فرانسیسی صدر پر اسلاموفوبیا کا دورہ ،کہا:پوری دنیا میں اسلام بحران سے دوچار ہے،فرانسیسی مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے تیاری

پیرس:فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عصر حاضر میں اسلام کو دنیا کے ہر خطے میں بحران کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ فرانس کو ایسی اسلامی علیحدگی پسندی سے لڑنا ہوگا جو ایک متوازی نظام کے قیام کی خواہاں ہے اور فرانسیسی جمہوریت کا انکار کرتی ہے۔ ماکرون نے مغربی فرانس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی شدت پسندی سے لڑیں گے۔اس موقعے پر فرانسیسی صدر نے ’شعوری علیحدگی پسندی‘ کے خلاف ایک قانون لانے کی تجویز پیش کی جس کا مقصد یہ بتایا کہ اس کے ذریعے ان قوتوں کا مقابلہ کیا جائے گا جو مذہب کو جمہوری اقدار کے تئیں تشکیک پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس کا خاص مقصد فرانس کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ماکرون نے کہا کہ فرانس میں ایسے اانتہا پسندانہ اسلامی رجحان کی حامل قوتیں پائی جاتی ہیں جو یہاں کی جمہوری اقدار میں یقین نہیں رکھتیں اور اس کے مقابلے میں ایک نئے نظام کے قیام کی خواہاں ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں فرانس میں موجود مسلمانوں کے سلفی،وہابی اور اخوانی گروپوں کے حوالے سے کہا کہ یہ لوگ فرانس کی سرزمین میں رہ کر بیرونی سرمایے کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ انھوں نے فرانس کی مساجد میں بیرونی اماموں کی تقرری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ فرانسیسی صدر نے ۱۹۰۵ کے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے(جس میں مذہبی اداروں کے سرکار و سیاست سے الگ و خود مختار ہونے کی صراحت ہے)فرانس میں موجود اسلامی جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ بل دسمبر کے شروع میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور ۲۰۲۱ کے وسط میں  اس پر بحث ہوگی۔ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۲۲ میں متوقع صدارتی الیکشن سے قبل ماحول سازی اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے صدر میکرون اس طرح کی بیان بازی کر رہے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*