فی الحال کاشی اور متھرا آرایس ایس کی لسٹ میں شامل نہیں، یکساں سول کوڈ جیسے مسئلے پر توجہ

نئی دہلی:فی الحال ایسا نہیں لگتا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کاشی اور متھرا میں مندروں کے مطالبے کو اٹھائے گا۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس میں یہ سوچ بھی بڑھ رہی ہے کہ یکساں سول کوڈ لانے سے پہلے عوام کو اس کے لئے تیار کرنا چاہئے۔ایسا لگتا ہے کہ آر ایس ایس پہلے کاشی وشوناتھ اور کرشنا جنم بھومی کے معاملے پر عوامی جذبات کی جانچ کرنا چاہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے کاشی اور متھرا کے بارے میں بھی آواز اٹھائی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ آر ایس ایس اس مسئلے کو اٹھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ہندووادی جماعتوں کی فہرست میںکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور ایودھیا کے مسئلے کے بعد تیسرا نمبر یکساں سول کوڈ کا رہاہے لیکن اب اس مسئلے پر آر ایس ایس کا خیال ہے کہ اگرچہ ہرایک کو یکساں سول کوڈ کی ضرورت محسوس ہورہی ہے، لیکن معاشرے میں تناؤ نہ بڑھے ،اس لئے اس پر سب سے پہلے عوامی رائے لینا ضروری ہے۔آر ایس ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ کی حمایت میں مضبوط دلائل ہیں لیکن ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اس کا اثر صرف اقلیتوں پر ہی نہیں پڑے گا۔ دوسری جماعتوں کے رسم و رواج بھی متاثر ہوں گے، ان میں ہندو بھی شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں یکساں سول کوڈ کو عملی طور پر نافذ کرنے سے معاشرے میں تفرقہ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ بصورت دیگر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مقصد ناکام ہوجائے گا۔