فلائنگ سِکھ کی آخری اُڑان-صفدر امام قادری

جدید ہندستان کی تاریخ کھیل کوٗد کے سلسلے سے اُس انداز سے باوقارنہیں کہی جا سکتی جیسے یوروپ اور امریکا کے مختلف ممالک میں سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔اولمپِک میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایک صدی سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔مگراِسی ماحول میں غیر منقسِم ہندستان میں ہاکی اور کُشتی نے ضرور بعض ایسی قابلِ احترام شخصیات پیش کیں جنھیں ایک عالَم نے تسلیم کیا تھا۔ ہاکی میں کھیل کے جادو گر دھیان چندنے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے دَور میں اس صِنف کو کچھ ایسا فروغ دیا کہ آزاد ملک میں قومی یومِ کھیل کے طَور پر میجر دھیان چند کے یومِ پیدایش ۲۹؍ اگست کو مقرر کیا۔اُسی طرح آزادی سے پہلے کُشتی کے دنگل میں گاما پہلوان کا ایک ایسا کردار اُبھرا جس نے یوروپ کے پہلوانوں کو دہشت میں مُبتلا کر رکھا تھا۔اِن دونوں کے بعد جس ایک شخصیت نے ہندستان کے وقار کو’ٹریک اینڈ فیلڈ‘ کے شعبے میں آسمان تک پہنچایا، وہ مِلکھا سِنگھ کی ذات تھی۔اُس وقت ہی کیا،آزادی کے ۷۴؍ برس پورے ہوئے مگر ایتھلے ٹِکس کے شعبے میں ہندستان عالمی سطح پر اب بھی کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ایسے ماحول میں آج سے ۶۱؍ برس پہلے روم اولمپک میں ۱۹۶۰ء میں ۳۱؍ برس کا ایک نوجوان جب چار سو میٹر کی دوڑ میں عالمی ریکارڈ توڑتا ہے تو وہ کتنا حیرت انگیز کارنامہ ہوگا، اس کا اندازہ کیا جا سکتاہے۔
سب اس بات سے واقف ہیں کہ مِلکھا سِنگھ سابق مُتّحدہ پنجاب کے اُس خطّے سے آتے ہیں جو تقسیمِ مُلک کے بعد پاکستان کا حصّہ ہو گیا۔تقسیم کے فسادات میں مِلکھا سِنگھ کا پورا خاندان دہشت اور بربریت کا شکار ہوا اور بہ شمولِ والد متعدّد قریبی رِشتہ دار اپنی جان نذر کرنے پر مجبور ہوئے۔مِلکھا سِنگھ نوجوان تھے اور لڑکپن کی دہلیز پار کر رہے تھے، کسی طرح اپنی جان بچا کر اُس بربریت سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔فُٹ پاتھ سے لے کر بھوکے اور ننگے بسر کرنے کا مقدّر اُن کے ہاتھ میں آیا۔ ٹرین میں چلتے ہوئے ٹِکٹ خریدنے کی رقم نہیں تھی اور وہ پکڑے گئے۔اس کے لیے اُنھیں جیل بھی جانا پڑا۔محض اتّفاق ہے کہ فوج کی تقرّری میںوہ گانوں کے دوسرے بچّوں کے ساتھ شریک ہوئے اور منتخب ہوگئے۔یہ الگ بات ہے کہ بھوک اور مفلوک الحالی سے پریشان مِلکھا کو یہ معلوم ہوا تھا کہ فوج کے انتخاب کے موقعے سے ایک گِلاس دودھ بھی مِلے گا، اِسی لالچ میں وہ اُس ٹرائل تک پہنچے۔مگر ہندستان ی فوج میں شامل ہونے کے بعد اُن کی زندگی بدل گئی۔رفتہ رفتہ وہ دوڑ کی طرف راغب ہوئے اور پھر علاقائی ، قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں وہ کچھ ایسا بڑھے کہ تقریباً بیس برس کے عرصے میں انھیں ہندستانی کھیل کوٗد کا واحد شناخت نامہ سمجھا گیا۔
مِلکھا سِنگھ نے ہر چنداولمپک میں کوئی میڈل نہیں حاصل کیا۔ روم اولمپک میں جب وہ عالمی ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوئے ، اس کے باوجود انھیں چوتھے مقام پر ہی صبر کرنا پڑا۔اُس سے پہلے کئی برسوں سے وہ چار سو میٹر کے لیے پینتالیس اشاریہ سات کے عالمی ریکارڈ کا کاغذ محفوظ رکھتے تھے ، جِسے انھوں نے پار کر دِکھایا۔ایشیائی اور کامن ویلتھ گیمس یا دیگر عالمی چیمپین شپ میں وہ کُل ۸۰؍ مقابلوں میں شریک ہوئے جن میں سے ۷۷؍ مقابلوں میں وہ فاتح قرار پانے میں کامیاب ہوئے۔اپنے کاموں میں اِرتکاز، مشقّت اور بلندی پر خود کو قایم رکھنے کی جیسی جِدّو جُہد مِلکھا سِنگھ نے کی، ہندستانی کھیل کوٗد کی تاریخ میں ایسا شاید ہی کوئی دوسرا کردار ہمیں نصیب ہو۔کھیل کوٗد سے فراغت کے بعد مِلکھا سِنگھ نصف صدی سے زیادہ دورانیے تک زندہ رہے۔خدا نے انھیں لمبی عمر عطا کی۔ اکیانوے برس سے زیادہ وہ جِیے۔ اس دوران انھوں نے اپنے مقام و مرتبے کا خیال رکھا۔کسی غیر ضروری تنازعے کا شِکار نہیں ہوئے اور اپنے قول و عمل سے ہندستانی کھیل کوٗد کے لیے ایک نشانِ ترغیب بنے رہے۔
ایک شہری کی حیثیت سے مِلکھا سنگھ نے رفتہ رفتہ اپنا وَقار بڑھایا۔دھیان چندکی وفات کے بعدہندستانی اسپورٹس کے لیے وہ سب سے مثالی کردار کے طَور پر موجود رہے۔نئے کھلاڑیوں کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کا ایک خاص منبع ملکھا سنگھ کی اپنی ذات تھی۔ مِلکھا سنگھ نے اپنی خود نوشت میں اقبال کا وہ شعر درج کیا ہے کہ ایک انسان اور بالخصوص کوئی اسپورٹس مَین اپنی زندگی میں کامیابی کا راستا اور منزل کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔مِلکھا نے اقبال کا یہ شعر لکھا:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے کہ دانا خاک میں مِل کر گُلِ گلزار ہوتاہے
مِلکھا سنگھ اردو زبان کے رَسیا اور ہندسان کی مُشترکہ تہذیب کے سچّے ترجمان تھے۔ ان کی ذاتی ڈائری اور خطوط کا ایک اچھّا خاصا سرمایہ اردو میں لکھا گیا۔اُن کی شخصیت میں توازن اور استقلال کا مادّہ ایسا تھا کہ وہ تقسیمِ مُلک کے فسادات کے شدید متاثّرین میں تھے مگر کبھی مُشترکہ تہذیب کی مخالفت یا اُس کے تئیں کسی برہمی کا جذبہ اُن کے اندر نہیں دیکھا گیا۔ اس کے برخلاف وہ ہمیشہ ہند-پاک دوستی کے طرف دار رہے اور دونوں مُلکوں کے عوام کے درمیان رابطے کی گنجایشیں پیدا ہوں، اس کے لیے وہ وکالت کرتے رہتے تھے۔خوش ونت سنگھ، کُل دیپ نیّر اور ملکھا سنگھ میں سے اب سب راہیِ ملکِ عدم ہوئے، یہ ایسے افراد تھے جو تقسیمِ وطن کے بعد ہندستان آئے مگر ہمیشہ اُن مُشکل دنوں کی زہر آلوٗدگیوں سے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے اور ہمیشہ دونوں مُلکوں کے خوش گوار روابط کے ترجمان بنے رہے۔
مِلکھا سِنگھ کو جب ’فلائنگ سِکھ ‘ کا خطاب مِلا، تب وہ بھی ایک یادگار لمحہ تھا۔جواہر لال نہروٗ اور ایوب خاں کی کوششوں سے ہند-پاک کھیل کوٗد کا سلسلہ شروع ہوا اور پاکستان میں ہی اجتماعِ اوّل مقرّر تھا۔ہندستانی ٹیم کے سربراہ کے طَور پر جواہر لال نہروٗ نے ملکھا سنگھ کے نام کا انتخاب کیا۔ پاکستان کی دھرتی پر جانا اوراپنے لڑکپن کے خون کے دریائوں کو پارکرنا اور عذابوں میں خود کو مُبتلا کرنے جیسا تھا۔مِلکھا سنگھ اوّلاً تیّار نہیں تھے مگرجواہر لال نہروٗ کی گُزارش اور ترغیب سے وہ پاکستان گئے۔دو سو میٹر کی دوڑ میں جب انھوں نے پاکستان کے سب سے تیز دوڑنے والے عبدالخالق کو دس گز پیچھے چھوڑتے ہوئے فتح حاصل کی تو اس وقت میدان میں پاکستان کے صدر ایوب خاں بہ نفسِ نفیس موجود تھے اور طلائی تمغہ پہناتے ہوئے مِلکھا سِنگھ کے لیے انھوں نے جو اپنے جذبات پیش کیے ، ان میں یہ بات کہی کہ آج تم دوڑے نہیں بلکہ تم اُڑے ہو، اس لیے پاکستانی حکومت تمھیں ’فلائنگ سِکھ‘ کا خطاب عطا کرتی ہے۔ یہ فی الحقیقت اُن کے حقیقی وطن کی جانب سے شرفِ قبولیت کا ایک پروانہ بھی تھا۔
آج سے آٹھ نو برس پہلے کا واقعہ ہے۔ مَیں میسور جانے کے لیے دہلی ایئرپورٹ پر بنگلور کی فلائٹ میں شامل ہونے کے لیے انتظار کر رہا تھا۔اچانک کُل دیپ نیّر نظر آئے۔اُسی زمانے میں اُن کی خود نوشت شایع ہوئی تھی۔مَیں اُس خودنوشت کے سلسلے سے بات کر رہا تھا ۔ تب تک اچانک مِلکھا سِنگھ بھی وہیں پہنچ گئے۔ہمارے ساتھ شمیم حنفی بھی سفر میں شریک تھے۔بورڈنگ کے بعد مجھے مِلکھا سنگھ سے کچھ پیچھے کی جگہ ملی ۔ ان کا قد بھی کچھ اونچا تھا ، اس پر سے پگڑی، دو گھنٹے کی فلائٹ میں اُس پگڑی کو دیکھتا رہا اور اپنے مقدّر پر نازاں تھا۔ فلائٹ سے نکلتے ہوئے بے تابانہ ذوق میں مَیں نے رفتار پکڑی اور جہاز سے نکلتے نکلتے مِلکھا سنگھ سے ہاتھ مِلانے کی عزّت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔اَسّی ؍اکیاسی برس کے اس آدمی کی رفتار ہم سے بڑھ کر تھی۔ پھر وہ آگے نکلتے چلے گئے۔جس نرمی اور ملائمیت سے انھوں نے ہاتھ مِلایا ، وہ اب بھی طبیعت میں گرمی پیدا کر دیتی ہے۔مِلکھا سنگھ پر جب فرحان اختر نے ’بھاگ مِلکھا بھاگ‘ فلم کا خاکا کھینچا تو وہ انھیں کچھ رقم بھی پیش کرنا چاہتے تھے مگر مِلکھا سنگھ نے جب اپنے صاحب زادے مشہور گولف کھلاڑی جیو ملکھا سنگھ سے مشورہ کیا تو بیٹے نے رقم لینے سے منع کر دیا۔نتیجتاً ایک روپے کے کانٹریکٹ پر دستخط ہوئے۔یہ الگ بات ہے کہ فلم میں فرحان اختر نے مِلکھا سنگھ کو کچھ اس طرح سے زندہ کر دکھایا جس کے اعزازیے کے طَور پر ملکھا سنگھ نے پچاس برس سے محفوظ رکھے گئے روم اولمپک کے عالمی ریکارڈ بنائے جانے والے اُس جوٗتے کو فرحان اختر کو بہ طور ِ اعزاز عطا کیا۔یہ شاید سب سے بڑا انعام ہو سکتا تھا۔
یہ اچھّا ہوا کہ ملکھا سنگھ کے آخری دَور میں ان پر ایک ایسی فلم بنائی گئی جس میں مسالحہ کم اور حقیقت پر مَدار زیادہ ہے۔نئی نسل اس سے دیکھے گی کہ نابغۂ روزگار شخصیات فیکٹریوں میں نہیں بنتیں ، اوٗبڑ کھابڑ زمینوں میں اور ہمارے گانوں محلّوں میں ہی پیدا ہوتی ہیں اور مشقّت کی بنیاد پر کوئی شخص آگے بڑھ سکتا ہے۔ہندستان اب بھی کرکٹ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کھیل میں موثّر اقدام پیش نہیں کر پا رہا ہے۔ کھیل کوٗد کی ترقّی کا جو انتظام حکومت کی جانب سے ہونا چاہیے وہ بھی بہ راے نام ہے۔ اس لیے نتائج بھی سامنے نہیں آ رہے۔اب سے ساٹھ سال پہلے اُسی مُشکل حالت میں مِلکھا سِنگھ نے اِس مُلک کو ایتھلے ٹکس میں عالمی سُرخیوں میں لا دِیا تھا۔کورونا نے دو دن پہلے اُن کی اہلیہ کو چھینا اور جب وہ جانچ میں منفی ثابت ہو گئے تو قدرت نے انھیں اُٹھا لیا۔پتا نہیں ایسی بڑی اور قابلِ ترغیب اسپورٹس شخصیات اب پھر ہمیں کب نصیب ہوں گی۔