گداگری، جہیز کی لعنت – دفاع اور جواز کی کوشش! ـ مسعود جاوید

گداگری کے موضوع پر اس خاکسار نے چند روز قبل کچھ خامہ فرسائی کی تھی اسی طرح جہیز کی لعنت پر کہنہ مشق ممتاز صحافی شکیل رشید کا اتواریہ ہفتہ وار آرٹیکل "عائشہ کی خودکشی” پر تبصرہ کیا ہے۔
مذکورہ بالا دونوں تحریروں پر میرے فہرست احباب میں سے بعض مؤقر علما کا ردعمل قابل افسوس ہے اس لئے کہ انہوں نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بلا واسطہ یا بالواسطہ ان برائیوں کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
گداگری کے ضمن میں ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا گیا ہے جس میں ایک تندرست مولوی نما شخص مسجد میں چندہ کرتے ہوئے حیدرآباد کے علاقے میں پکڑا جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ ایک کمرہ کرایہ پر لے کر اپنی بیوی کے ساتھ پچھلے تین مہینے سے چندہ کر رہا ہے۔ وہ ہریانہ سے وہاں پہنچا ہے اور اپنے آپ کو ہندو مسلم فساد متاثر اور مظلوم بتاکر اور بعض مقامات اور مساجد میں آگ زنی کے تحریف شدہ فوٹو دیکھا کر چندہ کر رہا ہے جس وقت پکڑا گیا اس وقت اس روز کا چندہ تقریباً سات ہزار روپے تھے۔
چندہ کرنے والوں کے فراڈ کی بابت ایک عالم صاحب نے لکھا :
” چندہ کرنے والوں سے زیادہ فراڈ حکومتیں اور سرکاری افسران عوام کا کروڑوں اور اربوں روپے ناحق مار لیتے ہیں تو آپ لوگ سڑکوں پر نہیں اترتے مگر اپنے ہی کسی آدمی سے لاکھ دو لاکھ کا غبن کا معاملہ سامنے آئے تو اسے ذلیل کرنے لگ جاتے ہیں جس سے نہ صرف وہ آدمی بلکہ پوری قوم ذلیل ہوتی ہے”
اسلامی نقطہ نظر اور اخلاقی تعلیمات کی رو سے حضرت کی تاویل دفاع یا جواز کسی بھی طرح مقبول نہیں ہے۔

ڈاکٹر جراح علاج کرتے وقت اگر اپنے اور غیر میں تمیز کرتے ہوۓ نشتر چلانے کی بجائے ہمدردی کا رویہ اظہار کرے اور نشتر کی جگہ عام مرہم تشخیص کرے تو وہ زخم ناسور بن جائے گا۔
کسی تصرف کا جواز ڈھونڈنے کے دو اصول ہیں :
کسی شخص کا کوئی عمل یا تو قانون کی نظر میں قابل قبول ہے یا اللہ کے نزدیک مقبول ہے
١- عقلی منطقی طور پر وہ نامناسب بعض مخصوص حالات میں مناسب نظر آئے۔
٢- عقل تو تسلیم نہیں کرتی مگر عقیدے کا تقاضہ ہے کہ اس مخصوص نامناسب ناجائز غیر قانونی کو مناسب جائز اور قانونی سمجھا جائے۔
مذکورہ بالا چندے کا عقلی ، منطقی اور قانونی طور پر کوئی جواز نہیں ہے۔ قانون و شریعت کی زبان میں اگر فراڈ اور چوری کا محرک اگر محض بھوک مٹانا ہے تو رمق باقی رکھنے تک کی مقدار تک جائز ہے لیکن فراڈی اور چور تندرست ہو نامساعد حالات کا شکار نہ ہو تو دینی اور دنیاوی دونوں شریعت میں اس کے لئے کوئی جواز نہیں ہے۔ افسوس جواز کی کوشش کرنے والے یا پردہ پوشی کی تجویز پیش کرنے والے اور فرد کے جرم کو ریاست کی بدعنوانی سے موازنہ کر کے فرد کے جرم کا دفاع کرنے والے ایک مفتی صاحب ہیں !
میں بھی ایسے بہت سے لوگوں کے خستہ حال اور معاشی طور پر تنگی سے دو چار بعض افراد سے واقف ہوں ان کے ساتھ مجھے بھی ہمدردی ہے ۔
میں نے چند روز قبل جو مضمون پوسٹ کیا تھا اس میں لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنے محلے اور کالونیوں کے لوگوں کی خبر گیری کر کے بہت حد تک گداگری، نشہ اور جرم سے لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ ہم سب اپنے اپنے علاقوں میں Know Your Neighborhood مہم چلائیں۔

جہیز کی لعنت اور عائشہ کی خودکشی پر میں نے تبصرہ میں لکھا کہ علماء جس طرح "عبادات” کی ادائیگی پر جنت اور ترک پر جہنم مسلمانوں کے دل و دماغ میں راسخ کرتے ہیں کاش اسلام کے سماجی پہلوؤں کو بھی اسی طرح پیوست کرتے۔ اس پر ایک عالم دین صاحب نے شکایت کی کہ جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے فورا لوگ علما کو کوسنے لگتے ہیں۔
میں ان سے اور ہر مسلمان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے یہ چند بدنی و مالی عبادات فرائض و نوافل اور زکوٰۃ و حج میں محصور نہیں ہے خدا را اسلام کو مسجدوں میں قید نہ کریں۔ اسلام کی اخلاقیات اور سماجیات سے متعلق روشن اور تابندہ تعلیمات کو اپنے چوبیس گھنٹے کی روٹین کا حصہ بنائیں اپنے نصاب میں شامل کریں۔
اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور جہیز کی وجہ سے کسی لڑکی پر اس قدر ظلم نہیں کیا جاتا کہ وہ خود کشی کر لے۔ جہیز ایک سماجی برائی غیر مسلموں سے ہمارے یہاں در آئی ہے اس سے انکار نہیں ہے مگر ذاتی رنجش اور نا اتفاقی کے کیس کو عموماً وکیل کے مشورے پر پولیس میں جہیز کا کیس درج کرایا جاتا ہے۔ وجہ اور محرک خواہ جو بھی ہو جہیز کی لعنت ختم کرنے کی بھر پور کوشش ہونی چاہیے۔
جہیز سے ہی منسلک کسی حد تک بیٹیوں کے حقوق کا مسئلہ بھی ہے۔ میں حساس علماء کرام سے پیشگی معذرت کے بعد ایک بار پھر لکھ رہا ہوں کہ بہنوں، بیٹیوں اور پھوپھیوں کے وہ حقوق جس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ان حقوق کا ذکر بالتفصیل کیا ہے اس کی ادائیگی کے بارے میں علماء نے عوام کو کما حقہ نہیں بتایا ۔ اور عوام تو عوام خواص اور علماء اور چلہ والے حضرات یہ سب کچھ جاننے کے باوجود پھوپھیوں بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق نہیں دیتے۔ بہنیں اور پھوپھیاں اس ڈر سے کہ کہیں میکہ نہ چھوٹ جائے زبان نہیں کھولتیں۔