فرانس کے خلاف احتجاج:اے ایم یوکے اسٹوڈنٹ لیڈرفرحان زبیری کے خلاف ایف آئی آر،گرفتاری کاحکم

علی گڑھ:فرانس میں دہشت گردوں نے نبی کریم ﷺکاکارٹون بناکراورپھراسے اسکولوں میں دکھاکرپوری دنیاکے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑکیاہے،اس پرعالم اسلام نے متحدہوکرفرانس کے اقدام کی مذمت کی ہے اورفرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے جس کے بعدفرانس کے صدرکووضاحت پیش کرنی پڑی ،لیکن میڈیااورفرقہ پرست عناصرکارٹون کی بات ہضم کرکے چرچ حملے پرباتوں کوگھمارہے ہیں،بھارت میں بھی فرقہ پرست عناصرنے اسے ہوادیناشروع کردیاہے ۔بلکہ ایک طبقہ خوش ہے۔دوسر ی طرف ناموس رسالت کی حفاظت پرمسلسل احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی طلبہ نے مظاہرہ کیا۔ اس دوران اسٹوڈنٹ لیڈر فرحان زبیری نے تقریرکی۔ پیر کو ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعدفرحان کے خلاف سول لائن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں فرحان زبیری نے مبینہ طورپر قتل کے جوازکو پیش کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یوکے اسٹوڈنٹ لیڈراوراے آئی ایم آئی ایم لیڈر فرحان زبیری نے کہا کہ اگر کوئی حضرت محمدصاحب کی طرف انگلی بھی اٹھائے تو ہم اس کی انگلی توڑ دیں گے اور اگر کوئی نظر اٹھا کردیکھے گاتو آنکھیں نکال لیں گے اور اگر کوئی اگر آپ ان کی توہین کرتاہے تو اس کا سر کاٹ ڈالیں گے۔ کیونکہ ہماری بنیاد کلمے سے ہے،لا الہ الا اللہ محمداررسول اللہ۔ان مظاہروں سے فرقہ پرست عناصرکوکافی تکلیف ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس سول لائن اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایس پی سٹی ابھیشیک نے بتایا کہ فرحان زبیری کے خلاف 29 اکتوبرکومظاہرے کے سلسلے میں مبینہ اشتعال انگیز بیانات دینے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پردفعہ 153 اے اور506 آئی ٹی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے۔ وہ فرارہیں۔انھیںجلدہی گرفتار کرلیا جائے گا۔