گیان واپی مسجد کا قضیہ: بنارس سول کورٹ نے کیا کہا؟ ـ ایم ودود ساجد

 

بنارس کی سول کورٹ نے کاشی وشو ناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کے احاطہ میں محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعہ سروے کا جو حکم دیا ہے اس کی تفصیل جاننے سے پہلے ان دو پہلوؤں کا جاننا ضروری ہے کہ:

(1) الہ آباد ہائی کورٹ نے 1991میں دائر اس سلسلہ کی رٹ کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور

(2) عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون 1991 کے ساتھ اگر سی پی سی کی دفعہ 9 کو پڑھا جائے تو اس کی رو سے سول کورٹ کو اس طرح کی پٹیشن پر فیصلہ کرنے کا اختیارہی نہیں ہے۔

جیسا کہ احباب کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ آج بنارس کی سول کورٹ نے ایک پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک پانچ رکنی (ماہرین کی) کمیٹی بناکر ان دونوں احاطوں کا تفصیلی سروے کرائیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے کیا یہاں کوئی اور عبادت گاہ تھی‘یا مسجد کو کسی اور عبادت گاہ کے اوپر بنایا گیا‘یا کسی اور عبادت گاہ کا کچھ حصہ توڑ کر اس پر مسجد بنائی گئی یاکسی اور عبادت گاہ میں ہلکی پھلکی تبدیلی کرکے مسجد بنادی گئی۔

یہ پٹیشن ’سویمبھو جیوتر لنگا بھگوان وشیشور‘ کیلئے ایک مقامی وکیل وجے شنکر رستوگی نے دائر کی تھی۔اس نے دعوی کیا تھا کہ گیان واپی مسجد کاشی وشو ناتھ مندر کے ملبہ پر تعمیر کی گئی تھی۔اس نے اس ’مندر‘کو واگزار کرکے اس کا قبضہ ہندؤں کو سونپنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سلسلہ میں یہ جاننا ضروری ہے کہ عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو سروے کرنے کے حکم کے ساتھ مزید احتیاطی اقدامات کیلئے کیا ہدایات دی ہیں۔

عدالت نے کہا:

1۔ اے ایس آئی (محکمہ آثار قدیمہ) کے ڈائریکٹر جنرل اس پورے احاطہ کاجامع ’جسمانی‘ سروے کریں گے۔

2۔ محکمہ کے سروے کا بنیادی مقصد یہ پتہ لگانا ہوگا کہ متنازعہ مقام پرموجود مذہبی عبادت گاہ کسی اور عبادت گاہ کے اوپر ’مڑھی گئی‘ ہے یا اس میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے یا کوئی اضافہ کیا گیا ہے یا اسے توڑ پھوڑ کر بنائی گئی ہے۔

3۔ کمیٹی یہ بھی پتہ لگائے گی کہ متنازعہ مقام پر موجود مسجد کی تعمیر سے پہلے کیا یہاں کبھی کوئی مندرتھا جسے توڑ کر یہ مسجد بنائی گئی تھی؟

4۔ اگر ہاں تو اس مندر کی تعمیر کا زمانہ‘ اس کا حجم‘ فن تعمیر‘ ڈیزائن یا اس کا طرز کیا تھا اور یہ بھی کہ یہ مندر کس ’بھگوان‘ یا بھگوانوں کے نام سے موسوم تھا۔

5۔ اس مقصد کیلئے ڈائریکٹر جنرل اے ایس آئی‘علم آثار قدیمہ کے پانچ ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائیں گے اور جس میں ترجیحی بنیادوں پر دو ممبران اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لئے جائیں گے۔

6۔ یہ کمیٹی متنازعہ مقام پر موجود دونوں عبادت گاہوں کے احاطہ کے ہر حصہ میں داخل ہوسکے گی اوراس کا مکمل سروے کرے گی اور مدعیان اور دفاعی فریق کے دعووں کی تائید کرنے والے تمام نوادرات کو محفوظ رکھے گی۔

7۔ ہر بار سروے کے لئے احاطہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ کمیٹی متعلقہ فریقوں کو نوٹس دے گی تاکہ وہ یا ان کے وکلاء بھی موقع پر موجود رہیں اور ان کے سامنے ہی سروے کا کام کیا جائے۔

8۔ سروے کے وقت کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مسلم فریق کو نماز ادا کرنے سے نہ روکا جائے اور انہیں نماز ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔

9۔ اور اگرکسی حصہ کے سروے کے دوران یہ ممکن نہ ہو کہ مسلم فریق وہاں نمازادا کرسکے تو یہ کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مسجد کے ہی احاطہ کے اندر دوسری جگہ نماز ادا کرنے کیلئے فراہم کرے۔

10۔ سروے کا یہ کام صبح 9 بجے سے شام 5 بجے کے دوران ہی انجام دیا جاسکے گا۔

11۔ کمیٹی متنازعہ مقام کے محل وقوع کے نقشہ کے ساتھ ایک جامع دستاویز تیا رکرے گی۔

12۔ کمیٹی سروے کے کام کاج کی فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کا مکمل انتظام کرے گی اور اسے ’کارروائی‘ کے ریکارڈ کے طورپر محفوظ رکھا جائے گا۔

13۔ کمیٹی کو اس مسئلہ کی حساسیت کے تئیں سروے کی مدت کے دوران ہر وقت بیدار رہنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سروے کے دوران ہندو یا مسلم فریق کے ساتھ کوئی جانبدارانہ یا ترجیحی رویہ نہ اختیار کیا جائے بلکہ دونوں کو برابرکا احترام دیا جائے ۔

14۔ سروے سے پہلے متنازعہ مقام پر موجود دونوں عبادت گاہوں کا اچھی طرح جائزہ لے کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سروے کے دوران عوام الناس یا میڈیا وہاں موجود نہ ہو۔

15۔ اے ایس آئی کے ڈائریکٹر کمیٹی کی نگرانی کیلئے ایک ایسی ممتاز اور باوقار شخصیت کا انتخاب کریں گے جو علم آثار قدیمہ کی ماہرہو اور جس کا سب احترام کرتے ہوں ۔