گیہوں سےصدقۃ الفطر کی مقدار کا مسئلہ – مفتی محمد مشتاق تجاروی

 

شعبہ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

ہمارے ملک بلکہ پورے بر صغیر میں صدقۃ الفطر بالعموم گیہوں سے ادا کیا جاتا ہے۔یعنی نصف صاع گیہو ں یا اس کی قیمت ادا کی کی جاتی ہے۔ایک صاع تقریبا ۳ کلو پانسو گرام ہوتا ہےاس لیے نصف صاع ایک کلو ساڑھے سات سو گرام ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں مختلف اجناس جیسے جو اور کھجور وغیرہ سے ایک صاع صدقۃ الفطرمتعین کیا گیا ہے اور ان اجناس میں گیہوں کا ذکر نہیں ہے۔گیہوں سے صدقہ فطر کی مقدار صحابہ کرام کا ایک اجتہادی عمل ہے اور اس کی بنیادیہ ہے کہ گیہوںاس دور میں دوسرے غلوں کے مقابلے میں مہنگا تھا۔اس لیے دیگر غلوں کے ایک صاع کو گیہو ں کے نصف صاع کے مساوی قرار دیا گیا۔ اسی سلسلے میں چند باتیں عرض کر نی ہیں۔
بخاری ،مسلم اور حدیث کی تمام کتابوں میں متعدد احادیث میں صدقۃ الفطر کی مقدارمختلف اجناس سے ایک صاع بتائی گئی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر ۱۵۰۳میں ہے:
‘‘حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرہ کی زکوۃ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض قرار دی تھی۔غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ کا حکم تھا کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے اس کو ادا کر دو۔’’
اس حدیث میں ایک صاع کھجور اور ایک صاع جوصدقہ الفطر کی مقداربتائی گئی ہے۔
بخاری شریف کی دوسری احادیث جیسےحدیث نمبر۱۵۰۶ اور ۱۵۰۸ میں ایک صاع اناج،یاایک صاع جو،یاایک صاع کھجور،یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش کا تذکرہ ہے۔
ان دونوں حدیثوں میں چھ چیزوں کا ذکر ہے سب سے پہلے ’’صاعاًمن طاکم‘‘ یعنی کھانے میں سے ایک صاع کا تذکرہ ہے باقی چیزیں بعد میں نام کی صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔اس حدیث میں لفظ طعام کی تعینع میں اختلاف ہے۔حافظ ابن حجر نے طعام سے متعلق جو گفتگو فرمائی ہے اس میں ایک قول تو یہ ہے کہ طعام سے مرادگیہوں ہے۔دوسری رائے یہ ہے کہ لفظ طعام مجمل ہے اور بعد کے الفاظ اس کی تفسیر ہیں۔یعنی ہر طعام سے ایک صاع نکالنا ہے چاہے جو ہو یا کھجور وغیرہ اس ضمن میں حافظ ابن حجر نےاور تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔(فتح الباری حدیث نمبر ۱۵۰۸ کی شرح)
بخاری شریف کی حدیث نمبر ۱۵۰۸ میں ہے کہ
’’حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدقہ فطر ایک صاع طعام یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع کشمش نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ آئے اور گیہوں کاچلن عام ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کایعنی گیہوں کا ایک مددوسرے اناج کے دو مدکے برابر ہے۔
یہ حدیث مسلم شریف میں نمبر ۹۸۵پر بھی مروی ہے۔اس میں یہ وضاحت بھی ہے کہ امیر معاویہ حج یا عمرہ کرنے آئے تھے۔
اس روایت میں لفظ طعام بھی ہے اور االسمرائ یعنی گیہوں کا بھی تذکرہ ہے۔اس سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور رسول اللہ سلم کے عہد میں گیہوں عام غذا میں شامل نہیں تھا۔اس لیے حدیث میں اس کا واضح ذکر نہیں ہےاس لیے صدقہ فطر میں اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔
اگرچہ حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں واضح طور اس کا ذکر ہے کہ گیہوں سے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع امیر معاویہ نے متعین کی تھی تاہم حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح میں ایسے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہےکہ پہلے بھی صحابہ کرام اسی طرح کا فیصلہ کر چکے تھے چناں چہ حضرت عمرکے زمانے میں جب گیہوں آنے لگا تو انھوں نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا کہ گیہوں کا ایک مد دوسرے اجناس کے دو مدکے برابر ہے اور یہی فیصلہ حضرت عثمان نے بھی اپنے عہد خلافت میں کیا تھا۔حافظ ابن حجر نے کئی دوسرےصحابہ کی رائے بھی اسی کی موافقت میں نقل کی ہے۔
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدقۃ الفطر میں مقدار کے تعین کے لیےاصل جنس نہیں ہے، بلکہ مالیت ہے۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں ایک صاع کھجور، ایک صاع جویا ایک صاع کشمش وغیرہ جن چیزوں کا ذکر حدیث شریف میں ہے ان کی مالیت مساوی تھی اور اسی پر قیاس کرکے صدقۃ الفطر کو نقد کی شکل میں دیا جا سکتا ہے۔اسی پرقیاس کر کے گیہوں سے صدقۃ الفطر کی مقداردیگر اجناس کے مقابلے میں نصف مقرر کی گئی تھی اور مقدار کا یہ تعین چاہے حضرت عمر کے دور میں ہوا ہو یا حضرت عثمان یا پھر امیرمعاویہ،بہر حال صحابہ کرام کا اجتہاد تھا اوروجہ اجتہادگیہوں کا ان اجناس کے مقابلے میں مہنگا ہو نا تھا۔اس پوری گفتگو کو درج ذیل تین نکات میں ملخص کیا جاسکتاہے۔
۱۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اغلبا گوہجں سے صدقہ فطر نہیں نکالا گیا۔بلکہ اس وقت جو کھانے مدینہ میں معروف تھے ان کا ہی ذکر حدیث میں ہے اوران سب سے ایک صاع نکالا گیا۔
۲۔ صحابہ کرام کے دور میں گیہوں کا چلن عام ہوا تو حضرت عمریا حضرت عثمان یا امیر معاویہ کے دور میں گیہوں کو بھی صدقہ فطر میں شامل کیا گیا اور مقدار کا تعین قیمت کی بنیاد پر کیا گیا۔
۳۔نصف صاع گیہوں نکالنا ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔صحابہ کرام نے گیہوں کی قیمت کو وجہ اجتہاد بناکر گیہوں سے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع مقرر کی۔

موجودہ صورت حال

جیسا کہ اوپر کی گفتگو سے واضح ہوا کہ گیہوں سےصدقہ فطر کی مقدار کا تعین قیمت کے اعتبار سے تھا۔اس زمانے میں ایک صاع جو نصف صاع گیہوں کے مساوی مانا جاتا تھا۔مقدار کا یہ تعین ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔
موجودہ زمانے میں صورت حال میں بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ جو اور گیہوں کی قیمت تقریباً مساوی ہو گئی ہے۔بلکہ عام طور پر گیہوں سستا ملتا ہے۔آج کل دکانیں بند ہیں انٹرنیٹ پر دیکھا کہ گیہوں اٹھارہ روپے کلو اور جو اٹھارہ روپے پچیس پیسے کلو تھا۔ دونوں کی قیمتوں میں الگ الگ سائٹ پر فرق کے باوجود دونوں کی تقابلی مالیت تقریباً یکساں ہے۔
جو اور گیہوں کی قیمتوں کا یہ تفاوت بہت پرانا نہیں ہے بلکہ یہ تبدیلی گزشتہ دو عشروں میں آئی ہے۔اس سے پہلے گیہوں مہنگا تھا۔اس لیے کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوا۔
لیکن آج کے دور میں گیہوں کی طرح جو بھی مہنگا ہو گیاہے اوردونوں کی قیمت مساوی ہو گئی ہے تو عہد صحابہ کا اجتہادی مسئلہ جس کی بنیاد دونوں اجناس کی قیمتوں کے فرق پر تھی اسی طرح رہے گایا اس میں کچھ تبدیلی آئے گی۔اصلا یہ ایک سوال ہی اس کا مقصد اس مسئلے کو سمجھنا ہے اگرمسئلہ ایسا ہے جیسا کہ اس مضمون میں ذکر کیا گیا تو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
اس سال بھی صدقۃ الفطر کی جومقدار بیان کی گئی ہے۔ اس میں جو میں سے ایک صاع یعنی تین کلوپانسو گرام اور گیہوں میں سے نصف صاع یعنی ایک کلو سات سو پچاس گرام اناج یا اس کی قیمت طے کی گئی ہے۔
موجودہ دور میں اس پر نظر ثانی ہو نی چاہیے اور صحابہ کرام کے طرزعمل پر جب دونوں اجناس یعنی گیہوں اور جوکی قیمت مساوی ہو گئی ہے تو دونوں سے مساوی مقدارکو ہی صدقۃ الفطر کی مقدقر تسلیم کیا جانا چاہیے۔یا پھر کم سے کم مقدار کے لیے جو کو ہی معیار بنالیں اور تین کلو پانسو گرام جو یا اس کی قیمت کو صدقہ فطر کی مقدار قرار دیں۔اگر گیہوں سے نکالیں تو مذکورہ جو کی مقدار کی قیمت ہی مقرر کرلیں۔لیکن موجودہ دور میں نصف صاع گیہوں کی مقدار پر نظر ثانی کر نی چاہیے اسی میں فقرائ کا بھی زیادہ فائدہ ہے۔
اتفاق یہ ہے کہ آج کے دور میں نہ صرف جو کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس دور کی تمام غذائی اجناس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔کھجور کی قیمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں کشمش بھی دو سو روپیے فی کلو کے پار ہی رہتا ہے ۔پنیر بھی دوسو روپیے کے ارد گرد رہتا ہے۔ اس لیےمعاشرے کے اصحاب وسعت لوگوں کے لیے پنیر،کشمش اور کھجورسے صدقہ فطر نکالنے کا موقع ہے۔وہ معاشرے کے فقرائ کی رعایت کرتے ہوئے ان اجناس سے صدقۃ الفطرنکالیں۔یہ گنجائش عام آدمی کے لیے ہی رہنے دیں کہ وہ جو یا گیہوں سے صدقہ نکالے۔ لیکن کم از کم یہ کوشش ضرورکرے کہ تین کلو پانسو گرام نکالے تاکہ پورا اطمنان رہے کہ اس نے مقدار پوری ادا کردی۔ اگر زیادہ بھی ہوگا تو ثواب ملے گا، ضائع نہیں جائے گا اور جو شخص ۵۰ روپیے دے سکتا ہے اس کے لیے سو روپیے دینا بھی مشکل نہیں ہوگا۔
لاک ڈاؤن کے اس دور میں ضرورت مندوں کی ضروریات کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں۔ صدقۃ الفطردراصل لینے والے کی تو امداد ہے لیکن دینے والے کے لیے اللہ کاانعام ہے کہ اس طرح اس کے روزے میں جو کمیاں رہ گئیں تھیں وہ دور ہو جائیں گی۔اس انعام کو اسی جذبے سے لینا چاہیے۔ رب العالمیں دلوں کا حال سے واقف ہے ہم اس کو انعام کی طرح لیں گے تو وہ انعام کی طرح عطا کرے گا اور اگر ہم اس کو صرف ایک ذمہ داری کی طرح لیں گے تو وہ بھی ذمہ داری ادا کرادے گا۔
(پس نوشت:ترمذی شریف میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت جس میں امیر معاویہ کے ذریعے گیہو ں سے صدقۃ الفطر کی مقدار نصف صاع مقرر کرنے کا تذکرہ ہے اس کے بعد ایک روایت میں ہے کہ عمرو بن شعیب نے اپنے والد اور ان کے والد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینے میں منادی کرائی تھی کہ جس میں یہ اعلان تھا کہ گیہوں سے نصف صاع صدقۃ الفطر دیاجائے۔ابو داؤد میں بھی اسی طرح کی راوایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے لیکن اس میں نصف صاع کی نسبت واضح طور پر رسول اللہ کے زمانے کی طرف نہیں کی گئی ہے اور ابوداؤد میں کئی دوسری روایات ہیں جن سے اندازہ ہو تا ہے کہ حدیث میں گیہوں کو تذکرے کو محدثین نے راوی کے وہم سے تعبیر کیا ہے۔سنن نسائی میں بھی حضرت ابن عباس کی روایت موجود ہے اور اس میں الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف صاع گیہوں مقرر کیا۔لیکن امام نسائی نے اسی روایت کو اپنی دوسری کتاب السنن الکبری میں تین اسناد سے نقل کیا ہے ایک میں گیہوں سے نصف صاع کی بات ہے، ایک میں گیہوں سے بھی ایک صاع کی بات ہے اور ایک سند میں گیہوں کا ذکر ہی نہیں ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ ان تمام کتابوں میں بہت واضح طور پر وہ روایات بھی آئی ہیں جن میں گیہوں سے صدقہ فطر کی مقدار صحابہ کرام کے ذریعے مقرر ہونے کا ذکر ہے۔جو اوپر بخاری و مسلم کے حوالے سے بیان کی جا چکی ہیں۔اس لیے زیادہ مستند روایات سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ نصف صاع گیہوں کی تحدید صحابہ کرام نے کی تھی اور قیمت کو بنیاد بنا کر کی تھی۔ جیسا کہ احادیث میں واضح طور پر ذکر ہے۔صدقۃ الفطر کے حوالے سے یہ نکتہ در اصل سیرت طیبہ کے متبحر عالم اور عالم اسلام کی ایک نمایاں علمی شخصیت پروفیس یسین مظہر صدیقی کا پیش کردہ ہے۔راقم الحروف نے اسی نکتے ان الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*