فتنوں کے تعاقب میں اکابرِ امارت شرعیہ کا کردار ـ مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

 

امت مسلمہ خیر امت ہونے کے باوجود ہمیشہ فتنوں کی زد میں رہی ہے ۔طاغوتی طاقتیں ہمیشہ اس کے متاع دین وایمان پر ڈاکہ زنی کی کوشش میں رہی ہیں ۔رسو اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ہمیشہ فتنوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے ۔احادیث کی کتابوں میں کتاب الفتن کے نام سے ایک مستقل باب ہے ۔جس میں قیامت تک درپیش فتنوں کے خد وخال کو واضح کرکے ان سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ: جلدی جلدی نیک کام کرلو ان فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کی طرح ہوں گے ،صبح کو آدمی ایمان دار ہوگا اور شام ہوتے ہوتے مرتد ہوکر کافر ہوجائے گا ۔ اسی طرح کبھی شام کے وقت صاحب ایمان ہوگا؛ لیکن صبح ہوتے ہوتے وہ ایمان کی دولت سے محروم ہوچکا ہوگا ۔اس طورپر کہ وہ اپنے متاع دین وایمان کو معمولی سی دنیااور اس کے سازوسامان کی لالچ میں بیچ ڈالے گا ۔یہ روایت صحیح مسلم کی ہے ۔اور امام مسلم نے اس پر عنوان قائم کیا ہے: فتنہ وفساد پھیلنے سے پہلے نیک اعمال کی ترغیب ۔ایک روایت میں ہے ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ۔میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا :مجھے میری امت کے لیے دجال سے بھی زیادہ خطرہ ایک اور چیز کا ہے ۔آپ نے تین مرتبہ اس جملے کو دہرا یا تومیں نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ کونسی چیز ہے؟ تو آپ نے فرمایا گمراہ ائمہ کا ۔۔یہ تو رہا فتنہ پھیلنے سے قبل کی ترغیب لیکن اگر فتنہ پھیل چکا ہو تو اس سے لوہا کون لے گا؟ ۔فتنوں کے استیصال اور ان کی سرکوبی کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ ۔اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اس علم کی ذمہ داری ہر بعد میں آنے والے زمانے کے بہترین لوگ اٹھائیں گے ۔وہ اس میں غالیوں کی تحریف ،تخریب کاروں کی تخریب کاری اور جاہلوں کی ہیرا پھیری کو ختم کریں گے ۔(سنن کبری ،بیہقی ۰۱۹۰۲ ۔)اس حوالے سے حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی قابل ذکر ہے ۔فرماتے ہیں کہ میں نے جو کچھ رسول للہ سے سیکھا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالی اس امت میں ہر صدی کے سرے پر ایسے علماءکو پیدا فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید فرمائیں گے (سنن کبری ،بیہقی )
خلاصہ یہ کہ علمائے دین ہر زمانے میں اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور پیش آمدہ فتنوں کی سرکوبی کے فرائض انجام دیتے رہیں گے ۔اس کے لیے کبھی فرد کو منتخب کیا گیا کبھی جماعت کو اور کبھی ادارے کو۔
ببیسویں صدی میں ریاست بہارو اڑیسہ وجھارکھنڈ کی سرزمین پر فتنوں کی سرکوبی کے لیے من جانب اللہ جس ادارے کا انتخاب عمل میں آیا وہ امارت شرعیہ ہے اور جن شخصیات کو اس عظیم خدمت کے لیے چنا گیا وہ اکابر امارت شرعیہ ہیں ۔اس حوالےسے بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد اور ان کے موید وسرپرست حضرت مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوة العلماءکی خدمات خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
انیسویں صدی کے وسط اور بیسویں صدی کے آغاز پر جن فتنوں نے جنم لیا ان میں آریہ سماج کا فتنہ اپنی شر انگیزی کی وسعت کے لحاظ سے انتہائی خطرناک فتنہ ہے ۔۔آریہ سماج کی طرف سے اسلام پر پے درپے الزام عائد کرکے اس کی روشن شبیہہ کو مسخ کرنے کی مسلل کوشش کی جارہی تھی اور اہل اسلام کو اسلام سے بدظن کرنے کی سازشیں رچی جارہی تھیں ۔خاص طور پر پنڈت دیانند سرسوتی اور منشی اندر من نے اس دور میں اسلام کے خلاف زہر اگل کر اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے پے درپے ہتھ کنڈے اختیار کیے۔اول الذکر نے اپنی کتاب ’ستیارتھ پرکاش ،میں اسلام کو ہدف تنقید بنایا اور جس لب ولہجہ میں گفتگو کی وہ انتہائی اذیت ناک اور اشتعال انگیزتھا ۔آریہ سماج کا بانی منشی رام نامی ایک انتہا پسند ہندو تھا جو بعد میں سوامی شر دھانند بن گیا ۔آریہ سماج (قیام 1875ء)اور ہندو مہا سبھا (قیام 1915ء)کی شہہ پر شدھی کی تحریک شروع ہوئی جس کے ذریعہ مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے سینہ سپر ہونے والی شخصیات میں میں سب سے نمایا ں نام قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور آپ کے تلامذہ حضرت مولانا محمد الحسن ،اور حضرت مولانافخر الحسن گنگوہی کا ہے ۔۔ان حضرات کی تحریک پر بعد کے علماءبھی اس کی سر کوبی کے لیے کمر بستہ ر ہے ۔
شدھی تحریک کے دوسرے دور میں جن شخصیات نے اس کے زور کو توڑا ان میں بانی امارت شرعیہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کانام خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔۔اس حوالے سے مولانا محمد عثمان غنی لکھتے ہیں :
تحریک خلافت کے زوال کے بعد ملک میں جو فتنہ وفساد پھیلا ۔اور شدھی سنگٹھن کی تحریک شروع ہوئی ۔اور ملک کے مختلف حصو میں ارتداد کی وبا پھیل گئی ۔اس کے روکنے میں حضرت مولانا سجاد نے امارت شرعیہ کے کارکنوں سے کام لینے کے علاوہ خود بھی حصہ لیا ۔ملکانہ میں خود دورہ کرکے تبلیغی کام انجام دیے ۔امارت شرعیہ کے متعدد مبلغین کو وہاں متعین کرکے ان سے دفع ارتداد اور تبلیغ واصلاح کا کام انجام دلا یا ۔صوبہ بہار کے گدیوں اور بھانٹوں میں جب ارتداد کی وبا پھیلی تو ضلع چمپارن میں گدیوں کی اصلا ح کے لیے اور ضلع سارن میں بھانٹوں کی اصلاح کے لیے خود بھی دورہ کیا ۔چوں کہ گورکھپور کی طرف سے ان اضلاع میں ارتداد کے جراثیم آتے تھے اس سر چشمہ کو بند کرنے کے لیے حضرت مولانا سجاد نے گورکھپور علاقے کا تبلیغی دورہ فرمایا اور اصلاحی وتبلیغی جلسے کرکے اور متاثر شدہ افراد کی نفسیات کا لحاظ رکھ کر اصلاحی رسائل شائع فرمائے ۔اس طرح ارتداد کی یہ وبا مولانا کی سعی جمیل سے اس صوبے سے ختم ہوگئی ۔اور ان لوگوں کی آئندہ حفاظت اور تعلیم کے لیے متعدد علاقوں میں مسجد قائم کرادی اور اس طرح ہزاروں مسلمان کفر کے آغوش میں پہنچنے سے بچ گئے ۔اور جہنم کا ایندھن بننے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے (حیات سجاد مضمون مولانا عثمان غنی ص ۶۳۱ ،۷۳۱)
اس دور میں ستر ہزار مذہبی مضامین اور پمفلٹ مفت میں تقسسیم کیے گئے ۔(امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب ص ۰۰۲۔)
اسی طرح حضرت سجاد نے اس زمانے کے راج پالی فتنہ کا بھی زبردست تعاقب کیا ۔۔فتنہ راج پال کے انسداد کے لیے صوبہ کے مختلف مقامات پر جلسے کروائے راج پال ایک آریہ تھا جس نے رنگیلا رسول نامی بدنام زمانہ کتاب لکھی تھی ۔اور حکومت پنجاب نے جب اس پر مقدمہ۰ چلایا تو وہ ہائی کورٹ سے رہا ہو گیا ۔اس واقعہ سے تمام مسلمانان ہند میں ایک اضطراب پیدا ہوا ۔اور خطرہ ہوا کہ اسی طرح مفسد اور شریر افراد اپنے خبث نفس کا اظہار کرتے رہیں گے ۔اس بنا پر تمام ہندوستان میں احتجاجی جلسے ہوئے ۔اور حکومت ہندسے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ۔ایک مسلمان نے راج پال کا قتل کردیا اور حکومت ہند نے قانون میں ایسی ترمیم کردی کہ پھر اس طرح کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ۔ (حیات سجادسے مستفاد ۔)
شدھی تحریک کے زیر اثر ضلع سارن کے دو سو بھانٹ مرتد ہوگئے تھے ۔امارت شرعیہ کو جیسے ہی اس کی اطلاع ملی ذمہ داران حضرات اور مبلغین وہاں پہنچے اور ان حضرات کی کوشوشوں سے یہ مرتدین دوبارہ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے اور دوسرے بھانٹ بھی اس لعنت سے محفوظ ہوگئے ۔
اسی دور میں شدھی تحریک سے متاثر ہوکر ضلع ہزاری باغ کے پانچ سو مسلمان مرتد ہوگئے تھے ،امارت شرعیہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فورا ذمہ داران ومبلغین وہاں پہنچے اور ان میں اسلام کی تبلیغ کی اور مرتد ہونے والوں کو دوبارہ اسلام میں داخل کیا ۔بقول مولانا عثمان غنی حضرت مولانا سجاد اور امارت شرعیہ کے کارکنوں کی تبلیغ واصلاح سے کم از کم تین ہزار اشخاص کفر کے حلقہ سے نکل کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔کم از کم پچیس ہزار افراد ارتداد کی لعنت سے محفوظ ہوگئے ۔ہزاروں مسلمانوں نے مراسم شرک سے نجات پائی ۔ہزاروں مسلمان عقائد فاسدہ سے تائب ہوئے ۔(حیات سجاد ص ۶۴۱ )

حضرت مونگیری نے اپنے دور میں رد مسیحیت پر بھر پور کام کیا اس کے علاوہ ریاست بہار اور اطراف میں قادیانیت کے خلاف بھی سر گرم عمل رہے اور برسر پیکار رہے ۔انگریزی دور میں سرکاری اجازت ملنے کے بعد یورپ سے مسیحی انجمنیں اور اس کے عیسائی مبلغین پروانہ وار ہندوستان کا رخ کررہے تھےاور یہاں میسیحت کی تبلیغ زوروں پر تھی سن 1900ء تک تقریبا پچاس مسیحی ادارے اور مشنریاں ہندوستان میں اپنا نظام بناچکی تھیں ان کی آمد کا مقصد ہی یہی تھا کہ کسی طرح سے ہندوستان کو عیسائی بنایا جائے خاص طور پر اہل ایمان کے متاع دین وایمان پر ڈاکہ ڈال کر اسے سلب کرلیا جائے ۔اس کے لیے وہ ہر ممکن طریقہ اور ذریعہ کا استعمال کرتے تھے ۔ حکومت کا مکمل سپورٹ انھیں حاصل تھاکہ وہ اس کی شہ پر ایسا کررہے تھے ۔اس کے مقابلہ کے لیے جو شخصییتیں میدان میں آئیں۔ ان میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے بعد جن شخصیات کا نام آتا ہے ۔ان میں علمائے امارت شرعیہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا ابوالمحاسن سجاد کا نام جلی حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔امارت شرعیہ کا ایک مستقل شعبہ ،شعبہ تبلیغ ہے۔ اس کے ذریعہ مبلغیں ہمیشہ فتنوں کی سر کوبی کے لیے ان اکابر کی سر پرستی میں سر گرم عمل رہے ۔
حضرت مونگیری نے عیسائیوں کے ذریعہ پیدا کردہ شبہات کا جواب دینے کے لیے کانپور سے 1892ءمیں منشور محمد ی کے نام سے ایک اخبار جاری کیا ۔اس اخبار نے مسیحی عقائد اور اعتراضات کاا یسا مقابلہ کیا کہ اس کے اکثر مضامین کا جواب کسی پادری سے نہ بن سکا ۔اس کے علاوہ عیسائی مشنریز کے مقابلہ میں حضرت مونگیری نے مختلف موضوعات پر اعلی درجہ کی کتابیں بھی تصنیف کیں ۔جن میں مرآة الیقین ،آئینہ اسلام ،ترانہ حجازی ،دفع التلبیسات ،ساطع البرہان ،براہین قاطعہ ،البرہان لحفاظة القرآن اور پیغام محمدی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں ۔۔پیغام محمد کو اہل علم مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے ہم پہ مانتے ہین ۔مسیحی انجمنوں کے ساتھ اس محاذ آرائی کے علاوہ حضرت مونگیری نے کانپور میں اسلامی یتیم خانے کی بنیادبھی رکھی ۔تاکہ عیسائی پادری غریب ونادار بچوں کی غربت کا فائدہ اٹھاکر ان کے ایمان کو سلب نہ کرسکیں۔
اسی طرح بیسویں صدی کے آغار میں غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تو ہندوستان کے کئی خطے اس کی زد میں آئے ریاست بہار کے کچھ اضلاع بھی اس کی زد میں آگئے ۔جن میں مونگیر ،بھاگلپور میں قادیانی اتنے منظم انداز سے تبلیغ کررہے تھے کہ ان دونوں اضلاع کے مکمل طور پر مرتد ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا تھا ایسے میں مولانا محمد علی مونگیری نے فتنہ قادیانیت کا مقابلہ شروع کیا انھوں نے قادیانیت کی رد میں ایک سو سے زائد چھوٹے بڑے رسائل تصنیف کیے تقریبا چالیس خود حضرت مونگیری کے نام سے باقی دوسروں کے نام سے شائع ہوئے ۔۔اس کے علاوہ آپ نے اس کے لیے اصلاحی دورے بھی کیئے ۔خطوط روانہ کیے اپنی خانقاہ میں ایک پریس قائم کردیا ،تاکہ دوسرے شہروں سے مطبوعہ چیزین منگوانے میں تاخیر نہ ہو وہ اپنے اہل ثروت مریدین کو ترغیب دلاتے تھے کہ قادیانیت کے خلاف رسائل مفت تقسیم کریں ۔اس سلسلے میں ان کا یہ جملہ ان کی بے چینی کو واضح کرتا ہے کہ :
"اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراو ءو اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب سو کر اٹھے تو اپنے سر ہانے رد قانیت کی کتاب پائے ۔”
اس حوالہ سے تصنیف کی گئی آپ کی کتابیں فیصلہ آسمانی تین جلدیں اور شہادت آسمانی دو جلدیں انتہائی پایہ کی کتابیں ہیں ۔اس تحریک کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہار واطراف کی ریاستوں میں قادیانیت کی بساط لپٹ گئی ۔
اس سلسلے میں خانقاہ رحمانی میں ملک ممتاز علماء و مشائخ کئی اجتماعات ہوئے ۔جن میں سے ایک میں محدث عصر علامہ انور شاہ کشمیری کی بھی شرکت ہوئ ۔
خلاصہ یہ کہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد،حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری ودیگر اکابر امارت شرعیہ حضرت شاہ بد رالدین قادری ،حضرت شاہ محی الدین قادری حضرت شاہ قمر الدین مجیبی،حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ۔حضرت مولانا عبد الرحمان ،حضرت مولانا سید نظام الدین۔حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی اور حضرت مولانا سید ولی رحمانی رحمہم اللہ تعالی، امراء ونائبین امراءامارت شرعیہ کے زمانے میں پورے سو سال تک اسلام کی دعوت واشاعت فتنہ ارتداد کے انسداد اور کفر وشرک کے جراثیم کے خاتمہ کے لیے امارت شرعیہ بالخصوص اس کا شعبہ تبلیغ اور اس سے وابستہ مبلغین پوری طرح سر گرم عمل رہے۔خودان حضرات نے یا ان کی ہدایت پر دیگر علماءنے اس کے لیے دور دراز کے اسفار بھی کیے رسالے اور کتابیں بھی شائع کرواکر تقسیم کیں ۔جلسے بھی کیے افہام وتفہیم کی راہ بھی اختیار کی۔۔یہ سلسلہ بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا فتنوں کے تعاقب میں امارت شرعیہ کا شعبہ تبلیغ ہمیشہ متحرک رہا اور اب بھی فتنوں کے تعاقب کا سلسلہ پوری تندہی کے ساتھ جاری ہے۔گذشتہ دنوں فتنہ شکیلیت اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب اور اس کے استحصال کے سلسلے میں حضرت مولانا سید ولی رحمانی رحمہم اللہ کی سرپرستی میں کافی کام ہوا ہے ۔

امید ہے کہ آئندہ بھی پوری مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ لسان قوم میں عصر حاضر کے اسلوب کے مطابق علمی وسائنٹفک انداز میں مختلف فتنوں کی سرکوبی خاص طور پر ہندتوا کے پیدا کردہ شبہات کے قلع قمع کے لیے امارت شرعیہ کے اکابر وعلماء مسلسل محو سفر رہیں گے ۔
اس حوالہ سے خصوصی طور پر دو شخصیات کا تذکرہ کیا گیا تاکہ پتہ چل سکے کہ ان سابقین اولین کے نقش قدم پر دیگر اکابر بھی مستقل محو سفر رہے ۔اور معصوم اہل ایمان کے ایمان وعقیدہ کو ہر شر وفتنہ سے بچانے کی بھر پور جد وجہد کی ۔اس کی تفصیل سوانح کی کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔ان جملوں کا اختتام حضرت امیر شریعت رابع مولانا سیدمنت اللہ رحمانی کے ان جملوں پر کر نا چاہوں گا ۔
"مسلمانو!اسلام امن وسلامتی کا پیغامبر ہے اس کی راہ عشق ومحبت کی راہ ہے ۔اس راہ میں رکنا ور تھکنا سب سے بڑا جرم ہے تکلیف ومصیبت اس راہ کے لیے زاد راہ ہے دشواریاں اس کی عظمتیں ہیں اور جد وجہد شوق مسلسل اور سعی پیہم اس کا سرمایہ ہے ۔اس لیے میں کہوں گا کہ تذبذب چھوڑیں اور اعتماد بحال کریں، شک کے بجائے یقین پیدا کریں اور اس اعتماد ویقین کی راہ میں جس قدر مصیبتیں آئیں، خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کریں۔ اسی یقین کامل کو توحید خالص کہتے ہیں ۔اس یقین کے بعد آپ کو صرف ایک کے سامنے جوابدہی کا احساس ہوگا ۔ایک کے سامنے جھکیں گے ۔
یہ ایک سجدہ ہے جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزاروں سجدے سے آدمی کو دلاتا ہے نجات

یہ وقت اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ