فرانسیسی صدر کا رویہ دہشت گردانہ،گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر اصرار نہایت شرمناک:مولانا محمود مدنی

نئی دہلی:(پریس ریلیز)جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے فرانس کے صدر کی طرف سے ”گستاخانہ خاکوں“ کی عمومی اشاعت اور اس ناپاک حرکت کے دفاع کی شدید مذمت کی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بات کسی فرد یا تنظیم کی نہیں بلکہ ایک ریاست کی ہے، فرنچ صدر نے جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ ایک دہشت گردانہ عمل ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ وقت نہایت صبر آزما ہے، پوری دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی ایک حد ہے، ہمیں اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ حقیقت تو یہ ے کہ آج کی دنیا میں مذہب کے ماننے والوں اور مذہب کے مخالفیں (لامذہب لوگ) دو الگ الگ کناروں پر کھڑے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ سبھی مذاہب بالخصوص مغربی دنیا میں کرسچن مذہب کے علم برداروں کو اس رویے کی مخالفت کرنی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سرور کائنات،فخر موجودات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی تمام ہی انسانی کمالات کو جامع تھی۔ خود رب العالمین نے آپ کو ”رحمۃ للعالمین“ کے مقدس لقب سے نوازا ہے، اور آپ کے فضائل وشمائل اور بے مثال اخلاق وعادتِ طیبہ کا دنیا کے ہر معقول شخص نے دل سے اعتراف کیا ہے؛ حتی کہ مکہ معظمہ کے وہ مشرکین جو آپ کی تبلیغی مشن کے سخت مخالف تھے، وہ بھی ہزار عداوتوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے داغ کردار پر انگلی اٹھانے کی جرأت نہ کرسکے۔الغرض جس نے بھی انصاف کی نظر سے آپ کی سیرتِ طیبہ کو دیکھا اور پڑھا، تو اس کے اندر کا انسانی ضمیر پکار اُٹھا کہ ایسی خوبیوں اور کمالات کا انسان دینا میں کبھی پیدا نہیں ہوا۔تاریخ کے صفحات پر کتنے ہی غیرمسلم مفکرین کی شہادتیں موجود ہیں، جن میں کھلے دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کیا گیا ہے۔
مولانا مدنی نے فرمایا کہ ہر طبقے اور مذہب کی قابل قدر شخصیات کے حقیقت پسندانہ بیانات کے باوجود آج اگر کچھ دریدہ دہن لوگ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے کی جسارت کرتے ہیں، تو ان کی مثال سورج اور چاند پر تھوک کر خود اپنا چہرہ بدنما کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور ایسے گستاخ لوگ رذالت، بدتمیزی، دل آزاری اور کمینگی کی تمام حدوں کو پار کرنے والے ہیں۔ اور اُن کی یہ رذیلانہ حرکتیں کسی مسلمان؛ بلکہ کسی شریف انسان کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہیں، اس طرح کی حرکتوں سے شدت پسندانہ ردعمل کے جذبات کو بڑھاوا ملتا ہے، اور دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
خاص کر کسی حکمراں کی طرف سے ایسی شرانگیز حرکتوں کی تائید انتہائی بدترین جرم ہے جو کچھ فرانس میں ہور ہا ہے اس کی وجہ سے نہ صرف فرانس میں بد امنی اور فساد کی فضا پیداہوگی بلکہ امن عالم کو اس سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے، فرانس کی حکومت اور اس کے ناعاقبت اندیش صدر نے دنیا کی اتنی بڑی آبادی کو ا ذیت دینے کا عمل کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔اقوام عالم بالخصوص اسلامی ممالک کو ایسے لوگوں کا محاسبہ ضرور کرنا چاہئے۔مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے، جو دوسرے کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کے استہزاء کو ہرگز پسند نہیں کرتا، اور بالخصوص کوئی بھی مسلمان اپنے عظیم محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتا؛ تاہم اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ جذباتیت سے اوپر ا ٹھ کر حسن تدبیر سے حالات کا مقابلہ کریں، اور دعوتی جذبہ پیدا کرکے دشمنوں کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔