گاندھی یاگوڈسے؟دونوں پرصلح نہیں ہوسکتی،ہندومہاسبھالیڈرکی پارٹی میں شمولیت پرکانگریسی لیڈرنے سخت اعتراض کیا

بھوپال:مدھیہ پردیش کانگریس کے سابق صدر اور سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے نہ صرف ہندو مہاسبھا کے کونسلر بابو لال چورسیا پرکانگریس میں شامل ہونے پر اعتراض کیا ہے بلکہ ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ کے خلاف بھی بگل بجادیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گاندھی اور گوڈسے کے نظریہ سے کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔یادو نے کہا کہ اس ملک کو نظریہ گاندھی نے چلایا ہے اور گاندھی کے نظریہ کے ذریعہ ہی حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں اور بنیں گی۔ سابق مرکزی وزیرنے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں دو نظریے ہیں۔ گاندھی اور گوڈسے۔ میں گوڈسے کے مندر کی تعمیر اور پھر گاندھی کے نظریے کی پوجا کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں۔ارون یادو نے کہاہے کہ وہ مہاتما گاندھی اور گاندھی نظریہ کے قاتل کے خلاف خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ میں سڑکوں پر لڑتا ہوں ، آر آر ایس آئیڈیالوجی پر نفع اور نقصان کی فکر کیے بغیر زبانی جنگ نہیں۔ میری آواز کانگریس اور گاندھی نظریہ سے سرشار کانگریس کے ایک حقیقی کارکن کی آواز ہے۔ یونین آفس جس کاکبھی ترنگانہیں لگا، میں نے جاکر اندور میں سنگھ کے دفتر (ارچنا) پر کارکنوں کے ساتھ ترنگا لہرایا۔ملک کے تمام بڑے قائدین کا کہنا ہے کہ ملک کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے تھا۔ آج گوڈسے کی پوجا کرنے والے سب کے بارے میں کیوں خاموش ہیں کانگریس میں ان کا داخلہ کیاہے؟۔