فلسطین اسرائیل مسئلہ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی متعصبانہ روش ـ محمد علم اللہ

ہیش ٹیگ غائب ہونا ، فلسطین کی حمایت کرنے والے پروگراموں کے اشتہارات کا خاتمہ، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام سے ان پوسٹس کا ہٹایا جانا جن میں اسرائیل/فلسطین کا نام ہی کیوں نہ آیا ہو اور فلسطینی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی ۔۔۔ صرف فلسطین کی آوازوں کو آن لائن دبانے کے واضح طریقے ہیں۔ فلسطینیوں کے اشتراک کردہ مشمولات کی حمایت اور ان کی حفاظت کے لئے قائم کی جانے والی تنظیم ، ‘ساڈا سوشل’ نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں شیخ جراح مظاہرے سے متعلق 200 سے زیادہ مواد کے حذف کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

یروشلم میں ہونے والے واقعات پر دستاویزات جمع کرنے والے متعدد فلسطینی کارکنوں اور شہریوں نے، فیس بک اور انسٹاگرام سے اپنا مواد غائب ہوتے دیکھا ہے۔ فیس بک کے مطابق ، عربی ہیش ٹیگ الاقصا اور شیخ جراح کو "غلطی سے” ہٹایا گیا تھا۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خودکار اپڈیٹ کی وجہ سے متعدد صارفین کے ذریعہ دوبارہ اشتراک کردہ مواد غائب ہو گیا ، جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور کولمبیا میں شیخ جراح اور اس سے متعلقہ دیگر افراد کے پوسٹ متاثر ہوئے۔

ٹویٹر پر ، صحافی و مصنف مریم البرغوثی [@MariamBarghouti] کے اکاؤنٹ کو اس وقت معطل کر دیا گیا جب مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے مظاہرے اور اسرائیل کی طرف سےکریک ڈاؤن کے موضوع پر انہوں نے تنقید کی اور الجزیرہ اور واشنگٹن پوسٹ میں خبریں شائع کرائیں۔ انسانی حقوق کےکارکنان اور اظہار آزادئ رائے کے حامیان کی مبینہ ہنگامہ آرائی کے بعد ، ان کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کر دیا گیا ، اور ٹویٹر نے کہا کہ غلطی سے اسے ہٹا دیا گیا تھا۔

مغرب کی یہ کوئی نئی حرکت نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی وہ ایسا کرتے رہے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے سن 1984 میں ، فلسطینی امریکی دانشور اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈورڈ سعید کو کہنا پڑا تھا کہ فلسطینیوں کو "بیان کرنے کی اجازت” نہیں دی گئی۔

اس سلسلے میں یہاں تیس (30) سال سے زائد عرصہ بیت جانے کے بعد ، 2020 میں ، ایریزونا یونیورسٹی میں ایک فلسطینی امریکی ایسوسی ایٹ پروفیسر ، مہا نصر [Maha Nassar] کی تحقیق کا ذکر کرنا بھی بے جا نہیں ہوگا ، جنھوں نے دو روزناموں، نیو یارک ٹائمس اور واشنگٹن پوسٹ اور دو ہفتہ وار نیوز میگزین، دی ریپبلک اور دی نیشن میں 1970 سے لے کر 2019 تک 50 سال کے عرصے میں شائع ہونے والے مضامین کا تجزیہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے محسوس کیا کہ ایڈیٹوریل بورڈ کے افراد اور کالم نگار فلسطینیوں کے بارے میں بات کرنے میں کافی غیر محتاط واقع ہوئے ہیں ، اکثر تعصب اور نسل پرستانہ نظریہ کا شکار ہیں۔ کئی معاملات میں انھوں نے فلسطینیوں کی کہانی سننے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔

فلسطینیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش یا اسرائیل کو وائٹ واش کرنے کے عمل میں، مغرب میں مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے بیانات ہنوز بلا روک ٹوک ملوث ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ غیر منصفانہ عمل نہ صرف بدستور برقرار ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ برسوں میں ، سوشل میڈیا متعدد افراد کے لیے گویا ایک لائف لائن بن گیا ہے جو اس کا سہارا لیکر مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نظرانداز یا کمزور کر دئے جانے والے اسباب اور جدوجہد کے بارے میں شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ٹیک کمپنیوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ وہ انھیں سپورٹ کرنے کے بجائے فعال طور پر ان آوازوں کو اپنے پلیٹ فارم سے حذف کرنے کے لئے کام کر رہی ہیں ، جس سے فلسطینیوں کی زباں بندی اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کا جنازہ اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

مثال کے طور پر گذشتہ ماہ اپریل کے وسط میں سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک فیکلٹی ایسوسی ایشن کونسل (سی یو ایف سی اے) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیومینٹیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (یو سی ایچ آر آئی) کے تحت درج ذیل عنوان پر ویبینار منعقد ہونا تھا:

Whose Narratives? What Free Speech for Palestine?
(کس کی بات: کیا فلسطین کے لیے اظہار رائے کی آزادی ہے؟)
مگر اس آن لائن مکالمے کو زوم، یوٹیوب اور فیس بک نے بلاک کر دیا۔
اس پروگرام میں پوری دنیا کے نسل پرست مخالف کارکنان کو خطاب کرنا تھا ، جس میں فلسطینی مزاحمت کی علامت لیلیٰ خالد [Leila Khaled] اور جنوبی افریقہ کی افریکن نیشنل کانگریس (اے۔این۔سی) کی سابق فوجی رہنما رونی کسریلز [Ronnie Kasrils] شامل تھیں۔ حقیقت میں یہ واقعہ سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر رباب ابراہیم عبدالہادی (اے ایم ای ڈی اسٹڈیز) اور ڈاکٹر ٹومومی کنوکاوا [Tomomi Kinukawa] (شعبہ خواتین و صنفی مطالعات) کے زیر اہتمام درج ذیل اوپن کلاس روم مباحثہ کا حصہ تھا:

Whose Narratives? Gender, Justice and Resistance: A Conversation with Leila Khaled.
(کس کی بات: صنفی مساوات، انصاف اور مزاحمت: لیلی خالد سے ایک مکالمہ)
جو ستمبر 2020 میں زوم نے ابتدائی طور پر سنسر کیا تھا۔
زوم اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے کہا کہ انہوں نے لیلی خالد کی سابقہ دہشت گردانہ منصوبہ بندی میں شرکت کے سبب ایونٹ کو اپنے پلیٹ فارم سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دعوی کیا ، چونکہ لیلی خالد ، "امریکہ کی نامزد دہشت گرد تنظیم” ، فلسطین کے لبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی) سے وابستہ ہے ، اس پروگرام کو جاری رکھنے کی اجازت دینے کا دوسرا مطلب، دہشت گردی کے لئے مادی معاونت سے ممانعت والے امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

جیسا کہ متعدد قانونی ماہرین نے بار بار زور دے کر کہا ، سوشل میڈیا کمپنیوں کے ذریعہ جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ قطعی درست نہیں ہے۔ یہ موقف نہ صرف تمام متعلقہ قانونی مثالوں کو نظرانداز کرتا اور امریکی قانون کی خلاف ورزیوں کے جھوٹے الزامات عائد کرتا ہے ، بلکہ اس سے تعلیمی آزادی پر بھی حملہ ثابت ہوتا ہے۔

اسرائیل اور اس کے اتحادی فلسطینیوں کو باہر سے خاموش کرنے کے لیے نہ صرف بگ ٹیک پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ مقبول عام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھی غیرقانونی سہارا لے رہے ہیں۔

فیس بک کا نگرانی بورڈ ، جو ایک آزاد ادارہ کہلاتا ہے، جس کا مقصد پلیٹ فارم کے مشمولات کے فیصلوں پر غور کرنا ہے ، اس میں اسرائیلی وزارت انصاف کے سابق ڈائریکٹر جنرل ، ایمی پامر [Emi Palmor] بھی شامل ہیں۔ ماضی میں پامر نے ذاتی طور پر اسرائیل کے سائبر یونٹ مینیج کرنے کا کام کیا اور فیس بک سے ہزاروں فلسطینیوں کے مواد کے ٹکڑوں کو ہٹانے کے لیے کامیابی سے لابنگ کی تھی۔

فلسطینیوں کو اپنی کہانیاں سنانے کی اجازت دینے کے مستقل انکار پر ایڈورڈ سعید کی تنقید کے کئی دہائیوں بعد ، فلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو نہ صرف مرکزی دھارے کی میڈیا تنظیموں بلکہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے بھی خاموش کر دیا ہے۔ جو اس بات کا غماز ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا نعرہ دینے والے خود اپنی منافقت اور عصبیت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔