فرقہ پرستوں کو اب ملک کے نوجوان ہی بھگائیں گے- صفدرا مام قادری 

 

صدر شعبہ اردو، کا لج آف کا مرس،آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ

ہزار طرح کے فریب اور جھوٹے اعلانات کی شہ زوری پر قائم پرچارکوں کی سرکار اب کانٹے کے مقابلے میں الجھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ این۔آر۔سی۔ اور سی۔اے۔اے۔ پر سرکاری جھوٹ اور اشتہار بازی ایک طرف مگر اعلا تعلیم کے اداروں کے نوجوانوں کی گول بندی دوسری طرف۔ لاٹھیاں برس رہی ہیں، گولیاں چل رہی ہیں، زخموں سے خون رِس رہے ہیں، جانیں لُٹ رہی ہیں؛ مگر پورے ملک میں اور ملک سے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف ایک سنجیدہ ماحول بن رہا ہے۔ جھارکھنڈ کے انتخابات کے نتائج ابھی بس آنے ہی والے ہیں مگر پہلے سے ہی فرقہ پرستوں کی سانسیں رکی ہوئی ہیں۔ کون جانے سارے اقتداری داؤں پیچ اور انتظامی بدعنوانیوں کے باوجود عوام کی طاقت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک سرکار کا خاتمہ ہوجائے۔

آج پورے ملک میں امت شاہ اور نریندر مودی کی ناقابلِ مفتوح کہی جانے والی طاقت کے خلاف نوجوان سڑکوں پر آگئے۔ نوجوانوں کے ساتھ کم و بیش وہی سلوک ہو رہا ہے جو گجرات فسادات میں نریندر مودی اور امت شاہ نے بھاجپائی غنڈوں اور پولیس کے اشتراک سے کیا تھا۔ مگر گجرات پورا ہندستان نہیں ہے، اس لیے حکومت کو جگہ جگہ سے چیلنجز سامنے آنے لگے۔ آسام اور دوسرے شمال مشرقی علاقوں نے سب سے پہلے حکومت کے خطرناک ارادوں کو سمجھا۔ پارلیمنٹ میں امت شاہ کی معصومانہ اور معلوماتِ عامہ کی اغلاط سے پُر تقریر کی سب سے پہلے قلعی آسام اور اس علاقے کے نوجوانوں نے اپنی جان کی قربانی سے اتاری۔ فوج کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود مخالفت کی آگ بجھ نہ سکی۔ حکومت نے کشمیر اور بابری مسجد کے فیصلے کے خاموش اور صبر آمیز جذبے اور اس کے پیچھے ابلتے شعلوں کو سمجھا نہیں تھا اور یہی جانا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قوت کے سامنے سب ہار جائیں گے۔ مگر اس سے ٹھیک الٹا ہو رہا ہے۔

حکومتِ ہند کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی تجربہ گاہ کے طور پر تھیں۔ پہلے سے ہی آر۔ایس۔ایس۔ کے مسلم نمایندوں کو وہاں وائس چانسلر بناکر بھیج دیا گیا تھا۔ جو پہلے سے آر۔ ایس۔ ایس۔ میں شامل نہیں تھے، وہ بھی آر۔ایس۔ایس۔ کی گود میں جاکر بیٹھ گئے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری یونی ورسٹیوں میں مفاد پر قربان جانے والی نسل یوں بھی بڑی طاقت ور انداز میں پھل پھول رہی ہے جسے عہدے چاہیے چاہے اس کی قوم اور اس کے ضمیر کا سودا ہی نہ ہوجائے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کے انداز کے جب خریدار ہوں تو بِکنے کے لیے اِن تعلیمی اداروں سے بھی لوگ سامنے آہی گئے جنھوں نے جنگ آزادی کے لیے اپنی جان لٹانے میں کبھی کوئی کور کسر نہیں رکھی۔

مذکورہ دونوں یونی ورسٹیوں میں طلبا پر جس طرح سے حکومتِ ہند نے کاروائی کی، سب کو گجرات ماڈل یاد آگیا۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی شام اور رات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طلبا کے ساتھ حکومتِ ہند کی پولیس نے جو کیا، اس کا موازنہ ہٹلر کی فوج اور جالیاں والا باغ سے کیا جانے لگا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ جامعہ ملیہ کے کمسن بچے ٹھیک سو برس بعد ایسی قربانی دینے کے لیے منتخب ہوئے۔ بحث اور سوال کی سمت کئی بار بگڑی اور بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ حکومت کا ارادہ تو یہی تھا کہ مسلمانوں کا احتجاج مانا جائے اور پھر مسلمانوں کے ادارے کو بہ زورِ طاقت ملیامیٹ کیا جائے مگر جواہر لال نہرو یونی ورسٹی سے لے کر دہلی اور حیدر آباد سے لے کر ممبئی اور پانڈی چیری تک یونی ورسٹیوں کے طلبا حکومت کی چال کو بروقت سمجھ گئے۔ دہلی کی ٹھٹھرتی رات میں صبح کا انتظار کیے بغیر دس بیس ہزار نوجوان، یونی ورسٹیوں سے فارغ عام شہری اور دانش وروں کا ہجوم سڑکوں پر آگیا۔ اب اس میں اسلامی نام کے قائدین کم تھے اور تمام مذہبی برادری کے افراد زیادہ تھے۔ بڑی آسانی سے حکومت کے تماشے کی پول کھل گئی۔ سوال سامنے آنے لگے کہ لائبریری اور ہاسٹل میں پولیس نے کیوں بربریت کی؟ گولیاں کس مقصد سے چلائی گئیں؟ بکے ہوئے وائس چانسلر کو بھی چند جملوں میں ہی سہی پولیس کی کارروائی کی خلاف آواز اٹھانی پڑی۔ حالاں کہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کی رذالت اور اپنے ادارے کی روایت کے برخلاف جانے کی بات سامنے آئی کیوں کہ انھوں نے پولیس کو کیمپس میں بلایا اور اسے طلبا پر زور آزمائی کے لیے موقع دیا۔ دیر سویر یہ بات جامعہ ملیہ انتظامیہ کے لیے بھی سامنے آئے گی کیوں کہ دونوں کے انتظام کار ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔

جمعرات کو ملک کے گوشے گوشے میں کمیونسٹ پارٹیوں نے مظاہرے رکھے اور پھر سے جمعہ کے بعد مسلمانوں نے کچھ مذہبی تنظیموں اور کچھ ذاتی طور پر مظاہرے کیے۔ سنیچر کو راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس نے بہار میں مکمل طور پر بند کرادیا۔ یہ سلسلہ اب آگے بڑھے گا۔ جئے پرکاش نارائن نے ۴۷۹۱ء میں جس تحریک کی قیادت سنبھالی تھی، اس نے ملک سے ڈکٹیٹرشپ کو ختم کرنے میں کامیابی پائی تھی۔ وہاں بھی الگ الگ حصوں میں بے اطمینانی کی کیفیت تھی۔ جے۔پی۔ نے اسے اپنی آواز دے کر موثر بنایا تھا۔ مگر اندراگاندھی کی حکومت سے زیادہ بڑی فاشسٹ حکومت سے اب مقابلہ ہے۔ اندرا گاندھی کا ہندستان کی تحریک آزادی سے اچھا خاصا واسطہ تھا۔ ان کی تربیت بھی مجاہدین آزادی نے کی تھی۔ مگراب غنڈوں سے مقابلہ ہے۔ اب آر۔ایس۔ایس۔ کے کارندوں سے بڑھ کر باضابطہ طور پر تربیت دیے گئے فسادی غنڈے ملک بھر میں کام کررہے ہیں۔ انھیں جہاں خاموشی ہوتی ہے وہاں فسادات کرانے ہیں اور جہاں اشتعال نہیں ہے، وہاں اشتعال پیدا کرانا ہے۔ چوں کہ حکومت ان کی ہے، اس لیے وہ کبھی پولیس کی وردی میں کام کرنے لگتے ہیں اور کبھی لنگی پہن کر، کہیں ٹوپی لگاکے اور چار خانے رومال باندھ کر میدان میں اتر آئیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ پُر امن احتجاج کی جگہ پر مشتعل کیفیت پیدا ہوجائے اور پھر جنرل ڈائر کی نسل کے انتظام کا رعوام پر بالخصوص غریب، دلت اور اقلیت آبادی پر حملے کرسکیں۔ پورے ملک میں یہی پتھر باز بھی ہیں اور یہی گولیاں بھی چلاتے ہیں۔ کبھی بھیڑ کا حصہ ہوکر اور کبھی بھیڑ پر۔ حکومت کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔

این۔آر۔ سی۔ اور سی۔اے۔اے۔ کے خلاف ملک بھر میں جو تحریک کھڑی ہوئی ہے، اسے بے لگامی سے بچانا ہوگا اور اس کی قیادت ہوش مند لوگوں کے ہاتھ ہی میں رہے تو بہتر ہے۔ مذہبی رہنما یوں بھی اس موقعے سے پیچھے چل رہے ہیں، خدا کرے وہ اور پیچھے رہ جائیں۔ اس سے ہندستان کے مسلمانوں کا ہی فائدہ ہے۔ مگر بکے ہوئے سیاست دانوں سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے حالات بدلتے دیکھ کر ایک طرف نتیش کمار طرف داری کا راگ الاپ رہے ہیں اور دوسری طرف رام بلاس پاسوان کے صاحب زادے بھی این۔آر۔سی۔ کے خلاف بولنے لگے ہیں۔ دس روز پہلے اگر یہ حضرات پارلیمنٹ میں اس بل کو ووٹ نہ دیتے تو یوں بھی یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن کہاوت یہ ہے کہ یہ کاکی دونوں فریقوں کو لڑائے گی اور پھر بیچ بچاؤ کے لیے بھی کھڑی رہے گی۔ جس روز پرشانت کشور اور پون ورمانے اپنی پارٹی کے خلاف اسٹینڈ لیا، اسی دن یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ نتیش کمار نے بڑی ہوش مندی سے یہ دوسرا مورچہ کھول رکھا ہے۔ انھیں یوں بھی دونوں طرف کا فائدہ حاصل کرنے کی عادت اور مہارت رہی ہے، اب وہ کیسے چوکتے؟

ایک سوال علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے برسرِ کار اساتذہ، سبک دوش اساتذہ اور ان کے ہزاروں اور لاکھوں فارغین سے ہے۔ اپنی یونی ورسٹی کو لگاتار آر۔ایس۔ ایس۔ کی گود میں جاتے ہوئے دیکھنے میں آپ کی کون سی مصلحت ہے؟ ضمیر الدین شاہ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پسندیدہ ہوگئے تھے اور طارق منصور تو باضابطہ پہلی ترجیح بنے۔ جانشینانِ سرسید کی ایسی ذلت اور حقارت پہ شرم آتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نائب صدر اور صدر یا گورنر بننے کے راستے بھی لوگوں کو نظر آتے ہیں مگر جن اساتذہ، سبک دوش اساتذہ اور فارغین کواس مفاد یا لالچ میں نہیں پڑنا ہے، انھیں اپنی زبان سے کیوں نہیں ایسے لوگوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ سرسید نے پورے ہندستان سے تعاون لے کر آزاد ضمیر کے ایک ادارے کا خواب دیکھا تھا۔ مگر اب اس کی نکیل ضمیر کے سودائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ کم از کم علی گڑھ الومنائی ایسو سی ایشن کے ہر چیپٹر کو ہر شہر میں یونی ورسٹی کی تاریخ اور طلبا اور ملک و قوم سے کھلواڑ کرنے والے افراد کو جوتے مارکر نکالنے کی تحریک شروع کرنی چاہیے۔ ہندستان بھر کی یونی ورسٹیوں کے طلبا اور دانش وران آپ کے حقوق کے لیے کھڑے ہیں مگر آپ اپنے بیچ کے چور اچکّوں کو کب تک عزت مآب سمجھتے رہیں گے؟ بٹلہ ہاؤس کانڈ میں مشیر الحسن یونی ورسٹی کے اساتذہ کو سڑکوں پر لے کر چلے آئے تھے۔ بِکی ہوئی وائس چانسلر کو چھوڑیے مگر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے خوف طلبا کی طرف داری میں وہاں کے اساتذہ اور سابق طلبا اور اساتذہ کو اور زیادہ مضبوطی سے سامنے آنا چاہیے۔ ملک کو بدلنا ہی ہے مگر اس انقلاب میں اگر ہماری قربانیاں بھی شامل ہوئیں تو تاریخ کا روشن باب ہم سے ہی تیار ہوگا۔ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ کے اساتذہ کو اسے بہر طور یاد رکھنا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*