گاؤوں کو کووڈ سے بچانا ہے ضروری ۔ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک میں کورونا کا قہر اب بھی جاری ہے۔ لاکھوں لوگوں کی جان جا چکی ہے، کروڑوں متاثر ہیں۔ شہروں کے بعد دیہی علاقوں میں وبا کے پھیلنے سے دہشت کا ماحول ہے۔ اترپردیش میں پنچایت چناؤ، اتراکھنڈ میں کمبھ اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات نے حالات کو بے قابو کر دیا۔ لوگ اسپتال سے فٹ پاتھ تک آکسیجن اور دواؤں کی کمی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرے۔ مریضوں کو اسپتال میں اور مرنے والوں کو شمشان و قبرستان میں جگہ نہیں ملی۔ آخری رسومات کےلیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ بہت سے تو اپنے عزیزوں کی میت کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ گئے۔ کئی اپنے بزرگوں کو کورونا کے ڈر سے سڑکوں پر چھوڑ گئے۔ انسانی جانوں کی ایسی بے حرمتی ملک نے کبھی نہیں دیکھی۔ دیہی بھارت کی غربت، گندگی، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور کورونا سے موت کی دردناک صورتحال گنگا میں بہتی اور اس کے کنارے ریت میں دفن لاشیں بیان کرتی ہیں۔ نظام صحت کی ناکامی، حکومت کی نا اہلی، کاہلی اور حکمرانوں کی بے حسی کو دیکھ کر عدلیہ کو مجبوراً مداخلت کر ہدایات جاری کرنی پڑیں۔ بھارت کی صورتحال کو دیکھ کر دنیا کو عوام کی لاچاری پر اتنا ترس آیا کہ کئی ممالک مدد کےلیے آگے آ گئے۔ انہوں نے آکسیجن اور دواؤں کا بڑا ذخیرہ بھارت بھیجا لیکن یہ غیر ملکی مدد حکومت کی سستی کی وجہ سے بروقت عوام تک نہیں پہنچ سکی۔
کتنا عجیب ہے کہ سرخیوں میں رہنے والے سیاست داں کورونا کی دوسری لہر شروع ہوتے ہی غائب ہو گئے۔ پورے ملک میں ہاہاکار مچا تھا لیکن ان کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ کورونا کے معاملوں میں کمی کے ساتھ ہی پھروہ دکھائی دینے لگے ہیں، وہ بھی ورچول روپ میں۔ وزیراعظم نریندرمودی ملک کے شہریوں کو مطمئن کرتے دکھائی دییے۔ پہلی مرتبہ نظر آئے تو کہا’چنوتی بڑی ہے لیکن ہمارے حوصلے اس سے بھی بڑے ہیں‘۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے وہ جذباتی ہو گئے۔ جبکہ عوام اس وقت آنسو نہیں، کورونا سے بچاؤ کے اقدامات، آکسیجن، دوائیں، ویکسین، اسپتال چاہتے ہیں۔ کانگریس کے بی وی سری نواس اور دپیندر ہڈا کے ذریعہ دہلی سے لے کر یوپی تک کورونا متاثرین کی مدد اور مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار یومیہ پہنچنے پر بی جے پی گھبرا گئی۔ اس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کےلیے ٹول کٹ تلاش کر لی۔ کووڈ سے نبٹنے کے طور طریقوں پر توجہ دینے کے بجائے وہ کانگریس کے ذریعہ حکومت اور نریندرمودی کو بدنام کرنے کا راگ الاپنے لگی۔ ایسا ہی کچھ وہ کسان آندولن کے دوران بھی کر چکی تھی۔ کووڈ کی دوسری لہر کی تباہی کو دنیا بھر کے میڈیا نے کور کیا ہے۔ اس نے سیدھے طور پر وبا کے بے قابو ہونے کےلئے نریندرمودی اور ان کی حکومت کی لاپروائی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
ادھر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ اپنے افسروں کے بیچ چلتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں اب حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ ان کے افسران گھر گھر جا کر جانچ کر رہے ہیں۔ کورونا کی علامت نظر آتے ہی مریض کو فوراً اسپتال لے جانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ ان کا یہ ویڈیو کئی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی دیا۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ اترپردیش حکومت کے ذریعہ دیا گیا اشتہار ہے۔ یعنی ڈھکوسلہ سراسر جھوٹ۔ بقول سینئر صحافی تولین سنگھ اگر ایسا ہوتا تو گنگا کے کنارے دور تک پھیلی وسیع چادر کی طرح بچھی ہوئی ریتلی قبریں دکھائی نہیں دیتیں۔ صحافی گاؤں گاؤں گھوم کر جو خبریں دکھا رہے ہیں، انہیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ مقامی لوگ صحافیوں کو بتا رہے ہیں کہ کوئی دو ہفتوں سے دفنانے کےلیے دو سو کے قریب لاشیں لائی جا رہی ہیں۔ گنگا میں بہانے پر پابندی لگ گئی ہے، جو لوگ اتنے غریب ہیں کہ آخری رسومات ادا نہیں کر سکتے، وہ لاشوں کو دفنانے پر مجبور ہیں۔
اسی طرح نامہ نگار جب گاؤں میں گھر گھر جا کر لوگوں سے بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دوسرے گھر میں کوئی بیمار ہے یا کسی کی موت ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی دکھایا گیا کہ گاؤں میں موجود پرائمری ہیلتھ سینٹروں پر تالے لگے ہیں یا پھر ان میں مویشی باندھے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ دہائیوں سے ان میں نہ ڈاکٹر ہے نہ ہی علاج ہوا ہے۔ اخباری خبر کے مطابق اترپردیش کے ضلع فتح پور کے گاؤں میں 100 لوگوں کی بخار سے موت ہوئی ہے۔ للولی میں 10 اپریل کو بخار اور سانس پھولنے سے پہلی موت ہوئی تھی۔ بی بی سی کی رپورٹ اور بھی چونکانے والی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیرن نے دیہی اترپردیش کا دورہ کرکے ان اساتذہ کے خاندانوں سے باتیں کیں جو پنچایت چناؤ میں تعیناتی کے دوران کووڈ سے متاثر ہو کر موت کا شکار ہوئے ہیں۔ ایسے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار بتائی جاتی ہے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ کو کیا اس کی خبر نہیں ہے یا پھر انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔
بہار کا حال بھی اترپردیش جیسا ہی ہے۔ ہندی روزنامہ بھاسکر کی خبر کے مطابق آرا ضلع کے کلہڑیا گاؤں میں 95 فیصد آبادی میں کورونا کی علامات موجود ہیں۔ گاؤں میں نہ جانچ ہوئی نہ ہی کسی کو ٹیکہ لگا ہے۔ جبکہ اسمبلی انتخاب کے وقت کورونا کا ٹیکہ مفت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہاں اب تک سو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں خاتون ڈاکٹر دن میں سوتی ہوئی ملی، اسے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔ دیہی بھارت میں صحت نظام کمزور اور طبی سہولیات کی دستیابی محدود ہے۔ پھر بھی ملک کی 65 فیصد سے زیادہ آبادی گاؤں میں رہتی ہے۔ کئی علاقوں میں پرائمری ہیلتھ سینٹر گاؤں سے پچاس کلومیٹر دور ہے۔ ایسے میں گاؤں کےلیے کورونا سے لڑنا مشکل ہو رہا ہے۔ گاؤں کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو وہاں کورونا سے جانی و مالی نقصان کا زیادہ خطرہ ہے۔ حکومت نے دیہی علاقوں میں کووڈ کی روک تھام کےلیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں لیکن یہ ہدایات ایک سال قبل جاری ہونی چاہیے تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدی بیماری سے لڑنے میں سرکاری نظام کتنا ڈھیلا ہے۔
دیہی علاقوں کو کورونا سے بچانے کےلیے گاؤں کی پنچایتوں کو فعال بناکر بیماروں کےلیے آئی سو لیشن سینٹر بنانے کی ضرورت ہے، جانچ اور ٹیکے لگانے میں ان کی مدد لینی چاہیے۔ جن مریضوں کو اعلیٰ سطح کی دیکھ بھال کی ضرورت ہو انہیں وقت پر ریفر کیا جائے۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر اور ضلع کووڈ اسپتال کے بیچ کی کڑی مضبوط ہو۔ آکسیجن، دواؤں کی دستیابی اور ایمبولینس سروس کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر کے گاؤں ہیورے بازار کے سرپنچ پوپٹ راؤ پوار کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے گاؤں کو کورونا سے نجات دلانے کےلیے جو قدم اٹھائے، ان پر دوسرے گاؤوں کے لوگ بھی عمل کر سکتے ہیں۔ احمد نگر کے ضلع کلکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پوپٹ راؤ کو 1300 گاؤوں کے پردھانوں کو مخاطب کرنے اور ان کی مدد کرنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر پوپٹ راؤ نے بتایاکہ مارچ میں گاؤں کے ایک شخص میں کووڈ کی علامت دکھائی دی تو انہیں فوراً پاس کے اسکول میں کورنٹین کیا گیا۔ ان کے رابطہ میں جو لوگ آئے تھے، انہیں بھی الگ الگ کر دیا گیا۔ ان سبھی کا آر ٹی – پی سی آر ٹیسٹ کرایا گیا۔ مارچ سے اپریل کے بیچ گاؤں میں کووڈ کے 52 مریض ہو گئے تھے۔ ان سب کا ٹیسٹ کراکر علاج کرایا گیا۔ چار کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی، انہیں اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔ بد قسمتی سے ایک کی جان چلی گئی لیکن پورا گاؤں محفوظ ہو گیا۔ یہاں کے لوگ صحت کارکنان کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ ماسک لگانے، سینی ٹائزر کا استعمال کرنے اور جسمانی دوری بنانے کا خیال رکھتے ہیں۔
بھاجپا حکومت اس طرح کے تجربات کو عام کرنے، پرانی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے کمیوں کو دور کرنے اور نظام صحت کو مضبوط بنانے پر دھیان دینے کے بجائے مودی جی کی شبہ چمکانے، مثبتیت (پازیٹوٹی) کا گیت گانے اور جھوٹی تشہیر کے ذریعہ عوام کا دھیان بھٹکانے کی فکرمیں لگی ہے۔ اس کے پاس آٹھ ماہ بعد اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کی منصوبہ بندی کرنے کا وقت ہے، لیکن ویکسین کی کمی کو دور کرنے اور عوام کی تکلیفوں پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لیے بی جے پی کے پروپیگنڈہ کو اس بار کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عوام صرف ایک چیز کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں وہ ہے موت کا بڑھتا ہوا گراف، ویکسین کی کمی، اسپتالوں کی بد حالی، حکومت کی بے حسی اور ضرورت کے وقت عوامی نمائندوں کی روپوشی۔ اس لیے وقت رہتے گاؤں کو کورونا سے بچانے کی طرف پورا دھیان دیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وبا گاؤں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اگر ایسا ہوا تو اس پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)