نئے سال کا پہلا دن – عبدالغفار سلفی 

انگریزی کیلنڈر کی آج پہلی تاریخ ہے۔ زندگی سے ایک اور سال رخصت ہوا اور سفر زیست کی ایک اور منزل تمام ہوئی۔ ظاہر ہے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس نئے سال پر کسی قسم کا جشن یا خوشی منانا نہ تو ہمیں زیب دیتا ہے نہ یہ چیز ہماری شریعت کی تعلیم سے ہم آہنگ ہے. البتہ یہ ضرور ہے کہ مرور زمانہ اور گردش ایام کا یہ سفر ہمیں دعوت احتساب دیتا ہے. پچھلے ایک سال میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا یہ سوچنے کا موقع تو بہر حال یہ ہے۔

ہم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ علمی اور فکری اعتبار سے پچھلے ایک سال میں اس نے کیا ترقی حاصل کی، کون سی نئی کتابیں اس کے مطالعے میں آئیں، کون سے نئے افکار و معلومات سے وہ روشناس ہوا. حقیقت تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور اس کے متعلقات ہم میں سے اکثریت کے مطالعہ پر بری طرح سے اثر انداز ہوئے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ جب ہم کم پڑھیں گے تو الفاظ کا ذخیرہ بھی ہمارے پاس کم ہوتا جائے گا، ہماری تحریر و تقریر کا وزن بھی اسی تناسب سے ہلکا ہوتا جائے گا. افسوس یہ ہے کہ طلبہ ہوں یا علماء سب آج اس کمزوری کے شکار ہیں الا ما رحم ربی۔

یہ وقت اپنے دلوں کے احتساب کا بھی ہے کہ پچھلے ایک برس میں دل کی رقت اور نرمی میں اضافہ ہوا یا دل کی سختی اور قساوت بڑھی ہے . مادیت کے اس دور میں ہماری اکثریت کا حال تو یہی ہے کہ ہمارے دل دن بدن سخت سے سخت تر ہو رہے ہیں ، زندگی سے روحانیت کم ہو رہی ہے اور یہ چیز اپنے آپ میں نہایت افسوسناک ہے. اس حوالے سے بھی ہم سب کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

انسان جیسے جیسے زندگی میں آگے بڑھتا ہے اس کی ضروریات بڑھتی ہیں، اس کی خواہشات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور پھر اسی اعتبار سے اس کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں. ہم سب خود غور کریں کہ ایک سال پہلے ہم کہاں تھے اور آج ہم کہاں ہیں. اس پہلو سے بھی ہم سب کو اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مادیت کے نت نئے تقاضے ہماری روحانیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ دنیا کی رنگینیاں ہمیں فکر آخرت سے غافل کر رہی ہیں۔

احتساب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ہم خود کو پرکھیں کہ ہم کہاں تک پہنچے. بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دولت اور شہرت ہمیں اس مقام تک لے آتی ہے کہ ہم اپنی قدریں بھولنے لگتے ہیں، تواضع کی جگہ تکبر آ جاتا ہے، حق پسندی کی جگہ خود ستائی اور خوشامد پسندی ہماری طبیعت پر غالب آنے لگتی ہے. اس پہلو سے بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ہم نے ترقی کی یا تنزلی کا شکار ہوئے اور اللہ نہ کرے اگر ہمارے اخلاق میں واقعی گراوٹ آئی ہے تو آئندہ سال اس کا تدارک کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔

ڈسپلن اور کامیابی کا بڑا گہرا ربط ہے. اچھی اچھی صلاحیتیں بد نظمی اور بے قاعدگی کے سبب برباد ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے بھی ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا زندگی کی تنظیم و ترتیب میں اضافہ ہوا ہے یا ہمارے شب و روز میں بد نظمی در آئی ہے. ہم نے بظاہر جس قدر بھی ترقی حاصل کر لی ہو لیکن ڈسپلن میں کمی آئی ہے تو یہ ہماری ناکامی کی دلیل ہے اور ہم سب کو اپنی یہ کوتاہی جلد از جلد دور کر لینی چاہیے۔

الغرض بدلتے ماہ و سال کے اس سفر کو احتساب نفس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، انہیں اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنی خوبیوں میں اضافہ کرنے کا ایک موقع بنانا چاہیے. وقت ہماری پونجی ہے اور اگر یہ پونجی یوں ہی برباد ہو رہی ہے تو اس سے زیادہ خسارے اور نقصان کی بات کچھ اور نہیں ہو سکتی ۔