فائزر کی کووڈ ویکسین جائز ہے؟ ـ ڈاکٹر غلام زرقانی

 

چند ایام پیشتر عروس البلاد ممبئی کے علماءکرام اور مفتیان ذی وقار کی ایک نشست میں کرونا ویکسین کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔فقہی معاملات میں قبل از وقت پیدا ہونے والی صورت حال پر عام طورپر دینی درسگاہوں میں بحثیں ہوتی رہتی ہیں ، جو قطعی معیوب نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے کہ مدارس اسلامیہ کی چہار دیواری کے اندر طلبہ وطالبات کو آنے والے حالات کے پیش نظر تربیت دینا ضروری ہے ۔ تاہم متذکرہ نشست کی رپورٹ اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ کچھ اس طرح شائع ہوئی کہ کرونا ویکسین کے بارے میں بڑے پیمانے پر مسلم معاشرے میں غلط فہمی پھیل گئی۔
بہر کیف، آگے بڑھنے سے پہلے مغربی کمپنیوں کی ایک پالیسی اچھی طرح سمجھ لی جائے ۔ جب دوا یا کھانے کی چیز تیار کرنے والی کمپنیوں سے اجزائے ترکیبی میں کسی خاص چیز کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں استفسارکیا جائے ، تووہ صراحت کے ساتھ اثبات ونفی میں جواب دینے پر مجبور ہوتی ہیں اور غلط بیانی کبھی نہیں کرتیں۔اس کی وجوہات دوہیں ؛ ایک تومعاملات میں سچ بولنے کی عادت اور دوسری یہ کہ پوچھنے والا مسئولہ چیز سے الرجک ہواور غلط بیانی کی وجہ سے وہ کھالے اور بیمار ہوجائے ، توقانونی طورپر کمپنی کو خطیر رقم ہرجانہ کی صورت میں اداکرنا پڑتاہے ۔اس کا تجربہ ایک بار مجھے ذاتی طورپرخود بھی ہوا ہے ۔ برسوں پہلے کی بات ہے کہ امریکہ کی دکانوں میں فروخت ہونے والی وٹامن کی ایک مشہور ومعروف دوا کے بارے میں نے کمپنی کا فون کیااور پوچھا کہ کیااس میں جانور یا جانور سے کشیدکردہ کسی مادہ کی آمیزش ہے؟ ذمہ دارنے پوچھا کہ آپ یہ کیوں معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے جانور یا جانور سے کشیدکردہ کسی مادہ کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔توانھوںنے نہایت ہی صراحت کے ساتھ بتایا کہ یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ عام طورپر اجزائے ترکیبی کے مخصوص مواد کی تفصیلات تووہ نہیں بتاتے ہیں ، لیکن آپ جو پوچھ رہے ہیں ، اس کے بارے میں اثبات ونفی میں جواب ضرور دیتے ہیں ۔
اب آئیے فائزرکی ویکسین کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ میں نے فائزرکے ہیڈ آفس سے بھی رابطہ کیا ہے اور برطانیہ میں مسلم ڈاکٹروں کی انجمن سے بھی ، تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے تقاضے پورے کیے جاسکیں ۔ سب سے پہلے British Islamic Medical Association نے نہایت ہی تفصیل کے ساتھ مجھے جواب دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہماری تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ فائزر کی کرونا ویکسین میں کسی بھی جانور کے اجزا شامل نہیں ہیں ۔اسی درمیان فائزر کمپنی سے بھی ای میل آگئ۔ ای میل میں مکمل اجزائے ترکیبی کی فہرست تھی۔ اس کے بعد جلی حرفوں میں یہ تحریر تھا۔
” Animal or human cell lines are not used in the manufacturing process of the Pfizer BioNTech COVID-19 Vaccine.”
’’ جانور یا جاندار خلیے کا استعمال فائزر کی کووڈ ویکسین کے بنانے میں نہیں کیا گیاہے ۔ ‘‘
مزید برآں ، نیوز ویک کے ایک بیان کے مطابق برطانوی مسلم ڈاکڑوں کی تنظیم نے یہ بھی متحقق کیا ہے کہ فائزر کی کووڈ ویکسین کےاجزائے ترکیبی میں استعمال شدہ مواد یا تو پودوں سے اخذ کیے گئے ہیں ، یا مصنوعی طورپر تجربہ گاہوں میں تیار کیے گئے ہیں ۔
اس قدر صراحت کے بعدمیرے خیال میں فائزر کووڈ ویکسین کے جواز میں کسی طرح کے شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔
یہ تورہی ایک بات، موجودہ وائرس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس طرح سے یہ وائرس نت نئے لبادے میں سامنے آرہاہے ، اس سے توقع یہی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک کورونا ویکسین کو اپنے اپنے شہریوں کے لیے لازمی قرار دے دیں گے۔ دوسرے لفظوںمیں یوں کہہ لیں کہ جس طرح بیرونی سفر کے لیے بہتر گھنٹے پہلے کیا گیا کووڈ ٹسٹ لازم قرار دیا جاچکاہے ، اسی طرح اسکولوں ، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں کام کرنے کے لیے بھی اسے لازم کیا جاسکتاہے ۔ ایسی صورت میں اب مسلمانوں کے پاس صرف دوصورتیں باقی رہ جاتی ہیں ؛ پہلی یہ کہ وہ کورونا ویکسین نہ لگوائیں اور دنیا سے پور ی طرح کنارہ کش ہوکر شب وروز گزاریں، نہ توسفر کریں ، نہ ملازمت کریں ،نہ کسی تقریب میں شرکت کریں، نہ کسی سے میل جول رکھیں ۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ کورونا وائرس کے لیے تجویز کردہ ویکسین لگوائیں ۔ ظاہرہے کہ پہلی صورت ناممکنات میں سے ہے ، اس لیے اب لے دے کے صرف دوسری صورت باقی رہ جاتی ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے حلال اجزا سے تیار کی گئی ویکسین ملک میں موجود ہو، توحرام اجزا سے بنائی گئی ویکسین کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ اس طرح کرونا وائرس کے حوالے سے دینی مجالس میں ہونے والی فقہی بحثوں کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔اور پھر اگر مگر کے ساتھ جواز وعدم جواز پر مبنی فتاوے کی حاجت ہی کہاں رہ جاتی ہے ۔
خیال رہے کہ امریکہ میں موڈرنا( Moderna)کی تیارکردہ ویکسین کی بھی شروعات ہوچکی ہے ۔ اسی طرح اسٹرازینیکا(AstraZeneca) کے بھی جلد ہی بازار میں دستیاب ہونے کی توقع ہے ۔چونکہ اب تک متذکرہ دونوں ویکسین کے اجزائے ترکیبی معلوم نہیں ہوسکے ہیں ، اس لیے حتمی طورپر کچھ کہا نہیں جاسکتاہے ۔ یہاں اس امر سے بھی چشم پوشی ممکن نہیں ہے کہ تصور کریں کہ ہندوستان میں کوئی ایسی ویکسین لازم قرار دی جاتی ہے ، جس کے اجزائے ترکیبی میں حرام اشیا شامل ہوں ،توکیا علمائے کرام اسے حرام قرار دیں گے؟میرے خیال میں معتدل رائے یہ ہونی چاہیے کہ اگر حلال اشیا سے بنی ویکسین کسی کی پہنچ سے باہر ہواور اسے جان بچانے کے لیے بہرکیف ویکسین لینا لازم ہوجائے ،توانفرادی طورپر اس کے لیے اجازت ہونی چاہیے ، جب کہ ایسے لوگ جو حلال اشیائے ترکیبی سے بنی ویکسین لے سکتے ہوں ، توان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حرام اشیا سے بنی ویکسین سے اجتناب کریں ۔
صاحبو! مؤدبانہ عرض ہے کہ علمی مجالس کے انعقاد میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، لیکن خیال رکھا جائے کہ علمی بحثیں اہل علم تک ہی محدود رہیں ،اس لیے کہ جب یہ ثقیل بحثیں عام افراد تک پہنچتی ہیں ، تومعاشرے میں ایک عجیب سے بے چینی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ممبئی میں ہونے والی نشست اپنی جگہ درست سہی ، لیکن اخبارات ورسائل میں اس کی تشہیر مناسب نہیں معلوم ہوتی۔ اب یہی دیکھیے کہ اس بلاضرورت موضوع کے پس منظر میں ایک ہی طبقے کے دوگروہوں کی آرا مختلف ہوگئیں ۔ ظاہرہے کہ جب موجودہ دور میں کورونا وائرس نہایت ہی حساس موضوع ٹھہرا ، تواس سے منسلک ہر موضوع کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے عام لوگ تیزی سے متوجہ ہوئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک ہی مکتبہ فکر کے علمائے کرام اس قدر مختلف افکار وخیالات رکھتے ہیں۔

ghulamzarquani@yahoo.com