جی ڈی پی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ’گبر سنگھ ٹیکس‘ ہے:راہل گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جی ڈی پی میں تیزی سے کمی پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ جی ڈی پی میں تاریخی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ مودی حکومت کا گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) ہے۔ انھوں نے معیشت کو لے کر تیسرا ویڈیو جاری کیاہے۔ ویڈیو میں راہل گاندھی نے کہا کہ جی ایس ٹی غریبوں پر حملہ ہے۔ چھوٹے دکاندارپر، چھوٹے اور درمیانہ کاروباری افرادپر، کسانوں اور مزدوروں پر حملہ ہے۔راہل گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ جی ڈی پی میں تاریخی گراوٹ کی ایک اور بڑی وجہ ہے مودی سرکار کاگبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی)۔ اس نے ریاستوں کے لاکھوں چھوٹے کاروباری، کروڑوں ملازمین اور نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کردیا ہے۔ جی ایس ٹی کا مطلب معاشی خاتمہ ہے۔ کانگریس کے سابق صدر نے ویڈیو میں کہاکہ جی ایس ٹی یو پی اے کا آئیڈیا تھا۔ ایک ٹیکس، کم سے کم ٹیکس، سادہ اور آسان ٹیکس۔ این ڈی اے کا جی ایس ٹی بالکل مختلف ہے۔ چار الگ الگ ٹیکس 28 فیصد تک ٹیکس بڑے پیچیدہ ہیں، سمجھنے میں بہت مشکل ٹیکس۔ جو لوگ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرتے ہیں وہ اس ٹیکس کو ادا نہیں کرسکتے ، مگر جوبڑی کمپنیاں ہیں وہ اس کو آسانی سے بھر سکتی ہیں۔ 5، 10 یا 15 اکاؤنٹنٹ لگا سکتی ہیں۔گاندھی نے کہاکہ یہ چار الگ الگ ریٹ کیوں ہیں؟ یہ چار الگ الگ ریٹ اس لیے ہیں کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ جس کی رسائی ہو وہ آسانی سے جی ایس ٹی کو تبدیل کرسکے اور جس کی رسائی نہ ہو وہ جی ایس ٹی کے بارے میں کچھ نہ کرسکے ۔ اس معاملے میں رسائی ہندوستان کے سب سے بڑے 15-20 صنعت کاروں کی ہے۔آج ہندوستان کی حکومت ریاستوں کو جی ایس ٹی کی رقم دینے میں ناکام ہے۔ ریاستی سرکاریں ملازمین اوراساتذہ کو رقم دینے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جی ایس ٹی بالکل ناکام ہےاور یہ صرف ناکام نہیں ، یہ غریب، چھوٹے اور درمیانہ کاروباریوں پر حملہ بھی ہے۔