فائنل ایئر ایگزام:سپریم کورٹ نے کہا،یو جی سی کو گائیڈلائنس بدلنے کا حق

نئی دہلی:کورونا وائرس کی وبا کے درمیان یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آخری سال کے امتحانات کا انعقاد ایک اہم مسئلہ ہے۔ ستمبر کے آخر تک ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں فائنل ایئر امتحانات منعقد کرنے کے یو جی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر آج ایک بار پھر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ اپریل کے مہینے میں جاری گائیڈ لائنس کو یو جی سی نے جولائی کے مہینے میں بدل دیا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یو جی سی کو ایسا کرنے کا حق ہے اور وہ ایسا کرسکتے ہیں۔اس پر سنگھوی نے کہا کہ جولائی میں جاری کی گائیڈ لائنس اپریل میں ہونے والی ہدایات سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ انہوں نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ ملک میں ایسی بہت سی یونیورسٹیاں ہیں، جن میں آن لائن امتحانات کے لئے ضروری سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سنگھوی کے اس دلیل پر عدالت نے کہا کہ یو جی سی گائیڈ لائنس کے پاس امتحانات کو آف لائن دینے کا بھی اختیار موجود ہے۔ اس پر سنگھوی نے کہا کہ لیکن بہت سے لوگ مقامی حالات یا بیماری کی وجہ سے آف لائن امتحان نہیں دے پائیں گے۔انہیں بعد میں امتحان دینے کا آپشن فراہم کرنے سے مزید پریشانی پیدا ہوجائے گی۔ سنگھوی کے اس دلیل پر عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف طلباء کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے آخری سال کے امتحانات پر سماعت 10 اگست تک ملتوی کردیا ہے۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے گذشتہ روز سپریم کورٹ (ایس سی) میں اپنا جواب داخل کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تیس ستمبر تک آخری سال کے امتحانات منعقد کروانے کا مقصد طلباء کے مستقبل کو یقینی بنانا ہے، تاکہ طلباء کو اگلے سال کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔