فقہی مذاہب کی ترتیب نو کی ضرورت ۔ محمد فاروق علوی

اصل میں ہر فقہی مذہب اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے اور کشمکش میں مبتلا ہے، پہلے شافعی و حنفی ایک دوسرے کے مقابل تھے اب شافعی شافعی کے اور حنفی حنفی کے مقابل ہے، اس لیے ہر فقہی مذہب بظاہر رواداری کے باوجود اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔
یہاں ہمارے ہاں برطانیہ میں فیکٹری میں کام کے دوران ہر نماز کے لیے چھٹی نہیں ملتی تو لوگ جمع بین الصلاتین کر رہے ہیں، یونیورسٹی اور کالجز میں سینکڑوں مسلم طلباء جمعہ پڑھ رہے ہیں ، اسی طرح یہاں جیلوں میں بھی جمعہ و عیدین با جماعت ہوتی ہیں جبکہ بعض فقہی مذاہب کی رو سے مذکورہ مقامات میں جمعہ کی شرائط مفقود ہیں ، سفر کے دوران حنفی اکثریت جمع تقدیم و تا خیر کررہی ہے، اسی طرح دوران سفر سروسز پر جب وضو کیا جاتا ہے تو سینک میں پاؤں دھونے کو یہاں کے لوکل گورے باشندے بہت بُرا سمجھتے ہیں اس لیے لوگ جرابوں پر مسح کر لیتے ہیں اور وہ بھی مسح کرتے ہیں جن کے ائمہ نے اس مسح کو ناجائز کہا ہے اور ان کے پیروکار بھی جن کے مقتداؤں نے سخت شرائط عائد کی ہیں۔
اگر احباب ناراض نہ ہوں تو ہم عرض کریں گے شروع میں بہت سے فقہی مذاہب وجود میں آئے تھے، اب جن کو کسی حکومت کی پشت پناہی مل گئی وہ زندہ رہے اور دوسرے ختم ہوگئے، سب سے زیادہ حکومتی سہارا فقہ حنفی کو ملا اور وہ سب سے زیادہ پھیلا، پھر شافعی و مالکی فقہ کو ملا وہ بھی پنپ گئیں، حنبلی فقہ یتیم رہی یہاں تک کہ سعودیوں کا سہارا اسے میسر آیا تو یہ بھی زندہ ہوگئی، اس وقت فقہ حنفی کو اقتدار کا سہارا نہیں ہے اور وہ سب سے زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ شافعی مالکی اور حنبلی فقہ کو اس وقت بھی عرب اور افریقہ میں بعض حکومتوں کا سہارا ہے اس لیےان کا اقبال ابھی چل رہا ہے، ان کے مقابلہ میں سفیان ثوری ، ابن حزم، معتزلہ، خوارج کو دیکھیں تو ان کے فقہی مسالک کتابوں میں مل جاتے ہیں لیکن گراؤنڈ پر مر چکے ہیں۔
البتہ فقہ امامیہ یا فقہ جعفر یہ ، اس سے بحث نہیں کہ وہ صحیح ہے یا غلط ، لیکن داد دینی پڑے گی کہ اس فقہ کو ماننے والے ایک تو ہمیشہ اقلیت میں رہے، دوسرے ہمیشہ زیر عتاب رہے، اگر کبھی حکومت بنی بھی تو بہت جلد مٹادی گئی، ان تمام شدتوں اور مجبوریوں کے باوجود یہ فقہ زندہ رہی، تسلسل بھی قائم رہا اور اہلسنت کی طرح انہوں نے کبھی اپنے اوپر اجتہاد کے دروازے بند نہیں کیے ، میرے خیال میں محکومیت کے باوجود اس فقہ کا زندہ رہنا اجتہاد کا تسلسل قائم رکھنے کا مرہون منت ہے، جبکہ اہلسنت کی فقہ سے ایک تو اقتدار کا سہارا چھن گیا، دوسرا انہوں نے اجتہاد کے دروازے بند کردیے ظاہر ہے پانی زیادہ دیر کھڑا رہے تو وہ انسانی ضروریا ت کو پورا نہیں کرسکتا پرانے اجتہادات اپنے دور کے لحاظ سے تو درست تھے لیکن آج جدید دور میں اجتہاد نہ ہونے کی وجہ سے وہ انسانی ضروریات کو پورا نہ کرسکے اور یوں آہستہ آہستہ اندرونی و بیرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے، حنفی حضرات کی اکثریت تو اب بھی اجتہاد کو شجر ممنوعہ سمجھتی ہے گوکہ بعض حنفی علماء کو اب اس کا احساس ہوگیا ہے، لیکن ان کے مقابلہ میں یہاں مغرب میں شافعی مذہب زیادہ طاقتور ہوتا جارہا ہے کیونکہ ان کے علماء نے احناف سے بہت پہلے اجتہاد کے بند دروازے کو کھول دیا تھا لیکن اس کے طاقتور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت اسے قبول کر رہی ہے بلکہ یہ بمقابلہ حنفیت ہے، حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر ان چاروں فقہ سے ہٹ کر ایک نئی فقہ معرض وجود میں آرہی ہے جبکہ بہت سارے نوجوانوں کا رحجان فقہ سے ہٹ کر براہ راست فقہ القرآن ، فقہ السنہ اور فقہ الحدیث کی طرف ہو رہا اور ہمارے خیال میں یہ ایک اچھی اور مثبت تبدیلی ہے ۔
کیا یہ بات حیرتناک نہیں کہ دس سال تک مسلسل اللہ کے نبی نے نماز پڑھائی اور دن میں پانچ مرتبہ پڑھائی، اصحاب نے مسلسل ان کے پیچھے نماز پڑھی ، ایک غیر مسلم نے کہا تم لوگ آج تک یہی طے نہیں کرسکے کہ نماز میں تمہارا نبی ہاتھ کہاں باندھتا تھا باقی باتیں تو رہیں ایک طرف ۔
سب زیادہ عمل امت نے رسول اللہ کو کرتے ہوئے جو دن رات دیکھا وہ نماز ہے لیکن تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام تک کسی ایک چیز پر بھی تو اتفاق نہیں، ایک کے نزدیک فاتحہ واجب ہے ،دوسرے کے نزدیک فرض ہے، ایک کے نزدیک رکوع کے بعد قومہ اور سجدوں کے درمیان جلسہ فرض جبکہ دوسرے کے نزدیک نہیں، آپ نے کیا سمجھا یہ محض ایک معمولی سا لفظی اختلاف ہے ؟ نہیں ، سب امام کہتے ہیں فرض چھوٹ جائے تو نماز نہیں ہوتی ، سیدھی سی بات ہےجب نماز کے ارکان و فرائض ہی مختلف ہیں تو ایک کے نزدیک دوسرے کی نماز ہی نہیں، کیا ان چاروں فقہ سے پہلے لوگ نماز نہ پڑھتے تھے؟ یہ نماز کی شر طیں ،فرائض، واجبات، سنتیں ، مستحبات، مکروہات، مفسدات جو فقہ میں مقرر کیے گئے ہیں ان سے خلفائے راشدین واقف تھے ؟ اگر واقف تھے تو ثبوت کیا ہے ، اگر نہیں تھے تو کیا ان کی نمازیں ہوئیں یا نہیں ؟
ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم دین جن کے شاگردوں سے ہند و پاک، برصغیر پر ہے وہ فرماتے ہیں دلیل امام شافعی کی قوی ہے لیکن ہم تو چونکہ مقلد ہیں بات تو اپنے امام کی ہی مانیں گے۔
قرآن کہتا ہے اذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او رُدُّوهَا ، لیکن ہم ابھی تک اس بات میں الجھے ہوئے ہیں کہ غیر مسلم کو سلام کہنا جائز ہے یا نہیں ، غیر مسلم کے ملک میں رہنا، پونڈ کمانا، ہر طرح کے بینیفٹ حاصل کرنا یہ سب کچھ عین دین ہے لیکن اسے سلامتی کی دعا دینا دین کے خلاف ہے کہ کہیں وہ تمہاری دعا کی وجہ سے اس سلامتی والے اسلام میں داخل نہ ہوجائے ۔
ہم نہ فقہ کی تنقیص کر رہے ہیں اور نہ فقہاء کی توہین ، ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ علوم کو نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے، فقہاء کے ساتھ دفتروں میں گوریاں کام نہیں کرتی تھیں، انہیں کبھی ۱۹ گھنٹوں سے لیکر ۲۳ گھنٹوں تک روزہ رکھنے کا تجربہ نہیں ہوا، انہوں نے تو لکھ دیا کہ کفار کے ملک میں قران لے کر جانا جائز نہیں، لیکن آج مسلمان رہتا ہی کفار کے ملک میں ہے توکیا قرآن کو یورپ و امریکی ممالک سے نکال دیا جائے ۔
انہیں بلڈ بنک ، ملک بنک ، اعضا کی پیوند کاری، ڈی این اے ٹیسٹ، پاسپورٹ، لائسنس، آئی ڈی کارڈ، اور نوٹ پر تصویر کا مرحلہ پیش نہیں آیا، انہوں نے ایرپورٹ پر عورت کا چہرہ ننگا کرواکر چیکنگ کے مرحلہ سے گذرتے نہیں دیکھا، انہوں نے ہوائی جہاز میں کبھی نماز نہیں پڑھی، موٹر کار، بس اور ٹرین میں نمازیں ادا نہیں فرمائیں، گردوں اور جگر کے ٹرانسپلاٹ تب نہیں ہوتے تھے، ان کا دور وہ تھا جب مسلمان سپر پاور تھے اس لیے انہوں نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا دارالحرب اور دارالامن یا دارلکفر اور دارالاسلام لیکن آج مدنیت اور معاشرت بدل گئی ہے، آج کامسلمان فقہاء کے بیان کردہ دارالحرب میں نسبتا زیادہ محفوظ ہے، آج بھی پورا مغرب اسلام اور مسلمین کے خلاف برسر جنگ ہے، افغانستان و عراق میں جنگ اتحادی افواج نے لڑی اور لڑ رہے ہیں تو کیا یہ دارلحرب قرار دیے جائیں گے ؟
بہت کچھ بدل گیا ہے بلکہ سب کچھ بدل گیا ہے، نئے اجتہاد اور نئی فقہ کی ضرورت ہے، پھر اجتہاد کے لیے جو شرطیں مقرر کی گئی ہیں وہ بھی اماموں اور فقہاء کی ہی عائد کردہ ہیں جنہیں رسول اللہ نے بیان نہیں کیا، ان میں سے اکثر شرائط تو اس کا مصداق ہیں کہ ؛ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ ہی رادھا ناچے گی ۔ یعنی غیر نبی اور غیر صحابہ کی عائد کردہ شرطیں نہ ہونگی تو اجتہاد بھی نہ ہوگا اور یوں ٹریفک جام ہی رہے گا۔ ہمارے بزرگ تو یہ بھی لکھ گئے کہ شافعی المذھب مقلد اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر حنفی بن سکتا ہے لیکن حنفی مقلد کے لیے شافعی کی تقلید جائز نہیں ، فتاوی عالمگیری کے بعض مباحث کو اگر امام ابوحنیفہ رح دیکھ لیں تو ان کی روح بھی کانپ اٹھے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*