پھراقتدار میں واپس آئے تو غریبوں کوزندگی بھردیں گے مفت راشن:ممتابنرجی

کولکاتہ:مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے منگل کو ایک ورچوئل ریلی سے خطاب کیا۔ ریلی میں انہوں نے کورونا کے مفت راشن سے لے کرکورونااور سی اے اے ۔ این پی آر تک کے بارے میں بات کی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اگر 2021 میں ترنمول کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئی تو غریبوں کو زندگی بھر مفت راشن دیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے اسے اپنا وعدہ بتایا۔ممتا بنرجی نے ورچوئل ریلی میں کہاکہ ہم لاک ڈاؤن سے پہلے لوگوں کو مفت راشن دے رہے ہیں۔ ایک کروڑ لوگوں کو مفت راشن دیا جارہا ہے۔ صرف یہی نہیں جون 2021 تک ہم اسے دیتے رہیں گے۔ دریں اثنا انہوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہلی سے جو شرمندگی ملی ہے اس کا بدلہ ہم لیں گے۔ باہر والوں کو بنگال پر حکمرانی کی اجازت نہیں ہوگی، ہم لوگوں کے لئے کھڑے ہونے کا طریقہ جانتے ہیں، کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ٹی ایم سی کمزور ہے۔
بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ ایسے لوگوں کاکوئی معیار نہیں ہے۔ یہ لوگ بیرونی ہیں، وہ صرف زبان چلاتے ہیں اور نفرت پھیلانے کے لئے بولتے ہیں۔ یہ لوگوں سے تشدد پھیلانے کے لئے کہتے ہیں۔ فنکار اور ماہرین تعلیم حملہ کر رہے ہیں۔اپنے حملے کو جاری رکھتے ہوئے ممتا نے مزید کہاکہ ہم این آر سی یا این پی آر کو نہیں بھولے ہیں۔ دہلی میں، لوگوں کو مارکر نالے میں پھینک دیا گیا۔ بنگال میں کووڈ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سی اے اے اور این آر سی کو بھول گئے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہاکہ ڈی ایم کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ ملک کا شہری کون ہے،ریاست کو یہ حق حاصل ہے۔ مرکزکون ہے جو اس پر نئے اصول بنا کر اپنے ہی لوگوں کو پریشان کرے گا، یہ لوگ صرف جھوٹ بولتے ہیں اور لوگوں کو لڑاتے ہیں۔ ہندو بمقابلہ مسلمان اور کامتا پوری بمقابلہ راج بنشی، سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا جارہا ہے۔ ممتا نے کہاکہ ہم نے ٹرینوں کے لئے رقم ادا کی، بنگال آنے والے مزدوروں پر 250 کروڑ روپئے خرچ کئے۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی ترقی کی بات نہیں کر رہا ہے، ہمیں بنگال میں صرف 8 سال ہوئے ہیں لیکن مرکزی حکومت بنگال میں مشکلات پیدا کرنے کے لئے اپنا کارڈ کھیل رہی ہے، میں انہیں چیلنج کرتی ہوں کہ وہ بنگال کے تمام اضلاع میں عام لوگوں سے ملیں، دیکھیں کہ بنگال کتنا پرسکون ہے۔ یوپی کے لوگوں میں انتشار ہے، وہاں صرف قتل ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پولیس بھی ہلاک ہو رہی ہے اور یہ لوگ امن و امان کی بات کرتے ہیں۔ تریپورہ میں دیکھیں، لوگ وہاں بولنے سے قاصر ہیں، پولیس کی شکایت کو بھول جائیں۔ آسام کی حالت ابتر ہے۔