فرقان سنبھلی تم بھی! ـ معصوم مرادابادی

ابھی جنوری کے اواخر کی تو بات ہے تم نے مجھے علی گڑھ میں کھوج نکالا تھا اور بڑی محبت سے مزمل منزل میں واقع اپنے دولت خانے پر لے جاکر میری خوب خاطر مدارات کی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہونے کے باوجود تمہارے اندر علی گڑھ کے اساتذہ کی عمومی نرگسیت پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ تمہارا گھر ہر قسم کے تام جھام، تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا اور مغربی اترپردیش کے عام گھروں جیسا تھا۔
تم نے اپنی تازہ کتاب ” پاپا میاں شیخ عبداللہ کا مونوگراف ” دونوں ہاتھوں سے پیش کرتے ہوئے کہا تھا ” سر ، اس پر آپ کے تاثرات کا منتظر رہوں گا۔” میرے اور تمہارے درمیان برادرانہ تعلقات تھے مگر نہ جانے کیوں تم ہر بار مجھے "سر” کہہ کر شرمندہ کرتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ برسوں پہلے جب تم دہلی میں میرے غریب خانے پر آئے تھے تو تم نے سائینسی موضوع پر اپنی کوئی کتاب مجھے دی تھی ۔ تم اسی میدان کے آدمی تھے اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے انجینئرفرقان سنھبلی کہلاتے تھے، لیکن اردو زبان و ادب سے غیرمعمولی دلچسپی کے سبب تم اپنا میدان تبدیل کرکے ڈاکٹر محمد فرقان بن گئے اور علی مسلم یونیورسٹی کے باوقار ویمنز کالج میں اردو کے استاد بھی ہوگئے۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ ملازمت ابھی تک عارضی ہے اور اس کے مستقل ہونے کی دوڑ دھوپ جاری ہے، لیکن یہ کیا کہ تم اس دنیا کو جو ہم سب کا عارضی ٹھکانہ ہے چھوڑکر ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ میری نگاہ میں تمہارے ان چھوٹے بچوں کی تصویر گھوم رہی ہے جن کے سروں پہ تم نے میرا ہاتھ رکھوایا تھا۔ باری تعالی تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور تمہارے بیوی بچوں کو صبر جمیل ۔ آمین