فکرِ قاسمی کا محافظ:مفتی محفوظ الرحمن عثمانی-نوراللہ جاوید

(پہلی قسط)
میرے پاس الفاظ کی قلت ہمیشہ سے رہی ہے،خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانا کبھی بھی آسان نہیں رہا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک مضمون لکھنے کےلیے مجھے کئی کئی راتیں برباد کرنی پڑی ہوں، مگر گزشتہ دو مہینوں سے لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا ہے،خیالات و جذبات کی فراوانی کے باوجود انہیں الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ترین ہوگیاہے۔دو دہائیوں سے لکھنا اور پڑھنا ہی ذریعۂ معاش ہے اس کے باوجودصحافتی ذمہ داریوں کے علاوہ نہ کچھ لکھ پارہا ہوں اور نہ پڑھ پارہا ہوں۔ دل و دماغ مائوف ہوچکے ہیں۔ کئی عظیم شخصیتیں جن سے بہت کچھ سیکھا ، جن کی کتابوں اور ان کی شخصیت کی سحرانگیزی کی وجہ سے روحانی رشتے قائم ہوگئے تھے،جن کی کتابیں اورمضامین چراغ راہ بن کر رہنمائی کررہے تھے اورجن کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی وجہ سے عقل و شعور کی منزل عبور کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہوئی تھیں ۔ان سب سے ابھی بہت کچھ سیکھنا تھا، مگروہ اچانک رخصت ہوگئے۔ کورونا وبا کی ہولناکی کا یہ پہلو سب سے زیادہ بھیانک ودردنا ک ہے۔اس نے ایک دو نہیں درجنوں آسمان علم وادب کے درخشاں ستاروں کو ہم سےچھین لیا ہے۔ایک کا غم ابھی ہلکا نہیں ہوتا کہ پھر کہیں سے کسی صاحب علم وفضل کے رخصت ہونے کی خبرآجاتی ہے۔اب تو ترجیعی کلمات پڑھتے پڑھتے زبان تھک چکی ہے ۔امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ،نوجوان عالم دین مفتی اعجاز ارشدقاسمی ، دارالعلوم دیوبند میں درسی ساتھی اور نوجوان و باصلاحیت عالم دین ، فقہ اسلامی میں ماہر مفتی مجتبی قاسمی ،عظیم مصنف مولانا وحید الدین خان،شریف النفس صحافی تحسین عثمانی اور اساتذہ کرام میں مولانا نور عالم خلیل الامینی، محدث کبیر مولانا حبیب الرحمن اعظمی اور دارالعلوم دیوبند کے قائم مقام مہتمم قاری محمد عثمان منصورپوری کے انتقال پر ملال پر دل غمزدہ تھا ہی کہ محب کرامی ،مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے انتقال نے پورے وجود کو ہلاکر رکھ دیا ۔ایسابھی نہیں ہے کہ موت کوئی انوکھی چیز ہے کہ اس پر اس قدر ماتم کیا جائے ۔یہاں جوبھی آیا ہے اسے جانا ہی ہے ،مگر کچھ شخصیتیں اپنے علم و فضل ،کارہائے نمایاں کے ذریعہ ایک ادارے کی شکل اختیار کرجاتی ہیں،چناں چہ ایسی شخصیتوں کا دنیا سے رخصت ہوجانا صرف ان کے ورثا یا پھراہل خانہ و خاندان کا غم نہیں ہوتا ہے؛بلکہ یہ ایک جہان کا حادثہ ہوتا ہے ؛کیوں کہ ان کی شخصیت اور ان کاوجود علم وعمل اورتحریک کی علامت ہوتی ہے۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ؒ ایسے اچانک چلیں جائیں گے یہ سوچا بھی نہیں تھا،وہ عمر کے اس حصے میں پہنچے بھی نہیں تھے کہ کہا جائے کہ وہ عمر طبعی کو پہنچ چکے تھے ۔ رمضان کے دوسرے ہفتے میں جب میں خود’’ کورونا وائرس‘‘ کا شکار ہوا اورانہیں خبر ملی تو وہ بے چین ہوگئے، انہوں نے فون کیا، مگر رابطہ نہیں ہوسکا ۔ان کے معتمد خاص جامعہ کے صدر مدرس مفتی انصار قاسمی کا واٹس اپ پیغام آیا کہ’ آپ کی بیماری کی خبر سن کر مفتی صاحب پریشان ہیں وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ‘۔ میں نے فوراً فون کیا،کورونا کی رپورٹ آنے کے بعد میرا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا، گھبراہٹ کا شکار ہوچکا تھا،کیوں کہ انہی دنوں دہلی سے لے کر لکھنؤ تک کورونا نے تباہی مچا رکھی تھی۔ شمشان گھاٹوں سے بلند ہوتے آگ کے شعلے،سڑکوں پراپنے عزیز کی جان بچانے کے لئے مد د مد د کی پکار لگا تےلوگ، ہندوستان کے صحت کے بکھرتے نظام اور حکمرانوں کی بے بسی کا نوحہ پڑھ رہا تھا۔ مگر مفتی صاحب وہی پرانے و نرالے انداز میں مجھ سے مخاطب تھے کہ’’میرے عزیز آپ کو کچھ نہیں ہوگا،ابھی آپ کو بہت کچھ لکھنا ہے ’’بنگال کے مسلمان‘‘(حالیہ میری تصنیف)کے بعد آپ کو ’’بہار کے مسلمان‘‘ بھی لکھنا ہے‘‘۔میں نے کہا کہ’’ مفتی صاحب میں اتنا اہم بھی نہیں ہوں کہ میرے رہنے اور نہ رہنے سے کسی کو کوئی فرق پڑے‘‘، انہوں نے کہاکہ’’ نہیں! آپ نئی نسل کے نمائندے ہیں ابھی آپ کو بہت کچھ کرنا ہے۔آپ کے حصے کے کام باقی ہیں‘‘۔اورپھر ان کی گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔وہ علاج و دعا دونوں بتانے لگے۔ صدقہ کی تلقین کی اور میں جی جی کرتا رہا۔ان کی گفتگونے میرے اندر عزم و حوصلہ پیدا کردیا۔اس کے بعد ایک ہفتے تک لگاتار ہردن کبھی کبھی دن میں دو مرتبہ فون آنے لگے۔ مگرایک دن فون نہیں آیا۔اس کے اگلے دن بھی فون نہیں آیا۔اس طرح ہرروز فون آنے کا سلسلہ بند ہوگیا،میں سمجھا شاید میں صحت مند ہورہا ہوں اس لئے وہ فون نہیں کررہے ہیں ۔ مگر چند دن بعد معلوم ہوا کہ وہ خود بھی کورونا کے شکار ہوگئے ہیں ۔ میں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی مگر نہ ہوسکی ۔ دودن بعد معلوم ہوا کہ انہیں پٹنہ لے جایا جارہا ہے ۔اس درمیان مفتی انصار سے ہردن بات ہوتی رہی ۔ کبھی وہ خبر دیتے کہ آج اچھے ہیں تو اگلے دن وہ بتاتے کہ آج طبیعت اچھی نہیں ہے۔اس طرح دوہفتے گزرگئے۔20مئی کو خبر ملی کہ انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ دل میں گھبراہٹ سی ہوئی ۔ مگر انہونی کا خیال بھی نہیں آیا کہ وہ ہمارے درمیان چند دنوں کے مہمان ہیں۔22مئی کو دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی تو مفتی انصار سے دن میں تین مرتبہ بات کی۔ مگر 23مئی کی شام کو یہ خبر سنائی گئی کہ علم و عمل ، جہدِمسلسل اور عملِ پیہم کا سراپا مجسم غروبِ آفتاب کے ساتھ رخت سفر باندھ چکا ہے۔اناللہ واناالیہ راجعون
میں کسی کا غم نہ بٹا سکا،میں کسی کے پاس نہ جاسکا
وہ قیامتیں تھیں یہاں بپا کہ ذرا ٹھہرنا محال تھا
میں تو اپنا دکھ نہ بتاسکا کہ ہر ایک کا وہی حال تھا
یہ جو ہجر زاد وبال تھ،یہ جو رفتگاں کا ملال تھا
20سالہ تعلقات کا یہ سلسلہ اس طرح ہمیشہ ہمیش کے لیے ختم ہوگیا۔اب کان اس آواز کو جو ہمیشہ والہانہ انداز میں خبر و خیریت پوچھتی تھی سننے کوترس جائے گی۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوتے ، مصروفیت کتنی بھی ہوتی وہ فون ضرور کرتے ، گھنٹوں اہم امور پر بات کرتے ۔کبھی اپنے احوال سناتے تو کبھی خاموشی سے میرے درد کوسن کر درماں کی کوشش کرتے ۔ انتقال کی خبرملی تو میں کئی گھنٹے تک کچھ بھی کہنے اور سننے کے قابل نہیں تھا۔ خالق کائنات کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔حلقہ احباب میں شامل ہرایک شخص غمزدہ تھا ۔ مفتی صاحب کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی جو ان کے قریب ہوتا وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا ۔ وہ اپنے عزیزوں کوسرآنکھوں پر بٹھانے والے تھے۔انہوں نے اپنے ارد گرد قابل، ہونہار اور باصلاحیت وباتوفیق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو جمع کرلیا تھا۔ وہ ہماری محفلوں کے میرکارواں تھے ، با صلاحیت و قابل نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ،ان کی رہنمائی اوران کی علمی کاوشوں کی پذیرائی میں وہ یکتاہونے کی وجہ سے ہماری باتوں کو بھی نظرانداز نہیں کرتے ۔ ہماری صحافیانہ تنقیدوں کو مسکراہٹ کے ساتھ سنتے اور پھر جواب دیتے یا پھر کبھی تائید کردیتے۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا انتقال صرف ایک بیدار مغز عالم دین ، ایک جامعہ کے مہتمم اور کئی تعلیمی وفلاحی اداروں کے سربراہ کی موت نہیں ہے ۔بلکہ خوابوں کی موت ہے۔وہ بیداری کی حالت میں خواب دیکھنےاور پھر ان خوابوں کو رنگ بھرنے کےلئے جدو جہد کرنے والے تھے۔انہیں نہ سکون تھااور نہ وہ آرام سے بیٹھنے کو پسند کرتے تھے۔’’کل صبح پناماسے دبئی میں فروکش ہوئے ہیں، آج صبح دبئی سے دہلی میں نزول ہوا ہے اور آج ہی سہارن پور کا سفر ہے اور کل صبح لکھنؤ جائیں گے اور پھر وہاں سے جامعۃ القاسم کا سفر ہے ۔ یہ تھی ان کی سرگرمی۔ان کے نہ صرف عزائم و منصوبے بلند تھے،بلکہ کائنات کے مالک نے انہیں منصوبہ ساز ذہن بھی عطا کیا تھا۔ اسلامک یونیورسٹی ، شیخ زکریا اسپتال کا منصوبہ گرچہ انہوں نے چند سال قبل ہی بنایا تھا ۔مگر اس کےلیے کئی ایکڑ زمین دودہائی قبل ہی خرید لی گئی تھی۔ اپریل 2019میں جامعۃ القاسم میں ان کی دعوت پر گیا تو میں نےان سے پوچھا کہ’’مفتی صاحب جس وقت آپ یہ زمینیں خرید رہے تھے اس وقت آپ کے ذہن میں کیا منصوبہ تھا؟کیوں کہ جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کی ضرورت سے کہیں زیادہ یہ زمین ہے ۔ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ شروع سے ہی میرا خواب رہا کہ سیمانچل (کشن گنج، پورنیہ، کٹیہار،ارریہ اورسپول) میںKnowlege City(علم سٹی)قائم کیا جائے۔جہاں علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم کی تعلیم بھی ہوتی ہو۔اور یہ سب ایک ہی کیمپس میں ہو۔اب یہ اسلامک یونیورسٹی، اسلامک اسکول اور اسپتال کے منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے ۔
جامعۃ القاسم کی عمارت ’’رواق الیاس‘‘، مسجد ’’ جامع امام قاسم‘‘،دارالطعام اور دارالضیوف کی عمارت اور کیمپس میں مختلف اقسام کے شجرسایہ دار جامعہ کے احاطے کوگل گلزار بنادیتے ہیں ۔ پھولوں کی خوشبوں کے ساتھ مسجد اور درسگاہوں سے بلند ہوتی ہوئی قال اللہ و قال الرسول کی آوازیں سحر زدہ کردیتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حضرت مفتی صاحب کے حسن طبیعت اور تخلیقی ذہن کی عکاس ہے۔ حسن ترتیب اور معیار سے وہ کسی بھی طرح سمجھوتہ نہیں کرنے والے تھے۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ سے تعلق ومحبت کی بنیاد پر یہ بلنددعویٰ نہیں کروں گا کہ وہ فکرقاسمیت کے ترجمان و شارح تھے۔مگر یہ بات پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ عشق کی حدتک حضرت امام محمد قاسم نانوتویؒ کےفکر و نظریہ کے گرویدہ و امین تھے،چناں چہ ان کے ادارے کا نام امام قاسم کے اسم گرامی پر، مسجد کا نام بھی حضرت امام قاسم کے نام منسوب، فلاحی کاموں کےلیے قائم ادارہ وہ بھی امام قاسم نانوتویؒ سے ہی منسوب تھا۔یہ عقیدت و محبت صرف امام قاسم نانوتویؒ کی ذات یا پھر ان کے نظریہ و فکر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ امام قاسم ؒ سے وابستہ ہر ایک شی سے محبت و عقیدت کرتے تھے۔حضر ت مولانا محمد سالم قاسمیؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند سے عقیدت و محبت اور ان کا تعلق مثالی تھا ۔ایک مرتبہ میں نے ان کی عقیدت ومحبت اور تعلق سے متعلق سوال پوچھا تھاکہ آ پ جس طریقے سے امام قاسم نانوتویؒ اور خاندان قاسمی کے تئیں عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں کیا وہ اکاپرپرستی کے زمرے میں نہیں آتاہے۔ان کا جواب بہت ہی سیدھا اور ساداتھا کہ:
’’حضرت امام قاسم نانوتویؒ نے جس فکر او ر سوچ کے ساتھ 1867میں دارالعلوم دیوبند قائم کیا تھا اگر اس فکر کے ایک فیصد پر بھی ہم لوگ عمل کرلیں تو پورے علاقے میں انقلاب آجائے گا‘‘۔دنیا نے امام قاسم نانوتویؒ کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے وہ اپنی صدی کے مجدد تھے۔جنہوں نے اصلاحی مہم کے ساتھ تعلیمی انقلاب برپا کیااور بر صغیر میں اسلام کی حفاظت و حقانیت کا ایسا انتظام کردیا کہ آج بر صغیرمیں نہ صرف اسلامی تعلیمات ، تہذیب و تمدن اپنی روح کے ساتھ قائم ہےبلکہ پوری دنیا میں اس کی قیادت و رہنمائی کررہا ہے۔یہ سب فکر قاسمی کا ہی نتیجہ ہے‘‘۔
2004میں جامعۃ الامام قاسم کے ترجمان ’’معارف قاسم‘‘ کا سیرت نبویؐ نمبرحضرت مفتی صاحب کی سرپرستی ، میری اور مولانا رضوان الحق قاسمی کی مشترکہ ادارت میں منظرعام پر آیا ۔ تیاری آخری مرحلے میں تھی۔مگرانہوں نے دریافت کیاکہ اس میں حضرت امام قاسم نانوتویؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ ، حضرت مولانا محمد سالم قاسمی اور حضرت مولانا اسلم قاسمی ؒ کے مضامین شامل ہیں یا نہیں ۔جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مضامین نہیں ہیں توانہوں نے کہا تاخیر منظور ہے،مگر حضرات اکابر کے مضامین کو شامل اشاعت کیا جائے۔جب کہ سیرت نبوی نمبر کےلیے حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کا بہت جامع پیغام شامل اشاعت تھا۔
حکیم الاسلام حصرت مولانا قاری طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام ‘‘اشاعت اول کے بعد ناپید ہوگئی تھی، اشاعت اول میں کئی خامیاں تھیں ،درمیان سے کئی صفحات غائب تھے ،کئی مقامات پر عبارتوں کے درمیان ربط نہیں تھے۔ کتابت اور اس طرح کی بے ربطیوں نے معرکۃ الآرا کتاب کی افادیت کومحدود کردیا تھا ۔ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی شدید خواہش تھی کہ اس کتاب کی نہ صرف اشاعت نوہو بلکہ اشاعت اول کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ استخراج و حوالہ جات بھی شامل کیا جائے۔اس عظیم کام کےلئے حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ نے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کو منتخب کیا ۔ مفتی عثمانی نے نہ صرف اس کی اشاعت نو کی ذمہ داری اٹھائی بلکہ دوقابل و مایہ ناز عالم دین مفتی فہیم اختر ندوی اور اور مولانامحمد صفدرزبیر ندوی کی خدمات حاصل کیں اور اس کےلیے انہوں نےکثیر رقم بھی خرچ کی اور دوسال کی محنت و مشقت کے بعدیہ کتاب منظر عام پر آئی۔
حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب ؒ نے اس معرکۃ الآرا کتاب’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام ‘‘ میں بیت اللہ ، القدس اور طور سینا کی نہ صرف شرعی حیثیت و اہمیت کو بیان کیاہے۔ بلکہ اپنے خاص اسلوب میں عقلی و نقلی دلائل سے مقامات مقدسہ کی مرکزیت کو ثابت کیا ہے۔ حضرت حکیم الاسلام ؒ نے مقامات مقدسہ کی حفاظت کےلیے ملت اسلامیہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’صیہونی جغرافیہ میں مدینہ اور خیبر کو بھی دشمن نے شامل کر رکھا ہے۔ گویا بیت اللہ مقدس پر بھی دشمنوں کی کڑی نظر ہے ،جس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ شام، اقصیٰ اور مصر، غزہ کے کنارے تک دشمن کے ہاتھ میں ہے اور اب حجاز ،مدینہ و خیبر تک دشمن کی نظر میں ہے ۔تو کیا یہ مسلمانوں کی غیرت ملی کے لئے مہمیز نہیں ہے اور کیا اس کے بعد بھی اس مہلک بیماریوں کے علاج کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
حکیم الاسلام علیہ الرحمہ نے اس مہلک بیماری کی ہی نشان دہی کرتے ہوئے نسخہ کیمیا بھی پیش کیا کہ :
(۱)دین و سیاست کی وحدت (2)عالمی سیاست بصورت خلافت (۳)عالمی دعوت (4)عالمی اخوت (5)عالمی مساوات (6)عالمی امن و اتحاد (7)عالمی عبادت و شوکت اور عسکریت کی سہ مرکزی قوت
ایک ایسے وقت میں جب صہیونیت، عیسائیت اور ہندو ازم نے اپنے خواب کی تکمیل کےلیے شیطانی اتحاد قائم کررکھا ہے،مفتی عثمانی نے حضر ت حکیم الاسلام ؒ کی معرکْۃ الآرا کتاب کی اشاعت کا بیڑہ اٹھا نے کے ساتھ پوری دنیا میں علمی حلقوں تک اس کتاب کو پہنچایا۔
جہاں تک حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ سے تعلق و عقیدت کی بات ہے تو حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ دارالعلوم دیوبند وقف کی مادی ترقی یا پھر طیب اسپتال کے قیام کےلیے مالی وسائل کی فراہمی کےلیے باربار حضرت مفتی عثمانی کی توجہ مبذول کراتے تھے۔ مفتی صاحب بھی اپنے ادارے کے مفادات اور تحفظات کی پرواہ کئے بغیر حضرت استاذ کے حکم پر ان دونوں اداروں کے لیے فراہمی تعاون کی بیرونی دنیا میں ہر ممکن کوشش کی،بلکہ حضرت مولانا محمدسالم قاسمی ؒ کے بیرون ممالک اسفارکے انتظامات کیے۔2013جولائی میں حضرت مفتی عثمانی کی معیت میں پہلی مرتبہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کا مہمان بننے کا شرف مجھے حاصل ہوا تھا۔حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے اپنی ضعف و نقاہت و پیرانہ سالی کے باوجود ہم سب کا والہانہ استقبال کیا اور ہم لوگوں کی بارہا فرمائش کے باوجود حضرت کافی دیر تک بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے اور بار بار حضرت مفتی عثمانی کودارالعلوم دیوبند وقف کی ترقی کےلئے مولانا محمد سفیان قاسمی کے ساتھ تعاون کرنے اور طیب اسپتال کےلئے صاحبزادہ محترم حافظ عاصم کی رہنمائی کرنے کی ہدایت دیتے رہے۔حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ سے ان کے تعلق کی نوعیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کے انتقال کے بعد نہ صرف ’’معارف قاسم‘‘ کا خصوصی شمارہ شائع کیا بلکہ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے تعاون سےبین الاقوامی سیمینار کاانعقاد 3مارچ 2019کو کیا۔جس میں ملک وبیرون ملک سے کئی بڑے اسکالر شریک ہوئے اس موقع پر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ:
حضرت خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی سرپرستی ہمیں حاصل تھی، حضرت کے مشورے ، ہدایات اور رہنمائی جامعہ کیلئے مشعل راہ تھی، ہر مشکل وقت میں حضرت کی رہنمائی ہمارے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوتی تھی،گزشتہ تین دہائیوں کے دوران درجنوں ایسے مواقع آئے جب حوصلہ شکن حالات نے ہمارے راستے روک دیے، ہرطرف اندھیرا چھاگیا تو خطیب الاسلام کی ہی شخصیت تھی جنہوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اور ہم دوبارہ سرگرم عمل ہوگئے ۔جب بھی مایوس و نامرادی اور تھکے ہوئے مسافر کی طرح حضرت کی خدمت میں پہنچے تو حضرت کے چند کلمات نے سارے غم،مایوسی اور نامرادی کو کافور کردیا ۔
حضر ت خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ پر منعقد عالمی سیمینار میں انہوں نے جو خطبہ استقبالیہ پیش کیا وہ ان کے فکر قاسمیت سے تعلق و عقیدت کو واضح کرتا ہے۔تاہم وہ لکیر کے فقیر بھی نہیں تھے۔کثرت سفر نے انہیں وسیع الذہن اور وسیع الظرف بنادیا تھا۔عصر حاضر کے تقاضوں اور ضروریات کا انہیں بھرپور ادارک تھا؛چناں چہ انھوں نے حضرت امام قاسم نانوتویؒ کے فکر اور نظریہ سے استفادہ کرتے ہوئے سرزمین بہار میں امام قاسم اسلامک یونیورسٹی کے قیام کے لیے تگ ودو شروع کردی تھی۔دینی و عصری علوم کے حصول سے متعلق حضرت مفتی عثمانی کی سوچ کیا تھی، اس کا بین ثبوت ان کے خطبہ استقبالیہ کے یہ الفاظ ہیں:
ایک بار وقت نے کروٹ لیا ہے، امام قاسم نانوتویؒ کی تحریک کو ڈیڑھ سو سال سے زاید عرصے کا ہو چکا ہے۔اس وقفے میں نئے نئے چیلنج اور تقاضے ہمارے سامنے کھڑے ہورہے ہیں، امت کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے ۔مسلمانوں کو لبرلزم اور قدامت پرستی کے نام پر تقسیم کردیا گیا ہے ۔جدیدو قدیم اور عصری اور دینی تعلیم کے نام پر پیدا تفریق کی وجہ سے الحاد وارتداد ہمارے دروازے تک پہنچ چکاہے۔وقت ایک بار پھر شاہ ولی اللہ اور امام قاسم نانوتوی جیسی شخصیات کا انتظار کررہا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث سے رشتے کو مستحکم کرنے اور اکابرین امت سے مضبوط تعلق کے ساتھ عصر حاضر کے تقاضے سے ہم آہنگ ہونے کیلئے تدبیریں کی جائیں ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اٹھ رہے فتنوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے ۔ نئی نسل کی ذہنی تربیت، شعور وآگاہی کیلئے ادارے قائم کیے جائے ۔ نئی نسل اور پرانی نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو مٹاکر ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑا کرنے کی ہمیں کوشش جاری رکھنا چاہیے۔
حضرت خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی شخصیت پر دہلی میں سیمینار منعقد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک بار پھر ماضی کے دریچوں کو کھولاجائے، فراموش کی گئی تاریخ کو ایک بار پھر تازہ کیا جائے تاکہ عروج و زوال کی اس داستان کے ذریعہ ہم اپنے مستقبل کی پیش بندی کرسکیں، آنے والی نسلوں کی حفاظت ، ان کی ذہنی آبیاری اس طرح کریں کہ وہ اپنے ماضی پر شرمندہ نہ ہوں،بلکہ وہ ماضی کی روشن تاریخ پر فرحاں ہوں اور دنیا کو یہ بتاسکیں یہ مٹی ہمارے لہو کی بدولت ہی گل و گلزار ہے:
کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمنِ دل کو
کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ نشینوں میں
محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
خاموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
برا سمجھوں انہیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں میں