تیجس ایکسپریس میں ’چڈی بنیائن‘میں گھومنے والے جدیو ایم ایل اے کیخلاف مقدمہ درج

نئی دہلی:نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ایم ایل اے گوپال منڈل کی شرمناک حرکت منظر عام پر آئی ہے۔ وہ02309تیجس راجدھانی ایکسپریس پٹنہ سے دہلی جانے والی ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ اس دوران وہ نیم برہنہ حالت میں صرف بنیان اور انڈرویئر پہنے ٹرین میں گھومتے نظر آئے ۔ جب مسافروں نے اس نیم برہنہ حالت پر اعتراض کیا تو انہوں نے مسافروں کو گالیاں دیں ،اورچلتی ٹرین میں جم کرہنگامہ آرائی کی۔مسافروں کی شکایت پر آر پی ایف کی ٹیم ٹرین میں موقع پر پہنچی۔آرپی ایف کی ٹیم کی فہمائش کے بعد ایم ایل اے اپنے فرسٹ اے سی کوچ چلے گئے ، لیکن دہلی میں مسافر وں کی شکایت پر ایم ایل اے گوپال منڈل کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیاگیا ہے۔ایم ایل اے گوپال منڈل اور ان کے ساتھی سیٹ نمبر 13 ، 14 اور 15 پر سفر کر رہے تھے، جب وہ بیت الخلا سے واپس آئے، تو وہ صرف ایک بنیان اور انڈرویئر میں تھے۔ اس پر 22-23 نمبر پر بیٹھے مسافر پرہلاد پاسوان نے اعتراض کیا۔ پاسوان اپنی فیملی کے ساتھ تھا، اس نے کہا کہ یہاں خواتین بھی بیٹھی ہیں ، اس لیے آپ خواتین کے وقار کا خیال رکھیں۔ اس پر ایم ایل اے غلطی قبول کرنے کے بجائے مباحثہ کرنے لگے ۔ایم ایل اے گوپال منڈل کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔ دہلی ریلوے پولیس کو دی گئی درخواست میں پرہلاد پاسوان نے الزام لگایا کہ اس کے لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا، سونے کی زنجیر اور سونے کی انگوٹھی بھی چھین لی۔ ذات پر مبنی دوہرے معیار کے الفاظ کہہ کر بھی زیادتی کی گئی۔ پرہلاد پاسوان کا یہ بھی الزام ہے کہ ایم ایل اے اور ان کے ساتھ آنے والے تمام افراد شراب کے نشہ میں تھے ، اسے ہر طرح سے ہراساں کیا گیا۔ اس کے منہ میں گندا پانی ڈالا گیا۔جمعہ کی دوپہر جب یہ معاملہ گرم ہوا تو بلڈنگ کنسٹرکشن منسٹر اشوک چودھری ایم ایل اے کے دفاع میں آئے ۔انہوںنے کہا کہ کبھی کبھی آدمی لیٹایاسویا رہتا ہے ، تو وہ انڈرویئر اور گنجی (بنیان )میں ہی باہر نکل آتا ہے،تاہم انہیں عوامی جگہ پر وقار کا خیال رکھا جانا چاہیے۔خیال رہے کہ گوپال منڈل ماضی میں بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔