فقہِ اسلامی کی جامعیت ، اختلافاتِ فقہا کی معنویت اور جدیدمسائل کے حل کے لیےفقہ مقارن کی ضرورت ـ مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

اللہ رب العالمین نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے لیے جس طرح جسمانی غذا کا انتظام فرمایا اسی طرح روحانی و ملکوتی غذا کا بھی نظم فرمایا۔ انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات کو پیدا فرمانے کے بعدان کے لیے صرف جسم کی پرورش کا انتظام فرمایا؛ کیوں کہ انسان بہیمیت اور ملکوتیت دونوں صفات کا سنگم ہے، جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
انسان کی روحانی غذا کیا ہے؟ کن اسباب کے ذریعے انسان کی انسانیت اور ملکوتیت کا فروغ ہوتا ہے، اس کا جاننا بڑی حد تک انسانی عقل کی دسترس سے باہر تھا؛ اس لیے اللہ تعالی نے انبیاء علیہ السلام کے ذریعے اس کی رہنمائی فرمائی۔ آخر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے مبعوث فرما کر انسانیت کے لیے ایک جامع اورمکمل نظام حیات عطا کیا، جس میں روحانی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا گیا اور جسمانی ضرورتوں کا بھی ، اسی مکمل نظام حیات کا نام ” شریعت اسلامی” ہے اس کا جاننا فقہ اور جاننے والے کو فقیہ کہا جاتا ہے۔
امام غزالی نے اپنے شہرہ آفاق کتاب المستصفی میں لکھا ہے : الفقہ عبارۃعن العلم و الفقہ لکن صار بعرف الفقہاء عبارۃ عن العلم بالاحکام الشرعیہ لافعال المکلفین ( المستصفی 1/4)
یعنی فقہ کے لغوی معنی سمجھنے کےہیں؛ لیکن بعد میں مکلف یعنی عاقل و بالغ انسانوں سے متعلق اللہ کی طرف سے جو احکام دیے گئے ہیں، ان احکام شریعت کے جاننے کا نام فقہ ہو گیا احکام شریعت کا مطلب یہ بتلایا گیا ہے: مالا یدرک لو لا خطاب الشارع۔ (تلویح مع التوضیح ص 11)
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب و سنت کے ذریعے جو احکام انسان کے لیے دیے گئے، یا ان کی روشنی میں جومسائل اجماع امت اور قیاس سے اخذ کیے گئے، وہ سب کے سب احکام شریعت ہیں؛ جن کا دائرہ پوری انسانی زندگی کو محیط ہے۔
مقاصدِ شریعت :سعادتِ دار ین کا حصول
شریعت کا مقصد انسان کو دنیوی واخروی کامرانیوں سے ہمکنار کرنا ہے؛ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے” الموافقات” میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے. اتفقت الامۃ علی ان الشریعۃ وضعت للمحافظۃ علی الضروریات الخمسۃ وھی الدین والنفس والمال والعقل والنسل(الموافقات للشاطبی ج1ص 83) یعنی پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شریعت کا اصل موضوع ان پانچوں چیزوں کی حفاظت ہے یعنی دین، جان، مال، نسل اور عقل کی حفاظت ۔
شریعت کا مقصد انسان کو دنیوی واخروی کامرانیوں سے ہمکنار کرنا ہے؛ یہی وہ فرق ہے جو آج کے قانون ساز اداروں اور شریعت کے احکامات میں ہے۔کہ موجودہ قوانین کے پس منظر میں کسی روحانی اور اخروی عقیدہ کی کوئی کارفرمائی نہیں ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے ان قوانین کی حکم رانی محض ظاہر پر ہوتی ہے ۔دل ودماغ پر نہیں ۔قانون کی نظروں سے بچ کر لوگ خوب قانون شکنی کرتے ہیں.
فقہ اسلامی کی گیرائی و گہرائی :
مذکورہ خوبیوں کے ساتھ شریعت کے اصول اور اس سے منتج ہونے والے ہر ہر حکم میں ایسی گیرائی و گہرائی اور لچک ہے کہ وہ ہر زمانہ کے حالات کا بھرپور انداز میں ساتھ دے سکتا ہے. نیزاسی کی روشنی میں آج کے ترقی پذیر دور میں بھی پیش آمدہ مسائل کو بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔ہر زمانے میں ماہرینِ شریعت فقہاء نے اس کا عملی مظاہرہ کیا، جس پر تاریخ شاہد عدل ہے۔خلافت راشدہ خلافت بنو امیہ خلافت بنو عباسیہ کے عہد میں جب اسلامی حکومتوں کا سایہ جزیرۃ العرب سے نکل کر افریقہ ایشیا بلکہ یورپ تک پھیل گیا تھا اور طرح طرح کے تمدنی اور معاشرتی معاملات اور نت نئے مسائل کا سامنا ہوا؛ تو ان فقہاء نے ان کا حل ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر پیش کیا؛ جس کی وجہ سے حکومت اور عوام کو کسی اور کا دست نگر نہیں بننا پڑا۔اس سلسلے میں ائمہ اربعہ اور ان کے ممتاز ترین تلامذہ ودیگر مجتہدین و فقہا کے کارہائے نمایاں اس دعوے کی بین دلیل ہیں۔
اہل علم سے مسائل دریافت کرنے کی ترغیب :
مذہب اسلام ایک دین فطرت ہے۔ ہر دور میں پیش آنے والے مسائل کا اس میں حل موجود ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ اس کے احکام سے خالی نہیں ہے اور ہر مسلمان ان پر عمل کا مکلف ہے۔ نا خواندہ افراد کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مسائل میں اہل علم سے رجوع کریں۔ارشاد ربانی ہے :فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون (سورہ نحل آیت نمبر 54)
اس امت پر اللہ تعالی کا یہ خاص فضل رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ مسائل کے حل کے سلسلے میں علمائے کرام سے رجوع کیا اور ان کے بتائے ہوئے جوابات اور ان کے علمی مشوروں کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنایا۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں مختلف حالات میں مختلف مسائل کی رہنمائی فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حیات تھے، تو مسائل کی رہنمائی آسان تھی، صحابہ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کرتے تھے، کچھ صحابہ اپنے سے زیادہ جاننے والے صحابہ سے مسئلہ پوچھ لیا کرتے تھے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد امت کے لیے اپنے مسائل کے حل کے لیے براہ راست رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے رجوع کرنا ممکن نہیں رہا۔
فقہائے صحابہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد میں بھی بعض صحابہ کرام بھی حسب ضرورت فتویٰ دیا کرتے تھے،جو حضرات جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اور ان کے وصال فرمانے کے بعدبھی فتوی دیا کرتے تھے ان حضرات کی تعداد کے سلسلے میں روایات مختلف آئی ہیں۔ ابو عمران نمری نے ان روایات کو جمع کیا ہے جن میں خلفائے راشدین حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کا تذکرہ ہے (الاستذکار جلد 7 صفحہ 476 کتاب الحدود)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد جن فقہاء صحابہ نے اس گراں قدر کام کو انجام دیا ان کی تعداد بشمول صحابیات کے 130 سے زائد ہے۔
صحابہ کرام میں اصحابِ فتویٰ :
علامہ ابن قیم جوزی رحمہ اللہ علیہ نے فقہاء صحابہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک مُکثرین کی جماعت ان صحابہ کرام کی ہے، جنہوں نے کثرت سے فتاوی دیے، ان کے اسمائے گرامی ہیں :حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعود، ام المومنین حضرت عائشہ، حضرت زید بن ثابت حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم۔ دوسری جماعت متوسطین کی ہے، اس میں وہ حضرات ہیں جن کے فتاویٰ کو جمع کیا جائے؛ تو ایک چھوٹی سی کتاب ہو سکتی ہے۔ ایسے حضرات حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عثمان، حضرت انس، حضرت ابو سعید خدری، ام المومنین ام سلمہ، ابو موسیٰ اشعری، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ ہیں ۔
تیسری جماعت مُقِلین کی ہے۔ یہ وہ صحابہ کرام ہیں جن سے ایک دو مسئلوں میں یا اس سے زیادہ مسائل میں فتاوی منقول ہیں ۔ایسے حضرات کی تعداد ایک سو پچیس ہے. جن میں حضرت ابو درداء، حضرت سعید بن زید، نعمان بن بشیر، حضرت ابی ابن کعب ،حضرت فاطمہ زہراء،حضرات حسنین اور اکثر امہات المومنین شامل ہیں (اعلام الموقعین جلد اول صفحہ 10)
فروعی مسائل میں صحابہ کا اختلاف اور ان کا باہمی احترام :
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعدد جزوی اور فروعی مسائل میں اختلافات منقول ہیں ۔مثلاحضرت سیدہ عائشہ غسل میں عورتوں کے چوٹی کھولنے کی قائل نہیں تھیں اوپر سے پانی بہانے کو کافی سمجھتی تھیں؛اس حوالہ سے وہ حضرت عبد اللہ بن عمر پر نقد فرماتی تھیں۔بعض صحابہ موت کے بعد میت پر نوحہ کرنے سے میت کے مبتلائے عذاب کی ہونے کی بات کہا کرتے تھے ،جبکہ بعض دوسروں کا استدلال: لا تذر وازرۃ وزر اخری (سورہ نجم آیت نمبر 38) ) سے تھا، کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ مردے پر نہیں ڈالا جاسکتا؛ کیونکہ ہر ایک کواپنے اعمال کا جواب خود دیناہے؛اسی طر ح حضرت سیدنا عمر نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی روایت کونقہ مطلقہ کے سلسلہ میں یہ کہتے ہوئے ماننے سے انکار کردیا کہ :لا نترک کتاب ربنا وسنۃ نبینا لقول امراۃ لا نعلم لعلھاحفظت او نسیت ۔(صحیح مسلم )۔ حضرت سیدہ عایشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے متعدد مسائل میں متعدد صحابہ کے نقطہ نظر کو غلط قرار دیا۔اس موضوع پر علامہ ابن حجر عسقلانی کی مشہور کتاب ہے ۔۔الاصابہ فی ما استدرکتہ السیدۃ عائشہ علی الصحابۃ ۔جس میں تفصیل کے ساتھ ان اسدراکات کا تذکرہ ہے۔حج اِفراد،حجِ تمتُّع اور حجِّ قران کے سلسلہ میں صحابہ کی رائےمختلف تھی، کوئی اِفراد کو تو کوئی تمتع اورکوئی قران کو افضل قرار دیتے تھے ۔۔”وضو مما مست النار” کے سلسلہ میں صحابہ نے حضرت ابو ہریرہ سے اختلاف کیا ۔
ان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے پر اعتماد تھا اور ایک دوسرے کے احترام میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا؛ بلکہ صحابہ کرام کے درمیان ہونے والے اختلافات باعثِ رحمت سمجھے جاتے تھے۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے عمل کے دائرے میں وسعت پیدا ہوتی تھی، امام قاسم بن محمد کہا کرتے تھے: لقد نفع اللہ الامۃ من اختلاف اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم…. اللہ رب العزت نے صحابہ کرام کے اختلافات کو نفع بخش بنا یا کوئی آدمی جو عمل کرتا ہے اس میں گنجائش پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے جو عمل کیا وہ بہتر عمل کیا( جامع بیان العلم ابن عبدالبر جلد 2 صفحہ 901 حدیث نمبر 286)
اموی اور عباسی خلفاء نے اختلاف کا برقرار رہنے دیا:
قبولیت اور وسعت کے پیش نظرامیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اختلاف رائے کو ختم کرنا پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ ہر جگہ لوگ وہاں کےعلماء، فقہاء اور مجتہدین کی آرا پر عمل کریں۔عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور، ہارون رشید اور مہدی نے امام مالک سے مؤطا امام مالک پر امت کو عمل کے لئے پابند بنانے کی تجویز اپنے اپنے دور میں لکھی، تو امام مالکؒ نے انکار کر دیا۔ ان سے یہ تاریخی جملہ بھی منقول ہے: ان اختلاف العلماء رحمۃ من اللہ تعالی علی ھذہ الامۃ. علماء کا اختلاف امت پر اللہ کی رحمت ہے (کشف الخفا عجلونی صفحہ 66 ج 1 حدیث نمبر 153))
اس سلسلے میں علامہ ابن قدامہ مقدسی کا مقولہ ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے کہ: اتفاقھم حجۃ قاطعہ واختلافہم رحمۃ واسعہ یعنی صحابہ کا کسی مسئلہ پر متفق ہو جانا یقینی دلیل ہے اور ان کا اختلاف ،رحمت اور باعث توسع ہے. (المغنی 1/29)
فروعی مسائل میں اختلاف اور سلف صالحین کی استقامت :
حجۃ الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانے سے اختلافی اعمال چلے آرہے ہیں؛ کسی نے نہیں کہا کہ یہ سب ناجائز ہے . اختلاف کے باوجود تمام جماعتوں کا اتفاق رہاکہ سب باتیں اپنی اپنی جگہ جائز ودرست ہیں؛ وہ اختلاف ضرور کرتے تھے؛ لیکن دوسرے کے عمل سے بیزار نہیں تھے؛ آج ہم میں ایسا کوئی نہیں، جو صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین سے زیادہ دین پر استقامت رکھتا ہو، حق کی راہ پر استقامت نے انھیں وقت سے پہلے بوڑھا بنا دیا تھا ان کی ہڈیوں کو پگھلا دیا تھا، ان کا موقف واضح تھا کہ اختلاف موجبِ رحمت اور باعثِ توسع ہے۔(حجۃ اللہ البالغہ ،العقد الجید ،ملخصا)
فقہاء تابعین ؒ:
صحابہ کرام کے سچے جانشین تابعین تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں جب فتوحات کا سلسلہ دراز ہوا، تو لوگوں کی رہنمائی کے لیے صحابہ کرام نے تابعین کی جماعت کو ان علاقوں میں روانہ کیا تاکہ یہ حضرات لوگوں کے سوالات کا جواب دے سکیں،اور نئے پیش آمدہ مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کر سکیں۔ خود مدینہ منورہ میں دینی رہنمائی کے لیے سات حضرات موجود تھے، جنہیں فقہاء سبعہ کہا جاتا ہے۔جن کے اسماء ہیں: سعید ابن مسیب ،ابوبکر بن عبدالرحمن، سلیمان ابن یسار، عروۃ بن زبیر، خارجہ بن زید، عبیداللہ بن عبداللہ اور قاسم بن محمد۔
ان کے علاوہ مکہ مکرمہ میں امام مجاہد، عطاء بن ابی رباح، علی ابن ابی طلحہ ۔کو فہ میں ابراہیم نخعی، عامر بن شراحیل، علقمہ، عامر شعبی ۔ بصرہ میں حسن بصری ۔یمن میں طاؤس ابن کیسان۔ شام میں حضرت مکحول، ابو ادریس خولانی ۔دمشق میں رجاء بن حیوہ۔ مصر میں یزید ابن حبیب، عمر بن حارث فقہ و فتاویٰ میں مجتہدانہ شان کے حامل تھے، ان کے فتاوی مسندات اور سنن کی کتابوں میں موجود ہیں۔
فقہائےصحابہ وتابعین کے موسوعات کی ترتیب :
ضرورت تھی کہ صحابہ کرام اور حضرات تابعین کے اقوال اور ان کے فتاویٰ کو یکجا مرتب کردیا جائے۔ عصر حاضر کے ممتازمحقق ڈاکٹر رواس قلعہ جی صدر کلیۃ الشریعہ جامعہ کویت نے اس ضرورت کا ادراک کیا اور صحابہ و تابعین کے اقوال کو یکجا کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اس سلسلے میں اب تک صحابہ میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اور تابعین میں سے حضرت حسن بصری ،حضرت ابراہیم نخی و دیگر معروف تابعین کے اقوال جمع کرچکے ہیں،یہ ڈاکٹر قلعہ جی کا ایک مایہ ناز کارنامہ ہے. اس سلسلے کے ذریعہ صحابہ و تابعین کی روایات اور ان کے فتاوی دفعہ وار مرتب شکل میں سامنے آئے ہیں، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔اس سلسلے کی اب تک تقریبا سات کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
اسی طرح فلسطین کے محقق ڈا کٹر عبد الرحمن العقبی نے اجماعاتِ صحابہ کو جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں اب تک تیرہ جلدیں تیار ہوچکی ہیں،اس ضخیم موسوعہ میں مصنف نے ان تمام مسائل کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے،جن پر صحابہ کا اجماع منعقد ہوا ہے،خواہ وہ مسائل اصولِ دین سے متعلق ہوں یا فروع دین سے۔اس منفرد و ممتاز کارنامے پر مصنف یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔ معروف ویب سائٹ ”ملتقی اہل الحدیث“کے مطابق یہ کتاب عنقریب چھپ جائے گی۔(ماہنامہ دار العلوم دیوبند ج100۔شمارہ 1۔)
تدوینِ فقہ کا اصل زمانہ :
عہدِ صحابہ اور تابعین کےفوراً بعد تصنیف و تالیف کا سنہرا دور شروع ہو تا ہے؛ اس زرین عہد میں مختلف مکاتب فکر کی بنیادی کتابیں اور موسوعات منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئیں، اس دور میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ممتاز تلامذہ اور اصحاب کے ساتھ مل کرمسائلِ حاضرہ پر تحقیق و تنقیح کا کام کیا کرتے تھے۔ گویا حضرت کی مجلس ایک اکیڈمی تھی، جس میں ایک ایک مسئلہ پر کافی غور و خوص کیا جاتا تھا ۔ مختلف دلائل پیش کیے جاتے تھے اور دلائل کا تجزیہ کرنے کے بعد جس مسئلہ پر امام اعظم اوران کے اصحاب کو انشراح واتفاق ہوتا تھا۔ اس مسئلے کو تحریر کیا جاتا تھا۔ اس طور پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کے ذریعے فقہ اسلامی کی تدوین ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو فقہ میں لوگوں کا امام کہا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف جو یہ جملہ منسوب ہے:”الناس عیال فی الفقہ علی ابی حنیفہ۔ ” یہ جملہ سو فیصد مبنی برحقیقت ہے، اسی زمانے میں آپ کے ممتاز تلامذہ میں سے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے” الخراج” نامی کتاب مرتب فرمائی۔نیز امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے عالمی شہرت یافتہ کتابیں تصنیف کیں، جن میں سیر کبیر؛ سیرصغیر؛ جامع کبیر؛ جامع صغیر؛ مبسوط اور زیادات خاص طور پر قابل ذکر ہیں؛ یہ وہ کتابیں ہیں جنہیں فقہ حنفی کی ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے۔
امام ابو حنیفہ کی جلالت شان:
ابو مؤید موفق بن احمد خوارزمی نے محمد بن علی زنجری سے روایت کی ہے کہ امام ابوحفص کبیر کے حکم کی تعمیل میں امام ابوحنیفہ کے اساتذہ شمار کیے گئے، تو ان کی تعداد چار ہزار تین سو سے متجاوز تھی۔اسی طرح اساتذہ کے علاوہ انھوں نے آٹھ سو فقہا و محدثین کو آپ کے تلامذہ میں شمار کیا ہے؛ لیکن واقعہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے؛ جن کا تعلق عا لم اسلام کے مختلف شہروں سے ہے۔امام ابوحنیفہ نے تراسی ہزار مسائل اپنی زبان سے بیان کیے ۔جن میں سے اڑتیس ہزار عبادات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور پینتالیس ہزار کا تعلق معاملات سے ۔شمس الائمہ کردری نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے جتنے مسائل مدون کیے ہیں ان کی تعداد چھ لاکھ ہے ۔
امام ابو حنیفہ تدوین فقہ اسلامی کی جو نہج قائم کی اسے اللہ تعالیٰ مقبولیت عطاء کی ۔ یہ انداز علما کے مابین مروج ہوگیا۔ خود امام مالک نے امام ابوحنیفہ کے اسی علمی انداز کی پیروی کی ۔علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :من مناقب ابی حنیفہ التی انفرد بھا…. یعنی امام ابوحنیفہ کی منفرد خصوصیات میں سے یہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے شریعت کے علم کی تدوین کی اور اسے باب درباب مرتب کیا۔ مالک بن انس نے موطا کی ترتیب میں بھی اسی انداز کو باقی رکھا۔ (تبییض الصحیفہ فی مناقب ابی حنیفہ. ص 21)
ائمہ ثلاثہ کی علمی وفقہی عظمت :
اسی عہد میں سحنون بن سعید نے امام دارالہجرۃ، قدوۃ الفقہاء والمحدثین حضرت مالک بن انس کے فتاوی کو المدونہ الکبریٰ کے نام سے جمع کیا۔اس کے مسائل کی تعدا چھتیس ہزار ہے ۔۔ اسی طرح امام شافعی کی نہایت اہم اورمعرکۃ الآراء کتاب” کتاب الام” اسی دور میں سامنے آئی۔جس کو خود امام شافعی نے اپنے شاگردوں کو املا کر ایا تھا۔ اس کتاب کی دار الوفاء اسکندریہ مصرسے جو اشاعت عمل میں آئی ہےوہ گیارہ جلدوں میں اورکل 6465 صفحات پر مشتمل ہے ۔ یہ تصنیف اُن کے شاگرد ربیع بن سلیمان مرادی کی روایت سے ہم تک پہنچی ہے۔۔امام ابو بکر خلال نے امام احمد بن حنبل کے مسائل درجنوں مجلدات میں جمع کیے ۔جس کا نام ا لجامع لعلوم الامام احمد ہے ۔اس کتاب کے بارےمیں ابن قیم لکھتے ہیں : تقریباً بیس جلدوں میں ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: امام احمد کے مسلک میں اس جیسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے۔ فؤاد سزکین کہتے ہیں : امام احمد کے مسائل میں ایک مستند مرجع اور بنیادی کتاب ہے۔۔اس کی بنیاد قرن اول کے اختلافات ہیں۔
فقہاء کے اختلاف کی نوعیت : وہ مسائل جو قرآن وسنت میں صراحتا مذکور نہیں ہیں اور جنہیں فقہائے کرام نے قرآن و سنت، عمل صحابہ اور اجماع امت سے مستنبط کیا ہے اس میں کہیں اختلاف رائے بھی ہے اس کی ایک وجہ حالات اور زمانہ کا اختلاف ہے ۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے دو بڑے شاگردوں حضرت قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی کا اپنے استاد سے جو اختلاف کتابوں میں مذکور ہے اس کے بارے میں امام محمد کا جملہ بہت مشہور ہے کہ اگر ہمارے اساتذہ اس زمانے میں ہوتے تو وہی کہتے جو ہم نے کہا ہے۔
قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نصوص متناہی ہیں اور مسائل غیر متناہی۔ اس لیے ہر زمانے میں مسائل کا جواب دینے کے لیے انتہائی محنت اور غوروفکر کی ضرورت ہے آج لوگوں میں اسلاف کی طرح علمی گہرائی و گیرائی نہیںرہی۔ اس لیے مختلف فقہ اکیڈمیاں اجتماعی طور پر یہ کام انجام دے رہی ہیں۔ اس کے لیے وہ ایک مخصوص فقہی دبستان سے وابستہ رہنے کے باوجود دیگر دبستان فقہ سے بھی استفادہ کرتے ہیں… یہیں سے فقہ علی المذاہب الاربعۃ کی تدوین کی ضرورت پڑی۔
دلیل وبرہان یا زمانہ واحوال کا اختلاف ؟
فقہاء کے درمیان جو اختلاف واقع ہوا ہے۔ وہ دو طرح کا ہے اختلاف زمانہ اور اختلاف ادلہ؛ اختلاف ادلہ؛ سے مراد ایسا اختلاف ہے جس کی بنیاد دلیل و نظر ہو؛ یہ اختلاف تو ظاہر ہے ہمیشہ رہے گا ۔اور اختلاف زمان اس اختلاف کو کہتے ہیں جو نکات نظر اور دلائل پر مبنی نہ ہو بلکہ زمانہ حالات اورعرف کی رعایت میں ایک فقیہ نے ایک رائے قائم کی تھی؛ جب حالات بدل گئے اور عرف تبدیل ہوا تو دوسرے نےبدلے ہوئے حالات کو پیش نظر رکھ کر دوسرا حکم دیا؛ متاخرین کی کتابوں میں بکثرت اس کے اشارات ملتے ہیں۔ قرون اولیٰ میں جو اختلافات تھے ان کی بنیاد علم وتحقیق اور روایات پر تھی، کسی کی مخالفت پر نہیں۔
ان کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے؛ اس کی وجہ اخلاص ہے؛ اس میں رائے پر اصرار اور ضد یا اختلاف برائے خلاف ہرگز مقصود نہیں تھا۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا حال یہ تھا کہ وہ جب بھی فتوی دیتے تو یہ فرماتے کہ یہ نعمان بن ثابت کی رائے ہے اور یہ میری جستجو ہے اگر کوئی اور کوئی شخص اس سے زیادہ بہتر رائے مستنبط کریں تو زیادہ صحیح اور درست ہو سکتی ہے۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہر شخص کی بات مانی بھی جاسکتی او ترک بھی کی جاسکتی ہے. (کل احد یؤخذمن قولہ ویرد الا صاحب ھذاالقبر۔(المقاص الحسنہ ص 327)
امام ابوحنیفہ کا یہ قول علامہ ابن عابدین الحنفی (المتوفی: 1252ھ) نے "ردالمحتار ” میں نقل کیا ہے، لکھتے ہیں :” فقد صح عنه أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي. وقد حكى ذلك ابن عبد البر عن أبي حنيفة وغيره من الأئمة.ہمارے امام سے صحت کے ساتھ یہ قول ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب (کسی مسئلہ میں ) کوئی صحیح حدیث ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے ، یہ بات علامہ ابن عبدالبرؒ نے امام ابوحنیفہ کے علاوہ دیگر دیگر ائمہ سے بھی نقل کی ہے ،(مقدمۃ رد المحتار علی الدر المختار )
امام شافعی کا قول ہے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہو جائے وہی میرا مذہب ہے. امام احمد بن حنبل کہا کرتے تھے کہ خدا اور رسول کے کلام کے مقابلے میں کسی کی رائے اور کلام کو اہمیت نہیں۔
فقہی اختلافات کی بنیاد :
ان حضرات کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں اخلاص، للہیت، علمی تدین کے ساتھ ان کے مندرجہ ذیل اسباب بھی ہیں۔
نمبر1 کبھی کسی فقیہ تک حدیث پہنچی اور دوسرے فقیہ تک نہ پہنچیں ۔لہٰذا فقہی آراء مختلف ہوگئیں۔
نمبر2 کبھی اس لیے اختلاف ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کسی نے وجوب پر محمول کیا ۔کسی نے استحباب پر اور کسی نے محض اباحت پر۔
نمبر 3 کبھی راویوں کو واقعہ کی تعبیر میں وہم ہوا. مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں ایک ہی حج فرمایا اور اس کو کسی راوی نے تمتع تو کسی نے قران اور کسی نے اِفراد قرار دیا ۔اسی وجہ سے بعض فقہاءنے اِفراد کو افضل قرارد دیا،بعض نے تمتع کو بعض نے قران کو ۔
نمبر 4. علامات اور اسباب کے تعین میں اختلاف. مثلاً استنجاء کے وقت استقبال قبلہ سے ممانعت کی علت امام ابو حنیفہ نے احترام قبلہ کو قرار دیا اور امام شافعی نے یہ کہا کہ اس کی وجہ سے جو اجنہ نماز میں مصروف ہوں گے یا تو ان کا سامنا ہوگا یا ان کا پیچھا ہوگا ۔
نمبر5. کسی لفظ مشترک کے تعین میں اختلاف ۔مثلاً قرآن مجید کے لفظ ’’قروء‘‘ کے بارے میں امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ یہ حیض کے مفہوم میں ہے اور امام شافعی نے فرمایا کہ طہر کے مفہوم میں ہے ۔عربی لغت کے لحاظ سے دونوں کا امکان ہے۔
نمبر 6 کسی حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے میں اصولی اختلاف۔ مثلا:امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مرسل روایات بھی معتبر ہیں اور امام شافعی اور امام احمد کےنزدیک مرسل روایات مقبول نہیں ہیں۔اسی طرح پھر امام شافعی کےنزدیک بھی سعید بن مسیب جیسی مضبوط شخصیت کے مراسیل مقبول ہیں۔
نمبر 7 ۔حدیث کی وجہ سے ترجیح میں اختلاف ۔مثلاً رفع یدین کے مسئلہ پر امام ابوحنیفہ اورامام اوزاعی رح کا مناظرہ ہوا، دونوں کے پاس صحیح حدیث موجود تھی، امام ابو حنیفہ کے پاس حضرت ابن مسعود کی روایت اور امام اوزاعی کے پاس حضرت ابن عمر کی روایت تھی ؛ مگر تطبیق میں اختلاف تھا؛ امام ابو حنیفہ کے ہاں وہ سند زیادہ قوی ہوتی ہے. جو فقیہ افراد پر مشتمل ہو۔ اس لئےانھوں نے ابن مسعود کی روایت کو ترجیح دی، امام اوزاعی کے نزدیک اس روایت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، جس کی سند میں واسطے کم ہوں اس لئے ابن عمر کی روایت کو مقدم رکھتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے رفع یدین کو ترجیح دی۔
نمبر 8 ۔کبھی ناسخ منسوخ میں اختلاف کی وجہ سے فقہی اختلاف پیدا ہوتا ہے یعنی دو متعارض روایتیں وارد ہوئیں؛ لازمی طور پر ان میں سے ایک منسوخ ہوگی اور دوسری روایت ناسخ ہوگی؛ لیکن یہ بات پائے ثبوت کو نہیں پہنچ سکی کے پہلا فرمان یا پہلا عمل کون ہے جو منسوخ ہے اور دوسرا عمل کیا ہے جو پہلے کے لئے ناسخ ہے۔ اس لئے کسی نے پہلے کو درست ٹھہرایا اور کسی نے دوسرے کو۔
الگ الگ علاقوں میں الگ الگ فقہا کی تقلید :
فقہاء نے الگ الگ خطوں اور علاقوں کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا ۔فقہاء کی سکونت، حلقہ درس اور تلامذہ واصحاب کے ذریعے ایک امام کی تقلید کو بعض علاقوں میں مقبولیت حاصل ہوئی اور دیگر علاقوں میں دوسرے امام کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس مقبولیت میں مجتہدین کی عظمت، وسطوت اور وجاہت کو بھی دخل ہے۔
دیگر مجتہدین کے بر عکس ائمہ اربعہ کے اجتہاد کے مطابق فتوی دینے والے اور اس کے مطابق ریسرچ و تحقیق کے کام کرنے والے افراد ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق چوتھی صدی کے بعد سے دیگر مذاہب متروک ہوگئے اور امت چار مذاہب فقہیہ :امام اعظم ابو حنیفہ؛ امام مالک بن انس؛ امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل کی فقہ پر جمع ہوگئی، علامہ مرغینانی کی الھدایہ، علامہ کاسانی کی بدائع الصنائع، ابن حزم ظاہری (م456ھ) کی المحلی، ابن رشد مالکی (م560ھ) کی المقدمات، ابن رشد ثانی (595ھ) کی بدایۃ المجتہد، ابن قدامہ مقدسی (620ھ) کی المغنی؛ ابو اسحاق شیرازی کی مہذب اور علامہ نووی کی شرحِ مہذب میں مذاھب اربعہ کے ذکر اور ان کے دلائل اور دلائل کے تجزیے کا کارنامہ بہتر انداز میں انجام دیا گیا ہے. ان علمائے کرام نے اپنی کتابوں میں ان فقہاء وائمہ کےمسالک کو نقل کرنے کا اہتمام فرمایا جو سند صحیح سے ان تک پہنچیں۔
شروع میں دیگر فقہاء کے مسالک کو بھی نقل کیا جاتا تھا؛ مثال کے طور پر امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب جامع ترمذی میں ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر ائمہ مثلا امام اوازاعی ،ابو ثور ،اسحاق بن راہویہ،داؤد ظاہری ،سفیان ثوری ، عبد اللہ بن مبارک ،لیث بن سعد مصری کے اقوال کو بھی دلائل کے ساتھ نقل فرمایا ہے؛ لیکن آہستہ آہستہ عمل کے لحاظ سے انہیں چار فقہ کا عمل انتخاب ہوگیا اور ایک ذوق بنا کے کسی بھی مسئلہ کے سلسلے میں ان چاروں ائمہ کے اقوال ان کے نظریات اور ان کے اجتہادات کو پیش کیا جائے ۔
علماء وفقہاءکا اختلاف چوں کہ دلائل اور اصول پر مبنی تھا اس لیے ان حضرات نے اصول اختلاف کو واضح کرنے کے لیے بڑی معرکۃ الآراء کتابین بھی تصنیف کیں ۔۔جن سے اہل علم کو اختلاف کی جہت معلوم ہوتی ہے اور کسی ایک رخ پر انشراح ہوجاتا ہے ۔۔ان میں سے مندرجہ ذیل کتابیں خاص اہمیت رکھتی ہیں :
١) اختلاف الفقهاء؛ لابن جرير الطبري، المتوفى سنة 310هـ
٢) اختلاف الفقهاء؛ لأبي جعفر الطحاوي، المتوفى سنة 321هـ
٣) الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف؛ لابن المنذر، المتوفى سنة 318هـ
٤) تأسيس النظر؛ للدبوسي الحنفي، المتوفى سنة 430هـ
٥) اختلاف العلماء؛ للإمام محمد بن نصر المروزي، المتوفى سنة 294هـ
٦) التجريد؛ للقدوري الحنَفي، المتوفَّى سنة 428هـ
٧) الخلافيات؛ للبيهقي الشافعي، المتوفَّى سنة 458هـ
٨) الوسائل في فروق المسائل؛ لابن جماعة الشافعي، المتوفى سنة 480هـ
٩)مختصر الكفاية؛ للعبدري الشافعي، المتوفى سنة 493هـ
١٠) حلية العلماء في اختلاف الفقهاء؛ لأبي بكر محمد بن أحمد الشاشي الشافعي، المتوفى سنة 507هـ
١١) اختلاف الفقهاء؛ لمحمد بن محمد الباهلي الشافعي، المتوفى سنة 321هـ
12) الحاوي؛ للماوردي، المتوفى سنة 450هـ
البحر الزخار الجامع لمذاهب علماء الأمصار؛ لأحمد بن يحيى المرتضى
مختصر اختلاف العلماء؛ للرازی
ماضی میں اس موضوع پرجو کتابیں لکھی گئیں اور علما نے اس نہج پر جو بڑے کارنامے انجام دیے ہیں. ان کا تسلسل بعد کی صدیوں میں بھی جاری رہا۔ متاخرین میں سے علامہ شوکانی کی نیل الاوطار کو بڑی مقبولیت ملی۔
فقہ ِمذاھب اربعہ پر موسوعہ کی تیاری :
حالات کے تقاضے اور عصر حاضر کے اسلوب کے مطابق اس امر کی ضرورت تھی کہ تمام ائمہ متبعین کی فقہ کو یکجا جمع کر دیا جائے.. اس سلسلے میں مصر سے دو کوششیں ہوئیں.. سب پہلے ملک فؤاد نے علامہ جزیری کی سربراہی میں اس کام کے لیے علماء کی جماعت تشکیل دی اور الفقہ علی المذاہب الاربعۃ جیسی معرکۃ الآراء کتاب منظر عام پر پر آئی دوسری کوشش 1962 ء میں ہوئی جب حکومت مصر نے ایک موسوعہ فقہیہ تیار کرنے کا منصوبہ بنا یا،اس موسوعہ کو ”موسوعہ جمال عبد الناصر فی الفقہ الاسلامی“ کے نام سے موسوم کیا گیا؛چنانچہ اس موسوعہ پر باقاعدہ کا م شروع کیا گیا؛لیکن کام کی سست رفتاری کی وجہ سے ابھی تک اس کی سولہ جلدیں منظر عام پر آئی ہیں، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ کے بر عکس اس موسوعہ میں مذاہبِ اربعہ کے ساتھ شیعہ،زیدیہ،،زیدیہ،اباضیہ اور ظاہریہ کے مسالک کے بیان کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
البتہ فقہ ائمہ اربعہ پر موسوعہ تیار کرنے کی سب سے کامیاب کوشش وزارت اوقاف کویت کی طرف سے سامنے آئی. اس کام کے لیے حکومت میں ممتاز مفتی ڈاکٹر مصطفی زرقا کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم کو منظوری دی گئی ؛ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس موضوع پر تیزی سے کام شروع کیا. ڈاکٹر صاحب کی محنت رنگ لائی اور تیزی کے ساتھ اس کی جلد یں منظر عام پر آنے لگیں، بالآخر فقہ علی المذاہب الاربعہ کے موضوع پر ایک دراز نفس موسوعہ امت مسلمہ کے سامنے آیا، بلاشبہ موضوعات کے استحصاء اور جامعیت اور ترتیب کے لحاظ سے پندرھویں صدی ہجری کا یہ منفرد و ممتاز ترین کارنا ہے اس میں مذاہب اربعہ کے بیان کا اہتمام کیا گیاہے. اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی نگرانی میں اس ذخیرہ کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو یقیناً اردو داں حضرات کے لئے بیش بہا تحفہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں قاموس الفقہ کے نام سے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک جامع فقہی موسوعہ ترتیب دیا ہے،جو چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اسے بھی ہم موسوعات کی فہرست میں شامل کرسکتے ہیں ۔اس کا محور فقہ حنفی ہے ۔
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کے مختلف مسائل میں تقابلی مطالعے کا رجحان اہل علم کے حلقوں میں کافی بڑھ گیا ہے اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ فقہی ذوق رکھنے والے علماء فقہ اسلامی کے مختلف ابواب میں وہاں کے بنیادی اختلافات اور اختلافی مقدمہ سے آگاہ ہوں اس فکر کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فقہ اسلامی کے معروف عالمی ادارے عصر حاضر کے پیدا کردہ مسائل میں کسی خاص مکتب فکر کے بجائے اسلامی کے چار مقاصد کو سامنے رکھ کر ان مسائل کا آسان اور قرآن و سنت سے حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں؛ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اسلامی کے تقابلی مطالعہ پر مفید تصانیف منظر عام پر آ گئیں ۔
فقہ مقارن کا تعارف:
بیسویں صدی میں سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ہوشرباترقی کے نتیجے میں ایجادات کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا ۔ماہرین طرح طرح کی اور نت نئی ایجادات میں سرگرم ہوگئے.ہوش ربا اشیا ایجاد ہوتی گئیں۔ دوسری طرف جس برق رفتاری سے سائنسی ترقی ہوئی اتنی ہی رفتار نت نئے مسائل بھی رونما ہونے لگے۔ جس کی بنا پر کسی ایک مکتب فکر کی فقہ سے فائدہ اٹھانا اور ایک ہی فقہ پر باقی رہ کر چلنا بعض احوال میں لوگوں کے لئے دشوار معلوم ہو نےلگا۔امت کی مشکلات کو آسان کرنے اور نت نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے باقاعدہ فقہ مقارن کے نام سے علم وتحقیق کا ایک الگ اسلوب قائم کیا گیا تاکہ ان پیش آمدہ مسائل کو مختلف مکاتب فکر کے دلائل کی روشنی میں مقارنہ اور موازنہ کیا جائے ۔پھر جس مسلک کو اختیار کرنے میں امت کے لیے سہولت ہو ،اس مسلک کے جزئیات اور ان کے دلائل کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کو حل کیا جائے، اسی کو فقہ مقارن کا نام دیا گیا ۔اس رجحان کے پیدا ہونے کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ فقہ اسلامی کے معروف عالمی اداروں میں عصر حاضر کے پیدا شدہ نت نئے مسائل میں کسی خاص مکتبِ فکر کی بجائے فقہ اسلامی کے چاروں مکاتب کو سامنے رکھ کر ان مسائل کا آسان اور اقرب الی الصواب حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
مقارن قرن سے بنا ہے جس کے لغوی معنی ملانے کے ہیں ۔جن کتب میں فقہی مسائل کے اندر مختلف مسالک ومکاتبِ فکر کی آراء کو جمع کیا جاتا ہے اور ان میں تقابلی مطالعہ کیا جاتا ہے۔اور دلائل وتقاضے کی روشنی میں کسی ایک مسلک کو اختیار کیا جاتا ہے اسی کو ”فقہ مقارن“کہتے ہیں۔المقارنة لغة: المصاحبة وهي من مادة قرن بمعنى الجمع ويكون وزنه من المفاعلة المقارنة. واصطلاحا: تقرير الآراء الفقهية في المسئلة المعينة مع مسنداتها من الأدلة الشرعية بعد تحرير محل النزاع فيها وإقامة الموازنة بينها توصلا إلى معرفة الراجح منها أو الجمع بينهما.(شعب بن عبد الہادی فتوری ،النہضہ ڈاٹ کام )
پہلے ایک اصطلاح استعمال ہوتی تھی ”علم الخلاف“ کی ۔یہ اصطلاح کسی حد تک فقہ مقارن کی اصطلاح کے قریب تر ہے ۔علم الخلاف س میں ہر مسلک کی تفصیلات اور اس ضمن میں پیش کردہ تحقیق کو اس کی بنیادی کتب سے براہ راست اخذ کیا جاتھا،اور دلائل کےذریعہ اپنے امام ومجتہد کے نظریات کو مؤکد کیا جا تھا ۔۔اب جو کتابیں فقہ مقارن کے عنوان سے آرہی ہیں ان کتابوں سے انسان کو جلد اور آسانی کے ساتھ مختلف مسالک کی تحقیقات سے واقفیت حاصل ہوجاتی ہے۔
فقہ الخلاف کی کتابوں میں عموما صرف اختلافی فقہی مسائل سے بحث ہوتی تھی اور کسی بھی مسئلہ میں، مختلف ائمہ و مجتہدین کی آراء، ان کے دلائل، محلِ نزاع کی تحلیل، ، اور راجح کی تعیین جیسی بحثوں کی طرف توجہ کی جاتی تھی؛ لیکن فقہ مقارن پر لکھی جانے والی کتابیں فقہ کی مکمل کتاب ہوتی ہیں ،ان کتابوں میں فقہ کے تمام ابواب ہوتے ہیں ؛البتہ جو مسائل اختلافی ہوتے ہیں ان میں کسی ایک امام کی تقلید نہیں کی جاتی ؛بلکہ مصنف آزادانہ طور پر جس مجتہد کے مسلک کو دلائل کی روشنی میں راجح سمجھتا ہے ۔اسے ترجیح دیتا ہے ۔
فقہ مقارن کا اسلوب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے صورت مسئلہ کو واضح کیا جاتا ہے۔ پھر محل نزاع کا تحلیل وتجزیہ کیا جاتا ہے، بعدازاں منشاء اختلاف کو بیان کیا جاتا ہے اور ان مسائل میں علماء کی آراء بیان کی جاتی ہیں۔اوردلائل کا مناقشہ کر کے کسی ایک نقطہ نظر کی ترجیح کی جاتی ہے۔
فقہ مقارن کا عمومی فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ فقہ اسلامی کےاصل مزاج تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ مختلف اصول و ضوابط کا علم اور مختلف فقہی آراء سے استفادہ آسان ہوتا ہے ۔عوام الناس کو مسائل کی روح تک پہنچنے میں سہولت فراہم ہوتی ہے ۔اور اس کے مطالعہ سے فقہ اسلامی کی اہمیت آشکارا ہوتی ہے ۔
فقہ اور فقہ مقارن کے مابین فرق یہ ہے کہ علم فقہ میں کسی ایک مسلک کے امام کی تقلید کی جاتی ہے۔ جب کہ فقہ مقارن تمام مسالک میں سے کسی ایک کو دلائل سے راجح قرار دے کر اس کی اتباع کی جاتی ہے ۔اسی طرح علم فقہ میں چند اقوال کو پیش کرنے کے بعد ہر ایک کے دلائل بھی پیش کیے جاتے ہیں؛ لیکن ترجیح بہر حال اپنے امام اور مجتہد کے مسلک کو دی جاتی ہے؛ لیکن فقہ مقارن میں تمام آراء کے دلائل پر بحث کی جاتی ہےاور غیر جانبدارانہ طور پر مصنف جس رائے کو بہتر سمجھتا ہے اسی کو راجح قرار دیتا ہے ۔
فقہ مقارن- خدشات اور اندیشے :
فقہ مقارن کے متعدد فوائد کے ساتھ اس میں کئی خدشات اور اندیشے بھی ہیں وہ اندیشہ حقیقت کی شکل بھی اختیار کررہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بسا اوقات کم علم اور نا اہل افرادجو شرائط اجتہاد سے عاری ہوتے ہیں وہ بھی مجتہد بن کر فقہاء اسلام کے درمیان محاکمہ (پنچیتی ) پر جری ہوجاتے ہیں دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے تلفیق بین المذاہب کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔۔ایسے دور میں جب کہ اتباع ہوی کا دو دورہ ہو۔ تلفیق کی راہ کھولنا بڑی مضرتوں کا حامل ہے ۔
تلفیق کسے کہتے ہیں؟
لغوی طور پر تلفیق کہا جاتا ہے دوچیزوں کو ملا دینےکو ، ایسی دو چیزیں جو دائمی ملی ہوئی ہوں؛ انہیں لفقان کہا جاتا ہے۔قدیم فقہاء کے نزدیک لفظ تلفیق لغوی معانی میں ہی مستعمل ہے،قدیم فقہاء لفظ تلفیق کو اس کے لغوی معنی ضم کرنےکے میں ہی استعمال کرتے ہیں۔
تلفیق کی اصطلاحی تعریفیں بہت سے علماء سےالگ الگ اندازمیں منقول ہیں ، ان سب کا ما حصل یہ ہے:
’’ التلفیق ھو الاخذ فی الاحکام الفقهیة بقول أکثر من مذهب فی أبواب متفرقة أو باب واحد أو فی أجزاء الحکم الواحد۔’’تلفیق یہ ہے کہ احکام فقہیہ میں ایک سے زائد مذاہب کو مختلف ابواب،یا ایک باب ،یاایک مسئلہ کے مختلف اجزاء میں جمع کر دیا جائے ۔ ‘‘
فقہاء کی اصطلاح میں تلفیق کے معنی ہیں متعدد مذاہب کو ایک عمل میں اس طرح جمع کردیا جائے کہ کسی بھی ایک مذہب کے مطابق وہ عمل صحیح نہ ہوسکے۔
التلفیق: ہو القیام بعمل یجمع فیہ بین عدۃ مذاہب حتی لا یمکن اعتبار ہذا العمل صحیحا في أي مذہب من المذاہب۔ (لغۃ الفقہاء ۱۴۴)یعنی تلفیق کسی عمل کو چند مذاہب کے مابین جمع کرکے اس طرح کرنا کہ ان مذاہب میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق اس عمل کی صحت ممکن نہ ہو۔صاحبِ قواعد الفقہ نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے کہ اپنی خواہشات نفسانی کی اتباع میں رخصت تلاش کرنا، سہولت پسندی اختیار کرنا۔
تلفیق کی صورتیں :
تلفیق کی بالعموم تین شکلیں ہوتی ہیں(1)مختلف ابواب میں تلفیق کرنا. جیسے نماز میں ایک امام کے اقوال پر عمل کرنا اوراور زکوۃ میں دوسرے امام کے مذہب کو اختیار کرنا۔(2)ایک باب میں مختلف ائمہ کے اقوال پر عمل کرناجسے وضو کے طریقہ کا ر میں حنفیہ کے مذہب کو اختیار کیا اور غسل میں شوافع کے اقوال کو لےلیا۔(3)ایک ہی مسئلہ کے مختلف اجزاء میں مختلف مذاہب کو جمع کر دینا. مثلاً وضوء کرتے ہوئے صرف چند بالوں کا مسح شافعیہ کے مذہب کے مطابق کیا اور پھر مس امرۃ میں حنفیہ کے مذہب کو اختیار کیا۔یہ تمام صورتیں علماء کے ہاں اصطلاحی تلفیق کی ہیں،اور ان کےجوازاور عدم جواز میں کا فی تفصیلی مباحث موجود ہیں ،خاص کر آخری صورت میں کافی شدت پائی جاتی ہے۔ اس کا جواز اور عدم جواز اس بحث پر موقوف ہے کہ کسی معین فقہی مذہب کی تقلید ضروری ہے یا نہیں؟(ظاہر ہے کہ چار مسالک میں سے کسی ایک کی تقلید امت کے سواد اعظم کے نزدیک ضروری ہے…) تلفیق بارے میں علماء کےتین نقطہ نظر سامنے آتے ہیں۔
مطلق عدم جواز:
بہت سے علماء ہر قسم کی تلفیق کے عدم جواز کے قائل ہیں،ان میں ابوالمعالی ،امام الحرمین عبدالملک الجوینی،علی بن محمد لکیاالہراسی اور محمد بن احمد السفارینی ،اکثر فقہائے حنفیہ عدم جواز کے قول میں مشہور ہیں۔ ان حضرات کی مشہور دلیل یہ ہے کہ اس سے تکالیف شرعیہ کا خاتمہ ہو جاے گا اور بعض د فعہ حرام چیز حلال ہو جائے گی۔( السفارینی،محمد بن احمد، التحقیق فی بطلان التلفیق ( ریاض : دارالصمیعی ،ص: ۱۷۱۔ ۱۷۲)
ان الحکم الملفق باطل بالاجماع وأن الرجوع عن التقلید بعد العمل باطل إتفاقا۔ (درمختار مع الشامي، کراچی ۱/ ۷۵، زکریا ۱/ ۱۷۷) بے شک حکم ملفق بالاجماع باطل ہے۔ اور عمل کرنے کے بعد تقلید سے رجوع کر لینا بالاتفاق باطل ہے۔
خارقِ اجماع تلفیق کا مطلب یہ ہے کہ مجتہد مقید مسائل میں ایسا طریقہ اختیار کرے، جس سے ائمہ اربعہ میں سے کسی کے بھی مذہب کے مطابق عمل درست نہ ہو؛ بلکہ ایک پانچویں مذہب کی ایجاد اس سے لازم آرہی ہو، تو ایسی تلفیق بالاتفاق ناجائز اور باطل ہے۔ اور دین اسلام کو کھلواڑ بنانا ہے۔
متی عمل عبادۃ أو معاملۃ ملفقۃ أخذلہا من کل مذہب قولا لا یقول بہ المذہب الآخر فقد خرج عن المذاہب الاربعۃ، واخترع لہ مذہبا خامسا فعبادتہ باطلۃ ومعاملتہ غیر صحیحۃ وہو متلاعب في الدین۔ (خلاصۃ التحقیق ۱۷)
جب بھی کوئی عبادت یا معاملہ ملفق طریقہ پر انجام دیا جائے، بایں طور کہ ہر مذہب سے ایک ایسا قول اختیار کرے، جس کو دوسرے مذہب والے نے اختیار نہیں کیا ہے، تو وہ مذاہب اربعہ سے خروج کرنے والا اور پانچویں مذہب کا مخترع ہوگا، چناں چہ اس کی عبادت باطل اور معاملہ غیر صحیح ہوگا، نیز وہ دین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا ہوگا۔
مطلق جواز:
بعض علماء مخصوص حالات میںتلفیق کو مطلقا جائز قرار دیتے ہیں۔۔ان حضرات نےبہت سے دلائل دیئے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تلفیق میں آسانی ہے جو شریعت اسلامیہ میں پسندیدہ ہے،اور صحابہ وتابعین کاعمل بھی اس کے جواز پر دال ہے،نیز شریعت میں کہیں بھی اس کی ممانعت وارد نہیں ہوئی،لھذا تلفیق مطلقا جائز ہے۔ (البانی، محمد سعید، عمدۃ التحقیق فی التقلید والتلفیق، دمشق : المکتب الاسلامی ،ص:۹۵۔۹۸)
مشروط جواز:
اہل علم کی ایک جماعت تلفیق کو چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتی ہے،ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ،ابن قیم جوزی، علامہ احمد بن ادریس القرافی،حافظ خلیل العلائی، عبدالرحمن بن یحی المعلمی،شاہ ولی اللہ،ڈاکٹر وھبۃ الزحیلی اور موجودہ دور کےبہت سے محقین علماءشامل ہیں،ا ن حضرات کے بھی وہی دلائل ہیں جو مطلقا جواز کے قائلین کے ہیں البتہ ان حضرات میں سے بعض نے تلفیق کے جواز کے لئےایک ،بعض نے دو اور بعض نے دو سےزیادہ شرائط لگائی ہیں۔[حوالہ سابق]
تلفیق کے جواز کی شرطیں:
۱۔ تلفیق تب جائز ہو گی جب اس کی واقعی حاجت اور ضرورت ہو گی، اتباع ہوی یا تکلیفِ شرعی سے بچنے کے لئے نہ ہو۔
۲۔ مسئلہ ملفوقہ کی مرکب صورت کی مخالفت پر اجماع نہ ہو ،مثلا ایک آدمی امام شافعی کے مذہب کے مطابق کہتا ہے کہ نبیذ اور خمر حکم میں برابر ہیں،پھرامام ابوحنیفہ کےمذہب پر عمل کرتے ہوئے کہتاہے کہ نبیذ حلال ہے ۔اور کیوں کہ یہ دونوں امام شافعی کے نزدیک حکم میں برابر ہیں لہذا خمر بھی حلال ہے ۔تو ایسی تلفیق باطل اور حرام ہے۔
۳۔ تلفیق کے جواز کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ مقاصد ومزاجِ شریعت کے مخالف نہ ہو ۔جیسے ایک شخص ولی ،مہر اورگواہوں کے بغیر نکاح کرتا ہے ،اور بالترتیب امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک کی تقلید کا دعوٰ ی کرتا ہے ۔ تو یہ تلفیق نا جائز ہے ،کیوں کہ یہ مزاج شریعت کے مخالف ہے ۔اس میں کئی مفاسد پائے جاتےہیں ۔مثلاعورت کے حق کا ضیاع ، تہمت اورزنا کا شیوع ۔
۴۔ قضائے قاضی کی مخالفت نہ ہورہی ہو۔کیوں کہ قاضی کا حکم رافع ِ اختلاف ہے۔
۵۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ مسئلہ کی صورت مرکبہ کو مبتلاء بہ یا مفتی حالات حاضرہ کے مطابق راجح اور درست سمجھتا ہو۔(دیکھیے:وھبۃ الزحیلی،اصول الفقہ الاسلامی (بیروت:دارلفکر ،۱۴۰۶ھ )، ص: ۱۱۴۲۔ ۱۱۵۰؛علی بن نایف الشحود، الخلاصۃ فی احکام الاجتہاد والتقلید(دمشق:المکتب الاسلامی،ص:۱۵۰)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر تو یہ تلفیق حاجت اور ضرورت کے تحت ہو تو مالکیہ اور بعض حنفیہ کے نزدیک جائز ہے اور اگر رخصتوں کے حصول کے لیے ہوتو مذموم ہے۔عام حالات میں قول اول یعنی تلفیق کے عدم جواز کی رائے راجح ہے ۔جب کہ ضرورت اور حاجت کے مواقع میں خاص طور پر معاملات اور تجارت وغیرہ کے باب میںقول ثالث یعنی تلفیق کے مشروط جواز کی رائے سے استفادہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔
فقہ مقارن کے حوالہ سے اہم مباحث:
١) الفقہ الاسلامي المقارن ،از شیخ دربینی۔(٢) محاضرات للفقہ الاسلامي ،ازشیخ بوطي۔(٣) الفقہ المقارن؛ للاستاذ محمد رأفت۔ (٤)بحوث في الفقہ المقارن؛استاذ محمود أبو ليل ،ستاذ ماجد أبو رخی۔(5)مسائل فی الفقہ المقارن، أستاذ ہاشم حجیل عبد اللہ۔
فقہ مقارن کی بعض اہم کتابیں:
(1)الفقہ علی المذاہب الاربعۃ (2)الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ، وزارۃ الاوقاف الکویت (2)موسوعۃ الفقہ الاسلامی،وزارۃ الاوقاف المصریۃ (3)الفقہ الاسلامی وادلتہ ،وہبہ مصطفی زہیلی۔(4)اجماع الائمہ الاربعہ واختلافہم ۔۔(5)الافصاح عن معانی الصحاح ابن ہبیرہ ۔(6)رحمۃ الامۃ فی اختلاف الامۃ۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ کا تعارف:
جیساکہ عرض کیا گیاکہ علوم اسلامیہ میں فقہ اور اصول فقہ کودیگر تمام علوم سے برتری اور فوقیت حاصل ہے۔انسان اورعلم فقہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں اس لیے حالات و واقعات اور لوگوں کے مزاج اور طبائع کے باعث ہر دور کے فقہاء نے تدوین فقہ کو ضروری سمجھا۔فقہ مقارن پر جو کام ہوا ہے ۔اس سلسلہ کی دوکتابوں (موسوعہ فقہیہ کویتیہ اورالفقہ علی المذاہب الاربعہ)کا تعارف آچکا ہے۔اس سلسلہ کی اہم کوشش دکتور وہبہ مصطفی زہیلی کی الفقہ الاسلامی وادلتہ ہے ۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی بیسوی صدی کے ایک نامور عالمِ دین ،ماہرقانون اور عظیم فقیہ تھے۔انھوں نے فقہ کے میدان میں اپنی غیر معمولی خدمات پیش کیں۔آپ کی زندگی کا سب سے اہم اور گراں قدرعلمی کارنامہ "الفقہ الاسلامی وادلتہ”ہے۔یہ فقہ مقارن پر ایک انوکھا اور منفرد کام ہے ،فقہ مقارن کے میدان میں کی جانے والی قدیم وجدید کوششوں کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔
اس کتاب کی تالیف کا مقصد یہ ہےکہ مجمع الفقہ الاسلامی کے چوتھےاجلاس میں فقہ کو آسان زبان میں مرتب کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دی گئی۔اس منصوبے کاایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ اہل یورپ کے ریاستی قوانین کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے مختلف فقہی مذاہب سے استفادہ کیا جائے،چنانچہ بفضلہ تعالی ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے اس کارنامہ کوبہترطورپرانجام دیا۔ یہ ان کی قابلیت اور علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصنف نے قوانین شرعیہ کایہ عظیم ذخیرہ جدید اسلوب اورعلمی انداز میںمرتب کیا ہے۔۔الفقہ الاسلامی وادلتہ "عظیم فقہی سرمایہ ہے۔یہ گیارہ(11)ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔آخری جلد میں فہرست دی گئی ہے بقیہ دس جلدیں فقہی مباحث سے معمور ہیں۔اس کتاب کی ترتیب انوکھی اور دلکش ہے۔ علمی اور فقہی ذوق رکھنے والے کیلئےاس کتاب کی ترتیب عمدہ، خوبصورت اور دماغ کواپیل کرنے والی ہے۔
خلاصہ کلام :
خلاصہ کلام یہ ہے کہ فقہ اسلامی کی عظمت ووسعت کے مد نظر ؛ فقہاء کرام بالخصوص ائمہ اربعہ کی فقہ،فقہاء امت کے تیار کردہ عظیم ذخیرے اور ان کے باہمی اختلاف کی معنویت اور اس عظیم سرمایہ سے برآمد ہونے والی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے عصر حاضر کے درپیش چیلینجوں سے نمٹنے کے لیے فقہ مقارن سے مشروط طور پر ضرورت وحاجت کے مواقع پر استفادہ کی گنجائش ہے ۔تاکہ ہم خیر امت کی حیثیت سے اپنا مطلوبہ کردار ہر قسم کے حالات اور ماحول میں پیش کرسکیں ۔اور ہمیںعصر حاضر میں شریعت کی تطبیق اور اسلامی قانون سازی کے مراحل میں مغرب کی نام نہاد دانشوری اور مانگے کے اجالے کا محتاج نہ ہونا پڑے ۔

(مضمون نگار رکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین اور جمعیت علمائے بیگوسرائے کے صدر ہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*