ہو
توسنگیتا مینن نے بھی اسی احساس کونظمیہ پیکرمیں یوں ڈھالاہے:
زندگی سے جو نہ حاصل ہوئی
وہ شہرت
موت لے آئی ہے
جیتے جی تویہ بھی نہ نصیب ہوا
آج لیکن میرے شعر پڑھے گئے
اے موت!
تو باربارکیوں نہیں آتی
تجھی سے تو ہے میرا وجود
ہم جیسے لوگوں کی تو
تو ہی سرپرست ہے
تیرا ہی سہارا لے کر جیتے ہیں
تیرے علاوہ
میرااپنا
اورکون ہے؟
آخر کے نثری ٹکڑے پڑھتے ہوئے پھرفانی بدایونی کی غزل کا یہ شعرصفحۂ ذہن پر جگمگانے لگتا ہے:
دیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانی
کوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا
اسی طرزفکر کی غماز ان کی ایک نظم ہے ’زندگی موت سی ہے یہاں‘:
سیاسی طاقتوں نے یوں ہاتھ موڑ رکھا ہے
کہ فقیری کے قابل بھی نہیں چھوڑ رکھا ہے
کمر ٹوٹی ہے سانس مدھم ہے، امید کب کی تمام ہوچکی ہے
آنکھیں نم ہیں
کہیں بھی تو کس سے کہیں ہم
ہر ایک رہنما میرے قتل کا گنہگار ہے
اورجس خدا کو قادر مطلق سمجھتے تھے
اب جانا کہ وہ بھی ایک ظالم دھوکہ ہے
اس آس سے گھسیٹتا ہے مردہ جسم اپنی ہی لاش کو
دو گزملے گی اسے زمین خاک ہونے کو
مگر قبرستان جو پہنچے تو معلوم ہوا کہ محافظ نے وہاں پر بھی
بازکرلگارکھاہے

 

سنگیتامینن نے فانی کوپڑھاہے یانہیں مگر فانی کا تصور الم ان کی فکر میں نمایاں ہے مگر ان کے اور فانی بدایونی کے تصورغم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فانی کے یہاں غم ایک سلبی تصورہے جبکہ سنگیتا کے یہاں مثبت تصور کی حیثیت رکھتاہے۔یہ غم ارتفاع(Sublimation)اور ترفیع کی علامت ہے۔ جس طرح دانتے کی ڈیوائن کامیڈی اور ہندوستان کاتاج محل غم کی جمالیاتی ترفیع ہیں۔ اسی طرح سنگیتا نے بھی اپنی شاعری میں غم کی ترفیع کو ایک وسیلہ کے طورپراستعمال کیاہے۔ ’نصرت غم‘ ان کے اسی احساس ارتفاع کاآئینہ دار ہے:
لوگوں کی ایک باڑھ امڈ آئی ہے
میرے مے خانے میں جیسے دنیاسمائی ہے
ہے جشن یہ کہ تماشا کوئی عام
شور بھی ہے اورسناٹابھی
روح بے چین ہے مگر حوصلہ بلند
میرے جنازے کو کاندھا دینا میری قسمت
انھیں یہاں لائی ہے
کروں ذکربربادی کا
یابیاں کروں قصے نصرت غم کے
یہ کیا کم ہے کہ بے مروّت بے رحم زمانے نے
بے کس کی دعایوں قبول کی ہے
سنگیتا کے یہاں Negative Capabilityکی صورت بھی یوں نمایاں ہے کہ بیرونی حقیقت کو بھی اپنی ذات میں محسوس کرنے لگتی ہیں۔ان کی کئی نظمیں اس کی مثال کے طورپر پیش کی جاسکتی ہیں۔ ’نصرت غم‘ میں بہت سی نظمیں ایسی ہیں جوذہن،ذات اور ضمیر کو مرتعش کرنے والی ہیں۔ دراصل یہ ساری نظمیں سنگیتاپی مینن کے کیتھارٹک تجربے ہیں۔ منفی جذبات واحساسات سے باہر نکلنے کی ایک راہ جوانھوں نے خودتلاش کی ہے۔ انھوں نے لکھاہے کہ ’وہ خیالات جو 2011کی چھ ماہ کی مدت تک قدرتی طورپرمجھ میں جاں گزیں تھے ان منفی اثرات سے میں یکسر پاک ہوگئی۔ ’نصرت غم‘ نے مجھے آزاد کردیا اورمیرانجات دہندہ بن گیا۔‘
سہ لسانی(ہندی،رومن اور اردو)شعری مجموعہ ’نصرت غم‘ ایک ایسی شاعرہ کا کلام ہے جس نے اردو کو اپنے اظہارکے ایک میڈیم کے طورپرانتخاب کیاہے،جبکہ وہ اردو کے لسانی کلچر، اس کے رموز و علائم سے مکمل طورپر واقف بھی نہیں ہیں،مگراس زبان کی کشش نے ایک ایسی ذہنی قربت پیدا کردی کہ انھوں نے اردو میں شاعری کی اوراس کی قوت کو اپنے اندر محسوس کیا۔ انھوں نے خود لکھاہے کہ:
The intoxicating beauty of poetry and the sheer power of the Urdu language have been my Moksh
’موکچھ‘ کا یہ تصور معنی خیز بھی ہے اور آج کے تناظرمیں بہت گہری رمزیت کاحامل بھی۔ بشرطیکہ اس تصور کو اس کی مکمل صورت میں سمجھاجائے۔ ’نصرت غم‘ موکچھ کی کس منزل تک لے جائے گی یہ کہانہیں جاسکتا لیکن معاشرے کی کیتھارسس کی ایک سبیل اس سے ضرور نکل سکتی ہے۔ انگریزی کی ایک مقتدر صحافی اور شاعرہ کا اردوزبان میں پرجوش خیرمقدم کیا جانا چاہیے کہ اسی طرح زبانوں کو نئے منطقے ملتے ہیں اور نئی فکری منطق نصیب ہوتی ہے۔

 

You may also like