گنگا سے زمزم تک: ڈاکٹر ضیاء الرحمن کا روحانی و علمی سفر-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

گزشتہ چند ایام میں جن بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کی وفات ہوئی ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ ہیں ـ ان کا تعلق یوں تو ہندوستان سے تھا ، لیکن ان کی پوری زندگی سعودی عرب میں گزری ـ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک ‘نشانی’ تھے کہ ان کی پیدائش ایک ہندو خاندان میں ہوئی ، نوجوانی میں وہ ہدایت سے بہرہ ور ہوئے ، آزمائش کے مراحل سے گزرتے ہوئے جامعہ دار السلام عمرآباد پہنچے ، وہاں سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہوگیا ، جہاں سے انھوں نے گریجویشن ، پھر جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ سے پوسٹ گریجویشن اور جامعہ ازہر مصر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں ـ رابطہ عالم اسلامی میں مختلف مناصب پر رہنے کے بعد جامعہ اسلامیہ کے شعبۂ حدیث میں انھوں نے طویل خدمات انجام دیں ، مسجد نبوی میں درس دینے کی بھی انہیں سعادت حاصل ہوئی ، اس کے علاوہ قرآنیات اور علوم حدیث میں بھی تصنیف و تالیف کا زرّیں موقع حاصل ہواـ انہیں ان کی کتاب ‘الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل’ (19 جلدیں) سے عالمی شہرت حاصل ہوئی ، جس میں 16 ہزار سے زائد صحیح حدیثیں جمع کی گئی ہیں ـ

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کی وفات 30 جولائی 2020 کو ہوئی تھی ـ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جناب محمد خالد اعظمی کو کہ انھوں نے ان کی وفات پر رسائل و جرائد اور سوشل میڈیا میں منظر عام پر آنے والی تحریروں کو بہت مختصر عرصے میں جمع کرکے ‘گنگا سے زمزم تک کا روحانی و علمی سفر : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی’ کے نام سے ایک کتاب اپنے اشاعتی ادارہ المنار پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی سے شائع کردی ہےـ اس کتاب میں انھوں نے ان تحریروں کو بھی شامل کرلیا ہے جو ضیاء الرحمٰن صاحب کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے انٹرویوز یا مضامین کی شکل میں شائع ہوئی تھیں ـ یہ کتاب 6 پیغامات ، 23 مضامین اور دو کتابوں پر ضیاء الرحمٰن صاحب کے مقدمات پر مشتمل ہےـ اس کتاب پر مقدمہ مولانا سید جلال الدین عمری ، صدر شریعہ کونسل و سابق امیر جماعت اسلامی ہند نے لکھا ہے ، جس میں انھوں نے اختصار کے ساتھ مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور ان کی خدمات نمایاں کی ہیں ـ اس طرح اس کتاب سے مرحوم کی حیات اور علمی و دینی خدمات پر بھرپور روشنی پڑتی ہےـ

آج (7 ستمبر 2020) بعد نماز عصر مرکز جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں اس کتاب کی مختصر تقریبِ اجرا منعقد ہوئی ، جس میں خاص طور سے جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند شریک ہوئےـ
مولانا سلفی نے فرمایا کہ حدیث میں ہے :” ہر بچہ اپنی فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ، اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ” ٹھیک یہی معاملہ ہمارے ممدوح ڈاکٹر ضیاء الرحمن کا تھاـ فطرت کی طرف واپسی کے نتیجے میں انھیں قبولِ اسلام کی توفیق ملی ـ مولانا نے مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی حیات و خدمات پر یہ پہلی کتاب ہے جو منظرِ عام پر آئی ہےـ

جناب سید سعادت اللہ حسینی نے اپنی صدارتی گفتگو میں فرمایا کہ مجھے تقریباً 5 برس قبل ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھاـ اس وقت وہ بہت انہماک کے ساتھ الجامع الکامل کی ترتیب میں مصروف تھےـ یہ ان کا بہت غیر معمولی کارنامہ ہے کہ جس طرح قرآن ایک کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اسی طرح ایک ایسی کتاب منظرِ عام پر آگئی ہے جس میں تمام صحیح احادیث جمع کردی گئی ہیں ـ جناب حسینی نے فرمایا کہ ضیاء الرحمٰن اعظمی کی شخصیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم برادرانِ وطن میں اسلام کی تبلیغ کے لیے مزید سرگرم ہوں ، کہ معلوم نہیں ان میں کیسے کیسے ہیرے موجود ہوں ، جو ہماری کوششوں سے دامنِ اسلام سے وابستہ ہوجائیں ؟!

اس مختصر تقریبِ اجرا میں جماعت اسلامی ہند کے ذمے داران : جناب نصرت علی چیرمین مرکزی تعلیمی بورڈ ، اعجاز احمد اسلم چیف ایڈیٹر انگریزی ہفت روزہ ریڈینس ، جناب محی الدین شاکر سکریٹری شعبۂ منصوبہ بندی ، جناب محمد احمد سکریٹری شعبۂ خدمت خلق ، جناب شفیع مدنی سکریٹری فوکسڈ زونس ، ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی اسسٹنٹ سکریٹری امور خارجہ ، مولانا انعام اللہ فلاحی معاون شعبۂ تعلیم ، جناب انعام الرحمٰن خاں اسسٹنٹ سکریٹری مرکزی تعلیمی بورڈ ، جناب محمد نیّر سابق منیجر مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز اور دیگر حضرات شریک تھےـ پروگرام کی کارروائی جناب محمد اسعد فلاحی معاون شعبۂ اسلامی معاشرہ نے بہت خوب صورتی سے چلائی ـ

اس کتاب کے صفحات 216 اور قیمت 180 روپے ہےـ اسے حاصل کرنے کے لیے رابطہ کے ذرائع درج ذیل ہیں :
پتہ : المنار پبلشنگ ہاؤس ، N_5B ، ابو الفضل انکلیو ، جامعہ نگر ، نئی دہلی
Email:Khalid.azmi64@ gmail.com
WhatsApp No.+965_97194936

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*