فرانس اپنے عبرتناک انجام کی طرف- سمیع اللّٰہ خان

فرانس ایک بار پھر اپنی تاریخی اسلام دشمنی کا ننگا، ناچ منعقد کرچکاہے جب اظہار رائے کی آزادی کے نام پر فرانسیسی اسکول میں محمد عربیﷺ کے کارٹون کو سبق کا حصہ بنایا گیا تب ایک مسلمان نے اُس گستاخ ٹیچر کا سر قلم کر دیا۔
واضح طورپر رسول اللہﷺ کی شان میں کیچڑ اچھال کر مذموم اور مجرمانہ کارروائی پہلے ہوئی بعد میں اس کا فطری ردعمل سامنے آیا، اس ردعمل کےبعد فرانس کو چوکس ہونے کی ضرورت تھی، اظہار رائے کی آزادی اور ہتک عزت کی نزاکتوں کو سمجھانا چاہیے تھا ۔ لیکن فرانسیسی حکومت کو تو اپنا اسلام دشمن زہر انڈیلنے کا موقع مل گیا اور آخری پیغمبر محمدﷺ کے گستاخانہ کارٹون سرکاری تائید کے ساتھ عمارتوں پر آویزاں کیے گئے
فرانسیسی صدر نے گستاخ اور دریدہ دہن ٹیچر کے قتل کو سیدھے اسلامی دہشتگردی سے تعبیر کیا فرانس میں اسلامی دہشتگردی lamic Terrorism کے نام پر مسلمانوں کےخلاف ٹرائل شروع کردیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کھلے عام محمد عربیﷺ کے خلاف ان کی ذاتِ اقدس پر کیچڑ اچھالتے کارٹون کھلی فضا اور آبادیوں میں لٹکائے گئے ہیں، یہ سب فرانس، فرانسیسی حکومت، آفیشل طورپر کررہی ہے، اسے یوروپ کی تائید حاصل ہے مغربیوں کی خوشی اس میں شامل ہے، بھارت کے ہندو سنگھیوں کی حمایت ہے اسے، یہودی دنیا کا غیرمشروط تعاون حاصل ہے اور بھارت سے لیکر فرانس اور پوری دنیا کے تمام لیفٹسٹ، ملحد، تمام لبرل اور آزاد خیال دانشور کہلانے والے سبھی لوگ اس صریح ظلم کی حمایت کرتےہیں اور اس پر تقریب مناتے ہیں۔
دوسری جانب شرمناک افسوس کا مقام ہیکہ دنیائے اسلام کے مرکزي مقامات میں گہرا سناٹا ہے، بھارت سے لےکر سعودی عرب تک اسلامی شخصیات اور نمائندہ تنظیموں پر مداہنت کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں، رسول اللہﷺ کی ذاتِ پاک پر حملے ہو رہے ہیں اور اہلِ اسلام کو تہہ تیغ کرنے کا اعلان ہو رہا ہے لیکن سعودی عرب کے کٹھ پتلی حکمران کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، اور یہ کوئی غیرمتوقع امر بھی نہیں ہے آپ کو یہ بھی معلوم ہوجانا چاہیے کہ فرانس اسلام دشمن تاریخ میں انتہائی خونریز جذبہ رکھتاہے اور فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کےخلاف زہر بونے والی نمائندہ جماعت ” نیشنل فرنٹ ” جس کے علانیہ عزائم میں مسلمانوں کا قتل عام شامل ہے ایسی صریح اسلام دشمن تنظیم کو ۸ ملین کی خطیر رقم کے ذریعے مالی فنڈ دیکر مضبوط کرنے والا اور کوئی نہيں سرزمین عرب کا ایک بڑا حکمران آلِ سعود کے یار آلِ نہیان متحدہ عرب امارات UAE والے ہیں, جنہوں نے حال ہی میں اسرائیلی چوکھٹ پر بھی علانیہ سجدہ کیا ہے، اور اب سعودی عرب ہو یا متحدہ عرب امارات یا دیگر خلیجی عربی ممالک، ان تمام ممالک کے حکمرانوں نے بالکل صراحت کے ساتھ ثبوت دے دیا ہیکہ وہ کسی بھی خالص اسلامی کاز میں شریک نہیں ہوسکتے، البتہ جو کوئی خطۂ عرب میں اسلامی عروج کا مشن آگے بڑھائے گا یہ حکمران ایسے مجاہدوں کو امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ملکر قتل کروائیں گے اور اب تک یہ لوگ یہی کرتے آئے ہیں ، اور عربی ممالک کے اقتدار پر قابض ہوکر بھی ان کی رگوں میں اسلام دشمنی و صہیونيت نوازی کس قدر سرایت ہوچکی ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب یہ لوگ ناموس رسالتﷺ کی خاطر دکھلاوے تک کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کرسکتے، ارض حرمین سمیت خطۂ عرب میں طاغوتی استعمار نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں، یہ اسلام، مسلمانوں اور عام مؤمنینِ عرب کے مخلص نہیں رہے ہیں ۔
سلام کیجیے خلافت عثمانیہ کے جانشینوں کو محبت بھیجئے دانا اور بہادر ترکی والوں کو، اردوغان کو دعائیں دیجیے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سمیت تحریک اخوان المسلمین کے طاقتور ایمانی اثرات والے کویتی اور قطری حکمرانوں کا شکریہ ادا کیجیے جو ان چند اسلام پسندوں نے اسلامو فوبیا اور توہینِ رسالت کے خلاف ناموسِ رسالتﷺ کی خاطر ایمانی حمیت، اسلامی عزت اور مسلمانی جذبات کی نمائندگی کی ہے، صدر اردوغان نے بجا طورپر فرانسیسی دریدہ دہن حکمران کو دماغی علاج کا مشورہ دیاہے لیکن یہ کس قدر افسوس اور رُلا دینے والی بے بسی ہے کہ عالمگیر سیکولرزم کے قائدین جو پوری دنیا میں ستر سالوں سے ہمارے نمائندہ بنے بیٹھے ہیں اور پرامن رہنے کی تلقین کر کر بزدلی کا بیج بونے والے پیشوا جو یورپ، لندن اور فرانس کے معمولی حادثات پر حقوق انسانیت کے فرائض بجالاتے ہیں، وہ بڑے بڑے اصحابِ جبہ و دستار جو حج جیسی عظیم عبادت کی تجارت کرنے والی سعودی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں جو صہیونیت نواز آلِ سعود کی قصیدہ خوانی کے لیے بہانے تلاشتے رہتےہیں تاکہ عربی ممالک میں کسی طرح شاہی مہمان بننے کا شرف حاصل ہوجائے وہ سب قائدین جو عربی حکمرانوں کی اسرائیل نوازی اور ظالمانہ پالیسیوں پر خاموش رہے جن پالیسیوں کے تحت ہزاروں علماء حق اور فقہاء و مشائخ کو جیلوں میں قید کیاگیاہے ایسے شدید جرائم پر منہ میں دہی جمائے بیٹھے رہتے ہیں اور آج عربی حکمران جبکہ ناموس رسالتﷺ کی خاطر بھی بدترین بےغیرتی کا مظاہرہ کررہےہیں لیکن جو لوگ ان سعودی و عربی حکمرانوں کی بہانے بہانے ڈھونڈ کر تعریف کرتے رہتےہیں ان میں اتنی بھی ایمانی حرارت نہیں نظر آتی کہ وہ اپنے ملک میں فرانسیسی سفارتخانے کے باہر احتجاج کریں اور آل سعود و عربی حکمرانوں کی کٹھ پتلی اسلام مخالف پالیسیوں پر انہیں دوٹوک آئینہ دکھائیں، بتائیے دلوں میں ایمان کی مردنی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی؟
اس موقع پر دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور ہر وہ طبقہ جو کلمۂ اسلام کے سائے تلے جی رہا ہو، انہیں چاہیے کہ وہ سب اسی کلمے کے سائے تلے ایک جٹ ہوجائیں، ماضی میں ہندوستان کی غیور اور خوددار اسلامی برادری نے عالمی سطح کے ایسے ایمانی قضیے پر بھرپور جرأت و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، آج پھر سے ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور پرکھوں کی غیور روایات کو آگے بڑھائیں، اپنی ایمانی حمیت کا مظاہرہ کریں ۔
ہر شہر ہر صوبے میں فرانس کے سفارتخانوں کو آئینی طورپر گھیرا جائے، ان ممالک سے متعلقہ ہر پہلو کو تلاش کر کرکے منصفانہ اور جائز طور پر اپنا احتجاج درج کرائیں ہرسطح پر فرانسیسی مصنوعات کا سخت بائیکاٹ کیاجائے ۔
آج یہ جو شان رسالتﷺ پر حملے بڑھ رہےہیں ان کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ جان چکےہیں کہ مسلمان بزدلانہ امن کے عادی ہیں، جبکہ امن یہ نہیں ہیکہ آپ ظلم اور ناانصافی اور اپنے مقدسات کی توہین پر چھپ کے بیٹھ جائیں امن یہ ہیکہ آپ ایسی کارروائیوں اور گستاخیوں پر کسی بھی شہری، یا عوامی املاک کو نقصان پہنچائے بغیر امن کے دشمنوں کو سنجیدہ احتجاجی مارچ کی طاقت سے یہ بتادیں کہ انصاف کرنے والے زندہ ہیں _
یقینًا بھارت میں حالات خطرناک ہیں، ہمیں معلوم ہیکہ اسلامیت پر صراحت سے لکھنا بولنا جوکہ آئینی دائرے میں بھی ہے اور ہرحال میں واجبی انسانی حق بھی ہے، لیکن یہودیوں کے ہندوتوائی بھائیوں اور ظالموں کو یہ بھی برداشت نہیں، لیکن یاد رکھیے عزیمتوں اور ایمانی حقوق کی ادائیگی سے نصرتِ الہی کے دروازے کھلیں گے، اگر ہم ناموس رسالتﷺ پر بھی متحد ہوکر خود کو متحرک نہیں کرسکتے تو ہم زندہ ہی کیوں ہیں؟ اس سے بہتر تو مرجانا چاہیے، ہاں ٹھیک ہے جسے جو سمجھنا ہو سمجھے ہمیں جذباتی کہہ لے یا جو کچھ لیکن جیسے ہم کل بھی گستاخئ رسالتﷺ کے نام پر ناانصافی پر مبنی کارروائیوں کو غلط، بے قصوروں معصوموں کو جنہوں نے یہ جرم نہیں کیا ہو انہیں تکلیف پہنچانے کو اسلام کے خلاف اور اس جذبے کے تحت گالم گلوچ اور غصے میں بدتہذیبی کو نادرست کہتے آئے ہیں ویسے ہی جب صراحت کے ساتھ میرے آقاﷺ کی ذات پر حملے ہورہے ہوں اور حکومتی سطح پر ظالم ابلیسی زبان ناموسِ عصمتِ محمدﷺ فداک ابی و امی پر دراز ہورہی ہو تو پھر میں اندھا عاشقِ رسولﷺ ہوں، ایسے وقت میں خموشی ایمان کی موت اور نسبتِ عشقِ محمدﷺ سے محرومی ہے، ایسی موت اور محرومی سے وہ آزمائشیں اور سنگینیاں غنیمت ہیں جو ظالمانہ ماحول میں اس کا حق ادا کرنے سے حاصل ہوتی ہوں… ان سب کا دوسرا پہلو یہ ہیکہ یہ سب درحقیقت موت سے پہلے کی پھڑپھڑاہٹ ہے،ظالم طاغوت نے اپنی عمر مکمل کرلی ہے فرانس اپنے انجام کی طرف ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ استعمار کے اقدامات ان کےزوال کی شروعات ہے لیکن اہل اسلام میں بھی باقی وہی رہےگا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر فدا ہوگا، اسی فدائیت میں تو حیاتِ جاودانی ہے_

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*