فرانس نے ماضی میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل کیا،مسلمان بدلے کا حق رکھتے ہیں،سابق ملائشیائی وزیر اعظم کے ٹوئٹ پر ہنگامہ،ٹوئٹر نے فوراً ایکشن لیا

لندن:ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثرمحمد کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اس بات کا حق ہے کہ وہ ماضی کے ظلم پر طیش میں آئیں اور فرانس کے لاکھوں لوگوں کا قتل کردیں۔ٹوئٹر کی جانب سے مآثر محمد کی اس ٹوئٹ پر فوری ایکشن لیا گیا اور ان کی یہ ٹوئٹ ہٹا دی گئی جبکہ فرانس نواز صارفین، جنہیں گستاخی ٔ رسول پر سانپ سونگھ جاتا ہے ، کی طرف سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی‘رائٹر’ کے مطابق مآثرمحمد کا یہ تبصرہ طویل بلاگ کا حصہ تھا جو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔مآثرمحمد نے اپنی پوسٹ کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ بطور مسلمان انہوں نے فرانسیسی ٹیچر سیموئیل پیٹی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ آزادی اظہار رائے کو دوسروں کی توہین کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو قتل کرنا وہ عمل نہیں ہے جس کی بطور مسلمان میں اجازت دوں گا، لیکن چونکہ میں اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں، میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس میں دوسروں کی توہین کرنا شامل ہے، آپ کسی کے پاس جاکر اسے صرف اس لیے بھلا بْرا نہیں کہہ سکتے کیونکہ آپ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔مسلم دنیا کے ممتاز رہنما کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے پاس غصہ ہونے کا حق ہے اور وہ ماضی کے جرائم کا بدلہ چاہتے ہیں۔سابق ملائیشین وزیر اعظم مآثرمحمد نے کہا کہ فرانسیسیوں نے اپنی تاریخ میں لاکھوں لوگوں کو قتل کیا ہے جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔انہوں نے کہا کہ ‘اس لیے مسلمانوں کے پاس اس بات کا حق ہے کہ وہ ماضی کے ظلم پر طیش میں آئیں اور فرانس کے لاکھوں لوگوں کا قتل کردیں، لیکن عام طور پر مسلمانوں نے آنکھ کے بدلے آنکھ کے قانون کا اطلاق نہیں کیا، وہ ایسا نہیں کرتے اور فرانسیسیوں کو بھی نہیں کرنا چاہیے۔مہاتیر محمد نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر مذہب اسلام اور مسلمانوں پر الزام لگایا۔فرانس کے اسکول میں گستاخانہ خاکے دکھائے جانے کا دفاع کرنے پر متعدد مسلم اکثریتی ممالک نے ایمانوئیل میکرون سمیت فرانسیسی حکام پر تنقید کی تھی۔ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم اکثریتی ملائیشیا شہریوں کی وجہ سے ایک پرامن اور مستحکم ملک ہے، یہ شہری مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہیں دوسروں کے حساس معاملات کا ادراک ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ باقی دنیا مغرب کے طور طریقوں کی نقل کرتی ہے لیکن نسلوں اور مذاہب کے درمیان ہماری اپنی اور مختلف اقدار ہیں، جسے ہمیں پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*