غیر مسلم فنکاروں کا منظوم تذکرہ’نازبردارانِ اردو‘-حقانی القاسمی

پروفیسر عبد المنان طرزی کی کتاب ’’ناز بردارانِ اردو‘‘غیر مسلم شعرا و ادبا کا منظوم تذکرہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کمیونل ڈسکورس کی تردید، تنسیخ اور تغلیط ہے جس کے تحت اردو زبان کو ایک خاص مذہب سے مشخص کر دیا گیا اور مسلمانوں سے منسوب کرکے اس زبان پر فرقہ وارانہ سیاست بھی شروع کر دی گئی۔ اسے Alienزبان بھی قرار دیا گیا۔ اس میں عربی فارسی الفاظ اور تراکیب کی کثرت کا بھی الزام لگایا گیا۔ ناگری پرچارنی سبھا میں کہا گیا کہ:
’’اردو زبان میں فارسی، عربی لفظ ضرورت سے زیادہ ہیں۔ بھارت ورش میں اس چیز کی اب گنجائش نہیں۔‘‘
اردو کو غیر ملکی زبان ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ الہ آبادیونیورسٹی کے صدر شعبۂ ہندی دھریندر ورما نے کہا تھا کہ:’’اردو ہندوستان کی زبان نہیں۔‘‘ اور یہ بھی کہا گیا کہ اردو صرف یوپی پنجاب میں بولی جاتی ہے دوسرے صوبوں میں اس کا نام و نشان نہیں۔ان تمام ہفوات کا مسکت جواب پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی نے اپنی کتاب ’’ناگزیر قیل و قال‘‘ میں دیا۔اردو کو غیر ملکی قراردینے پر راشد بنارسی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
بہت سمجھے تھے ہم اس دور کی فرقہ پرستی کو
زباں بھی آج شیخ و برہمن ہے ہم نہیں سمجھے
اگر اردو پہ بھی الزام ہے باہر سے آنے کا
تو پھر ہندوستاں کس کا وطن ہے ہم نہیں سمجھے
اسی طرح کا جذباتی ردعمل جسٹس آنند نرائن ملا کے اس شعر کی صورت میں سامنے آیا:
لب مادر نے مُلّا لوریاں جس میں سنائی تھیں
وہ دن آیا ہے اب اُس کو بھی غیروں کی زباں سمجھیں
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسی زبان جس کی پیدائش ، پرورش، پرداخت ہندوستان میں تمام طبقات نے مل کر کی وہ کیسے غیر ملکی قرار دی جا سکتی ہے۔پروفیسر مرلی منوہر جوشی نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ:
’’اردو مسلمانوں کی نہیں ہندوستان کی زبان ہے۔ اردو زبان تمام مذاہب کے ماننے والوں اور سبھی فرقوں کی زبان ہے۔ کوئی بھی زبان کسی خاص مذہبی فرقے کی نہیں ہو سکتی۔ اردو زبان ہندوستانی تہذیب اور اس کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔‘‘
یہ زبان جو کبھی ہندی، ہندوی اور ہندوستانی کہلاتی تھی اب اردو کے نام سے مشہور ہے۔ شاہجہانی عہد میں یہ اردوئے معلیٰ بھی کہلائی ۔ڈاکٹر جان گلکرسٹ اور گارساں دتاسی نے اس کے لیے ہندوستانی کا لفظ استعمال کیا اور مولانا سید سلیمان ندوی بھی اس زبان کو ہندوستانی کہنے پر مصر تھے۔ پرانی کتابوں میں بھی اسے ہندی یا ہندوستانی کہا گیا ہے ۔میر تقی میر کا شعر ہے:
نہ جانے لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں ہے یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
اور مصحفی نے کہا:
مصحفی فارسی کو طاق پہ رکھ
اب ہے اشعار ہندوی کا رواج
اردوکا نام بہت بعد میں دیاگیا ۔اب یہی اردو ایک زمانے میں رابطے کی زبان Link Languageتھی۔ برطانوی دور میں یہ انتظامی اور عدالتی زبان بھی تھی اور اسے بہت سی مراعات بھی حاصل تھیں۔ مگر اقتداری سیاست کے بجائے اس زبان کی جبلت میں تکثیریت اور تنوع ہے ۔اس زبان نے ہمیشہ سیکولر اور جمہوری اقدار کو حرز جاں بنائے رکھا اور مذہبی تشخصات کی تمام علامتوں سے اس کے جوہری عنصر کو محفوظ رکھا۔
یہ دراصل Pluricentricزبان ہے اور اس زبان کی ابتدا اور ارتقا میں کسی ایک طبقے یا قوم کا کردار نہیں ہے۔یہ ہندوستانی زبان جس طرح مسلمانوں کی ہے اسی طرح ہندوؤں ، سکھوں، عیسائیوںکی بھی ہے۔اس کی ہردلعزیزی اور مقبولیت میں ہندوستان کے سبھی اقوام کا حصہ ہے۔
پنڈت دتا تریہ کیفی کی ’خمسۂ کیفی‘ میں ہماری زبان کے عنوان سے ایک بہت پیاری سی نظم ہے:
اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہے
دنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہے
ایسی زباں میں وجہ شرف کی یہی ہے بات
اردو کو ہر زبان سے ہے ربط و التفات
فرقوں کے ربط و ضبط کا ہے اس سے انتظام
قومی یگانگی کا ہے قائم اسی سے کام
اردو بنی ہے مسلم و ہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کئے
بہناپا اس کا دوسری بھاشاؤں سے رہا
اس نے کسی کو غیر نہ سمجھا کبھی ذرا
اردو ہی دوستو وطنیت کی جان ہے
یہ یاد رکھو اس سے اخوت کی شان ہے
اردو کی ابتدائی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو تاریخی حقائق یہ بتائیں گے کہ یہ مسلمانوں کی زبان قطعی نہیں ہے ۔ ہند آریائی خاندان کی اس زبان کے آغاز و ارتقا کا سہرا صحیح معنوں میں ہندوئوں کے سر ہے جیسا کہ ڈاکٹر تارا چند نے لکھا ہے :
’’ مسلمانوں کی آمد کے وقت ہندئوں کی زبان کیا تھی ، اس اردو کی ابتدائی شکل جس کا نام ہندی،ہندوی تھا۔ اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو کے آغاز و ارتقا کا سہرا صحیح معنوں میں ہندئوں کے سر ہے۔ وہی اس کی پیدائش کے حقیقی ذمہ دار ہیں‘‘۔
تارا چند کے اس خیال کی تائید و توثیق اردو زبان و ادب پر لکھی ہوئی تاریخوں اور تذکروں سے بھی ہوتی ہے۔ ناظر کاکوروی نے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ :
’’اردو زبان کا جوا سب سے پہلے ہندوستان میں ہندوؤں نے ہی اپنے کاندھوں پر رکھا کیوں کہ جب 1027ء میں محمود نے پنجاب کو اپنی مملکت محروسہ میں شامل کیا تو لاہور کی ہندو رعایا نے اپنی کھڑی اور پنجابی زبان کی جگہ اس جدید زبان کو سرآنکھوں پر رکھا۔گریہم بیلی کے مطابق1027سے اردو زبان رائج ہوئی۔‘‘
سردار صاحب سردار جگت سنگھ ایڈیٹر رہنمائے تعلیم دہلی، کے اس اقتباس سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے:
’’اردو زبان کی جو بھی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو بلا مبالغہ اول سے آخر تک ہندو مصنفین، مولفین، ہندو ادیبوں اور انشاپردارزوں سے بھری پائیں گے ۔ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں معرکتہ الآرا کتابیں ہندوئوں نے اردو میں ایسی لکھیں کہ مسلمان ویسی نہیں لکھ سکے۔ مختلف اصناف سخن میں اردو کی جیسی بیش بہا خدمات ہندو ادیبوں نے انجام دیں کہ مسلما ن وہاں تک نہیں پہنچ سکے۔ ذرا بتایئے کہ آج مسلمانوں میں بڑے بڑے افسانہ نگار اور ناول نگار موجود ہیں مگر منشی پریم چند سے کون بڑھ سکا۔ مسلمان انشا پردازوں نے بڑے بڑے دل چسپ ناول لکھے لیکن رتن ناتھ سرشار کے ’فسانہ آزاد‘ کا کون مقابلہ کر سکا۔ اردو کی خدمت اور اشاعت کے لیے مسلمانوں نے بہت سے ماہوار رسالے جاری کیے مگر منشی دیا نارائن نگم کے رسالے زمانہ سے کون بازی لے جا سکا۔ اسلامی لٹریچر کی توسیع کے لیے مسلمانوں نے بڑے بڑے مطبع قائم کیے مگر مطبع نول کشور سے زیادہ کون مشہور ہوا۔ مسلمانوں نے بڑے بڑے اخبار نکالے مگر اخبار عالم اور اودھ اخبار سے زیادہ کسے دیرپاقبولیت حاصل ہوئی۔ جب لاہور سے ہندوؤں کے روزنامہ اخبار نکلتے تھے تو مسلمانوں کے اخبارات کے مقابلے میں کس کی تعداد اشاعت زیادہ ہوتی تھی۔ حقیقتاً واقعہ یہ ہے کہ ہندوؤں نے ہرگز یہ نہیں سمجھا کہ یہ خاص مسلمانوں کی زبان ہے بلکہ حق العین کے ساتھ انھوں نے یہی سمجھا کہ ہم دونوں کی ایک مشترکہ زبان ہے اور ہم دونوں کا فرض ہے کہ ہم اسے ترقی دیں۔ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے انھوں نے اردو کی ترقی و ترویج میں وہ کام کئے جو مسلمانوں سے نہ ہو سکے۔ جس وقت اردو شاعری کا ایک مبسوط مکمل اور مفصل تذکرہ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو لالہ سری رام نے خم خانہ جاوید کے نام سے لکھا کوئی مسلمان نہ لکھ سکا ۔ جب اردو لٹریچر کی تفصیلی تاریخ مرتب کرنے کا وقت آیا تو اسے رائے بہادر رام بابو سکسینہ نے انجام دیاکوئی مسلمان آگے نہ آیا۔ پس اس حقیقت کی موجودگی میں یہ بات کس طرح صحیح ثابت ہو سکتی ہے کہ اردو صرف مسلمانو ںکی زبان ہے اور اس لئے اسے ترک کر دینا چاہئے اور اسے دیش سے نکال دینا چاہئے۔ ‘‘
اسی خیال کو پنڈت امر لال نے یوں شعری صورت عطا کی ہے:
نقشِ تہذیب کا ہے عنوان اردو
آسمانوں سے اونچا ہے مقام اردو
یہ فقط امت اسلام کی میراث نہیں
کیفی اور کرشن بھی ہیں امامِ اردو
عبد المنان طرزی کی یہ کتاب اسی کیفی اور کرشن کی تلاش سے عبارت ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے573ان غیر مسلم تخلیق کاروں کا منظوم تذکرہ لکھا ہے جنھوں نے مختلف اصناف سخن میں اپنے کمالات کے نقوش مرتسم کیے ہیں ۔ان میں فکشن ، تاریخ اور تذکرہ نگار بھی ہیں، محقق ، مرتب ، مدیر، مونوگرافر ، مکتوب نگار اور مترجم بھی ہیں۔ ناقد اور نثار بھی ہیں۔شاعر ،صحافی،محاورہ نویس اور لغت نگار بھی ہیں اور یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ غیر مسلم فنکاروں نے صرف شعرو ادب نہیں بلکہ سائنسی ،تکنیکی، معلوماتی اور افادی ادب میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔اِن غیر مسلموں نے مختلف ادوار میں سائنسی علوم و معارف کے ترجمے کیے ہیں۔ جن میں دیپی پرشاد، رگھو ناتھ سہائے، آتما رائے، چندو لال، دیارام، مکن لال، تیلو رام، رائے منو لال، جگموہن لال، لالہ منو لال بہار، منشی روپ چند وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہاں تک کہ طامسن انجینئرنگ کالج رڑکی میں انجینئرنگ کی کتابیں بھی اردو میں ترجمہ کرنے والوں میں غیر مسلموں کے نام زیادہ ہیں۔ وہاں ے استعمال جرصقیل، رسالہ در باب پیمائش، مجموعہ سامان عمارت، قواعد حساب، متعلقہ فن انجینئرنگ، رسالہ درباب فن نجاری جیسے ترجمے غیر مسلموں کے کئے ہوئے ہیں۔ اس کی پوری تفصیل ڈاکٹر محمد شکیل خان کی کتاب ’’اردو میں سائنسی تکنیکی ادب‘‘ اور خواجہ حمید الدین شاہد کی ’’اردو میں سائنسی ادب‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔پرانے زمانے میں میٹریا میڈیکا اردو کے نام سے جو کتاب بہت مشہور تھی وہ ڈاکٹر مکند لال کی تحریر کردہ تھی۔
عبدالمنان طرزی کی ناز بردارانِ اردو یہ اپنی نوعیت کا پہلا منظوم تذکرہ ہے جس میں ریاض ہند میں اردو جیسے خوش رنگ پودے کو سینچنے والے غیر مسلموں کے جواہر پاروں اور ان کی خدمات کو خلوصِ دل سے خراج پیش کیا گیاِ ہے۔
یہ کتاب اس تسلسل کی ایک کڑی ہے جس میں تذکرہ آثار الشعرائے ہنود(دیوی پرشاد بشاش اجمیری )، موجِ گنگ تذکرہ شعرائے ہنود(بدھ پرکاش گپتا جوہر دیوبندی)، نغمۂ ناقوس (بدھ پرکاش جوہر دیوبندی)اردو کے نان مسلم شعرا و ادیب(ڈاکٹر جگدیش مہتہ درد)، ہندو شعراء (خواجہ عشرت لکھنوی) اردو کے ہندی ادیب (ناظر کاکوروی) اردو شاعری کے ارتقاء میں ہندو شعرا کا حصہ( پروفیسر گنپت سہائے سری واستو)، تذکرہ ہندو شعرا ئے بہار(فصیح الدین بلخی)، اردو کے مسیحی شعرا(ڈی اے ہریسن قربان)، اردو کے غیر مسلم ناول نگار( ڈاکٹر سعیدہ بیگم رضوی)، اردو شاعری میں بہار کے ہندو شعرا کا حصہ( ڈاکٹر اسرار احمد)، دور جدید کے چند ہندو شعرا( عبدالشکور ایم اے)، مرادآباد کے غیر مسلم شعراموسوم بہ تذکرہ زیب چمن(مرتب محمد آصف حسین)، تذکرہ غیر مسلم شعرائے بدایوں(شاداب ذکی بدایونی)، راجستھان میں اردو زبان و ادب کے غیر مسلم حضرات کی خدمات( ابوالفیض عثمانی)،غیر منقسم بہار میں اردو کے غیر مسلم شعرا اور ان کی خدمات(ڈاکٹر محمد محفوظ الحسن)، اردو کے غیر مسلم شعرا(ڈاکٹر اسلم آزاد) ، اردو کے غیر مسلم افسانہ نگار (دیپک بدکی)، جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار (نزہت پروین)، ہندو مرثیہ گو شعراء (اکبر حیدری کاشمیری)،اردو کے ہندو مثنوی نگار (عطا اللہ پالوی)، بنگالی ہندوئوں کی اردو خدمات(شانتی رنجن بھٹاچاریہ)،اردو ادب میں سکھوں کا حصہ(امام مرتضیٰ نقوی)، دستاویز دوحہ قطر کا خصوصی شمارہ اردو کے اہم غیر مسلم شعرا و ادبا کا سوانحی اشاریہ نمبر (عزیر بنیل)وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ ان ساری کتابوں میں دلائل اور شواہد کے ساتھ یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ غیر مسلموں نے اردو زبان کی وسعت اور ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ زبان تمام طبقات کی مشترکہ جائداد ہے۔ یہ ایک ناقابل تقسیم مشترکہ ورثہ ہے اور دونوں کی مشترکہ تہذیب کا مظہر ہے۔
ماضی کے تذکروں کو دیکھا جائے تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تخلص اور تخلیق میں کوئی دوئی نہیں بلکہ ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ ذرا اردو کے غیر مسلم شعراء کے یہ تخلص دیکھئے اور اندازہ لگایئے کہ اردو کے خوب صورت تخلص سے اتنی انسیت اور محبت تھی کہ انھوں نے اپنے نام کا جزو لاینفک بنانا بہتر سمجھا۔ آذر، آشفتہ، اکبر، احقر، افق، تمنا، تاباں، جودت، جنوں، جوہر، حسن، حضور، حیرت، خوشتر، دانش، دل گیر، دیوانہ، ذرہ، ذکا، ذوقی، راحت، رحمت، رسوا، رند، رنگین، زار، زاہد، ساقی، سالک، سرشار، سخنور، سعید، سلیم، شاد، شاداب، شاداں، شعلہ، شرر، شفق، شمیم، شوق، صادق، صبا، طالب، طاہر، ظریف، ظہور، عاجز، عاشق، عبرت، عاصی، عزیز، عندلیب، غافل، غبار، فدا، فدوی، فرحت، فقیر، فیض، فہیم، قدیم، کامل، مجروح، مدہوش، مسرت ، مسرور، ناداں، نادر، وحدت، وحشی، وقار، وفا، ہنر، یاس، یقین۔ یہ سارے تخلص مسلمان شعرا کے نہیں بلکہ ہندو شعرا کے ہیں۔ اس سے کوئی بھی اندازہ لگاسکتا ہے کہ اگر اردو زبان سے انھیں محبت نہ ہوتی تو اس طرح کے تخلص کبھی گوارہ نہیں کرتے۔ حقیقت یہی ہے کہ غیر مسلموں نے اردو کو اپنی زبان سمجھا اور مقدور بھر اس کی ترویج و ترقی کی ہر عہد میں کوشش کی۔ اردو زبان کے آغاز اور ارتقائی مدارج میں ان غیر مسلم شعراء کا بہت اہم رول ہے اور اس کی تصدیق اردو میں لکھے گئے تذکروں سے بھی ہوتی ہے کہ بیشتر تذکروں میں ہندو شعراء کے کلام کی تحسین ملتی ہے۔ نکات الشعراء میں جہاں خان آرزو کا ذکر ہے وہیں آنند رام مخلص بھی ہیں۔ اسی طرح میر حسن کے تذکرے میں ٹیک چند بہار، راجہ رام نارائن موزوں بھی ہیں۔ شیفتہ کے تذکرے میں کم از کم پچاس ہندو شعراء کا ذکر ہے۔ تذکرہ شعرائے اردو(میر حسن)، گلشن ہند(مرزا علی لطف)، نکات الشعراء، (میر تقی میر)،گلشن بے خار(مصطفیٰ خاں شیفتہ)، جلوۂ خضر(صفیر بلگرامی)، سخن شعرا(عبد الغفورنساخ)، گلستان بے خزاں(قطب الدین باطن)، شمیم سخن (عبد الحی صفا)،چمنستان شعراء (لچھمی نارائن شفیق)، تذکرۂ ہندی (غلام ہمدانی صمدانی)، مجموعۂ نغز(قدرت اللہ قاسم)، عیارالشعراء(خوب چند ذکاء)، خزینۃ العلوم (درگا پرشاد نادر)،تذکرہ شعرائے کشمیری پنڈتاں المعروف بہ بہار گلشن (پنڈت برج کشن کول) وغیرہ میں بہت سے غیر مسلم اردو فارسی شعراء کے تذکرے ملتے ہیں خاص طور پر کائستھ، چھتری،کشمیر ی پنڈتوں کی اردو سے والہانہ شیفتگی رہی ہے اور انھوں نے اردو زبان کو ہی اپنے جذبات، احساسات ،مشاہدات اور واردات قلبی کا ذریعہ ٔ اظہار بنایا ہے۔
مطالعۂ تاریخ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عربی ، اردو، فارسی کے مطالعات میں غیر مسلموں کی ایک معتد بہ تعداد ہے اور انھوں نے ان زبانوں کے ارتقا میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تفصیل ڈاکٹر سید عبداللہ کی کتاب’’ادبیاتِ فارسی میں ہندوئوں کا حصہ ‘‘اورڈاکٹر محمد فائق کی انگریزی میں مرتب کردہ کتابContribution of Non Muslim poets and writers to the devepolment of Urdu Persian and Arabic studies میں دیکھی جا سکتی ہے۔
عبد المنان طرزی نے اپنی کتاب ’ناز برداران اردو‘میں اردو کی اسی تاریخ اور تذکرے کا احیاء اور اعادہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ غیر مسلم ادباء و شعرا نے اردو کے جملہ اصناف سخن میں اپنے کمالات کا ثبوت دیا ہے اور اتحاد و یگانگت، رفاقت اور مفاہمت کی اس زبان سے والہانہ محبت اور شیفتگی کا ثبوت دیا ہے جسے وقت اور حالات نے معاندت، مخاصمت، منافرت، اور مغایرت کی زبان بنا دیا ہے۔ پروفیسر طرزی نے اپنے منظوم تذکرے کے ذریعہ اردو زبان کی اس شناختی سیاست (identity politics)کی مکمل تردید کر دی ہے جس نے اس زبان کے کردار ، اقدار اور معیار کو مسخ اور مجروح کیا ہے جب کہ یہ وہ زبان ہے جو کسی بھی مذہب یا قوم کی شناخت کی علامت نہیں ہے کیوں کہ اگر یہ مسلم آئیڈنٹٹی سے جڑی ہوتی تو ہندوستان کے سارے مسلمان صرف اردو زبان بولتے، لکھتے اور پڑھتے۔ پنجابی، مراٹھی ، تیلگو، تمل، ملیالم اور کنڑ جیسی زبانوں سے مکمل پرہیز کرتے ۔ جب کہ ان علاقوں کے مسلمانوں کی ذہنی مناسبت اردو کی بہ نسبت اپنی علاقائی زبانوں سے زیادہ ہے اوراگر اردو اسلام یا مسلمان کی علامت ہوتی توبنگلہ زبان کی بنیاد پر بنگلہ دیش جیسا مسلم اکثریتی ملک وجود میں نہ آتا۔ اتنی بدیہی حقیقت کے باوجود اسے مسلمانوں سے جوڑ دینا بہت بڑا المیہ ہے۔ اتنی بات تو سبھوں کو معلوم ہے کہ اردو اور ہندی کا تنازعہ لسانیات سے نہیں بلکہ معاشی مفادات اور مراعات سے جڑا ہوا تھا۔ صرف جلب منفعت اور لسانی ادعائیت اور نرگسیت کے لئے ان دونوں زبانوں کے مابین تفریق اور تقسیم کا سیاسی کھیل کھیلا گیا جب کہ دونوں زبانوں کی ترکیب اور ترتیب ایک جیسی ہے اور دونوں کا قالب سنسکرت ہے اور یوں بھی زبان کا رشتہ جغرافیائی علاقے سے ہوتا ہے مذہب سے نہیں۔ دنیا کی ساری بڑی زبانیں انگریزی، فرانسیسی، لاطینی، چینی، جاپانی، روسی، جرمن وغیرہ اپنے جغرافیہ سے پہچانی جاتی ہیں وہاں کے مذاہب سے نہیں۔ ڈاکٹر تاراچند نے بہت قیمتی بات لکھی ہے کہ ’’یورپ اور امریکہ میں کروڑوں عیسائی ہیں ان میں سے سوائے انے گنے لوگوں کے کسی کو عیسائی دھرم کی اصلی بھاشا کا گیان نہیں ہے ۔ حضرت عیسیٰ مسیح عبرانی بولتے تھے اس میں انجیل کی پرانی اور نئی کتابیں ہیں مگر انگلستان ، فرانس اور جرمنی اتیا بدیشوںکے عیسائیوں کو کبھی یہ گھبراہٹ نہیں ہوئی کہ بائبل کے عبرانی میں نہ ہونے کے کارن ان کے دھرم میں کوئی دربلتا آئی ہو۔ چین میں کروڑوں بد ھ اور مسلمان ہیں نہ بدھ پالی جانتے ہیں جو ان کے دھرم کی پستکوں کی بھاشا ہے نہ مسلمان عربی لیکن دونوں اپنے اپنے مذہب میں پکے ہیں۔ ہندی میں اگر فارسی عربی کی پُٹ دے دی جائے تو ہندی دھرم کی ہان نہیں ہو سکتی اور اردو اگر ہندی کے لفظ اختیار کر لے تو اسلام خطرے میں نہیں پڑ جائے گا۔ ‘‘حقیقت یہی ہے کہ اردو ہندی کی حریف نہیں بلکہ حلیف ہے اور اٹھارویں صدی تک یہ ہندو مسلمان کی مشترکہ زبان رہی ہے۔ جیسا کہ مورخین نے تاریخی وثائق اور شواہد کی روشنی میں تحریر کیا ہے ۔ ہندی اور اردو میں تفریق دراصل تجارتی ذہن کی زائیدہ پولیٹکل پرسپشن اور کلچرل ڈائنامکس کی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ اردو کو مغلوں کے جبر سے جوڑ کر مسلم تشخص عطا کر دیا گیاجب کہ یہ وہ زبان ہے جس کی تشکیل اور تجمیل میں ہندوستانی عوام کا اہم رول رہا ہے اور یہ زبان ہند لمانی تہذیب کی علامت ہے۔ اسی زبان میں سناتن دھرم کا بیشتر لٹریچر ہے۔ مہابھارت، رامائن، بھگوت گیتا اور اپنشد کے سب سے زیادہ ترجمے اسی زبان میں ہوئے ہیں۔
عبد المنان طرزی نے اسی امتزاجی زبان کے جمال وکمال میں غیر مسلموں کے کردار پر ایک منظوم کلامیہ پیش کیا ہے۔ انھوںنے کتاب کا آغاز آتش بہاول پوری سے کیا ہے اور ہنر پورن سنگھ پر اس کا اختتام ہوا ہے ۔ آتش وہ شاعر ہیں جنھوں نے شمع فروزاں اور نذر اقبال جیسی کتاب لکھی اور ہنر وہ بالغ نظر شاعر و صحافی ہیں جو رسالہ چمن (امرتسر) کے مدیر رہے۔ ’الف‘اور ’ہ‘کے درمیان اس کتاب میں سینکڑوں نام ایسے ہیں جو بہت مشہور ہیں۔مگر بہت سے نام ایسے بھی ہیں جن سے ایک بڑا حلقہ ناواقف ہے۔ عبدالمنان طرزی نے اس کتاب میں جگن ناتھ آزاد، ستیہ پال آنند، جمنا داس اختر، اوپندر ناتھ اشک، راجندر منچندا بانی،پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی، بلراج کومل، بلراج مینرا، بلراج ورما، بلونت سنگھ، تیج بہادر سپرو، پریم چند، جوش ملسیانی، جوگندر پال، جینت پرمار، چکبست،چندر بھان خیال، خوشتر گرامی، دیا نارائن نگم، دیوندر ستیارتھی، دیویندر اسر، راجندر سنگھ بیدی، راج نارائن راز، رام بابو سکسینہ، رالف رسل، رتن ناتھ سرشار،رام لعل، کنور مہندر سنگھ بیدی، سرور جہاں آبادی، سریندر پرکاش، مہاراجہ سر کشن پرشاد، نریش کمار شاد، شانتی رنجن بھٹا چاریہ، کرشن کمار طور، ظفر پیامی، فراق گورکھپوری، فکر تونسوی، کرشن چندر، کیول دھیر، کمار پاشی،کالی داس گپتا رضا، سمپورن سنگھ گلزار، گلزار دہلوی، گوپال متل، گوپی چند نارنگ، گیان چند جین، مالک رام، آنند نارائن ملا، پنڈت دیا شنکر نسیم، نند کشور وکرم، حکم چند نیر جیسے مشاہیر کا ذکر کیا ہے۔تووہیں آتش بنارسی، بابو اودھ بہاری بیدل، پرکاش ناتھ پرویز، جذب عالم پوری، جوہر بلگرامی، منشی بھاونی پرشاد حسرت، خلش گیاوی، دیا بریلوی، ذوق آسارام، رتن پنڈوری، روز امرتسری، سامی جبل پوری، دھرمیندر ناتھ سرمست،صابر نو بہار سنگھ، گیانی نہال سنگھ عفیف،کشتہ گیاوی، امرسنگھ منصور، ناز مرادآبادی، نہال لکھنوی، بھگوتی پرشاد ہمراز،سادھو سنگھ ہمدرد وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ان کے منظوم تذکرے کا یہ طور و طرز دیکھئے کہ کتنی خوب صورتی سے صرف چار مصرعوںمیں ساری کیفیات اور کوائف کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔
نام سمپورن مشہور گلزار سے
فلمی دنیا کے ہیں اک جوشاعر بڑے
واسطہ رکھتے فکشن نگاری سے بھی
پایا اعزار ساہتیہ اکادمی
(گلزار سمپورن سنگھ)
ایک خاتون لدمیلا وسئیلوا
کام جن کا ہے تحقیق اور ترجمہ
آپ عیسائی ہیں ماسکو میں مقیم
جلوہ اردو کی جیسے ہیں وہ حریم
(لدمیلا وسئیلوا)
مالک رام بھی نام ہے ایک بڑا
کی ادارت بھی تحقیق بھی تذکرہ
آپ بیشک ہیں غالب شناس اک بڑے
ان کو اردو کی دولت گراں جانیے
(مالک رام بویجہ)
بیدی راجندر سنگھ ایک ایسی ذات تھی
فن کی میلی سی چادر میں ہے دل کشی
کام نکلا نہیں دانہ و دام سے
علتوں سے نجات ہم کہاں پا سکے
(راجندر سنگھ بیدی)
ودیا کانپوری تھیں ایک شاعرہ
ہے جہاںِ سخن میں بڑا مرتبہ
شعری مجموعے آئے ہیں دو آپ کے
پایا شعر ادب نے وقار آپ سے
(ودیا کانپوری)
عبد المنان طرزی نے اپنے اس منظوم تذکرے میں بہت خوب صورت تجربے کیے ہیں۔ کہیں تصنیفات وتالیفات تو کہیں مقامات تو کہیں اعزازات کا ذکر کیا ہے ۔ شاعری میں شخصیت نگاری آسان نہیں ہوتی کیوں کہ عروضی زنجیروںمیں ذہن جکڑا ہوا ہوتا ہے۔عبد المنان طرزی کو اس تجربے میں کتنی تکلیف اور تکلف سے گزرنا ہوا ہوگا اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کے پائوں شاعری کی خاردار راہوںمیں لہو لہان ہوئے ہوں گے ۔
نثر میں غیر مسلم قلم کاروں کے تعلق سے بہت سے ایسے تذکرے لکھے گئے ہیں مگر شاید یہ پہلا منظوم تذکرہ ہے۔ عبد المنان طرزی نے کتاب میں شامل تمام شخصیات کے قلمی نام ، اصل نام اور تصنیفات و تالیفات کا بھی اندراج کیاہے۔ گو کہ یہ اندراجات تشنہ اور نا مکمل ہیں اور بہت سے اہم نام بھی چھوٹ گئے ہیں۔ مگرپھر بھی بہت سی تفصیلات کا علم ہو جاتا ہے ۔اس کتاب میں گلگرسٹ، گارساں دتاسی، ڈنکن فاربس، ڈاکٹر فیلن، جا ن ٹی پلاٹس،جان شیکپئر، منشی چرنجی لال وغیرہ کا بھی ذکر شامل ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا کیوں کہ ان شخصیات نے ا ردو زبان میں اساسی نوعیت کے کام کئے ہیں۔ انھوں نے لغات اور محاورات کی ترتیب و تدوین جیسے مشکل معرکے سر کئے ۔
نازبردارانِ اردو غیر مسلم قلم کاروں پر کام کرنے والوں کے لئے حوالہ جاتی حیثیت کی حامل ہے۔ انھوں نے مختلف اصناف کے حوالے سے قلم کاروںکی درجہ بندی کی ہے۔ کچھ یہی طرز دیوی پرشاد بشاش اجمیری خلف منشی نتھن لال بہجت نے تذکرہ آثارالشعرائے ہنود میں اختیار کیا تھا۔ 524ہندو شاعروں پر مشتمل بشاش کے اس تذکرے میں ولدیت، قومیت ، سکونت، زمانہ اور تصنیفات کی تفصیل درج کی گئی تھی ۔
عبدالمنان طرزی کا یہ کام بہت اہم ہے اور یہ کام ایک فرد نہیں بلکہ ادارے کے کرنے کا ہے۔ کیوں کہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر مبسوط اور مر بوط تحقیقی کام کی ضرورت ہے تاکہ تمام اہم ناموں کا استقصاء ہو سکے۔ خاص طور پر علاقائی سطح پر جو تذکرے ترتیب دیئے گئے ہیں انھیں بھی نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں شرف الدین یکتا کی بہار سخن (جودھ پور کے شعراء کا تذکرہ)،تذکرہ شعرائے جے پور (مولانا احترام الدین شاغل) تذکرہ شعرائے اودے پور(شاہد عزیز)، تذکرہ معاصر شعرائے جودھ پور(شین کاف نظام) 27 جلدوں پر مشتمل تذکرہ شعرائے اترپردیش (عرفان عباسی)، ہفت رنگ (شاہد میر)، تذکرہ شعرائے بیکانیر (عزیز آزاد)، تذکرہ شعرائے کوٹہ (عقیل شاداب)، تذکرہ شعرائے کانپور (سلیم عنایتی، فاروق جائسی)، تذکرہ سخنوران بڑودا(ظہیر صبا قادری)، چہرہ چہرہ(محبوب انور)، گوالیار اور اردو زبان و ادب(ڈاکٹر قمر گوالیاری) ، سہسرام اور اردو شاعری (ڈاکٹر شمیم ہاشمی)، تذکرہ شعرائے سیتا پور (اسماء رفعت حسین)، تذکرہ غیر مسلم شعرائے اردو سیتاپور(وسیع سیتاپوری)، صد سالہ صحافت : ضلع بجنور (شکیل بجنوری)، تذکرہ شعرائے سہسوان (مرتبہ: حنیف نقوی)تذکرہ شعرائے بہرائچ (نعمت بہرائچی)، تذکرہ شعرائے بدایوں (شہید بدایونی) وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے تو اور بھی بہت سے نام سامنے آئیں گے۔ خاص طور پر پانچ جلدوں پر مشتمل لالہ سری رام کے خمخانہ جاوید میں بھی بکثرت ہندو شاعروں کے نام اور کلام موجود ہیں۔ قومی اور علاقائی سطح پر لکھے گئے ایسے تمام تذکروں کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد ہی یہ اہم کام پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ جس کے بہت مفید نتائج سامنے آئیں گے اور اردو زبان و ادب کے تعلق سے ذہنوں میں تعصبات کا جو زہر ہے ا سے ختم کرنے میں اس سے بہت مدد ملے گی اور یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ جن غیرمسلم قلم کاروں نے اس تعلق سے تذکرے یا کتابیں تحریر کی ہیں ان کے پیش نظر بھی انہی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا ازالہ رہا ہے۔ جگدیش مہتہ درد نے اپنی کتاب ’اردوکے نان مسلم شعراء و ادیب‘ میں واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ:
’’میرا مقصد یہ تھا اردو کے نان مسلم شعراء وادیب حصہ اول اور حصہ دوم لکھنے کا کہ اردو کے مخالفوں کی طرف سے وقتاً فو قتاً جو یہ گھناؤنا بے بنیاد الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جھوٹا ثابت کیا جائے۔ دوسرا جو لوگ اردو زبان سے نفرت کرتے ہیں یا اس کے وجود سے انکار کرتے ہیں وہ ہندوستان کی مشترکہ اور رنگا رنگ تہذیب اور قومی ایکتا سے حقیقت میں انکار کرتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اردو زبان سے دشمنی نہیں کرتے بلکہ ہندوستان سے دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ‘‘
حصہ اول میں انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ :
’’اردو کے نان مسلم شعراء وادیب اس لئے مرتب کرنی پڑی کہ جن ہندو اور مسلم لیڈروں اور ادیبوں کی آنکھوں پر تعصب کی موٹی تہہ جم گئی ہے اور وہ اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان کہتے ہیں ان کو بتلایا جائے کہ اردو زبان کو پروان چڑھانے میں ہندو مسلم سکھ عیسائی اینگلو انڈین اور انگریز شاعروں و ادیبوں یعنی سب کا برابر کا حصہ ہے۔ اور یہ حسین زبان مشترکہ ہے۔ اس زبان کے ذریعہ ہندو مسلم ،سکھ ،عیسائی شاعروں اور ادیبوں نے ملک کے لوگوں کو انقلاب کے لئے تیار کیا تھا اور اسی زبان کی تخلیقات نے ہمیں آزادی سے ہمکنار کیا۔‘‘
عبد المنان طرزی نے بھی شاید اسی مقصد کے تحت یہ منظوم تذکرہ تحریر کیا ہے۔ یہ یقینا بہت اہم کام ہے جس کی پذیرائی حال میں بھی ہوگی اور مستقبل میں بھی۔ اس کتاب کے بین السطور میں بہت کچھ وہ بھی پنہاں ہے جسے ہم اس وقت اچھی طرح محسوس کر پائیں گے جب اس زبان کا قافیہ تنگ سے تنگ تر کر دیا جائے گا، جب متعصبانہ سیاست اور Langauge Prochialism اس کی حقیقی شناخت اور کردار کو مکمل طور پر مسخ کردے گی تب اس جیسی کتاب کی ہمیں شدید ضرورت محسوس ہوگی۔
آج جب اردو کے خلاف متعصبانہ رویہ عام ہے اور غیر مسلموںکی نسل اردو سے نابلد ہوتی جا رہی ہے اور مسلمانوں کا رشتہ بھی اس زبان سے کمزور ہوتا جا رہا ہے اور یہ خوف بھی ستا رہا ہے کہ کہیں انیتا دیسائی کے انگریزی ناول "In Custody” میں ظاہر کیا گیا یہ خدشہ سچ نہ ثابت ہو جائے کہ تقسیم ہند کے بعد یہ زبان زندہ نہیں رہے گی۔ شاعری کی زبان بن کر ایک خاص حلقے میں سمٹ جائے گی۔اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے ہمیںمزید حساس بیدار اور با شعور ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر یہ زبان کمزور ہوتی گئی تو ہماری مشترکہ تہذیب بھی ناتواں ہوتی جائے گی کیوں کہ اردو صرف ایک طبقے کی نہیں بلکہ ہندوستان کے سبھی طبقات کی زبان ہے یہ صرف لکھنو اور دہلی کے اہل زبان یا اشرافیہ مسلمان کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ہے جو اویس احمد ادیب کی کتاب ’اردو زبان کی نئی تحقیق‘کے مطابق آریوں کے ساتھ ہندوستان آئی تھی۔ اور سنسکرت ہندوستان کی اولین اردو تھی۔ یہ زبان نہ تو فارسی کی شاخ ہے اور نہ عربی کا ثمر بلکہ ہندوستانیت کا محورو مظہر ہے۔ بقول جگدیش مہتہ درد :
’’اردو کا چہرہ صدیوں کی شاندار روایات سے تابندہ ہے۔ آنکھوں میں وہ جادو جس نے خراسان و قندھار سے لے کر بنگالے تک لوگوں کو مسحور کیا۔ چہرے پر صبح بنارس کی تازگی، لبوں میں لکھنؤ کی حلاوت، گفتگو میں نرمی، پیکر میں رنگینی شام اودھ کی، یہ ہے ہماری آپ کی اور سب کی زبان ۔‘‘
اور اس زبان کو زندہ رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ ہمیں اسی کشادہ قلبی اور رواداری کا ثبوت دینا ہوگا جو ماضی میں ہمارا وطیرہ رہا ہے۔ ہم نے اردو زبان کو فرقہ وارانہ تعینات سے ہمیشہ پاک رکھا۔ آج بھی ہمیں اسے فرقہ وارانہ لسانی سیاست سے دور رکھنا ہوگا۔ غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا ذہن بھی اس زبان کے باب میں تعصب اور عدم رواداری سے پاک صاف رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی غیر مسلم فن کاروں کے ساتھ امتیاز یا تعصب نہیں برتا بلکہ ان کے افکار ، اقدار حتیٰ کہ اساطیر کے ساتھ بھی جذباتی ہم آہنگی کا ثبوت دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید یہ مشہور اشعار نہ مسلمانوں کی زبان پر ہوتے اور نہ تحریری اور تقریری حوالوں میں شامل ہوتے جو غیر مسلموں نے کہے ہیں۔ آج بھی یہ اشعار اور مصرعے زبان زد خاص و عام ہیں:
آخر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
(مہتاب رائے تاباں)
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
(موجی رام موجی)
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
(رام نارائن موزوں)
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
(منو لال صفا)
اب جگر تھام کے بیٹھو میری باری آئی
(مادھو رام جوہر)
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
(گھنشیام لال عاصی)
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
(دیا شنکر نسیم)
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا
(چکبست)
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے اردو زبان کو اپنا اجارہ نہیں سمجھا بلکہ ہر اچھے خیال اور ہر اس فرد کی قدر کی جس کا اردو زبان سے جذباتی رشتہ رہا ہے۔ یہ زبان نہ تو اذان ہے نہ ناقوس ، نہ یہ ایمان ہے نہ مسلمان، نہ یہ مذہب ہے نہ تہذیب، یہ تہذیبی امتزاجیت کاخوب صورت مظہر اور محبت کا استعارہ ہے ۔ اردو کا کوئی مذہب تو نہیں مگر اس کا مذہب محبت اور انسانیت ضرور ہے۔ اور اس زبان پر قربان ہونے والے ایسے بھی ہیں جو علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں مگر اپنی زبان اردو نہیں۔ (جسٹس آنند نارائن مُلا)
لسانی سیاست کچھ لوگوں کی ذہنیت ضرور بدل سکتی ہے مگر یہ سماجی اور تاریخی حقیقت کبھی نہیں بدل سکتی کہ اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی خوب صورت زبان ہے اور اس زبان سے عشق کرنے والوں میں ہندوستان کے تمام طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ پروفیسرکنہیا لال کپور نے بڑی قیمتی بات لکھی ہے کہ:
’’یہ خوبصورت زبان ہندوستانی اور اسلامی تہذیب کے امتزاج سے وجود میں آئی۔ یہ مشترکہ تہذیب کی نشانی تھی۔ ا س کی سرپرستی ہر مذہب کے لوگوں نے کی۔ مگر آزادی کے بعد یہ فرقہ پرستوں کے بھینٹ چڑھ گئی۔‘‘
مجھے پتہ نہیں کہ اس زبان کے لیے مسلمانوں نے کوئی شہادت دی ہے یا نہیں لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ اردو زبان کی خاطر جن دو لوگوں نے جام شہادت نوش کیا ان کے نام پنڈت دیو نارائن پانڈے اور کامریڈ جے بہادر سنگھ ہیںاور میں سمجھتا ہوں کہ عبد المنان طرزی کی یہ کتاب ہزاروں غیر مسلم شیدائیان اردو کے ساتھ ساتھ ان شہیدان اردو کو بھی بہترین خراج محبت ہے۔