غیر ازدواجی تعلقات اور نوجوانوں کی بڑھتی بے راہ روی -عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

چند یوم قبل ایک عزیز کے گھردوست احباب کی مختصر سی تقریب میں شرکت کا اتفاق ہوا،چوں کہ وقفے وقفے سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا؛اس لیے عشائیے میں کافی وقت درکارتھا۔ میں نے موقع پاکرپاس بیٹھے ایک نوجوان سے گفتگو کا آغاز کیا،علیک سلیک اورابتدائی تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حیدرآباد ہی کی کسی بڑی کمپنی میں برسرروزگار ہے اور ویب ڈیزائننگ کے کام میں اچھی خاصی مہارت رکھتا ہے،تھوڑی دیر کی رسمی گفتگو اور اپنے اپنے کام سے متعلق وضاحت بالخصوص تحفظ شریعت ٹرسٹ (جس سے راقم السطور منسلک ہے)کے تعارف کے بعدوہ نوجوا ن قدرے بے تکلفانہ انداز میں کہنے لگا کہ آپ ماشاء اللہ تحفظ شریعت کی خدمت سے وابستہ ہیں اور نوجوانوں کے لیے مختلف ورک شاپ بھی منعقد کرتے ہیں نیز آپ کا مقصد بھی نوجوان نسل میں دین و شریعت سے متعلق شعور بیداری ہے؛اس لیے میں ایک نہایت حساس مسئلے کی طرف آپ کی توجہ مبذو ل کروانا چاہتا ہوں،جس پر مستقل کام کرنے اور نئی نسل کو اس سلسلے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔پھراس نے ملک کے مشہورتعلیمی و تجارتی شہر،ممبئی،دلی،بنگلور،حیدرآباد کے متعدد مسلم نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کے حوالے سے ایسا چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ میں دم بہ خود رہ گیا۔وہ کہنے لگاکہ پچھلے چند سالوں سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کا بلاتفریق مذہب یکجاقیام کرنے اور بہ وقت ضرورت جنسی تعلق قائم کرنے پھر کچھ عرصے بعد علاحدہ ہوجانے کارجحان بہت تیزی سے فروغ پا رہا ہے،خود میں جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں وہاں ایسے متعدد مسلم نوجوان ہیں جو اس لعنت میں گرفتار ہیں۔ نوجوان کے مطابق کہ اس تعلق کو جو سراسر ناجائز اورحرام ہے، انگریزی زبان میں Live in Relationship کہا جاتا ہے،یعنی  مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنا،جو عارضی اور چند روزہ بھی ہوسکتا ہے اور اس میں پائیداری بھی ممکن ہے، اس عرصے میں ان کے درمیان جنسی تعلق بھی قائم رہتا ہے؛لیکن میاں بیوی کی طرح رہنے کے باوجود ان کے درمیان نکاح کا معاہدہ نہیں ہوتا، جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کواختیار رہتا ہے کہ جب چاہے علاحدگی اختیار کرلے۔ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ساتھی کے تعلق سے ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد رہتا ہے اور اس پر کوئی قانونی بندش نہیں ہوتی۔
اس ملاقات کے چند روز بعد ابھی ہفتہ عشرہ قبل پڑوس ملک کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی لڑکی، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کامتنازع بیان انٹرنیشنل میڈیا پر کئی دن تک بحث کا موضوع رہا، جس میں ملالہ نے کہا کہ’’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنا پڑتی ہے؟ اگر آپ زندگی میں ایک شخص کو چاہتے ہیں توآپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آخر کیوںیہ صرف ایک پارٹنرشپ نہیں ہوسکتی؟‘‘
یہ حقیقت ہے کہ یورپ کے صنعتی انقلاب کے بعدعورت کو کسی حد معاشی استقلال تو حاصل ہوگیا؛ لیکن خاندانی نظام پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوئے۔تربیت کے بغیر اعلی عصری تعلیم کے بعد عورت جب مرد کی کفالت اورمالی اعانت سے بے نیاز ہوگئی تو پھر قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ جو عورت خودکمائے وہ مرد کی خدمت کیوں کرے؟ گھر کی ذمہ داریاں کیوں سنبھالے؟ برطانیہ کی نیشنل ویمنز کونسل کی ایک خاتون رکن کا کہنا ہے کہ ’’یہاں یہ خیال مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ شادی کر کے شوہر کی خدمت کے جھمیلے میں کیوں پڑا جائے بس زندگی کے مزے اڑالیے جائیں۔ بہت سی خواتین یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ان کی بقا کے لیے مردوں کے سہارے کی ضروت نہیں۔‘‘ (ملخص از نکاح کے انسانی زندگی پر اثرات)
ایک طرف مرد و زن کے مابین تعلقات کا یہ غیر فطری رجحان ہے جونئی نسل میںتیزی کے ساتھ پنپتاجارہاہے اور دوسری طرف اسلام کا  پیش کردہ پاکیزہ فطری  نظام ہے جو ہر اعتبار سے واضح،مکمل اور معاشرتی حقوق کا محافظ ہے؛جس کا غیروں نے بھی کھلے دل سے اعتراف کیاہے اور اعداد وشمار اس کی گواہی دے رہے ہیں: برٹلن کے ترتیب دیئے ہوئے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کی نسبت غیر شادی شدہ انسان کہیں زیادہ خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں، جبکہ اکثر شادی شدہ افراد کی دماغی اوراخلاقی حالت نہایت متوازن اور ٹھوس ہوتی ہے، ان کی زندگی میں ٹھہراؤ ہوتا ہے۔ نیزجیسا کج رو اور سوداوی مزاج بہت سارے بن بیاہے نوجوانوں کا ہوتا ہے، شادی شدہ جوڑوںمیں اُس طرح نہیں پایا جاتا۔ نیز یہ بھی مشاہدہ ہے کہ شادی شدہ خواتین ہر چند کہ بچہ جننے، ماں بننے اور خانہ داری اور ازدواجی زندگی جیسی بے شمار ذمہ داریوںمیں گھری ہوتی ہیں، پھر بھی دوسری غیر شادی شدہ عورتوں کے مقابلہ میں ان کی عمریں خاصی طویل ہوتی ہیں اور وہ ان کے مقابلہ میں زیادہ مطمئن اور خوش ہوتی ہیں۔(مقاصدنکاح بہ حوالہ ماہ نامہ بینات ستمبر2013)
اسلام کا تصور نکاح:
دیگر ادیان و مذاہب کے بالمقابل اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے اور اسلام نے اس حوالے سے جو معتدل فکر اور متوازن نظریہ پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں؛بل کہ یہ نام ونسب کی حفاظت کے ساتھ فروغ نسل انسانی اور مستحکم خاندانی نظام سے عبارت ہے۔ انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں اسی طرح جنسی عمل بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے؛جسے اسلام نے معقول اور مہذب طریقے سے پورا کرنے کی نہ صرف اجازت و ترغیب دی ہے؛بل کہ نکاح کو آسان بناکر پیش کیا ہے۔اسلام کے علاوہ باقی مذاہب (چاہے آسمانی ہوں یا غیرآسمانی) میں عورت اور مرد کے ازدواجی تعلقات کو بہت حد تک اخلاقی و روحانی ترقی کے لیے مانع تسلیم کیا گیا ہے؛بل کہ مغرب نے تو  آزادیٔ نسواں کے پرفریب نعرے کے ذریعہ سر عام اس کی عزت و عصمت کو نیلام کیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب نے شادی بیاہ کے بارے میں جو مختلف نظریات پیش کیے ہیں،ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
یہودی معاشرے نے نکاح کو سوشل کنٹریکٹ قرار دیا کہ جب چاہے توڑ دیاجائے۔ہندومت نے اسے اٹوٹ قرار دے کر اس میں مظلومیت کا عنصر شامل کر دیا اور عیسائیت نے تو نکاح اور ازدواجی زندگی سے الگ رہنے اور رہبانیت وتجرد کی زندگی اختیار کرنے کو ہی اعلیٰ اخلاق کا ذریعہ اورروحانیت کی معراج قرار دے کر اس سے دور رہنے کی تلقین کی ہے؛مگراسلام نے نکاح کوانبیاء کرام کی سنت،اہم ترین عبادت اور تکمیل ایمان کا سبب بتلایا ہے کہ نکاح ہی اخلاق و کردار، عزت و ناموس اور حیا و پاک دامنی کا ذریعہ ہے۔ جو آدمی نکاح کرلیتا ہے، وہ ایک قلعہ میں محصور ہوکر بے حیائی،بداخلاقی،بے راہ روی اوربدنگاہی جیسی مذموم عادات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کونکاح کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی حقوق زوجیت پر قادرہو تو وہ شادی کرلے‘‘۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح سے حاصل ہونے والے دو اہم فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’کیونکہ اس سے نگاہ اورعصمت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے‘‘۔(بخاری و مسلم)
المختصر:اسلام نے ازدواجی زندگی کے متعلق صاف ستھرا اورقابلِ عمل تصور پیش کیاجو بے شمار دینی و دنیوی فائدوں کاحامل ہے،مثلاً معاشرتی فائدے، خاندانی فائدے،اخلاقی فائدے،سماجی فائدے، نفسیاتی فائدے وغیرہ۔۔۔۔اس طرح ان گنت  فائدوں اور خوبیوںکا دوسرا نام نکاح ہے۔
اسلام میں زنا کی مذمت:
قرآن مجید میں جہاں نکاح کی اہمیت اجاگر کی گئی،وہیں مختلف مقامات پرزنا کاری کی مذمت بیان کی گئی ؛بل کہ مقدمات زنا پر بھی قدغن لگائی گئی،مردوں اور عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے نگاہ نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی،دوسروں کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لینے کو ضروری قرار دیاگیا،پردے اور حجاب سے متعلق تفصیلی احکام اتارے گئے نیز سورۃ الاسراء میں پہلے زنا سے منع فرمایا گیا، اس کے بعد قتل ناحق سے روکاگیا،جس کی حکمت بیان کرتے ہوئے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:’’کفرکے بعد سب سے بڑا گناہ قتل ناحق ہے، زنا اس کے بعد ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس آیت میںزنا کا ذکر قتل سے پہلے کیا گیا ہے، اس کی حکمت اور وجہ یہ ہے کہ جس سماج میں زناکا دروازہ کھل جاتا ہے، اس میں قتل وخون کی واردات عام ہوتی چلی جاتی ہے، زنا سے قتل کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، اسی لئے زنا کو پہلے ذکر کیا گیا ہے‘‘۔ (التفسیرالکبیر)اسی طرح قرآن میں زنا اور اولاد کے قتل کا ایک ساتھ بھی ذکر آیا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد معاشرے میںجس طرح ذلیل وبے مایہ ہوتی ہے وہ کسی موت سے کم نہیں ہے۔نیز زنا سے ہونے والے حمل بدنامی اور طعن و تشنیع وغیرہ کے خوف سے عام طور پر ساقط کردیے جاتے ہیں اس طرح ہرسال لاکھوں کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں۔
اسلام میں زنا کی شناعت کا اندازہ اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ زنا کار کو ایمان کے نور وکیف سے محروم قرار دیا گیا، اس کی دعاؤں کو نامقبول بتایا گیا، زنا کے نتیجے میں جو اجتماعی وانفرادی مصائب اور مشکلات پیدا ہوتے ہیں، ان کا ذکر کرکے اس عمل کی زہرناکی کو اجاگر کیا گیا۔
وبائی امراض کی ایک وجہ:
جس قوم یا سماج میں بدکاری کی وبا پھیل جاتی ہے وہ سما ج عذابِ الٰہی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اکرم اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:جب کسی علاقے میں سودخوری اور زناکاری عام ہوجاتی ہے تو اللہ کا عذاب آنے کے قریب ہوجاتا ہے۔(المستدرک)
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں: میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک کہ اس میں ولدالزنا کی کثرت نہ ہو، اور جب امت میں ولد الزنا کی کثرت ہوجائے گی تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔(مجمع الزوائد)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے اور ارشاد فرمایا:اے گروہِ مہاجرین!جس قوم میں علانیہ زناکاری عام ہوجاتی ہے اس میں طاعون اور ایسے امراض پیدا ہوجاتے ہیں جو پچھلی امتوں میں نہ تھے۔(ابن ماجہ)
حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے خطبات میں ملتا ہے:’’جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے خدا اس میں مصیبت کو پھیلادیتا ہے‘‘۔معلوم ہوا کہ جس معاشرہ میں زنا عام ہوجائے، ناجائزاولاد کی کثرت ہونے لگے وہ معاشرہ عذابِ الٰہی کے نشانے پر آجاتاہے، پھر عذاب کاظہور مختلف شکلوں میں ہوتا ہے، طوفان وسیلاب ہو، زلزلہ ہو، رزق سے محرومی ہو، وبائی امراض ہوں یہ سب اسی عذاب کے مظاہر ہیں۔
موجودہ دور میں ہر جگہ جو خطرناک وبائی امراض پھیلے ہوئے ہیں،کیا بعید ہے کہ وہ سب انہی فواحش کا خمیازہ ہو جسے پوری انسانیت بھگت رہی ہو۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)