فرانسیسی سیکولرزم :ناکامی کے اسباب کیا ہیں؟- خلیل العنانی

 

ترجمہ:نایاب حسن

 

فرانسیسی صدرنےبزعمِ خویش ’’اسلامی علیحدگی پسندی‘‘کے خلاف سیاسی،ثقافتی اور صحافتی جنگ چھیڑ رکھی ہے،اس علیحدگی پسندی سے ان کی مراد بعض فرانسیسی مسلمانوں کی مذہبی و کلچرل سرگرمیاں ہیں،جو میکرون کے مطابق فرانس کی جمہوری اقدار کے خلاف ہیں اور ان کا مقصد فرانس میں ایک متوازی نظام کے قیام کی کوشش اور ملکی جمہوریت کا انکار ہے۔اس قسم کا بیان انھوں نے خود پچھلے ماہ کے شروع میں دیا تھا۔میکرون نے کچھ اور باتیں بھی کہی تھیں،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام سے قطعاً ناواقف ہیں،تبھی انھوں نے یہاں تک کہنے کی جرأت کردی کہ’’اسلام کو آج تمام دنیا میں بحران کا سامنا ہے‘‘۔

یہ تو حقیقت ہے کہ بحران کا وجود ہے،مگر وہ بحران اسلام کو درپیش نہیں ہے جیسا کہ میکرون اور مشرق و مغرب کے ان کے ہم خیال لوگ سوچتے ہیں،یہ بحران دراصل فرانسیسی جمہوریت اور اس کے جمہوری ماڈل کو درپیش ہے،جو گزشتہ نصف صدی کے دوران اس ملک کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔میکرون کے اس احمقانہ بیان کے سیاسی و معاشی پس منظر میں جائے بغیر جو کہ انتخابات کے موسم میں دیے جانے والے ماضی کے ان کے فرانسیسی ہم منصبوں کے بیانات سے مختلف نہیں ہے،ہم اگر تھوڑا غور کریں تو معلوم ہوگاکہ  فرانسیسی جمہوریت کو اپنی تاسیس اور دستوری حیثیت حاصل کرنے کے پہلے دن(۱۹۰۵)سے ہی بحران کا سامنا ہے۔

اس قانون نے فرانس میں حکومت اور کنیسہ کے درمیان خطِ امتیاز قائم کیا۔اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فرانسیسی عوام کے مختلف طبقات کے مابین اتحاد و اتفاق ،ہم آہنگی اور یکجہتی پیدا کیا جائے،فرانسیسی قومیت کے تئیں مشترک احساس بیدار کیا جائے اور حکومت کو مذہبی شعبے سے علیحدہ رکھا جائے،مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے ہی اس کا استعمال شہریوں کی روایات و کردار کو پابند کرنے اور ان کے اخلاقی و اقداری نظام میں دخل اندازی کرنے کے لیے کیا جاتا رہا ہے اور اس سلسلے میں فرانس کی حکومت نے خود اس آزادی و لبرلزم کی خلاف ورزی کی ہے، جس کی علمبردار ہونے کا وہ دعویٰ کرتی ہے۔ فرانس کا یہ جمہوری ماڈل باربار رونما ہونے والے تشدد کے واقعات اور سماجی و ثقافتی بغاوتوں کی وجہ سے فرانسیسی معاشرہ کے اہم اجزا خصوصا مسلمانوں کو اپنا حصہ بنانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ معاملہ صرف معاشی و معاشرتی شمولیت کا نہیں ہے،جہاں بہت سے مسلمانوں کو حاشیہ نشینی،نظر اندازی،غربت اور بدحالی کا سامنا ہے اور ایسا کئی دہائیوں سے منظم پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف عموماً دوسرے درجے کے شہریوں جیسا  برتاؤ کیا جاتا ہے، تعلیم،ترقی ،روزگار اور دیگر سماجی شعبوں میں ان کے ساتھ تفریق کی جاتی ہے؛بلکہ سیاسی و ثقافتی شمولیت جس کی بنیاد مذہبی و تہذیبی تنوع اور اس کے احترام پر ہے،وہاں بھی مسلمانوں کو اسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ فرانس کے سیاست دان اور دانش ور حضرات وہاں کے مسلمانوں کو حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں،ہمیں سابق فرنچ صدر نیکولس سرکوزی(۲۰۰۷۔۲۰۱۲) کی بات اب بھی یاد ہے کہ جب مسلم علاقوں کے نوجوان اپنی بدترین اقتصادی حالت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلے ،تو انھوں نےان نوجوانوں کوسوسائٹی کے ’’کُوڑے ‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔

میکرون بزعم خود مسلمانوں کے مذہبی،ثقافتی و تعلیمی زندگی کو ترجیح دینے اور وہاں کے رائج نظام اور فرانسیسی جمہوریت کو اپنانے اور اس میں شمولیت سے احتراز کو ایک متوازی نظام تشکیل دینے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اولاً اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اگر یہ بات صحیح بھی ہو، تو اس کی وجہ سے فرانس کے مسلمانوں کو قابلِ ملامت ٹھہرانا درست نہیں ہوسکتا؛بلکہ وہ ملک قابلِ ملامت ہے، جو اپنے شہریوں کے ایک طبقے کو سختی اور زبردستی کی بجاے نرمی اور ہمدردی کے ساتھ اور تہذیبی تنوع کے اعتراف کے ساتھ اپنا حصہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ پس ایک ہم آہنگ و متحد فرنچ قوم کی تشکیل محض ایک خواب و خیال رہ جائے گی،اس وجہ سے نہیں کہ وہاں کے مسلمان یا کوئی اور طبقہ اس خیالی قوم کا حصہ بننے سے انکار کرتا ہے؛بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والی فرانسیسی حکومتوں کی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے،جو شہری کے طورپر ان کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتیں اور ان کے مذہبی و کلچرل بیک گراؤنڈ کا احترام نہیں کرتیں۔ فرانس اب بھی اپنے ملک کے مسلمان شہریوں، بالخصوص ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں وہاں مہمان ملازمین کی حیثیت جانے والے اور پھر وہیں بس جانے والے لوگوں کے ساتھ اب بھی استعماری ذہنیت کے تحت برتاؤ کرتاہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فرانس کی معاشی ترقی میں تعاون کرنے کے لیے وہاں گئے تھے،پھر وہیں مقیم ہوگئے ،ان میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقہ سے تھا اور وہ اپنے وطن نہیں لوٹے،مگر فرانس آج بھی ان کے ساتھ مہاجروں جیسا سلوک کرتا ہے،انھیں وہ حقوق حاصل نہیں،جو فرانس کے سفید فام شہریوں کو حاصل ہیں۔

فرانس کا اپنے مسلمانوں اور مہاجرین کے ساتھ سلوک امریکہ کے سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ سلوک کی یاد دلاتا ہے،یعنی فرانس کے مسلمانوں کا مسئلہ وہی ہے جس سے امریکی سیاہ فام شہری گزرتے رہے ہیں،جنھیں مختلف سماجی سطحوں پر حاشیہ نشینی کا سامنا ہے۔ آج بھی امریکی حکومت اور سرکاری ادارے انھیں شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں،ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا،میکرون کی ریڈیکل اسلام والی بات ٹرمپ کی اس قسم کی باتوں سے مختلف نہیں ہے،جو کہ جہالت اور چند متشدد مسلمانوں کو بقیہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں خلط ملط کردینے کا نتیجہ ہے۔ ایسا کبھی کبھی اسلامی سیاست کی لہروں کے خوف سے جان بوجھ کر بھی کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں میکرون اور بعض عرب سلطنتوں؍ملکوں کے مابین مضبوط گٹھ جوڑ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جو ایسی اسلامی لہروں کے درپے رہتی ہیں اور اعتدال و انتہا پسندی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتیں۔

دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو سوسے کچھ زائد سالوں کے بعد فرانسیسی جمہوریت کی راہیں مسدود ہوگئی ہیں اور آج وہ ایسے حقیقی بحران سے دوچار ہے، جس سے نکلنا مشکل نظر آرہاہے۔ الایہ کہ اس جمہوری ماڈل کے ڈھانچے اور اخلاقی حیثیت پر نظر ثانی کی جائے،اس کے دائرے میں تمام مہاجرین(چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم اقلیات) کو شامل کیا جائے اور انھیں حاشیے پر رکھنے اور ان کے ساتھ نسلی تفریق برتنے کی پالیسی کو خیرباد کہا جائے،انھیں ملک اور معاشرے کے لیے بوجھ یا خطرہ سمجھنے کی بجاے ملک کا حقیقی شہری سمجھا جائے اور اسی حیثیت سے ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔

 

(مضمون نگار جونز ہوپکنز یونیورسٹی، امریکہ میں سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے استاذ ہیں اور متعددبین الاقوامی اداروں کے ریسرچ فیلو رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کی تاریخ،سیاست اور نظریات کے حوالے سے ان کی ایک دستاویزی تصنیف ہے’’الإخوان المسلمون في مصر: شيخوخة تصارع الزمن؟‘‘۔یہ مضمون الجزیرہ عربی میں ۲؍نومبر کو شائع ہوا ہے۔)

 

 

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*