بی جے پی کا یومِ تاسیس: سنگھ کے بغیر بھاجپا کے پاس اپنا کیا ہے؟- ہریش بی شرما

بھارتیہ جنتا پارٹی آج اپنا یوم تاسیس منا رہی ہے۔ یہ پارٹی آج کے دن 1980 میں بنی تھی۔ نشان ملا کنول کا پھول ،کمل کا نشان اپنے اندر ایک گہرا روحانی معنی رکھتا ہے؛ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ محض ایک انتخابی نشان رہ گیا۔ نعرہ لگایا گیا’اٹل اڈوانی کمل نشان، یاد رکھے گا ہندوستان’۔ اب ایل کے اڈوانی حاشیے پر ہیں، ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے،شاید اسی کو’انصاف’ کہا جاتا ہے۔ اس بار بھی اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ ‘اتنی لمبی سزا’ کے بعد بھی بی جے پی ایل کے اڈوانی کو صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کرے گی۔ بی جے پی، جو کبھی لوک سبھا میں دو ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ سب سے چھوٹی پارٹی تھی، آج ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے۔ نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ کا موازنہ براہ راست پنڈت جواہر لال نہرو سے کیا جا رہا ہے۔ سیاسی پنڈت پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ بی جے پی 2024 کا الیکشن بھی جیتے گی،جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نریندر مودی الیکشن جیتیں گے۔

 

 

لیکن حقیقت کیا ہے؟  راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آرایس ایس) کے بغیر کیا بی جے پی میں اتنی سکت ہے کہ وہ خود کو ملک کی اتنی بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر ثابت کر سکے یا نریندر مودی سنگھ کی منظوری کے بغیر ایک قدم بھی آگے بڑھا سکیں؟ اس سوال کا جواب نہ تو پہلی بار پوچھا گیا ہے اور نہ ہی ایسا ہے کہ نہ پوچھا جائے تو کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی یوم تاسیس کا جو جشن منا رہی ہے، آخر اس کے پاس اپنا کیا ہے؟ اگر نہیں تو یہ ماننے میں ہچکچاہٹ کیوں ہے کہ سب کچھ سنگھ کا ہے؟ کیوں نہ اس یوم تاسیس کے موقعے سے عوامی سطح پربہ آوازِ بلند ، پورے خلوص کے ساتھ، بی جے پی کو یہ مان لینا چاہیے کہ ہم جو کچھ ہیں سنگھ  کی وجہ سے ہیں، سنگھ کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں ہیں؛ لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ یہ ماننے کے لیے طاقت چاہیے۔ اگر یہ طاقت نہیں ہے تو ملک کی سب سے بڑی پارٹی سمجھی جانے والی بی جے پی اس دن یہ عہد کرے کہ وہ سنگھ سے پرے بھی اپنا وجود ثابت کرے گی۔ مگر یہ بھی ممکن نہیں ہے اور اسی لیے بی جے پی کارکن ملک بھر میں ‘سیلفی ود فلیگ’ پروگرام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام دن بھر جاری رہیں گے اور یوم تاسیس منالیا جائے گا۔

ایسی کئی مثالیں ملک اور دنیا میں دیکھی گئی ہیں، جہاں مختلف سیاسی پارٹیاں حکومتیں چلاتی ہیں، موجودہ دور میں حکمرانی کا یہی غالب نظام ہے۔ ہمارے یہاں کانگریس، بی جے پی، عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، کمیونسٹ پارٹی جیسے نام ہیں، یہاں تک تو ٹھیک ہے؛ لیکن ایک ایسی تنظیم جو یہ کہتی ہو کہ اس کا سیاسی مداخلت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؛ لیکن اس سے نکلنے والے کارکنان سیاسی جماعت کے ذریعے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ جائیں، تو اسے کیا کہا جائے گا؟ اٹل بہاری واجپائی سے لے کر نریندر مودی تک کسی نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ سنگھ کے سویم سیوک نہیں رہے ہیں؛ بلکہ اب تو یہ بی جے پی کی سیاست کا ایک تسلیم شدہ شناخت نامہ ہے۔ مودی حکومت کے قیام کے بعد سے سنگھ کی شاکھاؤں میں کرشماتی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ آج اگر بی جے پی میں کوئی ایسا نیتا ہے بھی ،جو بچپن میں سنگھ کی شاکھاؤں میں نہیں گیا ، تب بھی وہ یہ کہنے میں ہچکچاتا ہے کہ  سنگھ سے اس کا تعلق نہیں رہا ہے۔ اپنی سبکی دور کرنے کے لیے وہ سب سے پہلے آر ایس ایس سٹور روم سے تصویریں خریدتا ہے اور اپنے ڈرائنگ روم میں لگاتا ہے؛ تاکہ کوئی سوال ہی پیدا نہ ہو۔

 

 

کیا وہ ایسا کیے بغیر بی جے پی کا نیتا نہیں بن سکتا؟

یہ سوال کرنے  پر کچھ  ایسے نام گنا دیے جاتے ہیں، جنھوں نے سنگھ کی پروا نہیں کی۔ یہی نہیں، الیکشن کے دوران سنگھ کے ذریعے کسی امیدوار کی تعریف و تحسین کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اچانک سنگھ کے پرچارکوں کے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں ہر پرچارک یہ کہتا نظر آتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کا کام سیاست نہیں، سنگھ کی شاکھاؤں سے جڑا ہے؛ لیکن اس بات کو کوئی نہیں مانتا۔

ایسے میں اس بار جب بی جے پی اپنا یوم تاسیس منا رہی ہے، تو کیا وہ اس موضوع پر غور کرے گی کہ سنگھ کے بغیر اس کا اپنا وجود اور حیثیت کیا ہے؟ صحیح بات یہ ہے کہ آج بی جے پی میں بلاک اور سرکل کی سطح پر اس موضوع پر میٹنگیں ہونی چاہئیں اور اس پر مناسب بحث ہونی چاہیے کہ بی جے پی کے وجود کی  وجہ کیا ہے؟ بھلے ہی اس گفتگو کا لبِ لباب سنگھ کے اثر سے آزادی نہ ہو ؛ لیکن اس حقیقت کو ماننے میں کیا جاتا ہے۔ کم از کم  کھلے ذہن کے ساتھ بھاجپا والے  یہ مانیں تو کہ اگر سنگھ کی تجربہ گاہ سے نکلنے والے سیاسی ذہنیت کے رضاکاروں کو بی جے پی میں موقع نہیں ملتا، تو آج نریندر مودی تو کیا ، 1980 میں جو اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی کی شکل میں دو ایم پی منتخب ہوئے تھے ،وہ بھی نہ ہوتے۔

 

ترجمہ:نایاب حسن

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*