فلسطین اور افغانستان: دو مختلف صورتحال ـ مسعود جاوید

١٩٧٩ سے ١٩٨٩ تک سوویت یونین کی فوج افغانستان کی کٹھ پُتلی حکومت کے تحفظ اور اس ملک اور خطے میں اپنا اثر و نفوذ باقی رکھنے کے لیے مزاحمتی افغانی تحریکوں سے بر سر پیکار رہی۔ یہ امریکہ اور روس کے خیموں کے درمیان کولڈ وار کا دور تھا۔
امریکہ ( سابق )سوویت یونین (موجودہ) روس کے اثر و نفوذ کو ختم کرنے کے لیے اپنی مختلف ایجنسیوں کے توسط سے بلا واسطہ متحرک ہوا۔ ایک بیانیہ چلایا گیا کہ کمیونسٹ الحاد پسند روس اسلام کا نام و نشان دنیا سے مٹانے کے درپے ہے۔ اس بیانیہ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کی دینی غیرت اور اسلامی حمیت کو جگایا اور ہر مسلمان کی خواہش یہی تھی کہ افغانستان میں روسی ” استعمار” کی بیخ کنی کے لیے دامے درمے سخنے حصہ لے،جان مال کی قربانی نچھاور کرے،چنانچہ امریکہ، سعودی عرب اور برطانیہ کی مالی مدد سے افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کا مشن شروع کیا گیا۔ افغانیوں کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں سے مجاہدین پاکستان آئے، سی آئی اے نے اسلحہ اور جنگی تربیت کی اور اس طرح روسی فوج سے افغانستان خالی کرا لیا گیا۔
افغانستان کی صورت حال : امریکہ کی سرپرستی، اسلحے اور ٹریننگ، سعودی عرب کی فائننس، پاکستان لوجسٹک سپورٹ، افغانستان جانے کے لئے کھلی سرحد۔
فلسطین کی صورت حال : کسی سپر پاور کی سرپرستی نہیں۔ کسی ملک سے فائننس نہیں اور کوئی سرحدی ملک مصر، اردن لبنان اور شام سے لوجسٹک سپورٹ نہیں اور نہ کھلی سرحد۔
پھر بھی اتنے سالوں سے فلسطینی الفتح سفارتی کوششوں سے اور حماس اپنی بساط بھر مسلح جدو جہد سے اسرائیل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے جذبے کو سلام۔
دنیا مانتی ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، لیکن حماس کے وجود میں آنے سے پہلے فلسطینیوں کے پاس پی ایل او (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) اقوام متحدہ ، یوروپین کونسل، نان الائنڈ موومنٹ اور ہر اس پلیٹ فارم پر دستک دیتا رہا اور ہر ایک نے فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حمایت اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ حرکتوں کی مذمت کی لیکن افسوس افغانستان کی طرح فلسطین کا کوئی گاڈ فادر نہیں،جو اسے اس کے جائز حقوق دلا سکے،اس کی غصب کی ہوئی زمین اسرائیل سے واپس لینے میں معین و مددگار ہو، دنیا کے ملکوں کو سخت موقف اختیار کرنے پر راضی کر سکے اور ایگریمنٹ کے مطابق ٤٨ فیصد فلسطین کی زمین پر قبضہ دلا سکے،
اس کی سرحدیں اور اس کی حفاظت کے لئے افواج اور اسلحے مہیا کرائے، یروشلم القدس میں ان کی اور مسلمانان عالم کی مقدس عبادتگاہ پر بلا روک ٹوک اختیار یقینی بنائے اور فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو قبلہ اول میں عبادت کرنے کی آزادی دلا سکے۔
یہ مظلوم قوم پہلے ٤٨ فیصد کے لیے لڑتی رہی اور ظالم اسرائیل چند پتھروں اور غلیل اور چاقوؤں کے مقابل ٹینکوں ، جنگی طیاروں اور مسلح افواج کا استعمال کر کے ہر بار ان کے مکانات منہدم کر کے اپنی آبادی بساتی رہی اور مہذب دنیا مہذب انداز میں مذمت کرتی رہی لیکن ساتھ ساتھ اسرائیل کے حق دفاع کا راگ بھی الاپتی رہی۔
چند روز قبل امریکی صدر نے بھی یہی راگ الاپا جس پر احتجاج کرتے ہوئے وہاں کی مسلم تنظیموں، انسانی حقوق کے نمائندوں اور بعض یہودیوں نے بھی جشن عید الفطر کا بائیکاٹ کیا۔ ان مسلم تنظیموں نے صدر جو بائیڈن کو ٹویٹ کر کے کہا کہ آپ کا موقف نہایت ہی مایوس کن ہے۔
ظاہر ہے دس یہودیوں کی موت کے مقابل دو سو عام نہتے فلسطینی بشمول عورتیں اور بچے مارے گئے پھر بھی ” حق دفاع” !
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات