پھر آیا ٦ دسمبر! ـ شکیل رشید

فاروق ماپکر کو خوب اندازہ ہے کہ انصاف نہیں ہوگا ۔ انہیں 10 جنوری 1993ء کو اس وقت پیٹھ میں گولی لگی تھی جب پولیس عین ظہر کی نماز کے وقت سیوڑی کی ہری مسجد میں گھسی تھی، اور وضو کرتے ہوئے اور نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی اس واقعے کے تار 6 دسمبر سے جڑے ہوئے تھے ۔ آج سے ٹھیک 28 برس پہلے 1992ء میں، اسی تاریخ کو ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش (یوپی) کے چھوٹے سے شہر ایودھیا میں کئی سو برس سے سر اٹھائے کھڑی بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا، اور ملک بھر میں مسلم کش فسادات شروع ہو گیے تھے، شہر ممبئی میں دو مرحلوں میں فسادات ہوئے تھے ۔ گزرے ہوئے 28 سال ناانصافی، سرکاری بے حسی اورسیاسی لاچاری کے سال ہیں۔ فسادات کے متاثرین کوآج تک انصا ف نہیں مل سکاہے ۔ جن کے اعزاء ورشتے دار اوراحباب واہل خانہ مارے اورزخمی کئے گئے تھے، اورجولوٹے کاٹے اورتباہ وبرباد کیے گئے تھے،اب انصاف کی امید چھوڑ چکے ہیں ۔ سرکار روزِاوّل ہی کی طرح بے حس ہے ۔ رہے سیاست داں اورسیاسی پارٹیاں تووہ’سیاسی مفادات‘کی بناء پر اس قدرمجبوراورلاچارہیں کہ’خاطیو ں‘اور’مجرموں‘کی طرف انگلیاں اٹھانے کی ان میں ہمت نہیں ہے بلکہ اب اتنے برس بیت جانے کے بعدتویوں لگتا ہے کہ ان کے ذہنوں سے یہ ’حقیقت‘ محوہو چکی ہے کہ1992-93ء میں شہرممبئی شدید فرقہ وارانہ فسادات میں جل اٹھاتھا ۔ اب ان کی زبانوں سے بھی کبھی ممبئی کے دومرحلوں کے مسلم کش فسادات کاذکرنہیں نکلتا! میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور پھر لکھ رہا ہوں کہ مجھے آج بھی ریٹائرڈجسٹس بی این شری کرشنا کی …..جن کی سربراہی میں ممبئی کے فسادات کے لیے جانچ کمیشن بناتھا، اورجن کی رپورٹ نے،جسے’شری کرشناکمیشن رپورٹ‘کے نام سے جاناجاتا ہے، فسادات میں سیاست دانوں اورپولس والوں کے رول کو نہ صرف واضح کیاتھا بلکہ انہیں’خاطیوں‘اور’قصورواروں‘کی فہرست میں شامل بھی کیاتھا……..بات یادآرہی ہے، موقع انگریزی کی جرنلسٹ مینامینن کی ممبئی فسادات پر انگریزی کتاب کی رونمائی کاتھا، جسٹس شری کرشنا اس موقع پر موجود تھے اورانہوں نے کہاتھا کہ وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کی رپورٹ پر عملدرآمد ہوتاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو سکے ۔ ممبئی بم بلاسٹ کے ایک قصوروار یعقوب میمن کی پھانسی کے ایک دن بعدانہوں نے یہ سوال اٹھایاتھا کہ’یعقوب میمن کو تو اس کے جرم کی سزا مل گئی ممبئی کے فسادیوں کو کب سزا ملے گی؟ ‘ یہ سوال آج تک جواب طلب ہے ۔
وہ جنہوں نے مسلمانوں کی جان اور مال کا نقصان کیاتھا آج بے فکری سے آزادگھوم رہے ہیں‘ وہ پولس والے جو فسادیوں کے ساتھی تھے آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اورسیاسی پارٹیوں، فرقہ پرست تنظیموں اورپولس کے فرقہ پرستانہ چہرے کوجس سری کرشنا کمیشن رپورٹ نے اُجاگرکیا تھا وہ ٹھنڈے بستے میںڈال دی گئی ہے ۔ کانگریس کا کرداراس معاملے میں انتہائی گھناؤنا رہا ہے، بجائے اس کے کہ یہ ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ پرعمل کرتی اس کی تقریباًتین سرکاروں نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھـ
’ مسلمان کانگریسیوں‘ کی مدد سے ایسا چکر چلایاکہ کمیشن کی رپورٹ پرعمل درآمد کا سوال عدالت کے گلیاروں میں آج تک گردش کررہا ہے اورنہ جانے کب تک گردش کرے گا ! رہے وہ افراد جوعدالتوں میں انصاف کی جنگ لڑرہے تھے یا تواب نہیں رہے یا مزید قانونی لڑائی لڑنے کا حوصلہ ہاربیٹھے ہیں… اورسب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ جِن عناصر نے 1992-93میںممبئی کو دومرحلوںمیں فسادات کی آگ میں جھونکا تھا آج ریاست مہاراشٹر پران میں سے ایک، شیوسینا کی حکومت ہے، اور رہے شیوسینا کے حلیف کانگریس اور این سی پی، تو یہ فسادات کے کم قصوروار نہیں ہیں ۔ جب شہر ممبئی جل رہا تھا تب ان ہی کی حکومت تھی ۔ آج یہ سب سیاہ وسفید کے مالک ہیں لہٰذا یہ امیدرکھنا ہی بے کار ہے کہ انصاف ملے گا ۔
بات اس روزکی ہے جب اترپردیش کے فیض آباد ضلع کے ایودھیا نامی قصبے میں تاریخی بابری مسجد فرقہ پرستوں‘بھاجاپائیوں اوربجرنگی وسنگھی کارسیوکوں کے ہاتھوں شہید کردی گئی تھی یعنی 6دسمبر 1992ء کی ۔ ممبئی کے مسلمان ایک جمہوری ملک میں غیرجمہوری اندازمیں اپنی عبادت گاہ شہید کئے جانے کی مجرمانہ واردات سے مغموم بھی تھے اور مشتعل بھی اس لیے انہوں نے سڑکوں پر اترکرجمہوری انداز میں احتجاج اورمظاہرے کرنے کی کوشش کی جوپولس کی غیرضروری قوت کے سبب پرتشدد ہوگئی ۔ منصوبہ سیدھا سادا تھا ‘ مسلمانوں کو مظاہرے نہ کرنے دوبلکہ انہیں مشتعل کرواور جب وہ تشدد پراتر آئیں توانہیں گولیاں ماردو ۔ ایسا ہی ہوا، پولس کی گولی باری نے سینکڑوں نوجوانوں کے سینوں کوخون کی لالی سے سرخ کردیا … یہ فسادات کا آغازتھا !6دسمبر 1992اورپھر 5جنوری 1993دومرحلوں میں ہونے والے فسادات میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 900افراد ہلاک ہوئے جِن میں مسلمانوں کی تعداد 575اورہندوؤں کی تعداد 275تھی ۔ پولس کے فرقہ پرستانہ رویّے کا اندازہ اس حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کی گولی باری سے ہلاک ہونے والوںکی تعداد 356تھی ۔ پولس کی گولیاں، پولس مینول کے اصول وضوابط کے برخلاف سینوں پرچلیں، کمرسے نیچے نہیں ۔ ایک جانب پولس، فسادی اورشیوسینک تھے ۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے لیڈراور کارکنان بھی تھے، کئی جگہ آرپی آئی اورکانگریسی لیڈروں نے بھی فسادیوں کا ساتھ دیا۔ شیوسینا اور شیوسینا کے پرمکھ بال ٹھاکرے کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا ۔ شری کرشنا کمیشن رپورٹ میں جسٹس سری کرشنا نے تمام ’حقائق‘ کو عیاں کردیا ہے ۔ رپورٹ میں واضح لفظوں میں تحریر ہے:
’’جنوری 8‘1993سے تواس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ شیوسینا اورشیوسینکوں نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں اوران کی املاک پر منظم حملے کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا، شاکھا پرمکھوں سے لے کرشیوسینا پرمکھ بال ٹھاکرے تک کی رہنمائی انہیں حاصِل تھی، بال ٹھاکرے کسی تجربہ کار جنرل کی طرح اپنے وفادار شیوسینکوں کوہدایت دے رہے تھے کہ وہ مسلمانوں پرمنظم حملے کرکے ان سے انتقام لیں۔ ‘‘
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں شیوسینکوں بالخصوص بال ٹھاکرے کے بیانات اوران کے ہندی اور مراٹھی روزنامہ ’سامنا ‘ کے اشتعال انگیزاداریوں کے حوالے دے کراس سچائی کی جانب تو جہ دلائی تھی کہ اس طرح کے بیانات اوراداریوں نے ’ہندوؤں‘ کو مشتعل کیا ‘‘… رپورٹ میں ایک جگہ تحریر ہے :’’ شیوسینک لیڈروں کے بیانوں اورسرگرمیوں اوربال ٹھاکرے کی تحریروں اور ہدایتوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی چلی گئی، شیوسینا نے جوفسادات شروع کئے تھے وہ مقامی مجرم پیشہ عناصر نے ہائی جیک کرلیے اورفوری فائدہ اٹھالیا۔ اورجب تک شیوسینا کو یہ احساس ہوکہ ’انتقام ‘ خوب لے لیاگیا تب تک تشدد اس کے لیڈروں کے کنٹرول کی پہنچ سے دورنکل گیاتھا ‘‘۔
کمیشن کی رپورٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پھیلنے اور ممبئی کے فسادات کے اسباب میں بابری مسجد کی شہادت، بی جے پی کے لیڈروں کی رتھ یاترائیں اورسنگھ پریوار کی اشتعال انگیزی بھی شامل ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ’ممبئی کے فسادات ‘ کوسارے سنگھ پریوار کی کارستانی قرار دیاتھا توغلط نہیں ہوگا … ظاہرہے کہ یہ رپورٹ نہ اس وقت شیوسینا اور بی جے پی کوبھائی تھی اورنہ آج بھارہی ہے۔ جب ممبئی کے فسادات کے بعدشیوسینا بی جے پی کی حکومت بنی تھی تب کمیشن کی رپورٹ کو جو1998میںپیش کی گئی تھی ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیاتھا۔ وزیراعلیٰ منوہر جوشی اورریاستی سرکار نے، ریاستی اسمبلی اور کونسل میں اس رپورٹ کی پیشی کے بعداِسے ردّ کرکے ایوان میں ’ایکشن ٹیکن رپورٹ ‘ پیش کی تھی اور یہ کہا تھاکہ ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ ’’ہندو مخالف ’مسلم موافق اورجانبدارانہ ہے ‘‘۔
شیوسینا اوربی جے پی کی ریاستی سرکار سے یہی توقع تھی۔ رپورٹ میں شیوسینا اوربی جے پی کو فسادات کا قصوروار قرار دیاگیاتھا اور بال ٹھاکرے سمیت کئی شیوسینکوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ دیاگیاتھا… شیوسینا اوربی جے پی کی حکومت اپنے قصورکو مان بھی کیسے سکتی تھی ! لیکن ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ جوردکی گئی تھی دوبارہ اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے کہنے پر پھرسے ’زندہ ‘کی گئی … ریاستی سرکار نے جسٹس شری کرشنا پریہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ صرف فسادات کی نہیں 12مارچ 1993ء کے ممبئی کے سلسلہ واربم دھماکوں کی چھان بین بھی کریں اور فسادات اوربم دھماکوں میں کیا مطابقت ہے یا ان دونوں کا کیا ’رشتہ ‘ ہے ‘اسے بھی اپنی رپورٹ میں شامل کریں … جسٹس سری کرشنا نے یہ چھان بین بھی کی مگر مزیدچھان بین نے ان کی اس ’رپورٹ‘ کومزید تقویت بخشی کہ فسادات سنگھی ذہن رکھنے والوں کی سازش کا نتیجہ تھے اوریہ بم دھماکے نہ ہوتے اگر بابری مسجد شہید نہ ہوتی اورممبئی میں دومرحلوں میں فسادات نہ ہوئے ہوتے ۔
بھلا ممبئی کے فسادات کوآج تقریباً 28 برسوں کی طویل مدت کے بعد بھی نظراندازکیوں کیاجارہا ہے ؟کیا سیاسی پارٹیاں نہیں جانتیں کہ واقعی میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اورانہیں انصاف مِلناچاہئے بالکل اسی طرح جس طرح 1984کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کوانصاف فراہم کیاگیا ہے ؟ ممبئی کے فسادات اپنی شدت وبربریت ‘سنگدلی اوربے رحمی میں گجرات کے فسادات سے کم نہیں تھے ۔ جس طرح گجرات میں خواتین کا ریپ کیاگیا، لوگوں کو زندہ جلایا گیا اور بے رحمی کے ساتھ، لوگوں کی املاک تباہ کی گئیں اسی طرح ممبئی میں ہوا تھا… ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘میں کئی واقعات کی تفصیلات موجود ہیں۔ مثلاً اگرپولس کی بربریت کی مثال چاہئے تو ممبئی کے محمد علی روڈ پرواقع سلیمان عثمان بیکری اوراس سے لگ کر دارالعلوم امدادیہ اور سیوڑی علاقہ کی ہری مسجد میں کی گئی گولی باریوں کی مثالیں موجود ہیں۔
سیوڑی کی ہری مسجد میں ظہر کی نماز کے موقع پر ایک پولس اہلکار نکھل کاپسے نے گھس کرگولی باری جس میں9؍مسلمان شہید ہوئے۔کمیشن کی رپورٹ میں مسجدکے اندرمسلمانوں کی شہادت کا ذمے دار نکھل کاپسے کی اندھا دھند اور بلااشتعال فائرنگ کو قرار دیاگیاہے۔ جو گولی باری کے شکار ہوئے ان میں فاروق ماپکر شامل تھے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اذان سن کر وہ مسجد پہنچے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں پولیس جوتوں سمیت اندر گھس آئی تھی اور گولیاں برسانے لگی تھی، انہوں نے اپنے قریب پولیس کی گولی سے زخمی ایک نمازی کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایک گولی ان کی پیٹھ میں آ لگی ۔ وہ پولیس کی بربریت، پولیس اسٹیشن اور کے ای ایم اسپتال کے اندر زخمیوں کی پٹائی، جن میں وہ خود شامل تھے، آج تک بھول نہیں سکے ہیں ۔ اس خوف سے کہ انہیں اسپتال میں ماردیا جائے گا وہ اسپتال میں بھرتی نہیں ہوئے تھے ۔ ان پر اس وقت کے انسپکٹر نکھل کاپسے نے گولی چلائی تھی مگر انہیں اور دوسروں کو بھی فسادات کا مجرم بنا دیا گیا ۔ فاروق ماپکر نے نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تکا اپنا اور نکھل کاپسے کے ذریعے نمازیوں پر گولی باری کرنے کا مقدمہ لڑا، سی بی آئی انکوائری کروائی مگر انصاف سے محروم رہے ۔ سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو انہوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، مگر وہ جانتے ہیں کہ نتیجہ صفر نکلے گا ۔ انصاف کے لیے لڑائی میں انہوں نے کانگریس، این سی پی اور عدلیہ کے حقیقی چہرے دیکھے ہیں، مکروہ چہرے ۔ انہوں نے مسلم تنظیموں اور جماعتوں کے بھی انسانی ہمدردی سے عاری چہرے دیکھے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ کوئی بھی مدد کے لیے نہیں آیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ اب متاثرین اور مظلومین کورٹ آتے ہی نہیں ہیں، ان کے بچوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ گھر والوں پر کیا بیت چکی ہے ۔ لوگ سب کچھ بھلا رہے ہیں ۔ فاروق ماپکر کا کہنا سچ ہے، یہ احساس مسلمانوں میں شدید تر ہوا ہے کہ ان کے ساتھ اس ملک میں انصاف نہیں ہونے والا ۔ بابری مسجد وہ کھو چکے ہیں، بابری مسجد کی شہادت کے مجرموں کو وہ باعزت بری ہوتا دیکھ چکے ہیں، عدالتوں کے اپنے خلاف فیصلے ان کے سامنے ہیں، سیکولر کہلانے والی سیاسی پارٹیاں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہندوتو ادی راہ پر چل پڑی ہیں، مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی ناکامیاں سامنے ہیں لہذا ان پر سے بھی بھروسہ آٹھ گیا ہے ۔ اسی لیے اب وہ یہ سوال نہیں کرتے کہ آج تک کاپسے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی ہے؟ کارروائی صرف شیوسینا کے ایک ایم پی مدھوکر سرپوتداراور ان کے دو شیوسینک ساتھیوں جینت پرب اور اشوک شندے کے خلاف ہوئی ۔ وہ بھی نام کی کارروائی ۔ خصوصی عدالت نے انہیں فسادات کا قصوروار قرا ر دیا مگر انہیں فوری ضمانت مل گئی ۔ اور دو سال بعدسرپوتدار کی موت ہو گئی ۔ بال ٹھاکرے کے خلاف ان کی موت تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ ابھی تھوڑے ہی روز پہلے ممبئی کے سابق پولیس کمشنر آر ڈی تیاگی کی موت ہوئی ہے، وہ سلیمان عثمان بیکری اور دارالعلوم امدادیہ میں گولی باری کے قصور وار تھے ۔ گویا یہ کہ کوئی ایک ایسا قصور وار نہیں ہے، چاہے ممبئی فسادات کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کی شہادت کا، جسے دنیا کی کسی عدالت سے سزا ملی ہو ۔ خیر اوپر تو ناانصافی نہیں ہوتی ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)