آزادی کے ۷۵؍برس :نئی نسل کے مصنفین کی تلاش کا انوکھا پروگرام-صفدرا مام قادری 

 

شعبۂ اردو، کا لج آف کا مرس ،آرٹس اینڈ سائنس ،پٹنہ

جون کے مہینے میں حکومت ہند کی طرف سے ملک میں نوجوان مصنفین کی تلاش، ان کی تربیت اور انھیں پشت پناہی دینے کی ایک اسکیم کا اعلان ہوا جسے براہِ راست وزیر اعظم ہند کے حوالے سے مشتہر کیا گیا۔ اس کام کے لیے نیشنل بک ٹرسٹ کو اساسی ادارہ منتخب کیا گیا اور اسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ ہندستان کی بائیس زبانوں میں تیس برس سے کم عمر کے ابھرنے والے اہالیانِ قلم کی پہچان کرکے اور انھیں ماہرین سے تربیت کراکر ان کی تصانیف کو بڑے علمی حلقے تک پہنچایا جائے۔ چھے مہینے تک پچاس ہزار روپے ماہانہ فیلوشپ کے علاوہ ان نونہالوں کو ملک کی کثیر تہذیبی و ثقافتی جھلک بھی دکھائی جائے گی۔ اس اشتہار میں اس بات کا بھی اعلان تھا کہ ۱۵؍اگست۲۰۲۲ء کو وزیر اعظم ہند کی طرف سے ان انعام یافتگان کے ناموں کا اعلان بھی ہوگا۔

گذشتہ سات برسوں سے نریندر مودی کی حکومت دنگا فساد اور سیاسی شگوفے بازی میں نفرت کی سیاست میں کچھ اس طرح سے منہمک رہی ہے کہ اس کے کاموں کے احتساب کے مرحلے میں ہمیشہ ملک کا سیکولر اور دانش ور طبقہ مضمحل اور مایوس رہتا ہے۔ اکثر ہمیں اس بات کی توقع بھی نہیں ہوتی کہ کوئی نیک اور عوام موافق اقدام اٹھانے میں اس حکومت کی خاص دلچسپی بھی ہوگی۔ کورونا کے دور میں حکومت کی شقی القلبی اور عوامی مسائل سے بے رخی کے اتنے ثبوت فراہم ہوئے کہ کسی کو کیوںکر ایسی حکومت سے ملک کے عوام کے بارے میں کسی سنجیدہ کاوش کا یقین ہوسکے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی پشت پر بیٹھی آر ایس ایس کے سیاسی ، سماجی اور تاریخی شعور سے ملک کا دانش ور طبقہ ہمیشہ اختلاف کرتا رہا ہے۔ ایسے میں جب آزادی کی ۷۵ویں برس کی تکمیل پر جشن کے سلسلے سے تیاریاں شروع ہوئیں تو ملک کے ایک بڑے حلقے میں طرح طرح کے شبہات بھی پیدا ہونے لگے۔ ایک بڑا سوال تو یہی تھا کہ جس پارٹی کے مورث اعلا نے آزادی کی جنگ سے خود کو الگ تھلگ رکھا اور جہاں جہاں ضرورت پڑی ، کبھی جیل سے معافی مانگ کر بھاگ نکلے یا انگریزوں سے مل کر اپنا کام کرتے رہے؛ ایسی جماعت کو جشنِ آزادی کے ۷۵؍برس کے اہتمام میں شاید ہی کوئی قلبی دلچسپی ہو۔ مگر یہ سچائی ہے کہ جو برسراقتدار ہوگا، اسے ہی ایسے اہتمامات کو انجام دینا پڑے گا۔ آزادی کی سلور جوبلی اور گولڈن جوبلی کے دور میں کانگریس کی وزارتیں تھیں اور بڑے اہتمام سے ہزاروں پروگرام اور طرح طرح کے کام انجام دیے گئے۔ اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھی آزادی کے ۷۵؍برس کی تکمیل پر بہت سارے پروگراموں کا خاکہ بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی اعتقادات کی حسبِ ضرورت تشہیر کرے گی اور یہ کام بھی اسے کرنا ہے کہ بعض حقایق کو جوڑ توڑ کرکے یہ ثابت کیا جاسکے کہ جنگِ آزادی کے سلسلے سے ہندووادی طاقتوں کی خدمات بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔

ہندستان کی تکثیریت اور ثقافتی و تہذیبی اعتبار سے رنگا رنگی کو استحکام بخشنے کے لیے جواہر لال نہرو اور ان کے رفقاے کار نے اور متعدد کانگریسی حکومتوں نے ہندستان میں کچھ انوکھے ادارے قائم کیے۔ جن میں نیشنل بک ٹرسٹ، ساہتیہ اکادمی اور سنٹرل انسٹی ٹیوٹ اور انڈین لینگویجز جیسے ادارے خاص اہمیت کے حامل ہیں جہاں ملک کی کشادہ ذہنی اور کشادہ قلبی کے اظہار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے۔ ابھی وزیر اعظم ہند نے ہندستان کی تمام قابل ذکر زبانوں میں قومی اہمیت کی کتابیں چھاپنے کے لیے سب سے مشہور سرکاری ادارے نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا(دہلی)کو یہ ذمے داری سونپی کہ جشنِ آزادی کے ۷۵؍برس کی تکمیل کے موقعے سے ہندستان کی نئی نسل میں مصنفین کی شناخت کی جائے۔ وزیر اعظم نے اپنے’’ من کی بات‘‘ میں بھی ایک بات اس موضوع پر چند جملے عرض کیے تھے مگر کسی پریس یا کسی دانش ور نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ غالباً یہ بات بھی پس پشت ہوگی کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جس کے بارے میں یہ بات مشہور ہو کہ اسے دانش وری سے بیر ہے، اسے تصنیف و تالیف کے شعبے پر مرکوز ہونے کی کون سی ضرورت پڑ گئی۔ غالباً انھی اسباب سے جون میں اس پرجوش اسکیم کے اعلان کے باوجود نہ واویلا ہوا اور نہ ہی جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل پائی۔ موجودہ حکومت ہر کام میں مالی خرد برد یا اداروں کی خرید و فروخت میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے، اس لیے شروع میں کسی نے اس بات پر توجہ ہی نہیں دی کہ وزیر اعظم کی جانب سے نئی عمر کے مصنفین کی تلاش اور تربیت و نگرانی کی مہم چھیڑنے کے ظاہری اور باطنی کچھ مقاصد ہیں یا نہیں؟

تیس برس کی عمر ہندستان جیسے پسماندہ یا ترقی پذیر ملک میں کچھ ایسی زیادہ بھی نہیں ہوتی کہ اس سے توقع کی جائے کہ وہ تصنیف و تالیف کا شعبہ اپنے لیے منتخب کرے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کم عمر کے مصنفین سائنس داں اور کاروبار میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کا تذکرہ آئے دن سننے کو ملتا ہے۔ ہمارے ملک میں تو تیس برس امتحان دینے اور اس میں فیل پاس کرنے میں بیت جاتے ہیں۔ بے روزگاری اور مستقبل کی ایسی فکر ہے کہ آزادانہ طور پر کسی ایسے پیشے کی طرف ڈگمگاتے قدموں سے بھی نوجوان آگے نہیں بڑھنا چاہتے جہاں مالی اعتبار سے کوئی ٹھوس استحکام نہ ہو۔ پورے ملک میں تصنیف و تالیف ایسا شعبہ ہرگز نہیں ہے چاہے وہ انگریزی زبان ہی کیوں نہ ہو کہ نئی نسل خود کو مالی اعتبار سے مضبوط بنانے کے لیے کتابیں لکھنے کے لیے میدان میں اتر آئے۔ یہ بات الگ ہے کہ ہر قوم کو کتابیں لکھنے والے چاہیے اور نئی دنیاان کے ذہن اور ان کی کاوشوں کے بغیر نہیں سامنے آسکتی۔ مگر کبھی کسی حکومت یا کسی ادارے کو اس کی فکر نہیں ہوئی۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ پہلے شبلی نعمانی کو یہ خیال آیا کہ ملک میں نئی نسل سے ان لوگوں کو منتخب کیا جائے جو تصنیف و تالیف کے میدان میں اتر سکتے ہوں اور جنھیں آنے والے وقت کا مصنف بنایا جاسکتا ہے۔ ۱۹۱۰ء سے ہی شبلی نعمانی دارالمصنفین کے خواب کی تکمیل کے لیے ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ کتب خانہ کیسا ہو، طلبہ کو اس سلسلے سے کون سا نصاب پڑھایا جائے، مہمان خانہ کیسا ہو؛ ان سب کے انتظامات میں وہ لگ گئے تھے۔ موت نے انھیں مہلت نہ دی مگر ان کے لایق شاگرد سید سلیمان ندوی نے ان کے خوابوں کی تکمیل کی اور دارالمصنفین ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کام کررہی ہے۔ مگر ایسی کوششیں گذشتہ صدی میں اور کسی گوشے سے سامنے نہیں آئیں۔

وزیر اعظم کی اس ’’یووا‘‘ اسکیم کا خاکہ بڑے سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ تیس برس کی عمر کے لوگوں کو یہ موقع دیا گیا کہ جنگِ آزادی کے پروانوں کی اپنی علاقائی زبانوں میں ایک مختصر تاریخ بطور نمونہ پیش کریں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ لوگ جن کا تذکرہ ہماری مشہور تاریخوں میں درج نہیں، انھیں خاص طور سے اہمیت دی جائے۔ ہندستان کی ۲۲؍زبانوں کی فہرست دے دی گئی کہ ان میں سے کسی زبان میں یہ نوجوان اپنے مضامین پیش کریں۔ خاکہ یہ مقرر کیا گیا کہ ان تمام زبانوں میں جو تجویزیں آئیں گی، ان میں سے منتخب ۷۵؍افراد کو تصنیف و تالیف اور تحقیق و تدقیق کی ماہرین کے ذریعہ انفرادی اور اجتماعی تربیت دی جائے گی تاکہ آنے والے چھے مہینوں میں یہ بچے اپنی تجویز پر ایک مکمل کتاب تیار کرسکیں۔ جسے نیشنل بک ٹرسٹ شایع کرے گا اور اسکیم کی تکمیل پر پچاس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ان منتخب نونہالوں کو تین لاکھ روپے فیلوشپ کے طور پر دیے جائیںگے۔

۳۱؍جولائی کو آخری تاریخ مقرر تھی جب نوجوانوں کو اپنے مضامین جمع کردینے تھے۔ ہندستان میں نئی نسل کی بے روزگاری اور اس کی مشکلات کے علاوہ کورونا وبا کے انتشار کے ساتھ ملک بھر کی یونی ورسٹیوں کے کام کاج کے بند ہونے اور کتب خانوں کے مقفل ہونے کے مسائل کے باوجود مختلف ذرایع سے یہ اطلاع ملی کہ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے نوجوانوں نے اپنے مضامین بھیجے اور اس اسکیم کا حصہ بننے اور اپنے انتخاب کا دعوا پیش کرنے میں مشکل حالات کے باوجود یہ نئی نسل اس قدر پُرجوش رہی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ملک بھر میں اگر بیس پچیس ہزار بچے خود کو تصنیف و تالیف کے شعبے میں لانے کے لیے سرگرم عمل ہیں تو یہ ہمارے لیے نیک فال ہے اور یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ ہمارے نظام تعلیم کی ہزار ناکامیوں کے باوجود اس میں تخلیقیت اور نئے خواب دیکھنے کی استعداد بچی ہوئی ہے۔ انگریزی اور ہندی زبانوں میں بے شک بڑی تعداد میں لوگوں نے مضامین لکھے ہوںگے مگر ذرایع سے یہ خوش آیند خبر برآمد ہورہی ہے کہ اردو زبان میں بھی تقریباً چار سو کے آس پاس ہماری نئی نسل کے لکھنے والے میدان میں اتر کر اپنی صلاحیت کے امتحان کی خاطر سامنے آئے ہیں۔ خدا کرے کہ حکومت کا یہ پروگرام کامیاب رہے اور حکومت ۷۵؍یا اس سے زیادہ لایق و فایق نوجوانوں کو چن کر ان کی پشت پر اپنی طاقت اور صرفہ لگائے اور وہ آنے والے وقت میں قلم کے جادوگر بن کر اپنے ملک ، اپنی قوم اور اپنی زبان کا علم بلند کریں۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان منتخب ۷۵؍نوجوانوں کے علاوہ اس مقابلے میں پانچ سو اور ایک ہزار نوجوان ایسے بھی ہوں گے جن میں بہترین مصنف بننے کی صلاحیت ہوگی۔ کاش حکومت یا دیگر ادارے انھیں سنبھالنے اور آگے بڑھانے کے لیے بھی کچھ نئی اسکیمیں لائیں تاکہ اس کاروباری دنیا میں قرطاس و قلم کے کاموں کا پھر سے ایک بار اعتبار قائم ہوسکے۔